Dareeche Dil Ke By Hafsa Javed Readelle50326 (Dareeche Dil Ke) Episode 12
Rate this Novel
(Dareeche Dil Ke) Episode 12
عالم اپنے کمرے میں تھا۔ہادی بار بار اٹھتا تھا کیونکہ اسے بخار تھا۔ہادی سے عالم کو ایسے ہی محبت ہوگئی تھی جیسے خان کو عالم سے محبت تھی۔عالم ابھی دوبارہ ہادی کو سلا کر کھڑکی کے پاس آیا۔عالم کی آنکھیں آج پھر یاد ماضی میں کھو گئی۔
چھوٹا سا عالم تین برس کا تھا ۔اسے اپنے ساتھ خان گھر لائے تھے۔ماہا اور ان کی شادی ہوگئی تھی۔عالم خان کے پاس پہلے پہلے تو جاتا ہی نہیں تھا پھر خان نے آہستہ آہستہ اسے اپنے بچوں کے قریب کیا۔وقت کے ساتھ ساتھ خان اپنے بچوں سے گئی زیادہ پیار عالم کو کرتے۔عالم نے آخرکار خان کو بابا کہہ ہی دیا۔عالم خان کے بے حد قریب تھا۔شازل شاید ماہا سے زیادہ محبت کرتا تھا خان کی نسبت اسی خاطر ماہا اب سب چھوڑ کر بھی شازل کے پاس ہی گئی تھی۔عالم جب 14 برس کا تھا تو ایک دن خان نے اسے اپنے پاس بلایا۔دونوں باپ بیٹا باہر کھومنے گئے ۔ایک پرسکون جگہ بیٹھ کر خان عالم کو کچھ بتانا چاہتے تھے۔
“عالم میرے شیر بیٹے میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔امید ہے آپ میری بات بہت تحمل سے سنیں گے۔یہ آپ کا ماضی ہے جو آج نہیں تو کل آپ کے سامنے آئے گا۔میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا اپنی زندگی کا ہر راز جانے۔لوگ تمہیں میرے خلاف کر سکتے ہیں مگر میں تمہیں آج خود ساری سچائی بتا دینا چاہتا ہوں ۔مجھے غلط مت سمجھنا اور اپنی ماں سے کبھی کسی چیز کے بارے میں سوال مت کرنا۔”
عالم خان کے ہاتھوں کو پکڑ کر بولا۔
“بابا آپ کی نیت پر کبھی شک کر سکتا ہوں میں۔یہ تو ایسا عمل ہے نہ کہ میں اپنے وجود کا حصہ الگ کر دوں۔”
14 سالہ عالم اپنی عمر سے گئی سال بڑا تھا۔
“تمہیں پتا ہے تمہارے والد کا نام شہزاد پاشا تھا۔تمہارے والد اور میں نے اکٹھی وکالت کی تھی۔پاشا خاندان میں لڑکے لڑکیوں کو کچھ نہیں سمجھتے۔ماہا ایک بہت اچھی وکیل بنتی مگر نجانے کیسے وہ شہزاد پاشا کی محبت میں گرفتار ہوگئی ۔تم جانتے ہو شہزاد پاشا نے ماہا سے شادی نہیں کرنی تھی۔ماہا بے حد خوبصورت تھی۔ایک دن وہ تمہارے والد سے ملنے گئی۔”
بولتے بولتے خان چپ ہوگئے۔
“بولیں نہ بابا۔”
عالم نے بہت ضبط سے خان سے سوال کیا۔
“شہزاد نے تمہاری ماں کو قید کر لیا ۔منصور تمہارے ماموں اس وقت میرے پاس آئے ۔وہ سمجھتے تھے کہ شاید مجھے کچھ علم ہو شہزاد کے بارے میں مگر میں کچھ نہیں جانتا تھا۔”
خان بھی یاد ماضی میں تھے۔
“منصور یقین کرو مجھے نہیں بتا کیا ہوا ہے اور ماہا تمہاری بہن کہاں ہے۔”
“تم یقین کرو خان اگر تم کسی بات میں شامل ہوئے تو تم میرے ہاتھوں نہیں بچو گے۔”
