522.9K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dareeche Dil Ke) Episode 14

ہیر کی آنکھ باہر سے آتی آوازوں سے کھلی تھی۔نرم گرم بستر میں ہیر کو سردی کا احساس نہیں ہورہا تھا حالانکہ باہر برف باری جاری تھی۔ہیر نے اپنے کھلے بال چہرے سے پیچھے کیئے۔ایک ہاتھ میں پٹی بندھی ہوئی تھی جس کے باعث ہیر کو ہاتھ ہلانے میں مشکل ہوتی تھی۔ایک پیر پر ہیر کے اچھی خاصی چوٹ آئی تھی جس کی بدولت ہیر چل نہیں پاتی تھی بغیر سہارے کے۔کمرے کا دروازہ کھول کر شہرام پاشا اندر آیا۔
“میری باربی جاگ گئی۔”
شہرام نے ہاتھ میں اٹھایا ہوا سویٹر ٹیبل پر رکھا اور ہیر کے پاس آیا۔پچھلے ایک ماہ سے اس گھر میں شہرام کے ساتھ رہتے ہوئے ہیر کو احساس ہوگیا تھا کہ آزادی ناممکن ہے۔یہاں سے دور دور تک کسی گھر کا نام و نشان نہیں ملتا تھا بس برف سے ڈھکا علاقہ اور پہاڑ نظر آتے تھے۔یہاں کوئی فون نہیں تھا اور ہیر اپنی ہی بیوقوفی کے باعث اب بھاگ بھی نہیں سکتی تھی۔
شہرام نے ہیر کو سہارا دے کر اٹھایا۔
“باربی فریش ہو جائو ۔ناشتہ بنا دیا ہے میں نے ۔آج تھوڑی دیر کے لیئے تمہیں باہر لے کر جائوں گا۔”
ہیر کی آنکھیں بلکل اپنے بابا جیسی تھی کانچ جیسی بھوری۔انہیں آنکھوں کا شہرام دیوانہ تھا۔
“تم پاگل ہو شہرام۔کب تک مجھے اس گھر میں قید رکھو گے۔میں مر جائوں گی یہاں ۔مجھے آپی سے ملنا ہے عالم بھائی سے ملنا ہے۔”
ہیر کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
“باربی ہم کچھ اور دن یہاں رہیں گے پھر ہم اپنے گھر چلیں گے ۔میں نہیں چاہتا کوئی ہماری زندگی میں عمل دخل کرے۔مجھے نہیں پسند کوئی میری باربی کو مجھ سے دور کرے۔میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا باربی ۔میرے پاس دنیا کا سب کچھ ہے۔باربی ہمارے بچے ہوجائیں گے تو تم سب بھول جائو گی۔”
ہیر کو اس دن سے خوف آتا تھا جس دن اس کے پائوں میں ہمیشہ کے لیئے بچے جیسے کوئی زنجیر پڑ جاتی۔پچھلے ایک ماہ سے شہرام اس سے بہت بار بچوں کا ذکر کر چکا تھا اور ہیر جانتی تھی کہ شہرام کی یہ خواہش آج نہیں تو کل پوری ہو جائے گی۔پھر کیا مستقبل ہوگا اس بچے گا۔ہیر ہرگز شہرام جیسے جنونی انسان کے رہنا نہیں چاہتی تھی جس کے بھائی نے اس کی آپی کو تباہ کیا تھا۔
“تمہیں بہرام بھائی اچھے نہیں لگتے تھے نہ باربی اس لیئے ہم ان سب کے ساتھ نہیں رہیں گے۔تم ان سے مت ملنا ۔باربی اٹھو میں تمہاری ہیلپ کرتا ہوں۔”
