454.6K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dareeche Dil Ke) Episode 9

ماضی
لیلی آج کورٹ گئی ہوئی تھی اپنے بابا کے ساتھ۔واپسی پر اس نے بابا سے کیا کہ اسے کچھ دیر کے لیئے اپنی سہیلی سے ملنے جانا ہے۔لیلی اپنی دوست سے مل کر ہوٹل کے اندر ہی بیٹھی تھی جب اسے اپنے سامنے بیٹھا ہوا بہرام نظر آیا۔بہرام شاید کسی سے ملنے آیا تھا۔بہرام اٹھ کر لیلی کے ٹیبل کی طرف آیا۔
“السلام علیکم کیسی ہیں آپ میرب۔”
“میں بلکل ٹھیک ہوں مسٹر پاشا۔”
“آپ آج یہاں کیا اتفاق ہے۔”
“جی میں اپنی دوست سے ملنے آئی تھی۔”
“میں کیا آپ کے ساتھ بیٹھ جائوں۔”
“جی ضرور بیٹھ جائیں۔آپ شاید کسی سے ملنے آئے تھے۔”
“ارے نہیں میں تو بس ایسے ہی یہاں کافی پینے آیا تھا۔آپ شاید کورٹ سے واپس آئی ہیں۔”
“جی میرے بابا کے ساتھ ایک کیس دیکھا آج میں نے۔آپ کو تو پتا ہے کہ بابا اگر آپ کے باس ہوں تو آپ کو ہر کام وقت پر دینا ہوتا ہے۔میرے بابا کام بھی معاملے میں بہت سخت ہیں۔”
بہرام کی نظر لیلی کے ہاتھوں پر تھی۔
“آپ اپنے والد سے بہت زیادہ اٹیچ ہیں۔”
“جی میرے والد میرے لیئے سب کچھ ہیں۔وہ ایک آئیڈیل انسان ہیں۔ان سے اچھا میں نے آج تک کوئی نہیں دیکھا ۔”
“والدین تو سب اولاد کے لیئے بہت اہم ہوتے ہیں۔آپ کو آگے کیا کرنے کا شوق ہے میرا مطلب ہے آپ وکالت جاری رکھیں گی۔”
“بلکل ہمارا خاندانی بزنس ہے۔عالم بھی فیملی بزنس میں چکا گیا ہے بھیا بھی ڈاکٹر ہیں تو بابا کہتے ہیں کہ ان کی لا فرم مجھے ہی سنبھالنی ہے۔”
“بہت اچھی بات ہے آپ کو اپنے بابا کا ساتھ دینا چایئے ۔عالم آپ کا بھائی نہیں ہے کیا۔”
لیلی کافی پیتے ہوئے ہنسی اس کی ہنسی بہت پیاری تھی۔
“نہیں وہ میرا سوتیلا بھائی ہے ماما کی طرف سے۔ہمارا کوئی خون کا رشتہ نہیں ۔میری ماما میری سوتیلی ماما ہیں۔”
“مگر آپ تو شاید ان سے بہت پیار کرتی ہیں۔”
جی ہاں خود سے بھی زیادہ ۔میری ماما نے مجھے پالا ہے بھیا کے ساتھ۔انہوں نے مجھے اور میرے بھیا کو اتنا پیار دیا ہے کہ جس کا احسان ہم ساری عمر نہیں اتار سکتے۔وہ ایک نہایت نفیس اور شاندار عورت ہیں جن کو رشتوں کے اصل معنی پتا پیں۔آپ کی فیملی میں کون کون ہے مسٹر پاشا۔”
“سب سے پہلے تو آپ مجھے مسٹر پاشا مت کہا کریں مجھے اچھا نہیں لگتا۔دوسری بات کے میری فیملی میں میرے ایک چچا تھے ھو بہت عزیز تھے ہمیں۔ان کے ایک دوست نے انہیں دھوکا دیا اور وہ اس دنیا سے چلے گئے۔پھر میرے بابا ہیں اور والدہ ۔میری دادی ماں بھی ہیں جو ہم سب سے بہت پیار کرتی ہیں۔ایک بہن ہے جو ہم میں نہیں اور ایک بھائی بہن چھوٹے ہیں۔سب گائوں میں رہتے ہیں مگر میں یہاں اپنا بزنس کرتا ہوں۔”
