Dareeche Dil Ke By Hafsa Javed Readelle50326 (Dareeche Dil Ke) Episode 7
Rate this Novel
(Dareeche Dil Ke) Episode 7
لیلی خان اور عالم دونوں ہادی کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے تو بی اماں بلکل نڈھال سی بیٹھی تھی۔مسز کرمانی منصور صاحب کی بیوی ان کے پاس تھی۔معاذ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا۔
“کیا ہوا بی اماں سب ٹھیک تو ہے نہ۔”
“پتر تو آگئی۔میری بچی ہیر گھر نہیں آئی شام ہوگئی ہے۔میری بچی نجانے کہاں ہے کس مصیبت میں ہے۔کچھ کر نہ تو میں بہت پریشان ہوں۔جہاں اسے آخری بار دیکھا گیا ہے وہاں دکان والے کہتے ہیں کہ کوئی لڑکا اسے گاڑی میں لے کر گیا ہے۔”
لیلی کے ہاتھ میں اٹھایا ہوا بیگ گر گیا۔
“بہرام پاشا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی گھٹیا حرکت کرو گے تم مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔میری چاند جیسی بہن کو نقصان پہنچایا ہے تم۔نے اب تم مجھ سے نہیں بچ پائو گے۔”
عالم نے ہادی کو اندر بھیجا اور نیچے بیٹھی لیلی کے پاس آیا۔
“حوصلہ کرو لیلی سب ٹھیک ہوگا۔میں ابھی بات کرتا ہوں اپنے ایک دوست سے وہ پولیس میں ہے ضرور ہماری مدد کرے گا۔”
“نہیں عالم یہ جنگ اب شدد اختیار کرچکی ہے۔میں بہرام پاشا کو نہیں چھوڑوں گی۔یا تو اب وہ رہے گا یا میں۔”
لیلی گاڑی کی چابی سامنے پڑے ٹیبل سے اٹھاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔عالم اس کے پیچھے ہی گیا۔
“لیلی تم اکیلے مت جائو۔”
“عالم میں آج اکیلے جائوں گی تمہیں بتا ہے اب میں طوفان سے نہیں ڈرتی میرے اندر تمام احساسات تو کب کے مر چکے ہیں اب صرف یہ وجود باقی ہے۔میں خود جائوں گی اس شخص کے پاس جو اس سب کا ذمہ دار ہے۔تم اپنے دوست سے بات کرو بہرام پاشا کے والد محترم کو ان کے گھر سے بلوایا جائے جو کہتے تھے کہ ہم بڑی عزت والے ہیں۔”
لیلی گاڑی کی طرف بڑھی اور بیٹھتے ہی گاڑی بھاگا دی۔لیلی رو رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنے آنسو صاف کر رہی تھی۔
“جو میرے ساتھ ہوا وہ میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں ہونے دوں گی میری جان۔میں تمہاری آپا ہوں جس نے تمہارے لیئے بہت سارا کچھ سوچ رکھا ہے۔جب مجھے تکلیف ہوتی تھی تو پہلا خیال مجھے میری اولاد کا نہیں تمہارا آتا تھا کیونکہ میں تمہیں اپنی چھوٹی سی بیٹی مانتی ہوں جس نے میری وجہ سے اپنا سب کچھ کھو دیا۔”
تین گھنٹے کے بعد لیلی اپنی مطلوبہ جگہ پر تھی۔شہرام خان کے بنگلے کے آگے گاڑی روکتے ہوئے لیلی نے خود کو کمپوز کیا۔
“جی میڈیم کس سے ملنا ہے۔”
