454.6K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dareeche Dil Ke) Episode 13

ہیر کی آنکھ کھلی تو اسے احساس ہوا کہ یہ شہرام کے حصار میں سو رہی ہے۔شہرام نے ہیر کو سینے سے لگایا ہوا تھا۔ایک بازو ہر ہیر کا سر تھا جبکہ دوسرا ہیر کے اردگرد تھی۔ہیر کو رات کا منظر یاد آیا۔
رات کو جب کھانا کھا کر ہیر سونے لگی تو شہرام اس کے پاس آیا۔
“ہیر کپڑے بدل لو۔”
“نہیں میں ایسے ہی ٹھیک ہوں مجھے نیند آرہی ہے۔”
“تمہاری نیند کی تو ایسی کی تیسی۔ہر وقت تو تمہیں نیند آئی رہتی ہے۔پتا نہیں کتنا سوتی ہو تم۔سچ میں ہمارے بچے تو ماں کو ڈھونڈتے ہی رہ جایا کریں گے۔”
ہیر نے کمبل سیٹ کرے ہوئے شہرام کو دیکھا۔
“کس نے کہہ دیا تم سے کہ ہمارے بچے ہوں گے ۔”
“مسز میں تو پہلے ہی تمہیں پتا دوں مجھے بچے چاہیئں وہ بھی ڈھیر سارے۔میرا دل کرتا ہے میرے بچے ہوں جو ہر وقت میرے آگے پیچھے گھومتے رہیں۔کتنا خوبصورت گھر ہوگا نہ۔ میں تم اور ہمارے ڈھیر سارے بچے۔”
شہرام ہیر کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
“مجھے ایسی کوئی خواہش نہیں ہے شہرام۔”
“بچوں کی خواہش کس لڑکی کو نہیں ہوتی ۔”
“کیوں نہیں ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے ماں کے مرتبے پر فائز ہونا ۔مگر جس لڑکی کی زبردستی کسی نے نکاح کیا ہو اور رشتہ بنایا ہو اس لڑکی کو ہرگز یہ خواہش نہیں ہوتی کہ اس کے بچے ایسے ماحول میں رہیں۔”
شہرام نے ہیر اور اپنے پاس کھینچا ۔ہیر شہرام کے بہت قریب تھی۔
“میں نے جو قدم اٹھایا ہے وہ مجبوری میں اٹھایا ہے ہیر۔ساری دنیا کے سامنے اپنے رشتے کو قبول کیا ہے۔یہاں سے جانے کے بعد ایک بڑا سا فنکشن کروں گا تاکہ تمہارے سارے اعتراضات دور ہوجائیں باربی ۔”
شہرام نے ہیر کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کو اوپر کیا۔ہیر نے آج پہلی بار شہرام کو دیکھا تھا اتنے قریب سے۔
“ایک بات یاد رکھو شہرام پاشا برائی ہمیشہ برائی ہی ہوتی ہے چاہے اسے اچھائی کے لباتے میں اوڑھ کر کیا جائے۔شادی جیسے بھی ہوئی ہماری تھی تو زبردستی کی نہ۔ایک اور بات مرد اپنی محبت کے کیلئے کبھی مجبور نہیں ہوتا وہ چاہے تو جان بھی دے دیتا ہے مگر محبوب کو کوئی تکلیف نہیں آنے دیتا۔”
ہیر نے شہرام کی آنکھوں میں دیکھ کر اسے لاجواب کیا۔
“میری جان چاہیئے تمہیں باربی۔”
“نہیں شہرام پاشا صرف آزادی۔”
“آزادی تمہیں مجھ سے کبھی نہیں ملے گی۔میں مر بھی جائوں تب بھی تم میرے نام کے ساتھ ہی زندہ رہو گی۔تم میری ہو بس میری یہ آنکھیں یہ لب یہ چہرہ یہ وجود اسے چھونے کا حق صرف میرا ہے۔”