ہیر بے انتہا مجبور تھی اس شخص کی مدد لینے کو۔نہ یہ صحیح سے کھا سکتی تھی نہ چل سکتی تھی۔شہرام اس کا بہت خیال رکھتا۔شہرام ایک بہترین ڈیزائنر تھا ۔اس ویرانے میں رہ کر بھی اس نے اپنا کام جاری رکھا تھا۔ہیر کے لیئے اس نے بہت خوبصورت کپڑے ڈیزائن کیئے تھے جو صرف ہیر کے پاس ہی تھے اور کسی کے پاس ایسے کپڑے نہیں تھے۔شہرام کا فیشن کی دنیا میں اپنا نام تھا ۔
ہیر باتھ لے کر آئی تو شہرام نے اس کے لیئے خوبصورت مخمل کا سفید فراک نکلا جس پر مختلف رنگ کے موتی لگے ہوئے تھے۔ہیر کے بال ڈرائے کرتے ہوئے شہرام اس کو شیشے میں دیکھ رہا تھا۔ہیر لاتعلق بنی بیٹھی تھی۔
“باربی تم ناراض ہو۔”
“تم اس قسم کے سوالات مجھ سے کیوں پوچھتے ہو شہرام۔مجھے تم سے بے حد خوف آتا ہے۔تم مجھ سے محبت نہیں کرتے بس تمہیں جنوں ہے مجھے پانے گا۔”
“نہیں باربی میں تمہیں بہت چاہتا ہوں۔میں سالوں سے تمہارے لیئے ٹرپا ہوں باربی۔”
“تمہارے باپ نے جیسے تمہارے بھائی کے ذریعے میری بہن کی زندگی برباد کی کیا ایسے ہی تم میری زندگی برباد کرو گے۔”
“باربی بھائی نے جو کیا وہ ان کا اپنا عمل ہے۔میری تمہاری زندگی سے کسی کا تعلق نہیں۔”
“تعلق ہے شہرام۔یہ کیسا رشتہ ہے جس میں مجھے میرے اپنوں کی قربانی دینی ہے۔”
“شادی کے بعد ہر لڑکی گھر والوں سے دور رہتی ہے باربی۔تم رخصت ہوکر میرے ساتھ آئی ہو ۔تم اپنے گھر والوں سے مل سکتی ہو باربی مگر مجھ سے دور نہیں جا سکتی۔تم خود کو سمجھا لو کہ تم میری شہرام پاشا کی پاشا بیگم ہی رہو گی میرے مرنے کے بعد بھی۔”
شہرام ہیر کے بال بند کر کے ناشتہ لینے چلا گیا۔ہیر ڈریسنگ ٹیبل پر سر رکھ کر رونا شروع ہوگئی اس قید سے رہائی شاید ساری عمر ممکن نہ تھی۔
ہیر اٹھ کر کھڑی دو دن بعد اس کا پلاسٹر اترنا تھا۔یہ دو دن پر لگا کر اڑے۔۔شہرام کے ساتھ ہیر کو رہتے ہوئے ڈیڑھ ماہ ہوگیا تھا۔پچھلے تین چار دنوں سے ہیر کو اپنی طبیعت میں تبدیلی میں واضع فرق محسوس ہورہا تھا۔ہیر اپنی طبیعت کو شہرام سے چھپا رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ شہرام تو اس کی ہر بات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ہسپتال میں پلاسٹر اترنے کے بعد ہیر شہرام کا انتظار کر رہی تھی ۔شہرام کے ساتھ ڈاکٹر آئی۔
“مسز شہرام آپ کا چیک اب کرنا ہے مجھے۔شہرام سر کہہ رہے ہیں کہ آپ کی طبیعت کچھ دنوں سے بہتر نہیں ہے۔”
“نہیں میری طبیعت بلکل ٹھیک ہے۔”
“مسز شہرام ایک بار چیک اپ کروا لیں ہوسکتا ہے کوئی مسئلہ ہو۔”
ہیر بے حد مجبور تھی۔اس لمحے یہ انکار بھی نہ کر پائی۔شہرام اور ہیر دونوں ڈاکٹر کا انتظار کر رہے تھے۔ڈاکٹر اپنی کرسی پر آکر بیٹھی۔