“تمہارے صاحب بہرام پاشا کو کہو لیلی میرب خان آئی ہیں۔”
چوکیدار اندر گیا اور حکم ملتے ہی باہر آیا۔لیلی فورا ہی اندر گئی۔بہرام آگے سے آرہا تھا۔
“کیا سرپرائز ہے میں تمہارے پاس آہی رہا تھا۔آخر کو اپنے بچے کی ماں سے جو ملنا تھا۔ “
لیلی نے رکھ کر بہرام کے چہرے پر تھپڑ لگایا۔
“تمہاری یہ جرات۔”
بہرام نے لیلی کو بازو سے تھام لیا۔لیلی اپنی حفاظت کرنا سیکھ چکی تھی۔لیلی نے اسے زور سے پیچھے پھینکا۔
“گھٹیا انسان تمہیں شرم نہ آئی میری بہن کے ساتھ یہ سب کرتے ہو۔تمہارے بھائی کو بہت آگ لگی ہوئی تھی پھر سے کسی لڑکی کی زندگی خراب کرنے کا جنوں تھا اسے جو میری بہن کو دن میں سب کے سامنے گاڑی میں لے گیا۔آخر کو میں کیوں بھول جاتی ہوں گندا خون ہو تم۔۔۔۔۔”
“شٹ اب کیا کہہ رہی ہو تم۔تم نے مجھ سے میرے بیٹے کی پہچان چھپائی اور اب تم کیا چاہتی ہو کہ میں تمہاری بات کا یقین کروں ۔”
“بچہ کیسا بچہ ہاں جس کو بھرے زمانے میں تم چھوڑ گئے تھے۔تم نے پیچھے مڑ کر دیکھا کے میرا کیا ہوا۔جس بیٹے کی تم بات کرتے ہو وہ تمہارا دوسرا بچہ ہے تمہارا پہلا بچہ تو مر گیا تھا جس کے قتل تم ہو۔تمہیں ان ہاتھوں پر خون نظر نہیں آتا۔خیر جو بات میں کرنے آئی ہوں وہ تمہیں سنی ہوگی۔میری بہن مجھے چاہیئے۔اپنے بھائی سے کہو میری بہن مجھے واپس کرے ورنہ جو حال میں تمہارے خاندان کا کروں گی وہ تمہاری آنے والی ہو نسل یاد کرے گی۔”
“میں نہیں جانتا تمہاری بہن کہاں ہے۔”
“پاشا صاحب اپنے یہ انداز ان لوگوں کو دیکھنا جو جانتے نہ ہوں تمہیں۔ارے تم تو وہ بھیڑیے یا جو اپنے ہی بچوں کو کھا جاتا ہے۔تم کیا سمجھتے ہو تم بچ جائو گے ہر بار کی طرح۔سن کو اپنی ذاتی زندگی میں آنے والا ہر دکھ میں نے خاموشی سے برداشت کیا مگر اپنی بہن کی زندگی کبھی خراب نہیں کرنے دوں گی۔آج اگر تم مجھے میری بہن کے بارے میں نہیں بتائو گے تو صبح کی ہر خبر میں تمہارے خاندان کا نام ہوگا۔تمہارے گھٹیا باپ کا نام ہر جگہ ہوگا۔تمہارے نام نہاد مرتبے کو آگ لگا دوں گی میں۔”
“کہا رہا ہوں نہ میں کہ مجھے نہیں پتا تمہاری بہن کے بارے میں۔ایک بات میری بھی سن لو کہ میں تم سے اپنا بیٹا لے کر رہوں گا۔”
لیلی بہرام کی بات پر ہنسی۔
“اچھا کس حق سے ۔تم اس بات کو اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ تمہارا ہی۔بچہ ہے ۔میں تو پچھلے چھ سال سے عالم کی بیوی ہوں نہ پھر وہ بچہ تمہارا کیسے ہوا ۔”
“لیلی ۔۔۔۔۔۔۔”
بہرام چیخا۔
