454.6K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dareeche Dil Ke) Episode 6

عمار شہرام کے ساتھ اس کے سوات والے کاٹیچ میں آیا تھا جو شہر سے قدرے دور تھی۔اس جگہ کا پتا اس نے کسی کو نہیں بتایا تھا سوائے عمار کے۔شہرام کا ارادہ ہیر سے شادی کے بعد کچھ عرصہ یہاں رہنے کا تھا۔عمار شہرام کی بنائی ہوئی فیشن کمپنی کا سی ای او تھا۔شہرام خود کمپنی کا مالک اور چیر پرسن تھا۔شہرام نے سارا کام عمار کے سپرد کیا ۔اس نے عمار سے ضروری کاموں کی لسٹ لی جو یہ یہاں پورے کرنے والا تھا۔ویسے بھی اسے نئی فیشن لائن لانچ کرنی تھی جس کے لیئے سکون چاہئے تھا اور یہ جگہ پہاڑی علاقہ تھی اور شہر سے بہت دور.
“شہرام اب تیرا اگلا قدم کیا ہوگا۔”
“میرا اگلا قدم تمہاری بھابھی کو اپنے پاس لانا ہے۔”
“شہرام تم جو کرنے جا رہے ہو اس طرح تو بھابھی تم سے اور بھی دور ہوجائیں گی۔تم جانتے ہو زبردستی کے رشتوں کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔پھر جو بہرام بھائی بھابھی کی بہن کے ساتھ کرچکے ہیں میرا نہیں خیال کہ کبھی ہیر بھابھی تمہیں اپنا پائیں گی یا تم پر یقین کر پائیں گی۔”
“میں زندہ نہیں رہ پائوں گا عمار۔”
“یہ غلط ہے شہرام تم جانتے ہو اور زبردستی سے کبھی زندگیاں نہیں بنتی
حقیقت میں بھابھی تجھے کبھی نہیں اپنائیں گی اور سب سے بڑی بات کہ تم انہیں یوں اتنے دور اپنوں سے دور رکھ کر خود سے اور دور کر دو گے۔”
“میں اور کیا کروں عمار۔میرا بھائی جو کام کرچکا ہے اس کے بعد تو مجھے کوئی امید نہیں کہ ہیر کی بہن کبھی میرے یا ہیر کے رشتے کے لیئے مانیں گی۔سب سے بڑی بات بابا نے اپنی کوئی پرانی خاندانی دشمنی نکالی ہے ہیر کے والد سے۔”
“اتنا سب کچھ جان لینے کے بعد بھی تم ہیر بھابھی کی زندگی خراب کر رہے ہو۔جان لو جب ماں باپ کسی رشتے کے لیئے راضی نہ ہوں تو وہ رشتہ کبھی کامیاب نہیں جاتا۔”
“ماں باپ کیسی باتیں کرتے ہو تم عمار۔وہ ماں باپ جنہوں نے ہمیشہ سے بہرام بھائی کو اپنا سب کچھ مانا ہے۔تم جانتے ہو بہرام بھائی نے بابا کو ہر غلط سہی میں ساتھ دیا ہے جس کے باعث وہ کبھی سکون میں نہیں رہے۔تم نہیں جانتے ہیر کی بہن ہی وہ لڑکی ہیں جن کی چیزیں بھائی کے پاس دیکھی ہیں میں نے۔وہ شادی نہیں کرتے کیوں کہ اس کی وجہ لیلی خان ہیں۔بھائی نے بابا کی بات تو مان لی مگر اپنی زندگی ضرور برباد کر لی ہے۔”
“یہ ان کا اپنا فعل ہے بہرام مگر تم جو کرو گے وہ تمہارا فعل ہوگا یاد رکھنا اس کے لیئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹہرا سکتے تم۔”