“مبارک ہو مسٹر شہرام آپ کا اندازہ ٹھیک تھا آپ کی بیوی امید سے ہیں۔دو ہفتے ہوگئے ان کی پرینگنسی کو۔”
ہیر پر آسمان ٹوٹ پڑا۔اس لمحے اس نے شہرام کے چہرے کی خوشی بھی نہ دیکھی۔ہیر کا اندر تک ہل گیا تھا۔
“بہت شکریہ ڈاکٹر آپ نہیں جانتی کتنی بڑی خوشی کی خبر دی ہے آپ نے مجھے میری بیوی کے بارے میں۔”
“بہت مبارک ہو آپ دونوں کو سر۔آپ نے اپنی بیوی کا بے حد خیال رکھنا ہے۔یہ بہت زیادہ کمزور ہیں اور پہلی بار امید سے ہیں یہ اس لیئے آپ کو ان کا مکمل خیال رکھنا ہے۔”
“آپ بے فکر رہیں ڈاکٹر ہم کل ہی اپنے شہر والے گھر میں جارہے ہیں ۔آپ ہمارے ولیمے کے فنکشن پر ضرور آئیے گا۔”
“جی ضرور۔”
شہرام ہیر کا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ گاڑی تک لایا۔شہرام جانتا تھا کہ ہیر تھوڑی ڈسٹرب ہوگی اس لیئے شہرام نے ابھی کوئی بات نہ کی۔کاٹیچ میں آتے ہی شہرام ہیر کا بانہوں میں اٹھا کر اندر لایا۔
“ہیر میں سامان پیک کر رہا ہوں ہم کل صبح یہاں سے شہر کے لیئے نکلیں گے۔”
“بہت خوش ہو تم۔”
“تو کیا مجھے خوش نہیں ہونا چایئے۔اب مجھے کیسی بات کا کوئی خوف نہیں ۔تمہیں پتا ہے میں اپنے بچے کے لیئے خود اپنے ہاتھوں سے پیاری سے نرسری بنائوں گا۔”
“مجھے اس بچے کی کوئی خوشی نہیں ہے۔تمہیں کیا لگتا ہے اس بچے کو دنیا میں لگائوں گی میں۔”
“ہیر میری باربی ایسی حالت میں تمہیں یہ باتیں زیب نہیں دیتی میری جان۔بچے کو تم کوئی نقصان نہیں پہچائو گی ۔کوئی ماں اتنی ظالم نہیں ہوتی۔تم تو میری باربی ہو۔”
“میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی شہرام پاشا۔نجانے میرے پیچھے لوگوں نے کتنی باتیں پھیلا دی ہوں گی۔”
“کسی نے کوئی بات نہیں کی میری جان۔سب ہمارے ولیمے کے منتظر ہیں ۔یہاں سے جاتے ہی ہمارا ولیمہ ہے۔میں کھانا لا رہا ہوں تمہارے لیئے خاموشی سے کھا لینا۔”
ہیر شہرام کے جانے کے بعد نے تحاشا روئی۔یہ اور کر بھی کیا سکتی تھی۔


بہرام کے ساتھ ہی عامر باہر کلب آیا ہوا تھا۔کوئی میٹنگ تھی اس کی۔میٹنگ کے بعد بہرام لیلی کے گھر کے لیئے نکلا۔جتنی لڑائی اس کی اور لیلی کی ہوئی تھی لیلی کے ہوش میں آنے کے بعد وہ یہی جانتا تھا۔لیلی نے اپنا ہر حربہ استعمال کیا مگر ہیر کے بارے میں معلوم نہ ہوسکا۔بہرام ہادی کو دیکھنا چاہتا تھا۔لیلی کے گھر کے آگے گاڑی رکی۔
“سر گھر آگیا ہے۔”
بہرام عامر کی بات ہر ہوش میں آیا۔یہ گاڑی سے اتر کر لیلی کے گھر کے اندر آیا۔اسے اندر اپنی بہن مناہل کے دو بچے اور اپنا بیٹا نظر آیا۔ہادی اسی کی ہو بہو کاپی تھا۔عالم کی آواز آتے ہی ہادی پیچھے مڑا اور باپ کی طرف بھاگا۔