“گائوں میں مطلب آپ لوگ وہاں ہی کے رہنے والے ہیں۔”
“میرے والد اپنے گائوں کے بڑے ہیں۔ہم گائوں میں سب گھروں کو دیکھتے ہیں کہ کسی کو کچھ ضرورت تو نہیں۔”
“یعنی آپ ایک سردار ٹائپ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں ۔”
“جی بلکل۔”
“میرے بابا بھی گائوں کے بڑے ہیں اپنے۔مگر وہ شہر رہتے ہیں ان کا ارداہ عالم کو گائوں کی ذمہ داری سونپنے کا ہے۔”
“آپ کے بابا کو کیا گائوں رہنا پسند نہیں۔ “
” ایسی بات نہیں انہیں گاؤں میں رہنا بہت پسند ہے مگر سالوں پہلے وہ اپنا گاؤں چھوڑ آئے ہیں اور وہاں کی ذمہ داری میری دادی سائیں نے لے رکھی ہے جو بہت زیادہ بوڑھی ہو چکی ہیں۔”
” امید ہے ہم مستقبل میں اچھے دوست بنیں گے۔ اگر ہم ساتھ مل کر اپنے اپنے گاؤں کے لیے کچھ کام کر سکیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔”
“کیوں نہیں میرے بابا کا تو خواب ہے اپنے گھر کو ترقی کرتے ہوئے دیکھنے کا۔آپ سے مل کر خوشی ہوئی مسٹر پاشا۔”
“آپ مجھے بہرام بلا سکتی ہیں۔”
“نہیں آپ مجھ سے بڑے ہیں تو مسٹر بہرام یا مسٹر پاشا ہی بہتر ہے ۔میرے بابا کی کال آگئی ہے مجھے جانا ہوگا۔”
لیلی تیزی میں اٹھ گئی۔بہرام نے اپنا سر چیئر پر رکھا۔یہ لڑکی کیوں اسے اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی حالانکہ اس سے ملنا بہرام کے نزدیک بدلہ حاصل کرنے کے مقصد کے سوا کچھ نہیں تھا۔


بہرام اپنے والد شیر بخش پاشا خان سے ملنے آیا تھا۔شہر بخش پاشا خان خاص طور پر شہر آئے تھے تاکہ ان کی ملاقات اپنے بیٹے سے ہوپائے۔
“کیسے ہو میرے شیر بیٹے۔”
“بلکل ٹھیک بابا جان۔آپ کیسے ہیں۔میں نے سوچا تھا کہ آج آپ سے کہوں گا مجھ سے ملنے ائیں۔”
“دیکھو تم نے یاد کیا اور ہم حاضر ہوگئے ہیں۔”
“بابا آج میں میرب سے ملا تھا۔”
“تو آخر خان کی بیٹی سے تمہاری ملاقات ہو ہی گئی۔”
“جی بابا وہ کافی میچور ہے ۔”
“ہم کسی بات کو نہیں جانتے بہرام ۔وہ لڑکی تمہاری مٹھی میں ہونی چاہیئے ۔اسے اپنے دشمن کی بیٹی سمجھنا اس سے دل مت لگا لینا۔جس مقصد کے لیئے ہم نے تمہیں بھیجا ہے تم نے وہ پورا کرنا ہے۔سالوں سے ہم منتظر ہیں کہ ہمارا بیٹا بڑا ہو اور اپنے خاندان کے ساتھ ہوئی زیادتی کا بدلہ لیں۔”
“جی بابا جان ۔آپ فکر مت کریں جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا ہی ہوگا ۔بس آپ میرا ساتھ دیتے رہیں۔”
“تم فکر مت کرو۔اگلی بار جب ہم یہاں آئیں تو تمہاری طرف سے خوش خبری کے منتظر ہیں ہم۔”
“جی بابا ۔”
شیر بخش جان نے اپنی مونچھوں کو تائو دیا۔ان کے اندر لگی آگ کو خان اور اس کے خاندان کی بربادی ہی دور کر سکتی تھی۔