ماہا کو بہت تلاش کیا گیا۔ایک دن شہزاد کے ایکسیڈنت کی خبر منصور اور خان کو ملی۔یہ شہزاد کے فارم ہائوس پہنچے تو انہیں شہزاد کے مرنے کی خبر ملی۔اس لمحے انہیں ایک کمرے سے سہمی ہوئی ماہا ملی۔جن کے چہرے سے شادابی ختم ہوگئی تھی۔ماہا کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا شہزاد نے۔قسمت ایسی تھی ماہا کی کہ شہزاد کا ایکسڈنٹ ہوا اور اسی وقت موقع پر وہ دم توڑ گیا۔منصور فورا بہن کو لے کر نکلے۔فارم ہائوس کے پاس ہی ایکسڈنٹ ہوا تھا اس لیئے فورا ہی خان وہاں پہنچے۔شیر بخش نے خان پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے دوست کو مار دیا ہے ۔خان بھی ایک مضبوط خاندان سے تھے انہوں نے ثابت کردیا کہ یہ ایک حادثہ تھا ۔اس سب میں جس چیز کو چھپا لیا گیا وہ تھی ماہا کی کہانی ۔منصور نے اپنے تمام بھائیوں اور خاندان والوں کو کچھ نہیں بتایا۔ماہا کو خان اور ان کی پہلی بیوی کے پاس چھوڑا گیا۔ماہا ایک سال کچھ بھی نہ بولی اور ایک سال بعد منصور نے خاندان میں یہی بتایا کہ انہوں نے ماہا کی شادی کر دی تھی اور اس کا شوہر فوت ہوگیا ہے۔ننھا سا عالم ماہا کی گود میں آیا۔ماہا عالم سے نفرت کرتی تھی۔ایک دن منصور نے انہیں سمجھایا کہ ایک غلطی ان کی بھی تھی کہ کیوں یہ ایک اوباش شخص سے ملنے گئی۔آج ان کی عزت کی خاطر منصور چپ ہیں کیونکہ اگر بات کھلتی ہے تو تمام عمر لوگ عالم کو جس طریقے سے مخاطب کریں گے وہ عالم کے لیئے بہت تکلیف دہ ہوگا۔ماہا نے اپنی سزا پائی۔خان کی پہلی بیوی بچوں کی پیدائش کے بعد گزر گئی اور تین برس بعد خان نے ماہا اور ان کے بیٹے یعنی عالم کو اپنا نام دیا جس کی رگوں میں پاشا خاندان کا خون تھا۔حال میں دیکھا جاتا تو لیلی کے ساتھ سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی وہ بدنام نہیں ہوئی وجہ یہی تھی کہ لیلی کے باپ نے ایک عورت کو عزت دی تھی اس کے بچے کو نام دیا تھا۔ماہا کو کبھی زندگی میں خان نے کچھ بھی یاد نہیں کروایا تھا۔عالم کو بھی بس اتنا ہی معلوم تھا کہ اس کے باپ کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا۔ہادی کو دیکھ کر عالم کو اپنا عکس نظر آتا تھا عالم تو بے نام تھا اسے دنیا ایک گالی کے طور پر لیتی۔مگر خان نے اسے اپنایا ۔عالم نے خان سے بے پناہ محبت کی۔کیسے وہ خان کو بھول سکتا تھا۔ہادی خان کا خون بھی تو تھا۔ہادی اسی خاندان کا خون تھا جہاں سے عالم کا تعلق تھا مگر عالم صرف اپنے باپ کا نام استعمال کرتا تھا ورنہ اس کے لیئے باپ ہمیشہ خان ہی رہے۔
عالم نے خان کی ساری بات سنی۔