“تکلیف ہوئی نہ۔یاد رکھو بہرام پاشا تم مجھے برباد کرنے آئو گے تو تمہیں دگنا برباد کروں گی میں۔وہ سنا تو ہوگا وہ شخص بڑا خطرناک ہوتا ہے جس کے پاس کھونے کو کچھ نہ ہو۔میرے پاس بھی کھونے کو کچھ نہین۔جس بیٹا کی تم بات کرتے ہو نہ وہ بھی تمہارا ہے اس کی مجھے پرواہ صرف اتنی سی ہے کہ میں نے اسے پیدا کیا ہے اور اس کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے۔تم جیسا خود غرض مطلب پرست نہیں بنائوں گی اسے۔وہ مجھے اس لیئے عزیز ہے کہ اس کی رگوں میں اگر تمہارا خون ہے تو میرا خون بھی اس کے وجود کا حصہ ہے۔میرے باپ کا نام بھی اس کے ساتھ ہے اس کی ماں کی طرف سے۔۔۔۔۔۔”
لیلی گہرے سانس لے رہی تھی۔
“تمہیں تو دکھ ہوا نہ کہ تمہارے بیٹے میں میرے خاندان کا خون کیوں آگیا۔مجھے خوشی ہوتی ہے اپنے بیٹے کو دیکھ کر کیونکہ وہ تمہاری شکست بنے گا۔تم اسے دنیا کے سامنے قبول نہیں کرسکتے اگر ایسا کرو گے تو مجھے بیوی ماننا ہوگا اور ایسا تم کر نہیں سکتے۔اس لیئے ساری زندگی اپنے بیٹے کے منہ سے باپ کا لفظ سننے کے لیئے ترسو گے ۔تمہارا بیٹا کسی اور کو باپ کہتا ہے۔”
“وہ میرا ہی بیٹا ہے اور میرا ہی رہے گا جیسے تم میری بیوی۔”
“مزاق اچھا کر لیتے ہو تم بہرام پاشا۔میں تمہاری بیوی کبھی نہیں تھی تم نے خود کہہ تھا کہ وہ نکاح تو ایک ڈرامہ تھا پھر کیسی شادی اور کون سا رشتہ۔”
لیلی نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا ۔لیلی کو شدید تکلیف ہورہی تھی سانس لینے میں۔
“لیلی۔۔۔۔۔”
بہرام لیلی کی حالت دیکھتے اس کے پاس آیا۔
“دور رہو ۔۔۔۔۔دور۔۔۔۔۔۔ہیر۔۔۔۔۔۔عالم۔۔۔۔۔عالم مجھے سانس نہیں آرہا ۔۔۔۔۔عالم۔۔۔۔۔۔۔”
لیلی کو بہرام تھام چکا تھا۔
“کیا ہوا تمہیں میرب ۔۔۔۔۔۔۔بولو نہ کیا ہوا تمہیں ۔”
لیلی کی آنکھیں بند ہوچکی تھی اور ناک سے خون کی لکیر آنے لگی تھی۔
“میرب۔۔۔۔۔”
بہرام زور سے چیخا۔بہرام کو نہیں معلوم تھا کے وہ کیسے لیلی کو ہسپتال لے کر گیا۔لیلی کو جھٹکے لگ رہے تھے۔
“ڈاکٹر ۔۔۔۔۔۔پلیز ہیلپ۔”
“کیا ہوا ہے۔”
“مجھے نہیں پتا یہ بے ہوش ہوگئی پلیز دیکھیں نہ۔”
“آپ آن کے کیا لگتے ہیں۔”
“شوہر ہوں میں ان کا۔آپ پلیز جو مرضی لینا چاہتے ہیں مجھ سے لے لیں ان کو دیکھیں۔”
ڈاکٹر نے نرس کو اشارہ کیا جو کچھ لوگوں کے ساتھ لیلی کو آئی سی یو میں لے گئے۔بہرام کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔
“ڈاکٹر۔۔۔۔۔۔”
ڈاکٹر باہر آیا اور بہرام فورا اس کے پاس آیا۔
“مسٹر بہرام آپ کی وائف کو بہت شدید panic attack ہوا ہے۔ان کی ہسٹری ہے شاید اس سب میں جس کی بدولت وہ اس حال میں ہیں۔دماغ کی نس پھٹ گئی ہے۔اگر خون جم جاتا تو ہم ان کو بچا نہ پاتے۔نروس بریک ڈائون ہوا ہے ان کا ۔”
“ڈاکٹر لیلی بچ تو جائے گی نہ۔”
“امید ہے کیونکہ لیلی کی ایک پاور بہت سٹرانگ ہے جس کی بدولت وہ یہ سب فیس کر گئی۔مگر اگلے چوبیس گھنٹے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔آپ کو انتظار کرنا ہوگا ۔”
