Dareeche Dil Ke By Hafsa Javed Readelle50326 (Dareeche Dil Ke) Episode 11
Rate this Novel
(Dareeche Dil Ke) Episode 11
لیلی اس وقت ہسپتال کے بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔اپنے اندر پلتے وجود کو یہ کھو چکی تھی اور اس کی قسمت کیسی تھی کہ آج جب اسے ہسپتال لایا گیا تو عالم نے اسے اپنی بیوی ہی ظاہر کیا۔کیا عالم جیسے شخص کا احسان یہ کبھی زندگی میں اتار سکتی تھی ہرگز نہیں جس نے نہ صرف اپنی محبت کی عزت رکھی تھی بلکہ اس شخص کی عزت بھی رکھی تھی جو عالم کا باپ نہیں تھا مگر عالم کو باپ سے بڑھ کر پیار دیا تھا۔اس شخص کی عزت کو کیسے یہ سر نیلام ہونے دے سکتا تھا۔منصور صاحب کو سب کچھ بتانے کے بعد اس نے منصور صاحب کو یہی کہا کہ آپ اب سب سے یہی کہیں کہ عالم اور لیلی کا نکاح ہوگیا تھا اور ولیمہ عالم کے آنے کے بعد ہونا تھا۔خان کو جیسے ہی پتا چلا وہ ہسپتال آئے۔اس وقت کمرے میں صرف خان اور لیلی موجود تھے۔
“یہ تم نے کیا کر دیا میری بیٹی۔تم۔نے اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے ذرا بھی خیال کیا کہ اس کے بعد تمہارا مستقبل کیا ہوگا۔کیا ایک اجنبی شخص کو اپنا آپ سونپنے ہوئے تمہارے سامنے اپنے باپ کا چہرہ نہیں آیا۔میرا نہ سہی اپنی مرحوم ماں کا ہی بھرم رکھ لیا ہوتا ۔کیا جواب دوں گا میں اسے آخرت میں۔آج مجھ خود پر شرمندگی محسوس ہورہی ہے کہ شاید میری تربیت میں کوئی کمی تھی جو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا۔”
عالم اندر آیا اور خان کو کندھوں سے پکڑا جن کی آنکھوں سے اپنی لاڈلی بیٹی کو دیکھ کر آنسو ہی نہیں رک رہے تھے۔
“بابا اب میری عزت ہے یہ۔جو ہونا تھا وہ ہوگیا سب یہی جانتے ہیں کہ یہ میری بیوی ہے اور بچہ میرا تھا۔”
“کیوں عالم میں تمہیں قربانی کا بکرا بنا دوں آخر کیوں میں تمہیں اتنے بڑے امتحان میں ڈالوں۔تمہیں اپنا بیٹا کہہ کر اپنایا ہے اب کیسے اپنے ہی بیٹے کے ساتھ دھوکا کر دوں۔”
“نہیں بابا میرب نے جو کیا وہ اس کا عمل تھا۔میں جو کروں گا وہ میرا عمل ہوگا۔آپ تو میرے پیارے بابا ہیں نہ میری تربیت آپ نے کی ہے تو پھر اپنی تربیت پر بھروسہ تو ہے نہ آپ کو۔میرب نے جو کیا اس کی سزا پالی ہے۔یہ شاید نہیں جانتی ایسی بیٹیوں کے بارے میں معاشرہ کیا کہتا ہے مگر میں کیسے اسے سزا دوں عشق کرتا ہوں اس سے۔چھوٹے سے تھے ہم تو آپ ہی کہا کرتے تھے کہ عالم کے ساتھ میری میرب ہی اچھی لگتی ہے تو آج کیسے اپنے ماضی کو دو پل میں بھول جائوں۔میں اپنی جان سے محبوب ہستی کو سزا نہیں دے سکتا۔”