“بابا دیکھیں نہ آپی مجھے فٹ بال نہیں دے رہی۔”
عالم نے ہادی کو اٹھایا کر اس کے گال پر پیار دیا۔
“بابا ہیں نہ ان کو بتاتے ہیں کیسے میرے بیٹے کو اپنے ساتھ نہیں کھلاتے۔”
عالم کو ہادی کو پیار کرتا دیکھ بہرام کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا۔
کتنا کچھ کھو دیا تھا اس نے۔اپنی پہلی اولاد کو اس نے کھو دیا پھر دوسری اولاد کو پیار نہ کر پایا۔اس کے وجود سے انجان رہا۔اپنی محبت کو ایک ایسے بدلے کے پیچھے برباد کیا جو کبھی بدلہ تھا ہی نہین۔سہی کہتے ہیں کسی سے بدلہ لینے کے لیئے سوچنے والے نہ صرف خود برباد ہوتے ہیں بلکہ اپنے پیاروں کو بھی برباد کر دیتے ہیں۔اپنے باپ کے پیچھے اپنے چچا کے لیئے بہرام نے اپنی محبت ہمیشہ کے لیئے گوا دی تھی۔لیلی تو اس کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی۔سہی ہی تو کہتی تھی وہ اپنے رشتے کو دنیا کے سامنے اس نے خود ایک گالی بنا دیا تھا۔
“عالم۔۔۔۔۔”
عالم بہرام کی آواز پر پیچھے مڑا۔
“تم۔۔۔۔۔کیا لینے آئے ہوئے یہاں اب بہرام پاشا۔میری بہن کو تو نجانے کہاں چھپا رکھا ہے اور مجھے اپنا چہرہ دیکھانے آگئے۔”
“عالم مجھے میرے بیٹے سے ملنے دو پلیز۔”
ہادی عالم اور اپنے باپ کے سامنے کھڑے شخص کی باتیں سن رہا تھا۔
“ہادی بیٹا آپ جائو اندر مامی کے پاس میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔”
ہادی کو نیچے اتار کر عالم بہرام کی طرف متوجہ ہوا۔
“کس بچے کی بات کرتے ہو تم۔جس کو نہ تم نے کبھی پیار دیا نہ اپنایا۔تم جانتے ہو وہ ہوٹل کی رات لیلی کے لیئے کتنی بھیانک تھی۔تم نے اپنے رشتے کو ایک گالی بنایا۔اس دن میری لیلی بے ہوش پڑی تھی بخار میں تپتی ہوئی۔ہادی کی پیدائش کے وقت لیلی شدید ڈپریشن میں جاچکی گئی تھی۔جب ہادی پیدا ہوا تھا نہ تو ڈاکٹر نے مجھے کہا تھا کہ یا تو آپ کا بیٹا بچے گا یا لیلی۔تم جانتے ہو میں نے اپنے بیٹے کو پالا ہے۔تمہارا خون سمجھ کر لیلی نے کبھی میرے بیٹے کو مکمل پیار ہی نہ دیا۔جب وہ روتا تھا تو اس کے پاس جو شخص موجود ہوتا تھا وہ میں تھا۔آج تم کو حق سے لینے آئے ہو اسے یا ملنے۔”
“عالم پلیز مجھے میرے بیٹے سے میرے اصل رشتے کے ساتھ ملنے دو۔میں لاکھ برا سہی مگر اپنے بیٹے کے لیئے ایسا نہیں کروں گا۔”
“تمہاری پہچان میں نے اپنے بیٹے کو کروائی ہے تم رک جائو میں اسے بلاتا ہوں تمہیں خود ہی اپنی جگہ اس کی زندگی میں معلوم ہوجائے گی۔”
ہادی کو عالم نے بلایا۔