شہرام نے جھک کر ہیر کے ہر نقش پر بوسہ دیا۔
“بہت جلد ہمارے درمیان ایک تیسرے وجود کا اضافہ ہوگا جو تمہیں مجھ سے مکمل جوڑ دے گا۔”
“تمہیں اتنا یقین ہے۔اگر بیٹی ہوئی اور کوئی اس کے ساتھ ایسا کرے گا تو کیا کرو گے تم شہرام پاشا۔”
“بیٹی میری بیٹی کی ہر خواہش پوری کروں گا میں۔ضروری نہیں کہ ہماری بیٹی کے لیئے بھی کوئی شہرام پاشا آئے۔ہمارے خاندان کی کہانی الگ ہے ۔ہمارا ماضی الگ ہے۔ہماری بیٹی کو سیکھانا ہے میں نے کہ چاہت کا جواب چاہت سے دینا ہے۔”
شہرام نے ہیر کی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر اس کا چہرہ دوبارہ اوپر کیا۔ہیر پیچھے ہوئی۔
“نہیں شہرام میں نہیں چاہتی تم میرے قریب آئو”
“ہیر میں تمہارے قریب آچکا ہوں اب تو کوئی فاصلہ نہیں رہا۔”
شہرام نے ہیر کو تھام کر بیڈ پر لٹایا۔
“میرے دل میں کبھی تم جگہ نہیں بنا پائو گے شہرام۔”
“بے فکر رہو میں تمہیں اپنا اتنا عادی بنا دوں گا کہ باہر کی دنیا تمہارے لیئے کوئی اہمیت نہیں رکھے گی۔”
شہرام ہیر ہر جھکا۔ہیر جانتی تھی اس پاگل شخص سے فرار کا ایک ہی راستہ ممکن ہے اس جگہ سے جانا۔
شہرام کی آنکھ ہیر کے کمسانے پر کھلی۔ہیر کے پیر میں سخت تکلیف ہورہی تھی۔
“باربی۔۔۔۔کیا ہوا میری جان۔”
“میرا پیر بہت درد ہے۔”
شہرام ہیر کے پیر کو دیکھنے لگا۔شائد سردی کے باعث ہیر کو زیادہ درد ہورہا تھا۔
“باربی تم بیٹھو میں آتا ہوں۔”
شہرام واپس آیا تو ہیر کے پیر کو سیدھا کیا۔پلاسٹر لگا ہوا تھا ہیر کے پیر اور ٹانگ پر۔شہرام نے جھک کر ہیر کے پیر کو چوما۔
“پلیز شہرام۔”
“کچھ نہیں ہے باربی ابھی سردی ہے بہ تھوڑی دیر میں درد ٹھیک ہوجائے گا۔میں ناشتہ لاتا ہوں تمہارے لیئے۔”
ہیر کے سامنے ناشتہ رکھتے ہوئے شہرام بھی ہیر کے ساتھ ہی بیٹھا
“ہیر آجائو پہلے فریش ہوجائو۔”
ہیر بہت بے بس تھی۔ہر چیز میں شہرام کی مدد چاہیئے ہوتی تھی۔شہرام ہیر کو بانہوں میں اٹھا کر واش روم لایا۔
“میں خود چلی جائوں گی۔”
“میں باہر ہی ہوں مجھے آواز دینا ٹھیک ہے۔”
تھوڑی دیر بعد ہیر نے شہرام کو بلایا۔شہرام نے ہیر کے ہاتھ کی پٹیاں اتار کر اس کے ہاتھ دھلوائے۔ہیر کا چہرہ شہرام نے بچوں کی طرح صاف کیا۔
“میں برش کیسے کروں۔”
“میں کروا رہا ہوں نہ۔”
شہرام نے ہیر کو برش بھی خود ہی کروایا۔
“ہیر تم کپڑے بھی تبدیل کرلو ۔”
“مجھے کپڑے دے دو میں خود ہی تبدیل کر لیتی ہوں۔”
شہرام ہیر کو بیڈ پر بٹھا کر اس کے کپڑے لایا۔ہیر نے کپڑے تبدیل کیئے۔شہرام اس کے لیئے دودھ لایا تھا۔
