Dareeche Dil Ke By Hafsa Javed Readelle50326 (Dareeche Dil ke) Last Episode
Rate this Novel
(Dareeche Dil ke) Last Episode
کمرے میں ہر طرف پھول ہی پھول تھے۔بیڈ پر رکھے پھولوں اور اردگرد پھولوں کی لڑیوں کے درمیان بیٹھی لیلی اس وقت بہت زیادہ نروس تھی۔چہرے پر جالی والا گھوگھنٹ تھا اور ہاتھوں پر بہت خوبصورت مہندی لگی ہوئی تھی۔ڈیپ ریڈ رنگ لہنگے میں یہ بے انتہا پیاری لگ رہی تھی۔آج شام ہی اس کا نکاح عالم سے ہوا تھا۔جس خواب کو کبھی خان نے دیکھا تھا آج وہ خواب سچ ہوگیا تھا۔طلاق اور عدت کے فورا بعد ہی عالم نے لیلی سے نکاح کر لیا تھا۔آج انہوں نے ولیمہ کیا تھا۔ویسے بھی لوگوں کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کی شادی اب ہوئی ہے۔سب یہی جانتے تھے کہ ان دونوں کا ولیمہ خان کی وفات کے باعث نہ ہو پایا جو اب ہوا تھا۔
کمرے کا دروازہ کھلا اور اندر آنے والا عالم تھا۔بلیک شروانی میں یہ بہت پیارا لگ رہا تھا۔اس کمرے کو سالوں سے لیلی کا انتظار تھا آج وہ انتظار ختم ہوا تھا ۔عالم بیڈ پر آیا اور لیلی کے سامنے بیٹھ گیا۔لیلی کا گھوگھنٹ اٹھاتے ہوئے عالم کے چہرے پر خوشی دیکھنے والی تھی۔
“شادی مبارک ہو لیلی۔”
“تمہیں بھی عالم۔”
عالم نے لیلی کا چوڑیوں والا ہاتھ تھاما۔سالوں بعد لیلی نے چوڑیاں پہنی تھی۔
“مجھے بے انتہا خوشی ہورہی ہے تمہیں آج اپنے اصل مقام پر دیکھ کر۔”
“عالم آج میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں زندگی میں ہر جگہ تم نے میرا ساتھ دیا ہے۔جس جگہ میرا بھائی اور ماں ساتھ چھوڑ گئے وہاں تم کھڑے تھے۔”
“میں نے کسی کا ساتھ نہیں دیا لیلی میں نے تو بس اپنی جان کو ہر تکلیف سے بجا لیا تھا۔ماضی جیسا بھی تھا ہم دونوں اس سے واقف ہیں۔ہمارا بیٹا اس سے واقف ہے ۔مگر میں نہیں چاہتا یہ ماضی کبھی ہمارے درمیاں دوبارہ آئے۔میں چاہتا ہوں تم سب بھول جائو ۔بس یاد رکھو تو اتنا کہ اب ہمیں یہاں گائوں میں رہ کر بابا اور دادی کا ہر خواب پورا کرنا ہے۔ان کی طرف سے دی گئی ہر ذمہ داری کو نبھانا ہے۔”
“شازل اور ماہا ماں کہاں ہیں ۔”
“وہ واپس جا چکے ہیں۔شازل شاہد ہماری زندگیوں میں دخل اندازی نہیں چاہتا اور ماما کو تم جانتی ہو بابا کے بعد وہ اس جگہ نہیں رہ سکتی اسی لیئے وہ شازل کے پاس جا چکی ہیں۔ایک اور بات ہیر نے اچھا نہیں کیا شہرام کے ساتھ رہ کر لیلی۔”
“اس نے اپنی بیٹیوں کا مستقبل دیکھا عالم جو ان کے باپ کے ساتھ ہے۔اب وہ دو بچیوں کی ماں ہے ہم چاہے اس کی بچیوں کو دنیا کی ہر خوشی دیتے مگر دنیا والے انہیں جینے نہ دیتے۔ہادی کی والدیت میں صرف اس کے باپ کا نام ہے جبکہ دنیا میں یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ تمہارا بیٹا نہیں ۔شہرام اور ہیر کی شادی کا علم تو تمام لوگوں کو تھا۔ہیر کہتی ہے اب اس کی زندگی کا مقصد اس کی بچیوں کی پرورش ہے۔”