” جو میں جانتا ہوں وہ باتیں تم نہیں جانتے عمار جلد از جلد نکاح کا انتظام کرو میں ہیر کو یہاں لے کر آنا چاہتا ہوں۔”
” ایک مرتبہ پھر سوچ لو شہرام تمہارا ایک عمل ساری زندگی کے لیے تمہارے لیے بھاری ہوگا۔”
” میں نے سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کیا ہے اور اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے عمار۔”
شہرام بات کرنے کے بعد کمرے سے باہر نکل گیا۔اس وقت عمار کو بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔


ہیر کا آج آخری پیپر تھا اور آج ہی لیلی اور عالم نے واپس آنا تھا. لیلی اور عالم کے واپس آنے کے بعد ہیر نے سوچا تھا کہ وہ تمام بات ان دونوں کو بتا دے گی اور کچھ عرصے کے لیے سوات چلی جائے گی۔ ہیر میں بی اماں کو بھی کچھ نہیں بتایا تھا صبح صبح یہ گھر سے بہت جلدی میں نکلی تھی پیپر دینے کے بعد یہ اپنے ڈرائیور کا انتظار کر رہی تھی جو بہت دیر سے نہیں آیا تھا۔ہیر آرام سے یونیورسٹی سے نکلی اور اپنے ساتھ آئی سہیلی سے کہا کہ اسے سامنے دکان سے ہی کچھ چیزیں چاہیئں جو یہ لے گی۔ہیر آرام سے سامنے والی دکان پر جارہی تھی جب شہرام کی گاڑی اس کے سامنے آئی۔
“یہ پھر آگیا۔”
ہیر نے شہرام کو دیکھا تو اس کے چہرے پر غصہ اگیا۔ہیر کی سہیلی پیچھے تھی اور دکان سامنے تھے مگر شہرام کی گاڑی ذرا ہٹ کے کھڑی تھی جس کی بدولت ہیر کی سہیلی یہ سب نہ دیکھ پائی۔
“تم پھر آگئے کیا تمہیں چین نہیں آتا۔”
ہیر ابھی بول ہی رہی تھی جب اپنی چہرے پر اسے کچھ محسوس ہوا۔ہیر نے اپنے حواس قابو میں کیئے تو اسے ناک میں کوئی دوائی جاتی محسوس ہوئی۔ہیر کو کچھ سمجھ نہیں آیا اور یہ شہرام کی بازو میں ہی بغیر مزاحمت کے بے ہوش ہوگئی۔
“سوری میری باربی یہ کرنا ضروری تھا ورنہ ہم کبھی ایک نہ ہو پاتے۔”
شہرام نے ہیر کو اٹھایا اور اپنی گاڑی میں بٹھایا۔ہیر کی سہیلی کو لگا کہ ہیر کو ابھی دیر ہے اسی وجہ سے وہ یونورسٹی کے اندر واپس چلی گئی ۔
سخت سردی کے احساس سے ہیر کی آنکھ کھلی۔ذہن اپنی جگہ پر نہیں تھا۔پھولوں سے سجا کمرے میں ہیر لیٹی ہوئی تھی۔اپنے اوپر سفید رنگ کی موٹی رضائی ہیر نے ہٹائی۔اسے گرمی لگی ۔کمرے میں آتش دان میں لکڑی جل رہی تھی۔ہر طرف پھول ہی پھول تھے مختلف رنگوں گے۔سرخ گلاب ہیر کے ہاتھوں میں تھے اور بستر پر بھی۔بہت مشکل سے ہیر سہارا لے کر اٹھی۔یہ انہی کپڑوں میں ملبوس تھی جو اس نے صبح پہن رکھے تھے۔ان کپڑوں پر اسے کسی نے دو سویٹر پہنا دیئے تھے۔پائوں میں جلابیں تھی۔
“یہاں سردی ہے جبکہ میں تو جہاں تھی وہاں موسم ہلکا سرد تھا۔برف باری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں تو برف باری ہو رہی ہے۔”