“میں ناشتہ خود کر لوں گی۔”
“ہیر ہاتھ دیکھو اپنے زخمی ہیں۔میں کروا رہا ہوں ناشتہ مجھے آواز نہ آئے تمہاری۔”
شہرام نے ہیر کو ناشتہ کروایا۔
“شہرام مجھے باہر جانا تھوڑی دیر کے لیئے۔مجھے یہ قید نہیں پسند۔”
شہرام برتن اٹھا رہا تھا۔ہیر کہ بات سن کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔
“دن میں چلتے ہیں ۔ابھی صبح ہے تو باہر کافی سردی ہے۔دو بجے تک دھوپ یہاں ہمارے گھر کے پاس ہوگی تو لے جائوں گا تمہیں۔”
شہرام نے ایک کتاب اٹھا کر ہیر کو دی۔
“تم کتاب پڑھ لو میں تب تک کھانا بنا لوں دن کے لیئے اور رات کا بھی۔پھر اکٹھے بیٹھیں گے۔”
شہرام ہیر کو کتاب دے کر باہر چلا گیا۔ہیر کافی دیر کتاب پڑھتی رہی۔دو گھنٹے تک شہرام نے کھانا بنایا۔شہرام اندر آیا تو لائڈ بند ہوگئی۔باہر بھی دھوپ کے بجائے بارش شروع ہوگئی۔
“شہرام ۔۔۔۔۔۔”
ہیر نے شہرام کو آواز دی۔شہرام کمرے میں موم بتی لیئے آیا۔
“باربی میری جان یہاں بجلی کا کافی مسئلہ ہے۔میں دیکھتا ہوں کیا مسئلہ ہوا ہے۔”
شہرام ہیر کے پاس آکر اسے بول کر باہر چلا گیا۔باہر بادل برس رہے تھے۔کاٹچ میں شہرام نے ہر طریقے کا انتظام کیا تھا جس کی وجہ سے سردی نہیں تھی۔ہیر کو سامنے لگی کھڑکیوں سے پردے ہٹے ہونے کی وجہ سے باہر چھائی کالی گھٹا اور بجلی چمکتے ہوئے نظر آرہی تھی۔تھوڑی دیر بعد شہرام آیا ۔
“10 منٹ تک لائٹ آجائے گی۔میں نے چیک کیا ہے تار کا کچھ مسئلہ ہے۔سیٹ کیا ہے میں نے ابھی ٹھیک ہوجائے گا۔”شہرام ہیر کے پاس بیٹا۔
“شہرام آیا تھوڑی دیر کے لیئے باہر چلتے ہیں۔”
“باربی باہر اندھیرا ہوگیا ہے کالی گھٹا کی وجہ سے۔سردی بہت ہے اور بارش بھی بہت تیز ہے۔”
ا”اچھا تھوڑی دیر کے لیئے کھڑکی کے پاس ہی لے جائو۔”شہرام ہیر کو لے کر باہر لاوئنج میں آیا۔کھڑکیوں ہر بارش پڑ رہی تھی اور ایک خوبصورت آواز پیدا ہورہی تھی۔ہیر کے نزدیک ہی شہرام نے لکڑیاں جلا کر رکھی جو شہرام نے پہلے ہی انتظام کر رکھا تھا۔شہرام ہیر کے پاس بیٹھا ۔ہیر کی ٹانگوں کو شہرام نے اپنے گھٹنے پر رکھا اور خود بھی ٹانگیں سیدھی کر کے دیوان پر بیٹھ گیا۔
“کتنا پیارا موسم ہے نہ ۔”
ہیر کھڑکی کے پاس پڑتے بارش کے قطروں کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“باربی یہ موسم تو بہت زیادہ ڈرا دیتا ہے۔دیکھو نہ کیسے اندھیرا ہوگیا ہے۔”
