Dareeche Dil Ke By Hafsa Javed Readelle50326 (Dareeche Dil Ke) Episode 3
Rate this Novel
(Dareeche Dil Ke) Episode 3
میری اجازت کے بغیر کاپی پیست مت کریں
لیلی گھر میں آئی اور ہیر کو اپنے ساتھ کمرے میں لے گئی۔
” سچ سچ بتانا مجھے اس تمہارا اس لڑکے سے کیا تعلق ہے. “
” میرا اس سے کوئی تعلق نہیں آپی۔ میں تو جانتی بھی نہیں اسے ۔پچھلے پورے ایک ہفتے سے کوئی بندہ مجھے میری تصویریں بھیج رہا تھا جو خود ہاتھ سے بنی ہوئی تھی اور ساتھ میں بکے بھی۔ میں نے اس بات کو سنجیدہ نہیں لیا مگر آج تو حد ہی ہوگئی ہے ہے میرا راستہ ہی روک لیا۔”
“تم جانتی ہو وہ کون ہے۔”
لیلی ٹیبل پر سے ایک تصویر اٹھا کر ہیر سے سوال کرتے ہوئے بولی۔
“نہیں۔”
“تمہاری بہن کی خوشیاں چھیننے والے خاندان کا فرد ہے وہ ۔مجھے محبت کے نام پر جس نے برباد کیا اس شخص لاڈلا بھائی ہے وہ۔عالم کا کزن ہے شہرام پاشا۔”
“کیا مطلب بہرام پاشا اس ذلیل کا بھائی ہے وہ۔”
“ہاں اور اب مجھے برباد کرلینے کے بعد ان کی نظر تم پر ہے۔تمہیں ہر سرد اور گرم سے بچا کر رکھا ہے میں نے ہیر ۔عالم اور میں نے دنیا کے سامنے بہت سی چیزیں نہیں رکھی جو ہمارے ماضی کا حصہ ہیں۔تم کیا چاہتی ہو کہ وہ سب اب دنیا کے سامنے آجائے ۔نہیں نہ میری بہن ایسا کبھی نہیں چاہے گی وہ ضرور اپنی آپی کا ساتھ دے گی۔”
“آپی یہ بھی کوئی بولنے کی بات ہے میں شروع سے آپ کے ساتھ تھی اور ہمیشہ رہوں گی۔میرے نزدیک زندگی میں کچھ بھی اتنا اہم نہیں ہے جتنی آپ ہیں۔”
“چلو اب روم میں جائو اپنے ۔”
ہیر اپنے روم میں چلی گئی۔لیلی نے اپنے ہاتھ میں اٹھائی ہوئی تصویر کو دیکھا۔ماں باپ اپنے بھائی اور زندگی میں اس شخص کے ساتھ کھڑے جس نے زندگی کے ہر موڑ پر اس کا ساتھ دیا تھا لیلی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ان سب کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے اپنی ایک غلطی کی وجہ سے بچھڑ جائے گا۔
لیلی نے آئینے میں کھڑے ہوکر خود کی شکل دیکھی۔اس وقت آئینہ اسے ایک سچ بتا رہا تھا کہ یہ بہت خوبصورت ہے مگر اس خوبصورتی کا کوئی فائدہ نہیں تھا جب اس کے پاس وہ رشتے ہی نہیں بچے تھے جو اس کے اپنے تھے۔
“تم سے دوبارہ ملاقات کا وقت آگیا بہرام پاشا۔تم جانتے ہو تمہارے لیئے میرے دل میں اب تو نفرت بھی باقی نہیں رہی۔نفرت تو ان لوگوں سے کی جاتی ہے جن سے کبھی محبت ہو اور میں نہیں مانتی ہمارے درمیان جو تھا وہ محبت تھی ۔تمہارے غلیظ ارادے تھے جو ہمارے درمیان آئے اور میری زندگی برباد کرکے لے گئے۔تمہارا دھوکا سب لوگوں کے لیئے ایک سبق تھا کہ دیکھو محبت کبھی وجود کی چاہ نہیں مانگتی۔محبت تو بس ایک جذبے کا نام ہے جو محبوب کو دیکھے بغیر بھی پروان چڑھ جاتا ہے۔ملن اس محبت کی شرط نہیں ہوتی۔”
لیلی نے اپنی سونی کلائیوں کو سامنے رکھا جہاں عالم کانچ کی چوڑیاں ہر عید اسے پہناتا تھا۔عالم لیلی کی زندگی سے زیادہ میرب کی زندگی کا سچ تھا جس نے اسے اپنی عزت کی چادر سے ڈھکا تھا ۔اس بچے کو اپنا نام دیا تھا جسے لوگ نجانے کتنی گالیاں دیتے۔آج اگر دنیا میں میرب لیلی خان کی عزت تھی تو وہ صرف عالم کی وجہ سے جس نے اس کے ہر گناہ کو چھپا دیا تھا مگر کیا ہر لڑکی کی زندگی میں عالم ہوتا ہے نہیں .