سامنے کھڑکی سے باہر نظر آتی برف باری کو دیکھ کر ہیر کا دماغ گھوم گیا۔سامنے ہی کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ہر طرف لکڑی کا فرش تھا اور اس پر کارپٹ بچھی ہوئی تھی۔ہیر نے اپنا ڈوپتا دیکھا جو بیڈ پر تھا ۔ہیر فورا سے ڈوپٹہ کیئے باہر آئی۔کمرے سے باہر بہت خوبصورتی سے سب کچھ سجا ہوا تھا۔روشنی ہی روشنی تھی ہر طرف۔ہیر کے پیروں میں پھول آئے ۔ہیر نے آواز دی۔
“کوئی ہے۔”
عمار اور شہرام ایک کمرے سے نکلے۔عمار کو شہرام نے اشارہ کیا ۔
“تم گھٹیا انسان مجھے کہاں لے آئے ہو۔”
“پریشان مت کو باربی ہم اپنے گھر میں ہے۔یہ میرا کاٹیچ ہے جو تمہارے لیئے میں نے بنایا ہے۔اس کاٹیچ کی ہر ایک چیز تمہاری پسند کے مطابق ہے۔”
“شٹ اب ۔تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے یہاں لانے کی۔کچھ شرم باقی ہے تم میں یا مرگئی۔تم اپنے بھائی کی طرح ہی گھٹیا ہو مجھے زہر لگتا ہے تم اور تمہارا خاندان۔”
“تمہارا تعلق میرے خاندان سے ہے بھی نہیں باربی صرف مجھ سے ہے۔”
عمار ان دونوں کی بات سنتے ہوئے اندر چلا گیا تھا۔اس وقت صرف ہیر اور شہرام ہی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے ۔
“تم کیا سمجھتے ہو کہ یوں مجھے یہاں لاکر اپنی مردانگی ثابت کرلو گے تو یہ تمہاری بھول ہے شہرام پاشا۔تمہارا کمینہ اور ذلیل بھائی دو بار میری بہن کی زندگی برباد کر چکا ہے ۔کیا تمہیں سکون نہیں اب بھی۔تمہاری شکل دیکھ کر مجھے نفرت ہوتی ہے۔”
ہیر یہ کہتے ہی کاٹچ کے دروازے کی طرف گئی جو باہر جاتا تھا۔باہر کا دروازہ کھولنے ہی لان میں اسے برف باری ہوتے ملی۔ہیر کی سردی سے سانس رک گئی۔بے تحاشا سردی تھی۔دور دور تک دھواں پھیلا ہوا تھا۔
“ہیر میری باربی اندر آجائو۔”
“دور ہوجائے گھٹیا انسان۔”
اندر آنے پر ہیر نے شہرام کو دھکا دیا۔
“ہیر میری جان ابھی تھوڑی دیر میں ہمارا نکاح ہے تم خود کو اس نکاح کے لیئے تیار کرلو۔”
“تم کیا سمجھتے ہو کہ یہ کیا کوئی فلم یا ڈرامہ ہے جہاں تم مجھے میری عزت کے بارے میں بلیک میل کرو گے اور میں مان جائوں گی ۔ہرگز ایسا نہیں ہوگا شہرام پاشا میں بہت مضبوط اور تم۔جیسوں کی ان باتوں میں نہیں آتی۔”
شہرام ہیر کے پاس آیا اور اسے تھام کر دیوار کے ساتھ لگایا۔
“میں تمہیں کبھی یوں نہیں کہوں گا ہاں البتہ تمہیں ایک بات ضرور کیوں گا کہ تمہیں اپنی بہن اور بھائی سے بہت زیادہ محبت ہے نا اور ان دونوں کا بیٹا جو ساتھ آرہا ہے اس سے بھی تو جان لو کہ جب تک تم میری نہیں ہو جاتی ان کی جان میرے ہاتھ میں ہے . “ہیر شہرام کی بات سمجھ کر اسے دھکا دیتے ہوئے بولی ۔