“نہیں شہرام یہ موسم تو نے تحاشا خوبصورت ہے اور اوپر سے سردی۔جب ہم سوات جاتے تھے نہ تو وہاں ایسا ہی موسم اکثر ہوتا تھا۔میں اور شازل لالہ اکثر کوئی ڈروانی مووی دیکھا کرتے تھے۔پھر شازل لالہ فیری ٹیلز سنایا کرتے تھے۔میرے پاس اب بھی ڈھیر ساری کہانیاں تھی گھر میں۔ہم آگ کے پاس بیٹھ کر بہت کچھ کھانے کو رکھتے تھے اپنے ساتھ۔کمبل میں بیٹھ کر آگ کے سامنے ہاتھ گرم کرنا اور مدہم روشنی میں بھائی یا آپی کے منہ سے کہانیاں سننا مجھے بہت پسند تھا۔”
ہیر کی آنکھوں میں ماضی کو یاد کرکے کئی ڈیپ جلے۔
“تمہیں کہانیاں سننے کا شوق ہے میری جان۔”
“بہت زیادہ بتایا نہ مجھے کہانیاں ایسے لگا کرتی تھی جیسے میں ان کے اندر شامل ہوں ان کرداروں میں۔ہمارے ہاں ایک بہت مشہور کہانی ہے داستان صوفیہ اور مراد کی محبت کی کہانی۔شازل بھائی کی پسندیدہ تھی وہ کہانی۔”
“میں نے بھی وہ کہانی سن رکھی ہے۔”
“شازل بھائی کہتے تھے کہ مراد سردار کا مزار ہمارے گھر کے پاس ہے مگر لیلی آپی کہتی تھی کہ نہیں وہ گھنے جنگل میں ہے۔وہاں جو بھی جاتا ہے اسے اس کا سچا پیار مل جاتا ہے۔”
“میں نے جو کہانی سنی تھی نہ باربی اس میں مجھے یہی بتایا گیا تھا کہ مراد وارث ایک انسان تھے اور ان سے ایک پری کو محبت ہوئی تھی۔پھر جب وہ پری انسان بن کر مراد سے شادی کے لیئے آئی تو ان کو مراد سردار کے ساتھ ہی مار دیا گیا۔ان دونوں کی قبریں کسی کو نہیں پتا۔”
“شازل لالہ بتایا کرتے تھے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ مراد وارث پری سے بہت محبت کرتے تھے۔۔پری نے یہ دعا کی تھی کہ ان کی آنے والی اگلی نسل میں سے کوئی لڑکی اور لڑکا ان جیسی محبت کریں۔”
“ہوسکتا ہے یہ کہانی سچ ہو۔”
“معلوم نہیں مگر لگتا تو ہے کہ کہانی سچی تھی۔خیر بچپن سے یہ کہانی سنتے آئے ہیں۔”۔
“ہیر سردی بہت ہے اندر چلیں۔”
“نہیں میرا دل کر رہا ہے یہاں بیٹھنے کا۔”
ہیر نے کسی ضدی بچے کی طرح نہ میں سر ہلایا۔شہرام نے ہیر کا دیوان بھی اپنے دیوان کے ساتھ جوڑا ۔ہیر کو اپنے قریب کیا اور اسے کمبل سے ڈھانپا۔
“بلکل بچی ہو تم۔”
“جی نہیں میں اتنی بڑی ہوں۔شہرام تمہیں کوئی کہانی آتی ہے۔”
“نہیں میں نے کبھی کہانی نہیں پڑھی۔”
“مگر مجھے کہانیاں اچھی لگتی ہیں کیا تمہارے پاس کہانیوں والی کوئی کتاب نہیں۔”
“ایک کتاب ہے بہت مشہور زمانہ ہے جو عروبہ نے لکھی ہے مراد اور صوفیہ کی داستان ۔”
“وہ ہے کیا شہرام تمہارے پاس۔”
“شاید میں دیکھتا ہوں ۔”