“بیٹا میرا مقصد تمہیں تکلیف دینا نہیں تھا۔میرا مقصد صرف تمہیں تمہارے خاندان کا بتانا تھا۔اپنی ماں سے ساری عمر کبھی سوال مت کرنا۔میں نے ماہا کو بڑے پیار سے رکھا ہے۔عورت تو ہوتی ہی عزت کے قابل ہے بس کچھ لوگ اسے بہکا دیتے ہیں ۔تم تو میرے بیٹے ہو میرے شیر۔کبھی عورت سے بدلہ مت لینا۔عورت بہت مضبوط ظاہر ہوتی ہے مگر ہے وہ بہت نازک۔عورت کو عزت کے لیئے پیدا کیا گیا ہے۔اگر کوئی انسان غلطی کر جائے تو میرا بیٹا اسے معاف کر دینا چاہیئے۔معافی سے ہمیں خود بھی سکون ملتا ہے اور دوسرا فریق بھی سکون میں رہتا ہے۔”
عالم اس وقت رو رہا تھا۔یہ نیچے بیٹھا اور خان کے ہاتھ تھام کا چومے۔
“میں کبھی آپ کا احسان اتار نہیں پائوں گا۔”
خان نے عالم کے بال اس کے ماتھے سے پیچھے کیئے اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
“باپ کبھی اولاد پر احسان نہیں کرتی۔تم تو بیٹے ہو میرے۔آج یہ بات ہوگئی آئندہ تم سے کبھی یہ بات دوبارہ نہیں کروں گا میں ۔میرا مقصد محض تمہیں سچائی سے آگاہ کرنا تھا ۔سچائی انسان کی زندگی کے لیئے بہت ضروری ہوتی ہے میرے بیٹے۔”خان نے عالم سے کبھی دوبارہ کسی ایسی بات کا ذکر نہیں کیا۔
عالم آج بھی ماضی میں کھویا تھا۔بہرام کو دیکھتے ہی عالم کو علم ہوگیا تھا کہ یہ اسی کم ظرف خاندان سے ہے جہاں سے عالم کا تعلق ہے۔
شہرام شہر آیا ہوا تھا۔اس نے ہر جگہ تلاش کیا کہ کہیں اسے وہ پری نظر آئے جو آج سے دو سال پہلے اسے نظر آئی تھی۔یہ اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نکلا ہوا تھا۔سب دوست ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے جب اسے ایک لڑکی کی آواز آئی جو لگ بھگ سولہ کی ہوگی۔
“بابا دیکھیں نہ شازل بھیا کو یہ ہمیشہ سے ایسے ہی کرتے ہیں ۔بھلا کوئی اپنی اتنی معصوم سے بہن کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے۔دیکھیں سب لوگ دیکھ رہے ہیں مگر بھیا نہیں سن رہے۔”
ہیر جو کب سے شازل سے اپنا پرس لینے کی کوشش کر رہی تھی اسے شہرام نے دیکھ لیا۔ہیر سچ میں ایک باربی کی طرح خوبصورت تھے۔اس دن اتفاق سے اس نے پنک فراک پہن رکھی تھی۔بال کھلے ہوئی تھے اور بینڈ لگا ہوا تھا ان میں۔اپنی فیملی کے ساتھ آئی اس لڑکی کو شہرام دیکھتا رہا اور اس کا یہ ایک ایک نقش دماغ میں بٹھا کیا ۔آج دو سال بعد بھی شہرام اسی ریسٹورنٹ آیا کہ شاید اس پری کو دیکھ لے مگر اس کی خواہش لا حاصل ہی رہی۔یہ اسی عمر سے کپڑوں کی ڈیزائنر میں آگیا۔فیشن ڈیزائنگ کو اس نے اپنے شعبے کے طور پر پڑھا تھا۔کچھ مضبوط خاندان ہونے کی وجہ سے اسے کبھی کسی چیز کو لے کر کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔
حال
شازل ماہا کو لے کر پاکستان آگیا۔یہاں آتے ہی اسے پتا چلا کہ اس کی بہن ہسپتال میں ہے۔یہ فورا ہی ہسپتال آیا۔عالم سے اس کی ملاقات ہوئی۔لیلی ابھی تک ہوش میں نہیں تھی۔
“عالم میرب کیسی ہے وہ۔”
“تمہیں اب بھی اپنے کی کیا ضرورت تھی۔تم تو خوش ہو جائو تمہاری تو دلی مراد پوری ہوگئی ہے نہ۔پچھلے دو دن سے میرب بے ہوش ہے۔ہیر کا کچھ پتا نہیں اور تم کہاں غائب ہو ہاں۔بھائی ہو تم ان کے مجھ سے زیادہ تمہارا حق ہے ان پر۔”