” ہونا تم بھی اپنے بھائی کی طرح گھٹیا اور اسی گھٹیا خاندان کا خون جس نے میری بہن کی زندگی برباد کی کیسے بھول گئی میں کہ تم بھی اسی خاندان کا خون ہو جس نے میرے باپ سے بدلہ لینے کے لیے میری معصوم بہن کو استعمال کیا . “
” ہیر تمہیں جتنے مرضی اختلافات ہیں میرے خاندان سے میں تمہیں پہلے ہی کہہ چکا ہوں اگر تم چاہو گی تو ہم ان سے کبھی نہیں ملیں گے مگر جب تک تم میرے ساتھ نہیں ہو گی میں کسی کو بھی سکون میں رہنے نہیں دونگا۔”
”تم مجھے کبھی حاصل نہیں کرپائو گے شہرام پاشا یاد رکھو تم نے میری زندگی میں اپنا جو خراب مقام بنایا ہے وہ کبھی درست نہیں ہوسکتا۔”
شہرام ہیر کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا گیا ۔
“میں بہت مجبور ہوں ہیر یہ قدم اٹھانے پر ۔میں نے تمہیں اپنے تصور میں ہر جگہ پایا ہے تمہیں اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہے اپنی۔میں جو سانس لیتا ہوں نہ صرف تمہاری وجہ سے لیتا ہوں۔”
“کیوں ایسی باتیں کرتے ہو شہرام پاشا جن کا کوئی وجود نہیں ۔تم نے آج مجھے میرے گھر سے اٹھایا ہے مگر کیا تم نے میری عزت کا خیال کیا ۔تم تو اس جگہ سے واپسی پر اتنے کی پاکیزہ ہوگے جتنے آج ہو مگر کیا میں اتنی پاکیزہ کہلائوں گی ہرگز نہ ۔”
شہرام نے سامنے پڑا ہوا ٹی وی آن کیا۔ٹی وہ پر ایک خبر چل رہی تھی۔
“جی ہاں تو ہم آپ کو خبر دیتے ہیں کہ مشہور زمانہ فیشن کمپنی کے مالک شہرام پاشا نے نکاح کر لیا ہے۔جی ہاں 24 سال کی عمر میں بلندیوں کو چھونے والے شہرام جن پر ہزاروں لڑکیاں مرتی تھی انہوں نے شادی کر لی ہے۔سننے میں آیا ہے کہ ان کی شادی مشہور زمانہ بیرسٹر میرب لیلی خان کی بہن سے ہوئی ہے۔دونوں میاں بیوی اس وقت اپنا ہنی مون منانے نکل گئے ہیں۔”
شہرام نے ٹی وی بند کر دیا۔
“یہ تم نے کی کیا شہرام پاشا۔تم نے میری آپی کے سامنے مجھے منہ دیکھانے لائق نہیں چھوڑا۔”
ہیر نے شہرام کا کالر پکڑا۔
“تم نے اپنی عزت کی بات کی تھی نہ تو لو میں نے اپنی عزت بنا دیا پوری دنیا کے سامنے تمہیں۔پوری دنیا کی نظر میں تم میری بیوی ہو۔اب اگر تمہیں اپنی بہن اور بھائی کی زندگی عزیز ہے تو مجھ سے نکاح کرنا ہی ہوگا تمہیں ۔”
“نہیں کروں گی میں ایسا یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں کمزور عورت نہیں ہوں۔”
“جانتا ہوں تم کمزور نہیں مگر جہاں بات اپنوں کی آتی ہے انسان کمزور ہوجاتا ہے۔تم نہیں جانتی اگر تمہاری بہن سہی سلامت گھر نہ بھی پہنچی تو تم اس جگہ قید رہو گی۔کوئی نہیں جانتا یہ کون سی جگہ یے۔پوری دنیا میں مشہور ہوچکا ہے تم میری بیوی ہو کوئی تمہیں تلاش کرنے نہیں آئے گا۔”