“مگر اس سے یہ بات ضرور کہنا عالم کے گھر کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے اپنی بہن اور اس کی بچیوں کے لیئے۔”
لیلی کی پیشانی پر اپنے پیار کی پہلی مہر ثبت کی تھی عالم نے۔یہ پہلی بار تھا کہ عالم نے لیلی کو چھوا تھا۔بچپن سے داتھ رہنے کے باوجود دنوں نے ہمیشہ اپنے درمیان فاصلہ قائم رکھا تھا۔
آج ان کے ملنے کی رات تھی۔لیلی کو آج معلوم ہوا تھا کہ عشق کی حقیقت کیا ہے اور عزت اور احترام کسے کہتے ہیں۔
دس سال بعد
بہرام اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔اس کے کمرے کا دروازہ بجا اور اندر آنے والا اور کوئی نہیں ہادی تھا جو اپنے باپ سے پورے تین ماہ بعد ملنے آیا تھا۔
“ڈیڈ کیسے ہیں آپ ۔”
بہرام کے اٹھ جانے پر ہادی نے اس سے سوال کیا۔15 سالہ ہادی بلکہ بہرام کی کاپی تھا۔
“میں ٹھیک ہوں میرے شہزادے کیسے کو تم۔کتنا یاد کیا تمہیں میں نے اس عرصے میں۔”
بہرام نے ہادی کو سینے سے لگایا۔
“میرے پیپرز ہورہے تھے ڈیڈ اس لیئے میں آپایا۔”
“میرا بیٹا ٹھیک ہے نہ اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں نہ۔”
“نہیں ڈیڈ۔ڈیڈ میں آپ سے کہنے آیا تھا کہ کیا آپ میرے ساتھ باہر جائیں کھانے کے بعد۔ہیر خالہ کہہ رہی تھی کہ آپ اپنی صحت پر بلکل دھیان نہیں دیتے۔”
“میرا بیٹا آگیا ہے نہ میرے پاس ان سب ٹھیک ہوگا۔”
بہرام اس وقت 45 سال کا تھا۔اپنے بیٹے کو دیکھ کر یہ دوبارہ زندہ ہوجاتا تھا۔عالم نے ہادی کو اس کے باپ کے پاس بہت بچپن سے بھیجنا شروع کیا تھا۔لیلی یہ سب نہیں چاہتی تھی مگر عالم نے کبھی بھی نہیں چاہا تھا کہ اس کے بیٹے کی زندگی میں کوئی ایسی خواہش باقی رہے جو پوری نہ ہو۔بہرام نے لیلی کو طلاق تو دے دی تھی مگر طلاق دینے کے بعد یہ خود بھی اکیلا ہوگیا تھا۔جو غرور تھا وہ تو کب کا ختم ہوگیا تھا۔اب تو بس ایک ایسا انسان رہ گیا تھا جسے تنہائی کھاتی تھی۔بہرام روز اپنے کیئے کو یاد کرتا اور خواہش کرتا کے کاش یہ وقت کو واپس کر سکے مگر کہتے ہیں کچھ لمحوں کا اپنی زندگی میں ہمیشہ حساب دینا ہوتا ہے ہمیں ۔لوگ کیا کہتے تھے اس بات سے عالم کو کبھی کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔اب تو بہت سے لوگ جانتے تھے کہ بہرام ہی ہادی کا اصل والد ہے مگر عالم نے کسی کو کچھ بولنے کا حق نہیں دیا تھا۔بہرام کے ہاتھ میں تھا سب کچھ۔لیلی اس کی تھی مگر ایک دھوکے نے اس سے لیلی ساری زندگی لے لیئے جدا کر دی۔اب یہ حویلی میں رہتا تھا۔دادی صاحب اور شیر بخش انتقال کر گئے تھے۔انجم کی شادی کے بعد اس کی بیٹی کی پیدائش ہوئی اور وہ دنیا سے چل بسی۔اس کی بیٹی کو بہرام نے پالا تھا۔وہ زیادہ تر ہیر کے پاس ہی رہی مگر بہرام کے لیئے وہ اس اس کی بیٹی تھی جو تنہائی میں اس کو یاد دلاتی تھی کہ اپنی بیٹی کے لیئے اسے زندہ رہنا ہے۔