لیلی ہیر کے ساتھ بیٹھی ہوئی اپنے ٹیبل پر کچھ کام کر رہی تھی۔
“آپی ایک بات تو بتائیں کیا آپ کو کسی بندے پر کرش ہوا ۔”
“کیوں کیا ہوا تم مجھ سے آج یہ سوال کیوں پوچھ رہی ہو۔”
“بس ایسے ہی میرا دل کیا آپ سے پوچھوں گے آپ نے کیا کبھی کو پسند کیا یا کسی کی شخصیت سے متاثر ہوئی آپ۔”
لیلی کی آنکھوں میں گھوڑا دوڑاتے بہرام کا چہرہ لہرایا۔لیلی عمر کے اس حصے میں تھی جہاں اس کے لیئے ایک اچھے اور میچور انسان کو پسند کرنا ایک عام سے بات تھی۔
“نہیں بس ایک انسان کو دیکھ کر مجھے لگا کہ یار اس کی کیا پرسنلٹی ہے تھوڑا روپ اور بہت ساری نرمی۔”
“کون ہیں آپی وہ بتائیں نہ جلدی مجھ سے تو انتظار نہیں ہورہا۔”
“میں رائیٹینگ کلب میں ملی تھی ان سے۔بہت اچھے انسان ہیں وہ۔عالم بھی ان سے ملا ہے وہ بہت زیادہ میچور ہیں۔ “
“کہیں 40 سال کے بوڑھے تو نہیں ۔”
“ارے نہیں ان کی عمر 30 کے قریب قریب ہے۔”
“تو آپی کیا آپ کو وہ بہت پسند آئے۔”
“پسند کچھ اور چیز ہے مجھے ان کا انداز بہت اچھا لگا ہے۔”
“میں ان سے ملنا چاہوں گی۔”
“ضرور تمہاری ملاقات کروا دوں گی ان سے پہلے میری تو دوبارہ ان سے ملاقات ہو۔”
لیلی نے دوبارہ سے اپنا کام شروع کردیا۔یہی لیلی کی بربادی تھی اسے کسی غیر اور نامحرم سے متاثر نہیں ہونا چاہیے تھا۔کہتے ہیں ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی اسی طرح ضروری نہیں جو ہمیں نظر آتا ہے وہی درست ہو۔ہمارے بڑے کیا کرتے ہیں کہ کسی کے اندر کے راز کو تم کبھی جان نہیں پاتے اس لیئے کسی پر اعتبار مت کرو۔ایک لڑکی کی عزت کانچ کی طرح نازک ہوتی ہے چاہے وہ غریب ماں باپ کی بیٹی ہو یا امیر کی۔عزت پر اگر ذرا سا داغ بھی آجائے تو پھر دنیا والے بھی جینے نہیں دیتے۔ایک عورت کے پاس عزت بہت قیمتی چیز ہوتی ہے جو کسی بھی زیور سے بڑھ کر ہے۔


خان کے ایک دوست کے بیٹے کی شادی تھی۔خان ان کے بہت قریب تھے اس لیئے تمام بچوں کو خاص ہدایت کی گئی تھی ماہا کی طرف سے کہ سب نے جانا ہے۔
لیلی خان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔دونوں باپ بیٹی شٹرنچ کھیل رہے تھے۔
“دیکھو بیٹا زندگی بھی ایک شٹرنچ جیسی ہی ہے ہمیں ہر ایک قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوتا ہے۔دشمن ہر جگہ کھڑا ہوتا ہے۔اکثر ہم جسے اپنا کہتے ہیں وہ ہمارا دشمن ہوتا پے۔”
“بابا ہر جگہ تو دشمن نہیں ہوتا کسی جگہ پر ملکہ کا بھی راج ہوتا ہے۔”
“یہ سچ ہے کہ ملکہ کا بھی راج ہوتا ہے مگر صرف اپنے بادشاہ پر ۔اگر ملکہ بادشاہ کے بغیر ہو تو اس کے اردگرد کے لوگ اسے اس کے عہدے سے ہٹانے میں دیر نہیں کریں گے۔”