“میں۔۔۔۔۔میرب ٹھیک تو ہے نہ اور ہیر وہ کہاں ہے۔”
“بہرام پاشا کے بھائی نے اسے اغوا کیا ہے اور خبروں میں بھی دے دیا کہ شہرام کی ہیر سے شادی ہوگئی ہے۔میں نے ہر طریقے سے کوشش کر لی ہے مگر مجھے ہیر کا علم نہیں ہورہا۔میرب کا نروس بریک ٹائون ہوا ہے۔ڈاکٹرز کوئی جواب نہیں دے رہے۔”
شازل بلکل بے جان ہوگیا۔پھر شازل کا ایک بات یاد آئی۔
“میں آتا ہوں عالم۔تم میری بہن کا خیال رکھنا ۔شیر بخش خان نے اچھا نہیں کیا اب اسے اس کی اوقات پتا چلے گی۔”
شازل یہ کہتے ہی واپس مڑا۔
شہر بخش خان اس وقت اپنے کمرے میں تھا۔اس کی بیوی ساتھ ہی تھی اور یہ دونوں کسی بات کو لے کر بحث کر رہے تھے۔۔ملازم نے دروازہ بجایا۔
“سائیں دیکھیں باہر پولیس آئی ہے۔”
شیر بخش خان حیران ہوا پولیس اور اس کے گھر ۔شیر بخش فورا نیچے آیا۔شازل کے ساتھ کھڑی ایک ہستی کو دیکھ کر پاشا حویلی کی در و دیوار ہل گئی۔اس حویلی کی بڑی بیٹی مناہل اس وقت شازل کے ساتھ کھڑی تھی۔
“تم ۔۔۔۔۔۔تم تو۔۔۔۔۔۔”
شیر بخش خان کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔بہرام جسے عامر نے پولیس کی حویلی جانے کی اطلاع دی یہ بھی فورا شہر سے یہاں آگیا تھا۔بہرام نے بھی اپنی بہن کو دیکھا۔بہرام کی دادی اور ماں دونوں حیرانی ست اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے۔
“میں شہر بخش خان آپ کی وہ بیٹی جس آپ نے اپنے ہاتھوں سے جہنم میں بھیج دیا تھا۔میں زندہ ہوں دیکھیں سہی سلامت۔”
شہر بخش خان کی زمین ہل گئی تھی۔آٹھ برس پہلے اپنی بیٹی کو دشمنوں کے گھر بھیج دینے کے بعد انہوں نے یہ بات مشہور کروا دی تھی کہ کہ مناہل مر گئ ہے
“مناہل میرا بچہ۔”
بہرام جیسے ہی بہن کے پاس آیا مناہل نے کھینچ کے تھپڑ بہرام کو مارا۔
“شرم باقی ہے اس خاندان میں یا مر گئی سالوں پہلے۔کسی لڑکی کی زندگی برباد کرتے ہوئے آپ کو اپنی بہنوں کا خیال نہ آیا لالہ۔جس لڑکی کی زندگی برباد کی آپ نے اسی کے باپ نے اس گھر کی عزت بچائی ہے۔خان خاندان کی بہو ہوں میں اور شازل خان کے دو بچوں کی ماں۔ارے آپ جیسے لوگ تو درندوں سے بھی گئے گزرے ہیں ۔ایک باپ جس نے اپنے گناہ کو چھپانے کے لیئے چپ چاپ بیٹی قربان کر دی اور ایک بھائی جس نے نام نہاد محبت کے پیچھے ایک لڑکی برباد کر دی کیا خاندان ہے۔”
“بیٹا ۔۔۔۔”
“بس کریئے دادی صاحب۔اپنے بیٹے کے کالے کارناموں پر ہمیشہ سے پردہ ڈالا ہے آپ نے۔جس لڑکی کی عزت کو پامال کیا تھا آپ کے بیٹے نے بدلے میں مجھے دشمن کے گھر بھیج دیا کہ اپنا گناہ چھپ جائے۔ارے وہ تو خان بابا کا شکریہ جو رستے میں مجھے ملے اور درندوں سے بچا لے گئے۔مجھے سب کچھ دیا اور اپنے بیٹے کے ساتھ شادی کروا کر مجھے معتبر کیا ۔میں سوال کرتی ہوں کس جرم میں اس شخص کی بیٹی کو برباد کی آپ نے لالہ۔”