بہرام کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر ہادی بیٹھا ہوا ناشتہ کر رہا تھا ساتھ ہی گل لالہ بیٹھی ہوئی تھی۔ ہادی کی دادی بھی ٹیبل پر ہی تھی ہادی گل لالہ کو دیکھ رہا تھا جو بہرام سے بار بار کوئی بات پوچھ رہی تھی۔گل لالہ کی عمر اس وقت نو برس تھی ۔ہیر کچن سے آئی اس کے ساتھ ہی اس کا چھوٹا بیٹا بھی آیا جو ماں کی جان کہیں بھی نہیں چھوڑتا تھا۔
“ابراہیم بیٹا جائو دیکھو بابا تیار ہوئے یا نہیں۔حور جلدی ناشتہ کرو اور یہ زینیہ کہاں ہے ۔”
ابراہیم اپنے بڑے بیٹے کو ہیر نے سب کو بلانے بھیجا۔آخر ہیر خود ہی کمرے میں آئی۔یہ دس سال ہیر کے لیئے بہت سی تبدیلیاں لائے تھے۔شہرام اور اس کے درمیان جو فاصلہ آگیا تھا وہ آج بھی قائم تھا۔شہرام آج بھی اپنی زندگی کی ہر خوشی ہیر کو دیتا ۔ہیر ایک بے جان مجسمہ تھی جس کو جتنا مرضی پیار کر لیا جاتا وہ نہیں بدلتی تھی۔ایسا نہیں تھا کہ شہرام سے کبھی کوئی شکایت کی تھی ہیر نے۔ان دونوں کے چار بچے تھے۔دو بیٹیاں اور دو بیٹے۔ہیر نے کبھی اپنے فرائض میں کوئی کوتاہی نہ کی۔شہرام کی ہر ضرورت کا خیال رکھا تھا ہیر نے اور گھر والوں کا بھی بہت خیال رکھتی یہ۔مگر جس پیار کی توقع شہرام اس سے کرتا وہ اسے نہ ملتا۔ہیر شہرام کے پاس تو تھی مگر اس کی روح بہت سال پہلے زخمی ہوچکی تھی ۔کچھ زخموں کو بھرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں اور شہرام کو یقین تھا ایک دن ہیر اس سے اظہار محبت کرے گی ۔مگر نجانے وہ وقت کب آنا تھا۔” آپ روز صبح صبح بچوں والی حرکتیں شروع کر دیتے ہیں شہرام۔”
“تمہارا انتظار کر رہا تھا تم جانتی ہو نہ کچھ ایسے کام ہوتے ہیں جو میں تمہارے بغیر نہیں کرتا ۔”
شہرام کی گھڑی اس کے ہاتھ میں پہنانے کے بعد ہیر اس کا والٹ اور موبائل لے آئی۔ہیر خاموشی سے واپس جانے لگی جب شہرام نے اس کے ہاتھ تھام کر اسے واپس کھینچا ۔
“تم آج بھی اتنی ہی خوبصورت تھی جیسے ہماری ملنے کے پہلے دن تھی۔”
شہرام نے ہیر کی پیشانی پر بوسہ سیا مگر ہمیشہ کی طرح آگے سے خاموشی ہی اس کی ساتھی تھی۔ایک رات ہیر نے شہرام کو کہا تھا کہ میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے مگر شاید ہمارا رشتہ عام لوگوں جیسا نہ ہو۔ان دونوں کا رشتہ سچ میں عجیب تھا۔
لیلی صبح صبح اپنی بیٹی کو ڈھونڈ رہی تھی جو نجانے کہاں چھپی تھی۔
“خدیجہ کہاں ہوں بیٹا آ جائو سامنے۔دیکھو ماما انتظار کر رہی ہیں ماما نے ناشتہ بنانا ہے۔”
اس کی بیٹی صبح صبح روز ایسے ہی چھپ جاتی ہے پھر اسے اپنی بیٹی کو ڈھونڈنا پڑتا ۔ لیلیٰ کے تین بچے تھے ہادی کے علاوہ۔ ایک عبداللہ دوسرا قاسم اور تیسرا ہادی پھر ایک بیٹی تھی۔
کمرے سے عالم نکلا اور اس کی گود میں اپنی گڑیا اٹھائی ہوئی تھی یعنی خدیجہ اپنی بیٹی۔
“دیکھو کب سے اسے ڈھونڈ رہی ہوں اور یہ تمہارے پاس ہے عالم۔”