بہرام شکست کی حالت میں باہر بیٹھ ہوا تھا۔نجانے اس کے جانے کے بعد لیلی کی زندگی میں کیا مشکلات آئی تھی۔ایک بات تو یہ اچھے سے جان گیا تھا کہ لیلی اور عالم کا کوئی رشتہ نہیں مگر پھر دنیا کے سامنے جھوٹ کیوں۔لیلی نے اس کے بچے کو چھپا رکھا تھا جس کو اس کے باپ نے کبھی محسوس ہی نہیں کیا تھا ۔اب لیلی کتنی بری حالت میں تھی۔
“سنو مجھے آگے آدھے گھنٹے میں بتائو کہ شہرام کہاں ہے۔ہوسکے تو عمار سے پتا کرو مجھے شہرام کسی بھی قیمت پر اپنے سامنے چاہیئے۔”
اپنے خاص بندے کو کال کرنے کے بعد بہرام ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ عالم اور معاذ اس کے قریب آئے۔عالم نے بہرام کو کالر سے پکڑ کر پھینکا۔
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی لیلی کو تکلیف دینے کی۔کیا کوئی کسر باقی رہ گئی تھی ہاں۔شرم نہیں آئی تمہیں ایک ایسہ لڑکی کو توڑتے ہوئے جس کے پاس کھونے کو کچھ ہے ہی نہیں۔مگر تم کیوں خیال کرو گے وہ تمہاری کچھ لگتی بھی تو نہیں۔مگر وہ جس حالت میں ہے میں اس کے لیئے تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔”
“میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔”
بہرام نے اپنا کالر عالم سے چھڑوایا۔
“تم جیسا شخص تو زندگی میں نفرت کے لائق بھی نہیں ہے۔دفع ہو جائو یہاں سے۔اب جو ہوگا وہ تم دیکھو گے۔اگر مجھے میری بہن نہ ملی تو تمہارا وہ حال کروں گا کہ دنیا دیکھے گی۔وہ دیکھو سورج نکلنے میں کچھ ہی وقت ہے۔تمہارے خاندان کی بربادی کا آغاز ہوچکا ہے بہرام پاشا ۔”
بہرام نے عالم کو غصے سے دیکھا۔
“تمہیں میں دیکھ لوں گا ۔آج تک کسی کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ بہرام پاشا کے خاندان تک پہنچے۔”
“تو سن لو آج تک کسی کی اتنی بھی ہمت نہیں ہوئی کہ عالم خان کہ گھر والوں پر بڑی نظر رکھے۔تمہارے بھائی کے ساتھ ساتھ میں تمہارا وہ حال کروں گا کہ سب دیکھتے رہ جائیں گے۔”ابھی یہ لڑ رہے تھے کہ ڈاکٹر باہر آیا۔لیلی کی حالت بہت خراب ہوگئی تھی۔عالم کو تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ایک طرف ہیر تھی اور دوسری طرف لیلی۔
دو گھنٹوں بعد بی اماں مسز کرمانی کے ساتھ ہسپتال آگئی۔ان کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا۔ہادی عالم کو ڈھونڈ رہا تھا جو ڈاکٹر کے پاس گیا تھا۔بہرام نے اپنے بیٹے کو دیکھا اور اسے پاس بلایا۔
“کیا نام ہے بیٹا آپ کا۔”
بہرام نے ہادی کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوئے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ایسا لگتا تھا بہرام کی کاپی سامنے کھڑی ہے۔