“ہادی بیٹا میں نے آپ کو آپ کے بابا کے بارے میں بتایا تھا نہ بہرام پاشا ۔یہ ہیں وہ آپ کے بابا ۔جائو ملو ان سے۔”ہادی بہرام کے قریب آیا۔بہرام نیچے بیٹھا اور ہادی کو سینے سے لگا لیا۔ہادی کے چہرے پر جا بجا پیار کرتے ہوئے بہرام کو اپنایت کا ایک انوکھا احساس ہو رہا تھا۔ہادی نے بہرام سے ہاتھ چھڑوایا۔
“بابا یہ بیڈ بوائے ہیں مجھے ان کے پاس نہیں جانا۔”
بہرام اپنے بیٹے کو دیکھتا رہ گیا جو بھاگ کر عالم کے پاس چلا گیا۔
“بابا یہ گندے ہیں میری ماما کو انہوں نے تنگ کیا تھا۔ماما ان کی وجہ سے بہت روئی ۔”
“میرے بچے میرے شہزادے ایسا مت کہو۔میں تو آپ کا بابا ہوں نہ۔میرے پاس نہیں آئو گے۔”
“نہیں میں آپ کا بیٹا نہیں ۔میں صرف عالم بابا کا بیٹا ہوں جو میرے اینجل ہیں۔”
ہادی نے اپنا چہرہ موڑ کر عالم کی گردن میں چھپایا۔
عالم نے ہادی کو اندر بھیجا۔
“تمہیں جواب بہت اچھے سے مل گیا ہوگا۔ہم دونوں ایک ہی خاندان سے ہیں مگر ایک فرق ہے ہم میں تربیت کا۔ماں باپ جیسی بچے کی تربیت کرتے ہیں چھوٹی عمر سے وہ ظاہر کرتی ہے کہ بچا مستقبل میں کیا کرے گا۔تمہیں پتا ہے میری تربیت نہایت شاندار ہوئی جس کی بدولت آج میں اس مقام پر ہوں۔تمہاری تربیت کی ہی خالتی ہے کہ تم ایک لڑکی کی عزت نہ کرپائے۔ویسے تمہارے خاندان کا تو شاید یہ اصول ہے کہ اپنی بیٹیوں کے علاوہ باقی لوگوں کی بیٹیوں کو کھلونا سمجھنا۔تم جانتے ہو میرے بابا کہہ کرتے تھے عزت سب کی ایک جیسی ہوتی ہے۔یہ مت سمجھو کہ تم جو کسی کی بیٹی کے ساتھ کرو گے وہ اپنی بیٹی پر نہیں آئے گا۔اگر کسی کو اپنی بیٹی اور بہن سمجھو گے تو کل کو تمہاری اپنی عزت محفوظ رہے گی۔تم جیسے لوگ اپنی انا کی خاطر نہ صرف اپنا نقصان کرتے ہیں بلکہ دوسروں کا بھی۔معلوم ہے لیلی سب کچھ بھول جاتی مگر تم نے جو اس کی اولاد اور اپنی شادی کو لوگوں کی نظر میں مشکوک بنا دیا لیلی یہ کبھی نہیں بھولے گی۔”
“تم ٹھیک کہتے ہو عالم میں غلط تھا۔مگر میری محبت سچی ہے میں میرب سے بے انتہا محبت کرتا ہوں۔”
“محبت اوہ پلیز یہ فلمی ڈائیلاگ حقیقت میں اچھے نہیں لگتے۔لڑکے نے لڑکی پر ہزاروں ظلم کیئے اس کی عزت کو لوگوں کی نظر میں خراب کیا اور آخر میں لڑکی بولی میں آپ کو معاف کرتی ہوں ۔ایسا حقیت کی دنیا میں ممکن نہیں۔عورت کبھی اپنی تذلیل نہیں بھولتی۔تم محبت نہیں کرتے تھے کبھی بھی لیلی سے۔میں اپنی لیلی کو کبھی اجازت نہیں دوں گا کہ وہ تم جیسے شخص کے پیچھے برباد ہو۔”
اس سے پہلے کے بہرام کچھ اور بولتا عامر اس کے پاس آیا۔
“سر شہرام سر ہیر میڈیم کو لے حویلی چلے گئے ہیں۔”
بہرام عامر کی بات سنتے ہی اس کے ساتھ چلا گیا،