آج سالوں بعد لیلی اپنے شہر واپس آئی تھی۔اپنی بربادی کے ذمہ دار شخص کے دہلیز پر لیلی کبھی آنا نہیں چاہتی تھی مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔لیلی مضبوط قدم اٹھاتے اندر بڑھ رہی تھی۔
“پتا نہیں کس کا بچہ لے آئی ہے جسے میرا بنا رہی ہے۔مسٹر خان آپ کی بیٹی ایک بد کردار لڑکی ہے۔پوچھیں اس سے کتنے لڑکوں کو پھنسا چکی ہے۔”
لیلی نے آفس کی دہلیز پار کی تو اس کے دل کی ڈھرکنوں میں ایک شور برپا ہوگیا۔یہ reception پر آئی تو یہاں بیٹھی لڑکی نے اسے انتظار کا کہا۔آدھے گھنٹے بعد اسے آفس میں بلایا گیا۔یہ خود کو کمپوز کرتی آفس کی طرف بڑھی۔سر پر حجاب لیئے سفید کرتی ٹرائوزر پہنے لیلی آج بھی ویسی ہی تھی جیسے چھ سال پہلے۔آفس کا دروازہ کھلا تو سامنے بیٹھی شخص کو دیکھ کر لیلی کی آنکھوں کے سامنے کئی منظر گھوم گئے ۔مگر آج یہ یہاں اپنے لیئے نہیں اپنی بہن کے لیئے آئی تھی۔بہرام پاشا اسے دیکھ کر حیران ہوگیا ۔لیلی آج بھی تو وہی بائیس سالہ لڑکی تھی ۔
“تم۔۔۔۔”
بہرام پاشا اپنی سیٹ سے اٹھا ۔
“ہاں میں۔حیران ہو نہ میں یہاں کیسے۔”
“بلکل بھی نہیں آخر کو بیوی ہو تم میری کبھی بھی آسکتی ہو۔لگتا ہے آج میری یاد نے تمہیں بہت زیادہ ستایا۔”
“مائے فٹ ۔شادی کون سے شادی جس کا کوئی ثبوت نہیں میرے پاس بھی اور تمہارے پاس بھی۔تمہاری اطلاع کے لیئے عرض ہے میں اپنا ہم سفر ڈھونڈ چکی ہوں جو تم جیسا گھٹیا نہیں نہ تمہارے جیسا گھٹیا خون ہے اس کا۔”
بہرام پاشا اپنی سیٹ سے اٹھا۔
“شٹ اپ۔۔۔۔۔”
“چلائو مت بہرام پاشا میں یہاں میرب خان نہیں بیرسٹر لیلی خان بن کر آئی ہوں۔مجھے صرف میری بہن کی محبت نے مجبور کیا ہے تمہاری دہلیز پر آنے کے لیئے۔اپنے بھائی کو لگام دو۔۔۔”
“تم تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے شہزادے کا نام لینے گی۔”
“اپنے اس گھٹیا اور نیچ بھائی سے کہنا میری بہن کے پیچھے آنا چھوڑ دے۔جانتی ہوں تمہارا خاندان گھٹیا ہے۔اپنے خاندان کی کسی گھٹیا لڑکی ۔۔۔۔۔۔”
“تمہاری ہمت کیسی ہوئی میرے خاندان کی لڑکیوں پر انگلی اٹھانے کی۔”
“او یو شٹ اپ مسٹر پاشا ۔میں ایک سیکنڈ میں تمہارے اس نام نہاد عزت دار خاندان کی دھجیاں اڑا سکتی ہوں۔مجھے صرف میری بہن سے غرض ہے۔اپنے بھائی شہرام پاشا سے کہہ دو اگر دل میں اتنی ہی آگ لگی ہے تو اس مرتبہ اپنے بھائی کی طرح کسی لڑکی کے جزباتوں سے نہ کھیلے بلکہ اپنے گھر کی چاردیواری سے ہی کوئی لڑکی دیکھ لے جس کا منہ بند کرنے میں بھی مسئلہ نہ ہو۔”
