454.6K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dareeche Dil Ke) Episode 4

میری اجازت کے بغیر کاپی پیست مت کریں
شہرام ہیر کی یونورسٹی کے باہر کھڑا تھا۔معمول کے مطابق ہیر آئی اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ڈرائیور سے ہیر نے آج اپنی دوست کے گھر جانے کے لیئے کہا تھا۔گاڑی ہیر کی سہیلی کے گھر کے باہر رکی۔ہیر نے ڈرائیور سے بات کی ۔ڈرائیور سے بات کرنے کے بعد ہیر اپنی سہیلی کے گھر کے اندر چلی گئی۔شہرام بھی ہیر کے ساتھ ہی اس کی سہیلی کے گھر کے اندر گیا۔یہ کاڑ پورچ تھا اس سے پہلے کے ہیر اندر گھر کی طرف جاتی شہرام نے اسے اپنے پاس کھینچا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھا ۔گیٹ پر چوکیدار نہیں تھا جس کی بدولت شہرام باآسانی ہیر کے پیچھے آگیا۔
“آواز نہیں نکالنا تم۔”
شہرام نے ہیر کے چہرے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ہیر کی آنکھیں خوف کی شدد سے باہر آنے کو تھی۔شہرام ہیر کے بہت نزدیک تھا ۔ہیر شہرام کی گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی۔شہرام ہیر کو تھامے گھر سے باہر لے آیا اور اپنی گاڑی میں پھینک کر یہ فورا ہی ڈرائیونگ سیٹ پر آیا۔
“”گھٹیا انسان ہمت کیسے ہوئی تمہاری یہ سب کرنے کی۔”
ہیر چیخی ۔ شہرام نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی۔ہیر نے شہرام کی انگلی جھٹکی اور باہر نکلنا چاہا۔
“یہ دروازہ نہیں کھلے گا جب تک تم میری بات نہیں سن لیتی۔”
“کیا سنانا ہے کچھ رہ گیا تھا تمہارے بھائی سے جس بات کا بدلہ تم لینے آئے ہو۔”
“تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میرے لالہ کسی چیز میں شامل نہیں ہیں وہ تو مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔وہ تو تم سے ملنا چاہتے ہیں کیونکہ تم ان کے بھائی کی پسند ہو۔”
“جاکر اپنے بھائی سے پوچھنا آج سے چھ سال پہلے میری بہن سے نکاح کیا تھا تمہارے بھائی نے۔تم جانتے ہو میری بہن پرینگنٹ تھی مگر تمہارے بھائی نے اپنے بچے کو نام دینے سے انکار کر دیا۔میرے بابا اور ماما دونوں ہمیں چھوڑ کر اس دنیا سے چلے گئے۔تم اس خاندان سے ہو جس سے میں سالوں سے نفرت کرتی آئی ہوں۔اپنی بہن کو ایک پل کے لیئے بھی خوش نہیں دیکھا میں نے۔ان کی آنکھوں میں ہمیشہ ہی ایک اداسی رہتی ہے۔اس سب کا ذمہ دار تمہارا بھائی ہے ۔تمہارے باپ نے اپنی خاندانی دشمنی نکالی تھی میری معصوم بہن سے۔”
“ایسا کچھ نہیں ہے ہیر تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں مان ہی نہیں سکتا لالہ ایسا کچھ کرسکتے ہیں”
ہیر ہنسنے لگ گئی۔
“خیر اپنے بھائی سے کہنا میں میرب خان نہیں ہوں جس معصوم لڑکی کو اس نے بےوقوف بنا لیا تھا۔میں ہیر خان ہوں تم جیسے گھٹیا اور نیچ خاندان کے لڑکوں کو سبق سیکھانا اچھے سے جانتی ہوں۔”
“پلیز ہیر میرے خاندان کے بارے میں ایسی باتیں مت کرو۔”
“او تو مسٹر شہرام کو میری باتیں بری لگی۔یقین کرو کہنے کو تو میں بہت کچھ کہہ سکتی ہوں مگر میری تربیت گوارہ نہیں کرتی۔مجھے چھوڑ کر اپنے خاندان کی کوئی لڑکی دیکھو جسے تم بے وقوف بنا سکو۔میں تم جیسے لڑکوں کو دیکھنا تو دور بات کرنا پسند نہیں کرتی ان سے۔”