عالم نے خان کا ہاتھ پکڑا ۔خان نے عالم کو گلے لگا لیا۔
“میرا شیر جوان بچا۔میرا خون نہیں ہو تم مگر تم نے آج ہہ ثابت کیا ہے کہ تمہاری تربیت کرنے والی ماہا تھی جو قابل ستائش عورت ہیں۔ساری زندگی میری اس بیٹی کا خیال رکھنا عالم۔باپ ہو کیسے اسے دنیا کے ظلم سہنے کے لیئے چھوڑ دوں ۔اسے اپنا لینا۔”
خان رونے لگے۔عالم نے ٹرپ کو ان کے آنسو صاف کیئے اور اپنی چادر کندھوں سے اتار کر لیلی کے اوپر دی۔
“دیکھیں بابا یہ میری ہے اب۔بہت جلد اس کی طلاق کروا کر اس سے شادی کر لوں گا میں۔”
خان عالم سے مل کے باہر چلے گئے۔لیلی تو خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی۔یہ رات قیامت جیسی تھی ۔اسی رات خان کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ اس دنیا سے منہ موڑ گئے۔لیلی گہرے صدمے میں چلی گئی اور ماہا انکی زندگی تو ویران ہوگئی تھی۔ماہا شازل کے ساتھ ہی ہمیشہ کے لیئے باہر چلی گئی ۔وہ لیلی سے مل کر نہیں گئی۔لیلی وہ تو اپنے حواس میں نہیں تھی۔ایک ہیر اور عالم ہی اس کا خیال رکھتے تھے۔
یہ ایک سال بعد کی بات تھی۔لیلی نے اپنے ہوش میں آنے کے بعد سب چیزوں سے بچنے کے لیئے لا فرم جوائن کر لی۔عالم نے اسے بہت بار طلاق کا کہا جو یہ خاموشی سے ٹال دیتی۔شازل کو جس طریقے سے عالم نے باہر بھیجا تھا یہ وہی جانتا تھا۔شازل تو لیلی کی شکل بھی نہیں دیکھتا تھا۔عالم ہی لیلی کا سہارا تھا جس نے اس کا ساتھ دیا۔لیلی ہر رات ٹرپ کا گزارتی۔
بہرام جس نے باپ کے کہنے پر اپنے چچا کا بدلہ لیا تھا خان خاندان سے وہ آج بکھر گیا تجا۔اسے لیلی سے شدید محبت ہوگئی تھی مگر باپ کے آگے بہرام نے اپنی محبت قربان کر دی۔بہرام کے باپ نے تو اسے نکاح نہ کرنے کا کہا تھا مگر بہرام نے پھر بھی نکاح کیا تھا۔جب بہرام کو علم ہوا کہ یہ باپ بننے والا ہے تو اسے خوشی ہوئی مگر پھر اپنے باپ کا حکم مانتے ہوئے اس نے اپنے عشق کو بھرے زمانے میں رسوا کیا۔مگر کہتے ہیں نہ سچی محبت تو وجود کی چاہ نہیں مانگتی۔عالم نے لیلی سے بغیر کسی تعلق کے اسے زمانے کے ہر سرد اور گرم سے بچایا۔لیلی کو panic attack ہوتے اکثر وہ چیزیں بھول جاتی اس کا ہاتھ تھام کر چلنے والا بس عالم تھا۔بہرام لیلی سے عشق کرتا تھا مگر اس نے اپنے محبوب کو رسوا کیا اور خود بھی ٹرپا ۔
یہ دسمبر کی ایک سخت سرد رات تھی۔عالم اور لیلی لا فرم کے ایک فنکشن کے لے لیے شہر سے دور آئے ہوئے تھے۔دونوں کے کمرے ساتھ ساتھ تھے۔اس دن قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔بہرام بھی ہوٹل آیا ہوا تھا۔اس نے برف باری کی وجہ سے ہوٹل میں رکنے کا فیصلہ کیا۔عالم روم میں جاچکا تھا۔لیلی گارڈن میں واک کے بعد روم میں جارہی تھی جب بہرام کی نظر اس پر پڑی۔
