454.6K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dareeche Dil Ke) Episode 15

بہرام حویلی پہنچا تو اسے سامنے ہی دادی اور مورے بیٹھی ہوئی نظر آئی۔
“دادی صاحب کہاں ہے شہرام۔”
“بچا وہ ہیر بچی کو لایا تھا سیدھے اپنے کمرے میں لے گیا۔”
بہرام کا رخ شہرام کے کمرے کی طرف تھا۔بہرام نے دروازہ کھولا۔شہرام ہیر کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا ۔ہیر سو رہی تھی۔
“باہر آئو شہرام ۔”
بہرام شہرام کو بول مر باہر چلا گیا۔
“جی لالہ۔”
بہرام نے ایک تھپڑ شہرام کے گال پر مارا۔یہ شہرام کو زندگی میں پہلی بار بہرام کی طرف سے تھپڑ پڑا تھا۔
“تمہیں شرم نہیں آئی کسی کی بیٹی کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے۔پچھلے پورے ڈیڑھ ماہ سے ڈھونڈ ہورہے ہیں اس کے گھر والے اور میں تمہیں۔”
شہرام نے ڈھٹائی سے جواب دیا۔
“آپ کو یہ باتیں زیب نہیں دیتی لالہ۔آپ نے خود کیا کیا ہے ہیر کی بہن کے ساتھ ۔آپ نے تو دنیا کے سامنے اپنے رشتے کو گناہ بنا دیا۔میں نے ایسا نہیں کیا۔ہیر کو عزت دی ہے پوری دنیا کے سامنے۔”
“میرے کسی عمل کے لیئے تم مجھ سے سوال نہیں کرسکتے شہرام۔تم نے غلط کیا ہے تو کیا ہے۔”
“غلط میں نے نہیں غلط آپ نے کیا ہے لالہ۔مجھے پتا ہے کہ محض ایک بدلے کے پیچھے آپ نے اپنی بیوی کے ساتھ اپنے تعلق کو دنیا کی نظر میں ایک گالی بنا دیا۔آپ کا بچا آپ کے بجائے کسی اور کی گود میں پرورش پارہا ہے اس سے بڑی ناکامی آپ کے لیئے اور کیا ہوگی۔”
“میں نے جو کیا ہے اس کا جواب میں دوں گا مگر تم نے تو حد کر دی ہے۔ہیر کو لے کر کہاں غائب ہوگئے تھے تم۔”
“ہیر کو لے کر میں صرف کچھ عرصے کے لیئے دور ہوا تھا۔وہ میری بیوی ہے اور اس کے کسی بھی معاملے کے لیئے میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں۔اب تو اس حویلی کی امانت ہے اس کے پاس۔میں بابا بننے والا ہوں۔کل کے لیئے ولیمہ کا اعلان کیا ہے میں نے۔”
“بہرام تمہیں یہ سب کرتے ہوئے شرم نہ آئی۔”
“شرم کیسی شرم لالہ۔آپ نے جب ایک لڑکی کی زندگی خراب کی تو کیا آپ کو احساس تھا۔جانتے ہیں آپ میرے پاس اس رستے کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچا تھا۔نہ ہیر کی بہن کبھی اسے میرا ہونے دیتی نہ کبھی ہیر میرے پاس آتی۔آپ کی وجہ سے ایک معصوم کی زندگی برباد ہوئی۔آپ مجھ سے کس بات کا جواب مانگتے ہیں۔”
ملازم بھاگتا ہوا اوپر آیا۔
“چھوٹے سائیں وہ کوئی لیلی اور شازل آئے ہیں جی نیچے۔شاید یہ لڑکی پہلے بھی آئی ہے۔بڑا شور کر رہی ہے جی۔”
بہرام فورا سے نیچے گیا۔