شہرام خاموش تھا ۔ہیر دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔ہیر نے شہرام کی طرف دیکھا۔
“دروازہ کھولو۔”
“پہلے میری بات سن لو تمہیں کوئی غلط فہمی۔۔۔۔۔”
“مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی۔تم خود کو کیا سمجھتے ہو شہرام پاشا۔میں کبھی نہیں بھول سکتی تمہارے بھائی کا مکروہ چہرہ۔اپنے ہاتھوں سے اسے مارنے کا دل کرتا ہے آج بھی۔خیر میں تم سے منہ لگانا نہیں چاہتی۔باقی کی باتیں اپنے باپ اور بھائی سے پوچھنا دروازہ کھولو۔”
شہرام نے ہیر کا ہاتھ تھاما اور اپنا ہاتھ میں اٹھائی ہوئی انگھوٹی ہیر کے ہاتھ کی زینت بنا دی۔
“آج سے تم میری امانت ہو۔میں ماضی کی کوئی بات نہیں جانتا۔تم میری ہو اور میری ہی رہو گی اس بات کو دماغ میں بٹھا لو۔”
شہرام نے سرد لہجے میں ہیر کو کیا۔ہیر نے نفرت سے منہ پھیرا اور ہاتھ میں پہنی ہوئی انگھوٹی کو اتارنا چاہا جو اس کے ہاتھ میں پھنس گئی تھی۔
“یہ کبھی نہیں اترے گی ۔میں تمہیں ہر اس چیز سے چھپا لوں گا جو ہمارے درمیان دوری پیدا کرے گی۔”
“خبردار جو اپنی بکواس کو جاری رکھا۔تم سمجھتے کیا ہو خود کو ہاں۔کہیں کے منسٹر ہو یا غنڈے۔”
“میں جیسا بھی ہوں تمہارا ہوں۔ تم میرے لیئے ہی بنائی گئی ہو اور میری ہی رہو گی۔جائو اور اپنے دماغ میں بٹھا لو گے میرے علاوہ سب لڑکے تمہارے کچھ نہیں لگتے۔”
ہیر دروازہ کھلنے پر بھاگی اور اپنی دوست کے گھر میں گھس گئی۔
شہرام کا دماغ یہ سوچ کر پھٹ رہا تھا کہ اگر سچ میں ویسا ہوا جیسا ہیر کہہ رہی ہے تو یہ ہیر کا سامنا کیسے کرے گا۔اسے بہرام سے بات کرنی تھی جو گائوں جاکر ہی ممکن تھا۔


معاز منصور صاحب کا بیٹا تھا جو عالم کے ماموں تھے یعنی ماہا بیگم کے بھائی۔ہیر اور لیلی جب شہر آئی تو منصور صاحب نے ہی انہیں سنبھالا۔معاز ہیر اور لیلی کے بہت قریب تھا۔ابھی معاز لیلی اور عالم کے ساتھ اپنے چاچو یعنی عالم کے دوسرے ماموں کی بیٹی کی شادی پر آیا ہوا تھا۔معاز نے عالم اور لیلی کو بہت سال بعد اکٹھے دیکھا تھا۔سب کو یہی پتا تھا کہ عالم اور لیلی میاں بیوی ہیں مگر ایسا نہیں تھا۔عالم نے لیلی کے بچے کو نام دینے کے لیئے سب سے یہ جھوٹ بولا تھا۔منصور صاحب اس حقیقت سے واقف تھے مگر اور کوئی نہیں۔عالم ہادی کی پیدائش کے ایک سال بعد واپس گائوں چلا گیا جہاں خان کا گھر تھا۔خان کی تمام ذمہ داریاں عالم دیکھتا تھا۔اس شادی میں بھی عالم اور لیلی بطور میاں بیوی آئے تھے۔لیلی کو عزت عالم نے دی تھی ورنہ اس کا بچہ دنیا والوں کی نظر میں ناجائز کہلاتا اور اس کی زندگی بہت تنگ ہوجاتی۔زید نے آج اپنی بہن کے نکاح والے دن بہت زیادہ اہتمام کیا تھا۔سارے خاندان والے جمع تھے۔ہیر لیلی اور عالم کے ساتھ نہیں آئی تھی وہ اماں بی کے پاس تھی۔ہیر کے پیپر ہورہے تھے جس کی وجہ سے وہ گھر میں ہی تھی۔لیلی سادہ سا تیار ہوئی تو عالم کی بڑی مامی نے اس کو خوب سنائی کہ سہاگن ہوکر کیا حال بنا رکھا ہے اپنا۔زبردستی سب لڑکیوں کے لیئے بنائے ہوئے پیلے فراکوں میں سے ایک لیلی کو دیا۔لیلی کو زبردستی پھولوں کا زیور پہنایا تھا بڑی مامی نے۔ لیلی باہر آئی تو خاندان کے سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔اس خاندان نے کبھی لیلی کو ماہا کی سوتیلی بیٹی نہیں سمجھا تھا۔عالم ہادی اور معاز کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔لیلی آکر اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔
“اوے واہ آپی کیا لگ رہی ہیں آپ۔مجھے تو لگتا ہے آج بھائی کے ہوش اڑانے ہیں آپ نے۔”
معاز نے عالم کی طرف اشارہ کیا۔عالم نے نظر اٹھا کر لیلی کو دیکھا پھر نظر جھکا لی۔ابھی وہ حق نہیں رکھتا تھا کہ لیلی کو نظر بھر کے دیکھے۔
“ارے معاز میں تو کہتی ہوں یہ لڑکی دو دن رہے نہ ہمارے پاس اس کو سیدھا کر کے بھیجیں۔ہمارا عالم اتنا یونیک پیس ہے لڑکیاں مرتی ہیں اس کے پیچھے اور ایک یہ ہے عالم کو کوئی لفٹ ہی نہیں۔”
زید کی بیوی دوستانہ انداز سے عالم اور لیلی دونوں کو چھیڑ رہی تھی۔عالم خاموشی سے اپنی خالی آنکھوں سے لیلی کو دیکھ رہا تھا جو ہمیشہ کی طرح بہت نروس تھی ۔کوئی اس حقیقت کو نہیں جانتا تھا کہ یہاں بیٹھے دو نفوس میں کوئی تعلق نہیں ہے ۔عالم نے ہادی کو بچوں کے ساتھ بھیجا اور خود اٹھنے لگا جب زید کی بیوی اور بڑی مامی نے اسے روکا۔
“کدھر جارہے ہو بیٹھو یہاں پر۔”
عالم خاموشی سے واپس بیٹھا۔
“ارے ہمارے ہاں رسم ہے کہ سہاگن لڑکیاں دلہن کو پہلی مہندی لگاتی ہیں تم دونوں بھی یہاں سب سے خوش ہال شادی شدہ جوڑا ہو اس لیئے صدف کو پہلی مہندی تم دونوں لگائو۔”
بڑی مامی نے ان دونوں کو زبردستی صدف کے پاس بٹھایا۔لیلی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس سچویشن میں کیا کرے۔لیلی کے ہاتھ بھیگ گئے ۔یہ ڈرامہ عالم اور لیلی بخوبی سالوں سے نبھاتے آئے تھے مگر اب لیلی کے لیئے مشکل ہورہا تھا۔صدف نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔
“سن لیں بھابھی میرے ہاتھ کی مہندی خراب مت کرنا۔”
صدف نے کھکھلا کر لیلی کو چھیڑا۔صدف کے ہاتھ پر روایتی ٹکا لگاتے ہوئے لیلی عالم کی طرف دیکھ رہی تھی۔عالم نے رسم کے مطابق لیلی کا ہاتھ تھاما۔لیلی کو یہ بات بری لگ رہی تھا اور عالم کو بھی مگر دونوں مجبور تھے۔لیلی نے فورا سے اپنا کام ختم کیا اور اٹھ گئی۔عالم بھی تھوڑی دیر بعد باہر چلا گیا۔عالم جب دوبارہ واپس آیا تو زید کی بیوی یعنی بھابھی لیلی کے ہاتھ پر ضد کرکے مہندی لگوا رہی تھی۔عالم دور کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔یہ بچپن کی ایک یاد میں چلا گیا۔
عالم اور میرب لیلی خان اس وقت پندرہ برس کےتھے۔صبح عید تھی اور ماہا بے انتہا مصروف تھی۔لیلی کب سے انتظار کر رہی تھی کہ وہ آئیں اور اس کو مہندی لگائیں۔لیلی آخرکار چڑ گئی ۔
“میں کب سے انتظار کر رہی ہوں ماما کا مگر مجال ہے جو انہیں وقت ملے۔”
لیلی غصے میں کشن پھینک رہی تھی جب عالم نے ایک کشن کیچ کیا ۔
“یار پریشان کیوں ہوتی ہو میں ہوں نہ۔”
“تم مہندی لگا سکتے ہو کوئی۔”
لیلی نے چڑ کر عالم پر طنز کیا۔
‘تم کہو تو میں لگا بھی سکتا ہوں۔”
“میں نے اپنے ہاتھوں پر نقش و نگار نہیں بنوانے۔”
“یار غصہ مت کرو ایک بار اعتبار تو کر کے دیکھو۔”
عالم نے لیلی کی بند مٹھی کھولی۔عالم نے سامنے پڑی مہندی کے ڈیزائن والی کتاب سے مہندی دیکھی اور لیلی کے ہاتھ پر لگانا شروع کی۔عالم کی ڈرائنگ اچھی تھی اسی لیئے قابل قبول مہندی لگا دی۔