“میرب یہ یہاں کیا کر رہی ہے۔”
بہرام لیلی کے پیچھے ہی اس کے روم میں گیا۔لیلی دروازہ بند کرنے لگی تھی جب بہرام روم میں داخل ہوا اور دروازہ بند کردیا۔
“تم۔۔۔۔۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی کمرے میں آنے کی۔”
کمرہ سائونڈ پروف تھا اس لیئے اندر کی کوئی آواز باہر نہیں جا رہی تھی۔
“میری جان بہت خوبصورت ہوگئی ہو۔میں سوچ نہیں سکتا تھا کہ میرے ہجر نے تمہیں اتنا خوبصورت بنا دیا ہے۔”
“دور رہو مجھ سے غلیظ انسان خبردار جو میرے پاس آئے۔”
“کیوں نہ آئوں تمہارے پاس بیوی ہو میری تم۔”
“نہیں ہوں تمہاری بیوی تم نے خود انکار کیا ہے ہمارے نکاح سے ۔”
“وہ تو دنیا کے سامنے انکار کیا تھا مگر حقیقت میں تم میری بیوی ہو اور ہمیشہ رہو گی۔”
بہرام نے لیلی کا بازو پکڑا۔
“چھوڑو مجھے دیکھو تم نے مجھ سے جو بھی بدلہ لینا تھا وہ پورا ہوگیا میرے پاس اب کچھ نہیں بچا۔میں خالی ہاتھ ہوں مجھ پر اتنا ظلم مت کرو۔”
“کیا بھول گئی ہو تم ہمارے ساتھ میں گزرے خوبصورت پل میری جان۔خود کو سونپا تھا تم نے مجھے۔اب تمہیں کیسے جانے دوں۔ساری عمر میری بیوی رہو گی تم جب مجھے تمہاری طلب ہوگی میں تمہارے پاس آئوں گا مگر تم کچھ نہیں کرپائو گی نکاح کا مقصد ہی یہی تھا۔”
بہرام نے لیلی کو بیڈ پر پھینکا۔لیلی بے بس تھی۔بہرام نے آج لیلی کو پھر سے توڑ دیا تھا۔رات کا آخری پہر تھا۔لیلی تو آنکھیں بند کیئے بیڈ پر پڑی ہوئی تھی۔بہرام اٹھا اور اپنی شرٹ پہننے کے بعد لیلی کو دیکھا ۔
“کاش ہم ایک ساتھ رہ پاتے۔کاش میں تمہیں پتا پاتا کتنی محبت ہے مجھے تم سے مگر اپنے باپ سے کیئے ایک وعدے کے پیچھے مجبور ہوں میں۔میرا چچا کے قاتل کی بیٹی ہو تم جن سے میرے بابا بیٹوں جیسا پیار کرتے تھے۔”
بہرام لیلی کی پیشانی پر پیار دے کر کمرے سے باہر نکل گیا یہ دیکھے بغیر کے لیلی تو ہوش میں ہی نہیں ہے۔صبح عالم لیلی کا دروازہ بجاتا رہا نہ کھولنے پر یہ ریسبشن سے چابی لایا اور اندر گیا۔بیڈ پر لیلی بے ہوش پڑی تھی اور بخار میں تپ رہی تھی۔
عالم اسے ہسپتال لے گیا۔لیلی نے چھ دن بعد آنکھیں کھولی کیونکہ لیلی کو ایک شدید panic attack ہوا تھا۔
“میرب کیا ہوا تمہیں ۔تم نے میری جان نکال دی تھی ایسا بھی کوئی کرتا ہے۔”
“وہ پھر آیا تھا عالم۔اس نے مجھے داغ دار کر دیا۔”
عالم شاک ہوگیا۔
“کون آیا تھا میرب۔”
“بہرام وہ میرے کمرے میں آیا تھا عالم اس نے مجھے داغ دار کردیا۔”