“جان عالم کبھی آپ بھی کہہ کر بلا لیا کریں۔”
عالم نے لیلی کا گال پیار سے چھوا۔لیلی نے اپنی بیٹی کو گود میں اٹھایا اور ناشتہ بنانے لگی۔بیٹے تو صبح ہی سکول جاچکے تھے جبکہ بیٹی خدیجہ ابھی چھوٹی تھی تین سال کی۔
“تم بیٹھو ٹیبل پر میں کھانا لگا رہی ہوں عالم۔”
“لیلی یار تمہیں کچھ زیادہ ہی جلدی نہیں ہوتی مجھے بھیجنے کی۔”
گڑیا کو نیچے چھوڑ کر لیلی عالم کی طرف متوجہ کوئی۔
“تو تمہارا کیا خیال ہے سارا دن گھر بٹھا کر رکھوں تمہیں۔”
“ویسے آئیڈیا برا نہیں ہے۔”
“شرم تو چھو کر نہیں گزری تمہیں میں کہتی ہوں کہ چار بچوں کے باپ ہو پھر بھی ایسا لگتا ہے ابھی بھی رومانس کے کیڑے تمہارے اندر موجود ہیں۔”
“میں تو تمہیں پہلے بتا تو کبھی بوڑھا نہیں ہوگا میں۔ابھی ہماری عمر ہی کیا ہے جو تمہیں ہم دونوں کے بڑھاپے کی فکر پڑ گئی۔”
“عالم میں سوچ رہی ہوں ہم نے اچھا نہیں کیا ہادی کو اس کے باپ کے پاس بھیج کر۔”
“لیلی یہ غلط ہے جتنا حق ہمارا ہادی پر ہے اتنا ہی بہرام کا بھی۔جو گزر گیا وہ ماضی تھا ۔ہم۔نے بہرام کو معاف کر دیا ہے۔ہمارا حق نہیں بنتا کہ ہادی کو اس کے بابا سے دور رکھیں ۔”
“عالم میں نہیں چاہتی کہ میرا بیٹا مجھ سے دور ہو۔”
“لیلی ایک بات یاد رکھو ہمارا بیٹا بہرام کا خون ہے ۔ایک نہ ایک دن تو اس کا خون جوش مارے گا اس دن تم اسے اپنے پاس نہیں رکھ پائو گی تو بجائے پابندی کے اسے جانے تو اپنے باپ کے پاس۔”
“وہ شہر پڑھنے جائے گا تو تم نے ہی کہا ہے نہ عالم کہ وہ بہرام کے ساتھ رہ لے۔”
“بلکل بجائے کہیں اور رہنے کے اچھا ہے ہادی اپنے باپ کے پاس رہ لے۔میرا یقین کرو ہم اپنے فصیلے پر نہیں پچھتائیں گے۔باپ جتنا مرضی برا ہو ہوتا تو باپ ہی ہے نہ۔”
“مجھے تمہاری باتوں کی کبھی سمجھ نہیں آئی عالم۔عالم ماما کب تک آئیں گی ہمارے پاس۔”
“جن ان کا دل کرے گا۔”
آج بھی گزرے ماضی کے رنگ لیلی کے رشتوں کے درمیاں تھے۔شازل آج بھی لیلی سے بات نہیں کرتا تھا صرف ضرورت کے تحت ۔لیلی نے عالم کے ساتھ اپنی زندگی کی نئی شروعات تو کر دی تھی مگر ماضی کے کچھ اوراق ہمیشہ کے لیئے اس کی زندگی میں لکھ دیئے گئے تھے۔خان کی بات بار بار اس کے کانوں میں گونجتی تھی کہ زندگی میں کچھ لمحوں کا حساب ہمیشہ دینا ہوتا ہے۔
لیلی آج ایک نامور وکیل تھی جس کے نام سے ہی لوگ مطمئن ہوجاتے تھے۔مگر لیلی کی ایک غلطی نے اس کی زندگی میں بھی خالی بن کر دیا اور ہیر کی زندگی میں بھی۔
ختم شد۔
ریڈرز امید ہے کسی کو آخری قسط سے اعتراض نہیں ہوگا۔لیلی نے جو غلطی کی اس کا نشان تا عمر اس کی زندگی پر رہنے والا تھا اور بہرام کی سزا اکیلا پن ہی تھا۔یہ تو عالم تھا جو ہادی کو اپنے باپ سے ملنے دیتا۔ہیر کی زندگی جیسی ہے میرا خیال ہے کسی لڑکی کے ساتھ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ شہرام جیسے انسان کو معاف نہیں کرتی۔اچھے سے کمنٹ دیں آخری قسط پر۔