“آنٹی میں نہیں چاہتی کہ میں ایسا کچھ کر جائوں کہ بعد میں مجھے بھی اس بات پر پچھتاوا ہو۔برائے مہربانی میری بہن کو بلا دیں۔”
بہرام کی ماں کے سامنے کھڑی لیلی اپنی بہن کے بارے میں سوال کر رہی تھی۔
“لیلی تم۔۔۔۔۔”
“خبردار بہرام پاشا جو تم میرے کسی بھی معاملے میں بولے۔”
شہرام نیچے آیا۔لیلی شہرام کی طرف آئی۔
“کہاں ہے میری بہن۔تمہیں ذرا شرم نہیں آئی یہ سب کرتے ہوئے۔بے غیرتی کا ہر ریکارڈ توڑ دیا ہے تم دونوں بھائیوں نے۔”
“پلیز سالی صاحبہ تھوڑا تحمل سے۔میری بیوی اوپر کمرے میں آرام کر رہی ہے۔آپ جانتی تو ہیں نہ جب عورت ماں بنتی ہے تو اسے آرام کی کتنی ضرورت ہوتی ہے۔”
“ماں۔۔۔۔کیا کیا ہے تم نے میری بہن کے ساتھ۔۔۔۔”
لیلی نے شہرام کا گریبان پکڑ لیا۔اسے آواز آئی۔
“آپی۔۔۔۔۔”
ہیر اسے بلا رہی تھی۔دور سے آتی ہیر کو دیکھ کر لیلی فورا اس کی طرف بڑھی۔گرین اور گولڈن رنگ کے شلوار قمیض پر ہیر نے گولڈن رنگ کا ڈوپٹہ گلے میں لے رکھا تھا۔
“میری جان میرا بچی۔”
لیلی فورا سے آگے گئی اور ہیر اور سینے سے لگا لیا۔شازل بھی آگے آیا جو خاموشی اے دور کھڑا ہوا تھا۔
“ہم اپنی بہن کو لے جارہے ہیں ۔میں نہیں چاہتا کہ کوئی مزید ڈرامہ ہو۔ہم اس خاندان سے اور کوئی بھی رشتہ نہیں رکھنا تکھتے۔اگر بہرام اور شہرام پاشا چاہیں تو اپنی بچے لے جائیں میرے گھر میں میری بہنوں کے لیئے جگہ تو ہے مگر اس خاندان کے گندے خون کے لیئے نہیں۔”
ہیر بے یقینی سے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی۔اس کا بھائی اتنا سفاک کیسے ہو سکتا تھا۔
“آپ ایسے کیسی کہہ سکتے ہیں بھائی اس میں میرا یا آپی کے بیٹے کا تو کوئی قصور نہیں۔”
“یہی دنیا کا دستور ہے ہیر۔تم دونوں کے بچے اس خاندان کے ہوں گے کل کو اپنی باپ کے بارے میں پوچھیں گے تو کیا جواب دو گی۔لیلی کے لیئے تو پھر بھی عالم ہے مگر تمہارے لیئے کون آئے گا۔آج سب جانتے ہیں تم شہرام پاشا کی بیوی ہو کل کو کوئی تمہیں تمہارے بچے کے ساتھ نہیں اپنائے گا۔”
“بس کر دو تم شازل۔ہم بے سہارا نہیں ہیں۔اس گھر کی بیٹی ہی تمہاری بیوی ہے تم شاید بھول رہے ہو۔تمہاری اپنی اولاد میں بھی اس خاندان کا خون شامل ہے۔تم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہو کہ ایک ماں اپنے بچے سے دور ہو۔تم نے آج تک کس مصیبت میں میرا ساتھ دیا ہے۔جب بابا گئے تو اس وقت عالم تھا ہمارے پاس تم نہیں۔تمہارے لیئے تمہارے بیوی بچے اہم تھے نہ تو اب کیوں تم ہماری زندگیوں کا فیصلہ لو۔”
“حقیقت یہی ہے لیلی کوئی ایک اغوا شدہ لڑکی کو نہیں اپنا پاتا اور وہ بھی ایک بچے کے ساتھ۔”