“میں نہیں چھوڑوں گا اس انسان کو۔وہ کیا سمجھتا ہے تمہیں کوئی ملکیت۔”
لیلی نے عالم کا ہاتھ پکڑا۔
“میرے گناہوں کی سزا ہے یہ عالم۔مجھ جیسی لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا۔جو ماں باپ کی نافرمان ہوتی ہیں دنیا کی عزت کا احساس نہیں کرتی ان کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔جو عزت میرے بابا کی رہ گئی ہے وہ برباد ہوجائے گی اگر تم اس غلیظ شخص کے پاس جائو گے۔”
“تو کیا کرو گی تم خاموش رہو گی۔”
“مجھے یہاں سے دور لے جائو عالم ۔میں یہاں اگر اس شہر میں مزید رہی تو پاگل ہوجائوں گی۔مجھے سنبھلنے کے لیئے کچھ وقت دو۔میں اس شخص سے طلاق لینا چاہتی ہوں مگر ابھی میں نے خود کے بکھرے ٹکڑوں کو سمیٹنا ہے۔لیلی میرب خان کھو گئی ہے۔میں نے آج میرب کو اپنے ہاتھوں سے ختم کیا ہے آج کے بعد میں سب کے لیئے لیلی ہوں بس۔”
وقت تیزی سے گزرا۔دو ماہ بعد لیلی کہ طبیعت بگڑی تو ڈاکٹر نے جو خبر اسے سنائی وہ اسے ختم کرگئی۔یہ دوسری بار ماں بننے والی تھی۔عالم کو ڈاکٹر نے فون پر بتایا ۔لیلی ہسپتال سے سیدھا گھر گئی۔عالم ڈاکٹر کے جاننے والا تھا۔عالم گھر آیا تو اس کا رخ لیلی کے کمرے کی طرف تھا۔لیلی نے ہاتھ میں چھری اٹھا رکھی ۔عالم لمحوں میں اس کے پاس پہنچا اور چھری چھین کر زوردار تھپڑ لگایا۔
“کیا کرنے لگی تھی تم ہاں۔خود کو ختم کرنے لگی تھی تم۔مرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو خود مار دیتا ہوں اپنے ہاتھوں سے تمہیں میں۔”
عالم لیلی پر چیخا۔
“میرے اندر اس غلیظ انسان کا خون پل رہا ہے۔جینے سے اچھا ہے نہ میں مر جائوں۔”
“بند کرو اپنی بکواس۔اس بچے کا کوئی قصور نہیں کسی چیز میں۔”
“دنیا کی نظر میں یہ جائز نہیں ہے۔جس کا باپ ہمارے رشتے کو ماننے سے انکاری تھا اس بچے کا اس دنیا میں کیا کام۔”
“خبردار جو آئندہ کے بعد اس غلیظ انسان کا نام لیا۔یہ بچا میرا ہے دنیا کی نظر میں اور اگر تمہیں یہ نہیں چاہیئے تو پیدا کرکے مجھے دے دینا میں پال لوں گا ۔”
لیلی نے عالم کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر غصہ تھا۔
“کیوں کرتے ہو مجھ سے اتنی محبت۔مجھ سے محبت مت کرو ۔میں محبت کے قابل نہیں ۔تم کیوں ہو اتنے اچھے ۔عالم تمہیں اچھی لڑکی ملنی چاہیئے مجھ جیسی غلیظ نہیں۔”