“بابا آپ بہت سیدھی سے باتیں کرتے ہیں۔انسان کو کبھی کبھی زندگی میں رسک لے لینے چاہیئں۔”
خان لیلی کی بات پر بہت زیادہ ہنسے پھر شٹرنچ کی چال میں اپنا دائو کھیلا۔
“بیٹا کبھی کبھی زندگی میں لیئے گئے رسک آپ کو برباد کر دیتے ہیں۔آپ زندگی کے لمحے ضائع کر دیتے ہیں مگر زندگی آپ سے بار بار ان لمحوں کا حساب لیتی ہے۔”
“اف بابا آپ تو ایک گیم میں اتنے سنجیدہ ہوگئے۔”
“بیٹا کبھی کبھی ماں باپ جو بات کرتے ہیں اگر اولاد کو اس کا مطلب سمجھ آجائے تو میرا نہیں خیال کہ اولاد کوئی نقصان اٹھائے۔”
“بابا لیں ماما آگئی وہ اب آپ کو ایسی باتیں نہیں کرنے دیں گی۔”
“کیا باتیں ہورہی ہیں باپ بیٹی میں۔”
خان اور لیلی کو کافی دیتے ہوئے ماہا نے ان سے سوال کیا۔
“کچھ نہیں ہم نے سوچا اپنی بیٹی سے کچھ زندگی کے متعلق باتیں کر لیں جائیں۔یہ عالم نظر نہیں آرہا۔”
“آپ نے خود ہی تو اس کو لاہور بھیجا تھا آفس کے کام کے لیئے۔بھول گیے خان آپ۔مجھے تو لگتا ہے میرب تمہارے بابا کا پوڑھپا شروع ہوگیا ہے۔”
اب ایسی بھی بات نہیں ہے ہم تو ہمیشہ جوان رہنے والے بندے ہیں ۔جس کی اتنی خوبصورت بیوی کو وہ انسان کبھی بوڑھا ہو سکتا ہے۔”
“اف خان آپ تو جگہ مت شروع ہوجایا کریں۔”
“اب ذرا آپ دونوں میری بھی بات سن لیں۔دادی صاحب کی کال آئی تھی وہ آپ دونوں کو یاد کر رہی ہیں۔”
“ماہا گائوں بھی جانا ہے مجھے تو یاد ہی نہیں رہا ۔مورے ہماری منتظر ہیں کب سے۔میرے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔مورے کہہ رہی کہ وہ شہر آکر کیا کریں گائوں کے معاملات ان کے بغیر نہیں چلتے۔عالم واپس آئے تو اسے گائوں بھیجوں گا۔”
“میرا بھی یہی خیال ہے کہ عالم کو اب گائوں چلے جانا چاہیئے۔آخر کب تک مورے سب اکیلے دیکھیں گی۔”
“آپ دونوں باتیں کریں میں تو کمرے میں جارہی ہوں۔”لیلی ماہا اور خان کو باتیں کرتا چھوڑ کر باہر چلی گئی۔لیلی نے عالم کا کال کی۔
“عالم تمہاری واپسی کب تک ہے۔”
“دو دن تک ۔کیوں کیا ہوا تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو میں لے آئوں گا۔”
“مجھے شاپنگ پر جانا ہے مگر تمہارے ساتھ جانا تھا۔چلو کوئی نہیں میں خود ہی چلی جائوں گی کل رات کو ہمیں بابا کے دوست کی بیٹی کی مہندی پر جانا ہے۔ “
“چلو تم ہیر کو لے کر چلی جائو میں واپس آئوں گا تو دوبارہ شاپنگ کر لیں گے۔”
“ٹھیک ہے سنوں میرے لیئے کچھ اچھا سا لیتے آنا لاہور سے۔”
“ضرور تمہیں بھول سکتا ہوں میں۔میری میٹنگ ہے میں تم سے واپس آکر بات کرتا ہوں۔”
لیلی اپنی گاڑی لے کر شاپنگ مال کے لیئے نکل پڑی۔لیلی شہر کے مشہور زمانہ مال میں آئی۔لیلی شاپنگ کر رہی تھی جب اسے پیچھے سے آواز آئی۔
“ارے میرب آپ یہاں میرے مال میں۔”