عالم کی آواز پیچھے سے آئی ۔
“تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں شازل۔مجھے سمجھ نہیں آتی بابا نے میری اور تمہاری تربیت ایک جیسی کی ہے مگر تم مختلف کیوں ہو۔یہ دونوں تمہاری بہنیں ہیں۔رہی بات بچوں کی تو میں سنبھال لوں گا دونوں بچوں کو۔ایک میرا بیٹا ہے اور دوسرا میری بہن کا بچہ ہوگا۔”
ہیر جو خاموش کھڑی تھی وہ بول پڑی۔
“نہیں عالم بھائی آپ نے آج تک آپی کا اور میرا بہت ساتھ دیا ہے ۔شازل بھیا ٹھیک ہی تو کہتے ہیں میں ایک اغوا شدہ لڑکی ہوں مجھے کوئی نہیں اپنائے گا۔آپ تو آپی سے بے انتہا محبت کرتے ہیں مگر میرے لیئے کوئی ایسے کھڑا نہیں ہوگا۔کل میرا ولیمہ ہے شہرام کے ساتھ آپ سب ضرور آنا۔میں نہ تو اپنے بچے کو خود سے دور کروں گی نہ ہی اسے شازل بھائی جیسے لوگوں کی باتیں سننے کے لیئے چھوڑوں گی۔”
“ہیر تم کیسی باتیں کر رہی ہو میری جان۔میں ہوں نہ میرے پاس سب کچھ ہے میری بیٹی کو دینے لے لیئے۔تمہارے بچے کو میں پال لوں گی۔”
“نہیں آپی آپ کے بہت احسان ہیں مجھ پر۔آپ اور عالم بھیا اپنی زندگی جی لیں۔میں رہ لوں گی شہرام کے ساتھ ۔شہرام۔۔۔۔۔”
شہرام جو خاموش کھڑا تھا فورا ہیر کے پاس آیا۔
“مجھے کمرے میں جانا ہے ۔”
شہرام نے ہیر کا ہاتھ تھاما اور اسے کمرے کی طرف لے گیا۔بہرام اور اس کی والدہ دونوں نے لیلی سے بات کرنا چایئے۔
“بس آنٹی۔میری بہن کو مجبور کر دیا ہے آپ کے بیٹے نے یہاں اس مقام تک آنے کے لیے۔بہرام پاشا تمہاری اولاد میں تمہیں کبھی نہیں دوں گی۔میں نے طلاق کے کاغذات پر دستخط کر دیا ہے اب تم بھی دستخط کر دینا۔”
لیلی روتے ہوئے حویلی سے نکلی۔عالم بھی اس کے پیچھے ہی تھا۔بہرام بلکل لاجواب ہوگیا تھا۔یہی معاشرے کا المیہ ہے۔لڑکی کا قصور نہ بھی تو ایک ذرا سی بات اس کے دامن کے لیئے داغ بن جاتی ہے۔ہیر شہرام کے ساتھ رہنے کو تیار ہوگئی کیوں کہ وہ جانتی تھی اس کے بچے کو عالم جیسا باپ نہیں ملے گا۔عالم تو لیلی سے محبت کرتا ہے ۔لیلی عالم لے لیئے بچپن سے اس کی جان سے زیادہ اہم تھی مگر ہیر عالم کا بھائی تھا۔زندگی کے کسی موڑ پر آکر جو بات آج شازل کہہ رہا تھا اگر وہ عالم کہہ دیتا تو۔عالم اپنے محبوب کے بچے کو تو اپنا لیتا مگر بہن کے بچے کو اپنا کر بھی اس طرح پیار نہ دے پاتا جس کا حقدار ہیر کا ہونے والا بچہ تھا۔
ہیر کمرے میں بیٹھی ہوئی رو رہی تھی۔اس کے آنسو ہی نہیں رک رہے تھے۔
“میری باربی آپ کیوں روتی ہیں میں ہوں نہ۔کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا تم پر۔”
ہیر اور رونے لگ گئی۔