بہرام پاشا کا خون کھول رہا تھا۔یہ وہ لڑکی تھی جو اس کے سامنے بولتی تک نہ تھی اور آج اس کی زبان کیسے چل رہی تھی اس کے آگے۔لیلی نے اپنے بیگ سے تصویریں نکالی۔بہرام پاشا کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔اس کی لاڈلی بہن اس نازیبا حالت میں۔
“مکافات عمل ضرور ہوتا ہے ۔جو کل کسی کی بیٹی کے ساتھ کیا تم نے آج وہی تمہاری بہن کر رہی ہے۔تمہارا بھائی اگر باز نہ آیا تو یہ تصویریں مجھے لوگوں کو دیکھانے میں سیکنڈ نہیں لگیں گے۔جیسے خان خاندان کی بے قصور لڑکی بدنام ہوئی تھی تمہارے خاندان کی لڑکی بھی نہیں بچے گی۔مجھے اس انتقام پر مجبور مت کرو جو میں نہیں لینا چاہتی۔میں ایک لڑکی کی عزت کو بہت قیمتی سمجھتی ہوں مگر جیسے تمہیں اپنی بہن عزیز ہے ویسے ہی مجھے بھی میری بہن عزیز ہے۔امید ہے مسٹر پاشا آپ کو میری زبان اچھے سے سمجھ آگئی ہو۔”
لیلی آنکھوں پر کالا چشمہ لگائے باہر نکل گئی ایک نیا باب کھول کر جس میں نجانے شکست کس کی ہوتی۔
لیلی آفس سے باہر آئی اور بھاگتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف چلی گئی ۔لیلی نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ کر اپنے موبائل سے اس نے عالم کا نمبر ملایا۔
“ہیلو۔”
“عالم ۔۔۔۔۔۔مجھے تمہاری ضرورت ہے میں اس نام نہاد رشتے سے آزاد ہونا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم آ جائو ہمارے بیٹے کو لے آئو اسے ماں کی ضرورت ہے۔۔۔۔عالم۔۔۔”
“میرب رونا بند کرو ۔میں تمہارے پاس ہی ہوں۔تم سے کہا تھا نہ کہ جب تم مجھے بلائو گی تو اپنے پاس پائو گی مجھے۔تم نے مجھے آج یاد کیا اور یہ بات ثابت کردی ہے کہ تم سے اہم نہ تو میری زندگی میں کوئی ہے اور نہ تمہاری زندگی میں میرے علاوہ کوئی اہم ہے۔میں آرہا ہوں ہمارے بیٹے کو لے کر۔”
لیلی نے سٹیرنگ پر اپنا سر ٹکایا۔بہرام اپنے آفس کی کھڑکی سے لیلی کی گاڑی کو دیکھ رہا تھا۔جس بات کا اسے ڈر تھا وہ ہو ہی گئی تھی۔جس چیز سے یہ بھاگ رہا تھا وہ ہوگئی تھی ۔لیلی اس کے سامنے آگئی تھی جس سے کبھی نہ ملنے کی دعا اس نے کی تھی ۔
انجمن اس وقت خاموش اپنے بھائی کے سامنے بیٹھی تھی۔انجمن شہرام کے بعد بہرام کی لاڈلی تھی۔
“یہ کیا ہے انجم۔”
تصویریں انجمن کے آگے پھینکتے ہوئے بہرام نے اونچی آواز میں چیخ کر اس سے پوچھا۔وہ تو کمرہ سائونڈ پروف تھا جس کی بدولت باہر آواز نہیں جارہی تھی۔