“چچا کے قاتل کی بیٹی ہے وہ۔دوستی کی آڑ میں چچا کا قتل کیا تھا خان نے۔”
مناہل نے بھائی کا گریبان پکڑ لیا۔
“شرم سے ڈوب مرو لالہ تم۔عالم کو جانتے ہو نہ وہ تمہارے ہی چچا کی اولاد ہے جو خان نے پالی پے۔جس دن چچا مرے تھے اس دن ان کے فارم ہائوس سے ایک لڑکی نکلی تھی ماہا جو عالم کی ماں ہیں میری ساس ہیں وہ سوتیلی۔ہمارے چچا نے ان کے ساتھ زیادتی کی تھی اور ان کا ایکسیڈنت ہوا تھا۔کبھی ماضی کو جاننے کی کوشش نہیں کی تھی آپ نے۔خان خاندان نے تو پاشا خاندان کی اولاد کو سنبھالا ہے۔ارے میں پوچھتی ہوں ابھی بھی دل نہ بھرا جو ہیر کو شہرام لے گیا ساتھ۔اب بس میں چپ نہیں رہوں گی ۔”
بہرام کی والدہ بیٹی کے پاس آئی۔
“میری بچی میری بچی۔”
“بس مورے میرا سب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مجھے ہیر چایئے ورنہ ابھی کے ابھی بہرام اور اس حویلی سے لوگوں کو پولیس لے کر جائے گی۔”
“تم اپنے باپ کے خلاف جائو گی۔”
“وہ تو اسی دن تعلق ڈور گئے تھے جس دن دشمن کے حوالے کیا تھا مجھے شیر بخش پاشا۔رہی بات آپ کی تو بے فکر رہیں آپ کو میں نہیں لوگ سزا دیں گے جن کے ساتھ ظلم کیا ہے آپ نے۔مگر ہیر جب تک نہیں ملتی آپ کے یہ چہیتے بیٹے جن کے ذریعے لوگوں کی بیٹیوں سے بدلے لیتے ہیں انہیں پکڑا جائے گا۔آپ کے وفا داروں کو بھی تو عقل آئے ذرا۔”
شازل بہت دیر سے پیچھے کھڑا تھا اب آگے آیا ۔
“شیر بخش پاشا میں چاہتا تو تمہاری بیٹی سے تمام بدلے لے سکتا تھا مگر اس معصوم کا تو کوئی قصور نہیں تھا نہ۔البتہ تم جیسا گھٹیا انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا۔میرا خاندان بکھر گیا صرف تمہاری وجہ سے۔آج میری دونوں بہنیں مصیبت میں ہیں صرف تمہاری بدولت۔”
بہرام کی والدہ بہرام کے پاس آئی اور ایک تھپڑ اسے لگایا۔
“اپنے باپ کے پیچھے تم نے خود کو برباد کر لیا ۔تمہیں احساس نہ آیا کہ کسی کی بہن بیٹی بھی اپنی عزت کی طرح ہوتی پے۔”
“مجھے معاف۔۔۔۔۔۔”
“خبردار تجھے ساری عمر معاف نہ کروں میں۔کہاں ہے ان کی بیٹی پتا مجھے۔میں خود اسے ان کے حوالے کروں گی۔”
“مورے مجھے نہیں پتا۔شہرام کسیببدلے کے لیئے لے نہیں کر گیا اسے۔شہرام کو تو کسی بات کا علم نہیں تھا۔”
پولیس اندر آئی ۔بہرام کا وکیل بھی ساتھ ہی آیا ۔
“بہرام اور پاشا صاحب کی ضمانت ہوگئی ہے۔”
بہرام شہر سے انتظام کر کے آیا تھا۔
“ابھی کے لیئے تم نے اپنے باپ کو بچا لیا ہے بہرام پاشا مگر میں اب تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔مجھے میرے بہن سہی سلامت چایئے۔یاد رکھنا تمہارے باپ کی عزت دو کوڑی کی کر دوں گا میں۔”
شازل مناہل کا ہاتھ تھامے باہر نکل گیا اور اپنے پیچھے بہت کچھ چھوڑ گیا۔