“مجھے جو بھی لڑکی ملے وہ میری میرب تو نہیں ہو سکتی نہ۔میری وہ میرب جس کا ہاتھ تھام کر میں جوانی کی ہر منزل تہ کرتا آیا ہوں۔جو میرے مرحوم بابا کی بیٹی ہے جو میری محبت ہے۔میں خود غرض نہیں تم سے ایک غلطی ہوئی جو کسی سے بھی ہوجاتی۔یہ ان سب کے لیئے سبق ہے جو لوگ اپنی حدود سے نکل جاتے ہیں۔ہر کسی کے لیئے عالم نہیں ہوتا لوگ مار دیتے ہیں ایسی لڑکیوں کو اپنی باتوں سے جو باپ کی بنائی ہوئی چار دیواری سے نکل جاتی ہیں۔مگر تمہارے ساتھ بابا کی دعائیں ہیں اس لیئے تمہارے پاس عالم ہے۔اب مجھے کوئی کوتاہی نہ ملے بچے کی صحت کے معاملے میں۔”
عالم اتنا کہہ کر چلا گیا۔لیلی بے تحاشا روئی۔یہ مہینے لیلی کے لیئے امتحان تھے۔عالم ہر جگہ اس کے ساتھ ہوتا ۔ڈاکٹر کے پاس بھی خود عالم ہی لیلی کو لے جاتا۔ہیر کو عالم نے ہر وقت لیلی کے ساتھ رہنے کا کہا تھا۔لیلی نے لا فرم نہیں چھوڑی۔
آج لیلی بطور وکیل پہلا کیس جیت کر آئی تھی۔اپنے بھاری وجود کو شال میں چھپائے لیلی نے مٹھائی کا ڈبہ عالم اور ہیر کے آگے رکھا۔ہیر تو مٹھائی کھاتے ہی کمرے میں بھاگ گئی۔
بہت مبارک ہو لیلی میرب خان۔”
“شکریہ۔ مہینوں بعد آج مجھے خوشی ہورہی ہے کیونکہ میں بابا کا جواب پورا کر رہی ہوں۔اتنی خوشی مجھے کبھی نہیں ہوئی عالم۔”
“بہت اچھی بات ہے کہ تم نے زندگی کی طرف آنے کا فیصلہ لیا ہے۔لیلی بچے کے لیئے چیزیں کیوں نہیں لی تم نے۔”
“پتا نہیں یاد نہیں رہا۔”
“کیسے یاد نہیں رہا ۔مجھے آئے دن گائوں جانا ہوتا ہے۔دادی صاحب کے انتقال کے بعد تم جانتی ہو وہاں کے سب ذمہ داری مجھ پر ہے۔تمہیں بھی تو اپنی ذمہ داری نبھانی ہے نہ۔”
“مجھے کچھ نہیں پتا عالم ۔تم نے بچے کی ذمہ داری لی ہے تم ہی سب دیکھو۔”
لیلی کمرے میں چلی گئی۔عالم افسوس ہی کرتا رہ گیا۔آخر لیلی نے ہادی کو جنم دیا جس نے آنکھ ہی عالم کی گود میں کھولی تھی۔لیلی نہ تو ہادی کو دیکھتی نہ پیار کرتی۔کبھی کبھار ہادی کا خیال آتا تو دیکھ لیتی ورنہ لا فرم میں مصروف رہتی۔آخر ایک سال بعد عالم ہادی کو لے کر گائوں چلا گیا۔لیلی نے اپنے حصے کی سزا پائی۔اپنی اولاد کو یہ پیار ہی نہیں کر پائی کیونکہ جب بھی یہ اپنے بیٹے کو دیکھتی بہرام کا عکس نظر آتا اسے ۔اب تک یہ جان نہیں پائی تھی کہ کیسا بدلہ لیا تھا بہرام نے اس سے۔عالم نے ایک بات لیلی کو نہیں بتائی تھی کہ عالم کا گہرا تعلق تھا بہرام سے ۔بہرام اور عالم دونوں ایک ہی خاندان سے تھے مگر تربیت میں فرق کے باعث دونوں نے بتا دیا تھا انسان کی زندگی میں تربیت کتنی ضروری ہے۔لوگوں کی نظر میں ہادی عالم کا بیٹا تھا مگر عالم نے ہادی کو اس کے باپ کے نام سے آگاہ کیا تھا۔عالم نہیں چاہتا تھا کہ مستقبل میں ہادی اس سے دور ہو۔عالم بہرام کے اسی چچا کا بیٹا تھا جس کا بدلہ بہرام نے لیلی سے لیا۔