“لالہ میں۔”
“کیا لالہ میں۔گھر سے نقاب کرکے اس لیئے نکلتی ہو کہ یوں کلب میں جاکر اپنی عزت کا جنازہ نکالو۔تمہیں کوئی احساس ہے اپنے ماں باپ کی عزت کا۔کتنے ناز سے پالا ہے ہم نے تمہیں اور تم نے یہ حرکت کی۔بتائو مجھے کون ہے یہ لڑکا اور کس حد تک تم نے ہمارے گھر کی عزت نیلام کردی ہے۔”
انجمن بھائی کے پیروں میں گر گئی۔
“بھائی یہ میری یونورسٹی میں پڑھتا ہے ۔میں اسے پسند کرتی ہوں۔ماں سے اس بات کا ذکر کیا تھا میں نے مگر وہ نہیں مانی۔میں اس کے بنا نہیں رہ سکتی لالہ۔”
بہرام نے ایک تھپڑ کھینچ کر انجمن کو مارا۔
“شرم سے ڈوب کر مر جائو تم کہیں۔آئیندہ کے بعد تم کالج نہیں جائو گی شہر۔گائوں میں رہو گی تم۔کرتا تمہارا بھی کوئی انتظام۔”
بہرام نے اسے کمرے سے باہر کیا۔شہرام تین دن سے حویلی نہیں آیا تھا۔بہرام جانتا تھا وہ پریشان ہے۔آج یہ اس راہ پر کھڑا تھا جس کی کوئی منزل نہیں تھی۔
“میرب بہرام پاشا تم مجھ سے بچ نہیں سکتی۔تم کیا سمجھتی ہو تم مجھے بلیک میل کرو گی۔آخر اتنے سالوں کے سوئے ہوئے جانور کو تم نے جاگا دیا ہے اب تم اپنی خیر مانا لو۔”
بہرام نے سیگریٹ پیتے ہوئے نفرت سے سوچا۔
شہرام اس وقت اپنے دوست اور اپنے بھائی جیسے یار کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔
“عمار مجھے پتا میں کیا کروں۔وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے میں نہیں جانتا اس کی وجہ ۔”
“تو نے بات بھی تو بہت عجیب طریقے سے کی ہے نہ شہرام۔بندہ عقل کرتا ہے ہوش کے ناخن لیتا ہے۔ایسے پیچ سڑک میں کسی کا بھی رستہ روکے گا تو یہی سب ہوگا نہ۔میں تجھے مشورہ دیتا ہوں کہ بھابھی کو تھوڑا وقت دے۔ان کے نزدیک تو بہت احتیاط سے ہو۔یوں منہ اٹھا کر جائے گا نہ تیرا یہی حال کریں کریں گی بھابھی اور ان کے گھر والے۔”
“یار ویسے میری سالی صاحبہ تو بہت ہی سخت ہیں پہلی بار میں ہی تھپڑ لگا دیا۔”
“تو بھی تو حوصلہ کرتا۔”
“عمار اگر مجھے وہ نہ ملی نہ تو میں اسے سب دنیا سے چھپا کر کہیں لے جائوں گا۔میں چاہتا ہوں وہ ہر پل ہر لمحہ میرے ساتھ رہے۔”
“تو ٹھیک کہہ رہا ہے مگر عشق کرو تو اس کے لیئے قید ضروری نہیں۔”
“تو کیا جانے میرے یار میں ہر حد سے گزر چکا ہوں اب ۔خیر جو بھی ہے اب میں یہی کہوں گا کہ ہیر جو چاہے گی زندگی میں میں اسے دوں گا۔میں نے اسے آج سے چھ سال پہلے دیکھا تھا تم جانتے ہو عمار تب سے لے کر اب تک وہ یہاں میرے دل میں بستی ہے۔”