“مسٹر پاشا آپ یہاں۔”
“جی ہاں میرا اپنا مال ہے۔میں آج راؤنڈ پر نکلا ہوا تھا۔آپ یہاں کیسے۔”
“میں شاپنگ پر آئی تھی کل میں نے بابا کے ساتھ ایک شادی پر جانا ہے۔”
“کیسا اتفاق ہے کہ میں نے بھی ایک شادی پر جانا ہے۔”
“کس کی شادی ہے مسٹر پاشا۔”
“میری دوست ہے اس کی شادی ہے ۔میری دوست نے میرے ساتھ کافی کام کیا ہے ہمارے دوستی اس کے منگیتر کے بھی ہے۔میرا بزنس ہے ان لوگوں کے ساتھ ۔”
“اچھا آپ سعید صاحب کی بیٹی کی بات کر رہے ہیں۔”
“جی ہاں شازیہ سعید کی۔”
“میں بھی اسی شادی ہر جانے والی ہوں۔”
“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔چلیں آئیں آپ کو اپنے مال کے سب سے اچھی بوتیک پر لے کر جاتا ہوں۔”
بہرام لیلی کو ایک بہترین بوتیک لے کر آیا۔
“میرا بھائی ہے ابھی بہت چھوٹا ہے مگر اسے کپڑوں کی ڈیزائنرزنگ کو بہت شوق ہے۔اس نے ایک ڈریس ڈیزائن کیا تھا وہ ایک ڈیزائنر کو بہت پسند آیا۔بابا کہتے ہیں اس کو فیشن ڈیزائنر کمپنی کھول کر دیں گے۔”
“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔”
لیلی نے اس بوتیک کا سب سے خوبصورت ڈریس اٹھایا۔پیلے رنگ کے خوبصورت فراک پر سلور رنگ کا کام ہوا تھا۔یہ فراک بہت خوبصورت تھا۔
“آپ کو یہ پسند آیا میرب۔”
“جی مجھے یلو کلر کی ہر چیز پسند ہے۔”
“ویسے آپ کی چوائس بہت اچھی ہے۔”
بہرام نے شاب کیبر کو اشارہ کیا جس نے ان سے ڈریس لیا۔
لیلی اپنے لیئے اور ڈریس دیکھ رہی تھی مگر اسے کچھ خاص پسند نہ آیا۔
“میں باقی شاپنگ عالم کے ساتھ کروں گی مجھے بس کل کے لیئے ہی جوڑا لینا تھا۔”
“کیوں آپ خود شاپنگ کیوں نہیں کرتی میرب۔”
“مجھے شروع سے عادت ہے عالم کے ساتھ شاپنگ کرنے کی۔اس کی چوائس ہمیشہ سے ہی بہترین رہی ہے۔”
لیلی نے ڈریس پیک کروایا۔لیلی نے پے منٹ کرنا چاہی جب بہرام نے اسے روکا۔
“خبردار آپ نے ڈریس کی ہے منٹ کی۔آپ پہلی بار میرے مال آئی ہیں اس طرح سے آپ میری مہمان ہوئی۔”
“میں یہاں پہلی بار نہیں آئی مسٹر پاشا۔مجھے نہیں اچھا لگے گا یوں ڈریس لینا۔”
“پلیز میرب آپ کو مہمان کہا ہے میں نے۔ہمارے ہاں مہمان کو بہت عزت دی جاتی ہے ۔پلیز رکھ لیں۔”
شکریہ مسٹر پاشا مجھے خوشی ہوگی آپ کبھی میرے گھر آئیں اور ہم بھی آپ کو اپنی مہمان داری دیکھائیں۔میرے بابا اور ماما آپ کو مہمان بنا کر بہت خوش ہوں گے۔”
“ضرور کیوں نہیں کل تو ملاقات ہونی ہی ہے پھر کبھی ضرور آپ کے گھر آئوں گا۔”
بہرام نے لیلی کے ہاتھ میں شاپر دیا۔لیلی کے ساتھ بہت دیر باتیں کرنے کے بعد بہرام نے لیلی کو مال کے باہر تک چھوڑا ۔لیلی نہیں جانتی تھی کہ اس انجان شخص پر اعتبار کر کے وہ کتنی بڑی غلطی کر رہی ہے۔