ہیر شہرام کی بات پر فرش پر بیٹھ گئی۔
“صرف دس منٹ ہیں تمہارے پاس یا نکاح یا عمر بھر کی قید۔”
شہرام سفاکی سے یہ کہہ کر نکل گیا۔
“میں کبھی تمہیں دل سے نہیں اپنائوں گی شہرام پاشا ۔میری بہن جتنی نفرت تمہارے بھائی سے کرتی ہے اس سے کئی گنا زیادہ میں تم سے نفرت کروں گی۔”
ہیر کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔
“جس دن میں اس قید سے آزاد ہوجائوں گی وہ دن اس نام نہاد رشتے کا آخری دن ہوگا ۔”
نکاح کرنے پر دستخط کرتے ہوئے ہیر کی آنکھ سے ایک آنسو گرا۔ہیر خاموشی سے بیڈ پر بیٹھی تھی جب شہرام کھانے کی ٹرے لے کر اندر آہا۔سبزیوں اور چکن والا سوپ ساتھ میں گوشت والے چاول تھے۔ہیر نے غصے رخ پھیر لیا۔
“باربی کھانا کھائو میری جان۔تم اب میری ہو اس لیئے ہر چیز کو اپنے دل و دماغ سے نکال دو۔”
“یہ باتیں اتنی آرام سے دل و دماغ سے نہیں نکلتی شہرام پاشا۔تم کیا جانو عورت کسی مضبوط چٹان جیسی ہے جسے خطرہ طوفان سے تمہاری طرح کے لوگوں سے ہوتا ہے۔”
“میں اپنی ہر چیز مانتا ہوں مگر میرے دل کا قرار میری روح کا چین تم کیا جانو تمہاری کیا اہمیت ہے میری زندگی میں۔” شہرام نے سوپ کا بائول ہیر کو پکڑایا جو بھوک ہونے کے باعث ہیر نے تھام لیا۔
“ہیر ایک ایگریمنٹ کرتے ہیں۔تم میرے ساتھ یہاں اچھے سے رہو میں تمہیں یہاں سے جاتے ہی تمہاری بہن سے ملنے دوں گا۔”
ہیر سوپ پیتے ہوئے شہرام کی بات پر ہنسی۔
“جیسے تم مجھے روک سکتے ہو نہ میری بہن سے ملنے سے۔تم کیا جانو میں تمہارا کیا حال کروں گی یہاں سے نکل کر۔تمہارے ساتھ رہنا تو دور کی بات تمہیں دو پل کے لیئے پرادشت نہ کروں میں۔”
شہرام بھی سوپ پیتے ہوئے ہنسا۔
“چلو وہ تو بعد میں دیکھا جائے گا۔پہلے ہم اپنے آنے والے مستقبل کا تو سوچیں ۔ہمارے چھوٹے چھوٹے تین بچے ہوں گے۔اگر تینوں بیٹے ہوتی یا بیٹیاں تو بھی چلے گا۔مجھے بس میرے بچوں کو دیکھنا ہے۔”
“تمہارے خواب خواب رہ جائیں گے شہرام پاشا ۔”
“شہرام خواب نہیں دیکھتا خواب کی تعبیر پاتا ہے۔”
سوپ پی کر ہیر نے دودھ کو گرم گلاس اٹھایا۔اس وقت ہیر کو سردی بھی لگ رہی تھی۔دودھ پیتے ہی ہیر غنودگی میں جانے لگی۔
“سوری باربی تمہیں پرسکون رکھنے کے لیئے آج کے دن یہ کرنا پڑا۔تم سکون سے سو جائو باقی باتیں کل کریں گے۔”
“شہرام نے ہیر کو سیدھا لٹایا ۔اس کے اوپر کمفٹر دیا اور کمرے سے باہر آیا۔عمار کچھ دیر پہلے ہی مولوی اور چند گواہوں کے ساتھ باہر نکلا تھا.شہرام خود بھی صوفے پر بیٹھ گیا۔آج جو ہوا اس کے بعد ایک بڑا طوفان آنا تھا جس کا علم شہرام کو نہیں تھا۔