“تم نے مجھے آج ایک اغوا شدہ لڑکی بنا دیا شہرام۔میں ساری زندگی تمہیں کبھی نہیں اپنا پائوں گی۔مجھ سے سب کچھ چھین لیا ہے تم نے۔میری واپسی کے تمام راستے بند ہیں صرف تمہاری وجہ سے۔میں صرف اپنے بچے کی وجہ سے تمہارے ساتھ ہوں ۔”
“میں تمہیں بہت محبت دوں گا باربی تمہیں کچھ بھی یاد نہیں رہے گا۔”
ہیر کے رونے میں اور روانی آگئی۔ہیر جانتی تھی شہرام اور اس کا تعلق خالی ہے۔ہیر کبھی اپنے مجرم کو معاف نہ کر پاتی ۔مگر ایک ماں مجبور ہوگئی تھی اپنے ہی مجرم کے پاس رہنے کو۔


بہرام اس وقت لیلی کے سامنے موجود تھا۔
“لیلی پلیز دیکھو جو ماضی میں ہوا اس کو بھول جاتے ہیں ۔میں چاہتا ہوں ہمارا بچہ ہمارے ساتھ رہے۔اسے پہچان ہو اپنے ماں باپ کی۔”
“بہرام پاشا ایک بات سن لو اور سمجھو۔ہیر کے ساتھ جو معاملہ ہوا وہ مجھ سے بہت مختلف تھا۔تمہارا بھائی ہیر کا مجرم ہے مگر اس نے ایک بات تو اچھی کی نہ کہ اپنی بیوی کو دنیا کے سامنے اپنا مانا۔تم نے کیا کیا۔میری محبت کو میرا گناہ بنا دیا۔یاد ہے وہ دن جب تمہارے آفس آئی تھی کیا کہہ تھا تم نے۔میں کتنے لوگوں کے ساتھ اپنی زندگی گزار چکی ہوں۔تم میری پاکیزگی کو جانتے تھے مگر پھر بھی تم نے مجھے لوگوں کے سامنے ذلیل کر ڈالا۔سوچتی ہوں اگر عالم نہ ہوتا تو میرا کیا ہوتا۔بھائی اور ماں تو مجھے چھوڑ گئے تھے۔بابا میری وجہ سے اس دنیا سے چلے گئے اور بچا بھی تھا میرے پاس کیا جواب پوتا دنیا کو دینے کے لیئے میرے پاس۔تمہارے بچے کو لوگ ایک گالی کہتے۔اس وقت تم کہاں تھے۔جانتے ہو تمہارے آفس سے نکلنے کے بعد میں نے میرب خان کو اپنے اندر دفن کر دیا تھا۔میں لعنت بھیج آئی تھی ان لمحوں پر جو تمہارے ساتھ گزارے تھے میں نے۔گناہ کیا تھا میں نے اور اس کی سزا مجھے ملی۔آج میری وجہ سے میری بہن مجبور ہے میرے بابا میری وجہ سے گئے اور تم ۔۔۔۔۔۔تم تو ایک بہت اچھی زندگی جی رہے ہو۔کل کو شادی کرو گے بچے ہوں گے تمہیں شاید لیلی نامی لڑکی یاد بھی نہ رہے۔مگر سب کچھ تو میں نے برادشت کیا۔تم شاید وہ ہوٹل والی رات بھول گئے۔۔۔۔”
لیلی کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئی۔بہرام کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے۔لیلی نے آسمان کی طرف دیکھا پھر سامنے بیٹھے شخص کو۔