شہرام ہیر کے ساتھ یہ کتاب پڑھتا رہا۔تھوڑی دیر بعد شہرام کو اپنے سینے پر ہیر کی بھاری سانسیں محسوس کوئی جو سو چکی تھی۔سردی بہت تھی جس کی وجہ سے ہیر کو بخار تھا ہلکا ہلکا۔شہرام نے ہیر کے سونے کا مکمل یقین کرکے اسے اٹھایا اور کمرے میں لاکر بیڈ پر لٹا دیا۔شہرام نے اپنا کچھ کام کرنا تھا۔شہرام باہر آیا اور اپنی ڈیزائنگ والی کتاب نکالی۔شہرام بہت دیر بیٹھا رہا۔آج شہرام نے ہیر کے ساتھ بہت باتیں کی تھی۔ہیر کو تنہائی میں رکھنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ہیر کے پاس جب کوئی اور انسان نہیں ہوگا تو وہ خود بخود ہی شہرام کے قریب ہوجائے گی۔یہ انسان کا المیہ ہے کہ جب تنہائی ہوتی ہے تو اس وقت دشمن بھی دوست لگنے لگتا ہے۔شہرام کافی دیر کام کرتا رہا۔دوپہر کے تین بج رہے تھے۔باہر ابھی بھی اندھیرا سا تھا۔بارش رک گئی تھی مگر سردی بہت زیادہ تھی۔شہرام نے کھانا گرم کیا اور کمرے میں آیا۔ہیر کمبل میں آرام سے سو رہی تھی ۔شہرام نے ہیر کا ماتھا چیک کیا اسے بخار ہوگیا تھا۔ٹھنڈ بہت تھی ۔شہرام نے ہیر کو اٹھایا۔ہیر کی آنکھوں نہیں کھل رہی تھی۔آخرکار شہرام نے اسے اپنے سینے سے لگایا اور سوپ پلایا۔
“لیلی آپی مجھے پاس بلا لیں۔”
ہیر نیند میں بھی بول رہی تھی۔شہرام نے ڈاکٹر سے پوچھا تھا جس کے مطابق زخموں کے باعث ہیر کو بخار ہونا تھا۔۔شہرام نے ہیر کو دوائی دی۔
“مجھے آپی کے پاس جانا ہے ۔”
ہیر اپنا سر پٹخ رہی تھی۔شہرام سب کچھ چھوڑ کر اس کے پاس بیٹھ گیا ۔
“ہیر باربی میری جان ٹھیک ہو تم۔”
ہیر بار بار اپنا سر پیٹخ رہی تھی۔شہرام نے اس کا سر سینے پر رکھا اور اور ہیر کے اردگرد اپنا حصار بنایا۔
شہرام کی اپنی آنکھ لگ گئی تھی۔ہیر جب اٹھی تو اسے گرمی کا شدد سے احساس ہوا۔شہرام اس کے پاس سویا ہوا تھا۔کھڑی شام کے چھ بجا رہی تھی۔یہاں تو دن رات کا پتا نہیں چلتا تھا۔ہیر کا بخار اب کم تھا۔بجلی آچکی تھی اور کمرے میں مدہم روشنی تھی۔شہرام نے ہیر کو تنہا کر دیا تھا۔ہیر جانتی تھی کہ شہرام کیا چاہ رہا ہے۔ہیر کو سچ میں لگنے لگا تھا کہ اگر یہ کچھ اور دن یہاں رہی تو کہیں سچ میں اسے شہرام کی عادت نہ ہوجائے یا شہرام کی بچوں کی خواہش۔ہیر جلد از جلد یہاں سے نکلنا چاہتی تھی ۔مگر یہ علاقہ رہائشی علاقے سے دور تھا۔ہیر اس وقت اپنے قدموں پر کھڑی بھی نہیں ہوسکتی تھی۔ہیر کو شہرام کا موبائل یا لیپ ٹاپ دیکھنا تھا کہ کہاں ہے وہ۔وہی ایک ذریعہ تھا جس کے ذریعے یہاں سے نکل سکتی تھی۔ہیر کو اب انتظار کرنا تھا کہ کب یہ خود قدموں پر کھڑے ہو پائے گی تب ہی یہ اس کاٹچ میں اپنی مطلوبہ چیز تلاش کر سکتی ہے۔ہیر نے اپنے ہاتھ پر بندھی پڑھی دیکھی تو اسے احساس ہوا کہ اسے اب ہوش سے کام لینا ہے ورنہ فرار کا کوئی راستہ نہیں