شہرام نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا۔
“اچھا چل چھوڑ نہ یار مجھے پتا کہ تو نے جو اپنا کاٹچ لیا ہے اس کا کیا بنا۔”
“میں نے اسے پیر کے لیئے لیا ہے مستقبل میں ہم وہاں جایا کریں گے ۔میں چاہتا ہوں کہ ہم جب ساتھ وقت گزاریں تو کوئی دخل اندازی نہ کرے۔”
“شہرام کبھی کبھی مجھے تجھے دیکھ کر ڈر لگنے لگتا ہے نجانے مستقبل کیا ہوگا تیرا۔”
“بس کر دے تو اب ناٹک۔کھانا لگوا بھوک لگ رہی ہے مجھے۔”
ہادی سویا ہوا تھا۔عالم آج تین سال بعد میرب لیلی خان سے مل رہا تھا۔یہ دوری بہت مشکل تھی مگر لیلی کے لیئے یہی بہتر تھا۔ہادی آج بہت زیادہ خوش تھا۔اس کے چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی ۔ہادی نے اپنی ماں اور آنی کے لیئے بہت سے تحفے خریدے تھے۔عالم نے گاڑی کے رکنے پر باہر دیکھا۔یہ خان خاندان کا شہر والا منشن تھا جہاں خان خاندان کے لوگ بہت کم آتے تھے۔
ہادی فورا جاگ گیا۔
“بابا ہم آگئے۔”
“جی ہم آگئے۔جلدی سے آ جائو ماما اور آنی ہمارا انتظار کر رہی ہیں۔”
ہادی عالم کا ہاتھ چھڑوا کر منشن کے اندر بھاگا ۔ہادی نے سامنے کھڑی اپنی ماں کو دیکھا۔4 سالہ ہادی اپنی ماں کے پاس دوڑتے ہوئے گیا۔
“ماما۔۔۔۔۔۔”
ہادی کو بانوں میں بھرتے ہوئے لیلی کے آنسو نکل آئے۔
“ماما میں نے بہت مس کیا آپ کو۔”
“میں نے بھی میری جان میرے شہزادے ۔”
ہادی نے چہرہ ماں کی طرف موڑا تو لیلی نے ایک لمحے کے لیئے آنکھیں بند کرلی۔۔بہرام پاشا کا ہر ایک نقش اس کے بیٹے نے چرایا تھا۔بہرام پاشا کی شکل اور ہادی کی شکل میں تھوڑا سا بھی فرق نہ تھا۔عالم اندر داخل ہوا تو لیلی نے اسے نظر اٹھا کر دیلھا۔وہی نرم گرم سا لہجہ ہمیشہ کی طرح لیلی کو عزت دیتا ہوا۔خوبصورت نور بھرے چہرے کے ساتھ عالم اپنی اہمیت آپ رکھتا تھا۔
“اسلام علیکم کیسی ہو میرب۔”
“لیلی نام ہے میرا عالم شائد تم بھول گئے ہو اور وعلیکم اسلام میں بلکل ٹھیک ہوں۔”
“مجھے خوشی ہے کہ تم ٹھیک ہو ۔ہادی تمہیں بہت یاد کرتا تھا۔ہادی کی جان بستی ہے تم میں۔”
عالم۔۔۔۔۔۔”
“بولو لیلی کیا کہنا ہے۔”
“تم دنیا کے سب سے اچھے انسان ہو۔”
“میں اتنا بھی اچھا نہیں ہوں لیلی۔”
“تم ہوں اور ہمیشہ رہو گے۔”
عالم اور لیلی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔آج بھی کچھ نہیں بدلا تھا بس کچھ لمحے بدل گئے تھے۔