“ارے واہ پارٹنر تم نے تو کمال کر دیا۔”
لیلی نے اپنے ہاتھ دیکھا اور عالم کے کام کی تعریف کی۔دور کھڑے خان اپنے بچوں کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ان کا خواب تھا کہ لیلی کے ہاتھ میں عالم کے نام کی مہندی لگے۔
معاز کے کھنچنے پر عالم کو ہوش آیا جو اسے لیلی کے پاس لے آیا۔
“بھائی بھابھی کو اٹھائیں نہ ہمارے ساتھ لٹی ڈالیں۔سالوں ہوگئے کسی کی شادی کو اینجوائے کیئے۔”
سب کے زبردستی کرنے کرنے پر لیلی اٹھی۔عالم اس کے ساتھ تھا۔دونوں کزنز کے گھیرے میں آئے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ان کا ساتھ دینے لگے۔عالم جانتا تھا لیلی کے دل پر کیا گزری ہے اور لیلی جانتی تھی کہ عالم نے اس کے لیئے اور اس کے بچے کے لیئے کیا قربانی دی ہے۔


بہرام نے اپنی الماری کھولی ہوئی تھی۔اس میں رکھا ہوا ایک ڈوپتا آج بھی کسی کی یاد دلاتا تھا۔میرب خان کا وہ نرم سا رویہ وہ محبت بھرا لمس بہرام کیسے بھول سکتا تھا مگر خاندانی دشمنی نے بہرام سے وہ کروایا جو یہ کرنے کے بارے میں سوچ نہیں سکتا تھا۔بہرام کے باپ نے اس سے کہا تھا کہ تم نکاح مت کرنا مگر اسے ناجانے کیا ہوا کہ یہ نکاح کر بیٹھا ۔شاید یہ برداشت نہیں کرسکتا تھا کہ میرب کسی اور کی ہو۔اتنے سال اس نے خود کو میرب سے دور رکھا کہ کہیں دل پھر کوئی بغاوت نہ کردے ۔ دروازہ کھلا اور اندر آنے والا شہرام تھا۔
“ارے میری جان تم کب آئے۔”
“میں آپ سے بات کرنے آیا ہوں لالہ۔”
شہرام کی آنکھیں اس وقت سرخی نائل تھی جو اس کی کیفیت بیان کر رہی تھی۔
“کیا ہوا بچے کوئی کام ہے لالہ سے۔”
بہرام نے شہرام کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
“لالہ آج سے چھ سال پہلے آپ نے میرب لیلی خان سے شادی کی تھی۔”
شہرام کے سوال پر بہرام کی آنکھیں سرد ہوئی۔اس نے اپنے ہاتھ اپنے پہلو میں گرائے۔
“تم سے یہ بات کس نے کہی۔”
“آپ اس بات کو چھوڑ دیں کہ مجھے کیسے علم ہوا۔مجھے صرف اتنا بتا دیں لالہ کیا یہ سچ ہے۔”
“اس بات کو چھوڑ دو شہرام تم کچھ نہیں جانتے۔”
“بولیں نہ لالہ کیا آپ نے اپنے بچے کو اپنا نام نہیں دیا تھا۔ایک لڑکی کی زندگی برباد کی تھی آپ نے اور بابا نے۔”
“شہرام تم مجھ سے سوال کرنے کا حق نہیں رکھتے۔”
“کیوں لالہ کیوں حق نہیں رکھتا۔آپ کی وجہ سے میری ہیر مجھ سے اتنی بد گمان ہے وہ مجھے کہتی ہے میں بھی آپ ہی طرح گھٹیا ہوں۔”
“شہرام بھول جائو اس لڑکی کو۔تمہاری زندگی بہت اچھی گزرے گی۔”
“اس کے بغیر میری کوئی زندگی نہیں لالہ۔میں آپ کو چھوڑ دوں گا مگر ہیر کو نہیں ۔میں آپ کی طرح کسی کی بیٹی کے ساتھ نہیں کھیلتا۔ہمارے گھر میں بھی بہنیں ہیں شاید آپ یہ بات بھول گئے تھے۔”
“شہرام تم کل کی محبت کے لیئے اپنے لالہ کے خلاف جائو گے۔”
“وہ کل کی محبت نہیں ہے لالہ وہ یہاں بستی ہے میرے دل میں۔میں صرف ایک وجود ہوں اس میں روح میری باربی میری ہیر ہے۔آج جو کامیابی میں نے حاصل کی ہے وہ صرف ہیر کی خاطر اس کو اچھی زندگی دینے کی خاطر۔”
“شہرام آگ سے مت کھیلو۔”
“واپسی کا کوئی رستہ نہیں لالہ اور ہوگا بھی نہیں۔”
شہرام غصے سے کہہ کر چلا گیا جبکہ بہرام کی آنکھیں سرد ہوگئی۔