“اس دن ہوٹل میں اس رات میں نے موت کی دعا شدت سے کی تھی۔تم نے مجھے اس دن اس کمرے میں چھوڑتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ تمہارے عمل کا انجام کیا ہوگا۔لوگ مجھے ایک بد کردار اور ایسی لڑکی کہہ کر بلائیں گے جس کا تصور ہی مجھے مار دیتا ہے۔تم ایک بد کردار شخص ہو حقیقت میں بہرام پاشا۔تم محبت اور عزت کسی کو دے ہی نہیں سکتے۔میں تمہارے پاس لوٹنے سے پہلے مر جانا پسند کروں گی۔رہی تمہارے بیٹے کی بات تو بے فکر رہو وہ آتا رہے گا تم سے ملنے مگر مجھ پر یہ احسان کر دو اور اس بوجھ سے آزاد کر دو مجھے جو میری زندگی میں روز ایک زہر کی طرح کھل رہا ہے۔”
بہرام خاموش ہوگیا تھا۔بہرام نے آج لیلی کی آنکھوں میں اپنے لیئے نفرت بھی نہیں دیکھی تھی۔شاید بہرام لیلی کی نفرت کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔لیلی تو اپنی سزا کاٹ چکی تھی اب بہرام کا وقت تھا اپنی زندگی میں کیئے گئے کاموں کا حساب دینا۔


سات ماہ بعد
شہرام نے ہیر کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ہیر کا ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا تھا اس نے۔ڈاکٹر نے انہیں مہینوں پہلے بتا دیا تھا کہ دو جڑواں بیٹیاں ہیں ان کی۔شہرام کے لیئے وہ سب سے خوشی کا سن تھا مگر ہیر اس دن بہت زیادہ روئی تھی۔اسے ڈر تھا کہ کہیں جو اس کے ساتھ ہوا وہ اس کی بچیوں کے ساتھ نہ ہو
۔”ہیر کچھ تو بولو۔”
“کیا بولوں۔”
شہرام ایسے ہی گھنٹوں ہیر کو پکارتا رہتا۔وہ سن کر بھی نہ سنتی۔شہرام جانتا تھا اس کے پاس جو ہیر ہے وہ صرف ایک گڑیا ہے جو اپنی اولاد کی وجہ سے اس کے ساتھ ہے۔ شہرام اسے بہت پیار کرتا۔شیر بخش خان سے کبھی ہیر کا سامنا ہوتا تو یہ ان سے مخاطب ہونا پسند بھی نہ کرتی۔ولیمے کے بعد یہ حویلی کے سب لوگوں سے ملی۔سب اس سے بہت محبت کرتے تھے مگر یہ کسی سے محبت نہیں کرتی تھی۔نہ یہ حویلی کا کوئی کام کرتی نہ کوئی کہتا ۔حویلی والے اس سے شرمندہ تھے۔
“ہیر کچھ بات کرو۔اپنی بچیوں کے لیئے کچھ شاپنگ کرتے ہیں۔”
“نہیں میں ایسے ہی ٹھیک ہوں ۔”
“کیوں ہیر تم خوش نہیں ہو کیا ۔اگر تم بچیوں کے آنے کی وجہ سے پریشان ہو تو پاگل بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں۔کیا ہوا ہماری اگر صرف بیٹیاں ہی ہوئی۔میری شہزدایاں ہیں یہ۔”
شہرام نے گاڑی روکی۔ہیر سے بات کرتے ہوئے اس کے پیٹ پر ہاتھ لگا کر شہرام بولا۔پھر جھک کو اسے پیار دیا۔
“مجھے بیٹیوں سے نہیں ان کے نصیب سے خوف آتا ہے۔اگر کل کوئی شہرام پاشا ان کی زندگی میں آگیا تو۔”
“ہیر پلیز پرانے وقت کو مت یاد کیا کرو۔”
“وہ وقت کبھی بھول نہیں سکتی میں نہ میں کبھی بھولوں گی۔بس دعا کرنا شہرام پاشا تمہارا کیا تمہاری بیٹیوں پر نہ آئے۔”
شہرام بے بس تھا ۔روز یہ کوشش کرتا کہ ماضی ان کے پیچ نہ آئے مگر ماضی انسان کو کبھی نہیں چھوڑتا۔