“عبدالہادی نام ہے میرا۔”
“بہت اچھا نام ہے آپ کا۔بیٹا آپ کے بابا کون ہیں۔”
“میرے بابا عالم بابا ہیں۔لیکن ماما کہتی ہیں عالم بابا میرے اینجل ہیں میرے ریئل فادر ماما کو چھوڑ گئے تھے۔وہ بیڈ بوائے تھے پتا عالم بابا ماما کے پاس آئے اور ہمیں بہت سارا پیار کیا۔”
اپنے بارے میں یہ سب سن کر بہرام کو سمجھ نہیں آئی۔یعنی اس کا بیٹا جانتا تھا عالم اس کا باپ نہیں مگر جو خاکہ بہرام کا ہادی کے دماغ میں تھا وہ بھی اچھا نہیں تھا۔یعنی اتنا برا بتایا تھا بہرام کے بارے میں لیلی نے ہادی کو۔
“انکل میری ماما کہاں ہیں۔”
“بیٹا انہیں آرام کی ضرورت ہے اس وقت وہ اندر ہیں اس روم میں وہ جیسے ہی ٹھیک ہوتی ہیں ان سے مل لینا آپ۔”
عالم پیچھے سے آیا۔
“دور رہو میرے بیٹے سے۔”
ہادی فورا عالم کے پاس آیا۔عالم نے ہادی کو اٹھا لیا۔بہرام کی آنکھوں میں یہ منظر دیکھ کر مرچی لگ گئی۔اس کا اپنا خون اسے ہی نہیں پہچانتا تھا اور ایک غیر کی بازو میں کتنے آرام سے چلا گیا۔ہاں بہرام کو سچ میں حق نہیں تھا ہادی کی زندگی میں۔جو یہ لیلی کے ساتھ کر چکا تھا اس کے بعد تو بلکل بھی نہیں۔
“میں تمہیں یہاں دیکھنا نہیں چاہتا۔میری میرب اور میرے بیٹے کی زندگی سے دور چلے جائو۔ویسے بھی دنیا کی نظر میں میرب میری بیوی ہے۔تمہیں بہت جلد طلاق کے کاغذات پہنچ جائیں گے اور میں اپنی بہن کو بھی صبح تک دیکھنا چاہتا ہوں ورنہ انجام کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔”
عالم ہادی کو لیئے چلا گیا۔بہرام اس حالت میں نہیں تھا کہ وہ کچھ کہہ پاتا۔شہرام سے بہرام کو ایسی امید نہیں تھی۔
بہرام کو ایک میسج آیا۔
“سلام بھائی میں عمار۔آپ شہرام کو مت تلاش کریں ۔وہ ہیر بھابھی کے ساتھ ایک اچھی جگہ پر ہے۔دونوں کا نکاح ہوگیا ہے اور شہرام بہت جلد ہیر بھابھی کے ساتھ آپ سب کے پاس ہوگا۔شہرام نے کہا ہے کہ وہ واپس آکر آپ سے ملنے گا تب تک کے لیئے اسے تلاش کرنا چھوڑ دیں۔میں جانتا ہوں وہ کہاں ہے مگر میں آپ کو نہیں بتائوں گا ۔میں خود کچھ عرصے کے لیئے باہر جا رہا ہوں۔واپس آئوں گا تو ملاقات ہوگی۔”
عامر کا پیغام پڑھ کر بہرام کا شدید غصہ آیا۔
“یہ کیا کردیا تم نے شہرام ۔تم نے میرے وہ پرانے زخم آج پھر سے تازہ کر دیئے ہیں جو مجھے جینے نہیں دیتے۔تم تو مجھ سے بہت محبت کرتے تھے نہ مگر تم نے اپنے لالہ کو انجانے میں وہ تکلیف دے دی ہے جو شاید میری جان لے لے۔”
شہرام کی آنکھوں سے اس وقت آنسو بہہ رہے تھے۔کیا کچھ نہیں ہوا تھا ان گزرے سالوں میں۔ایک ایسا انسان بن گیا تھا بہرام جس کی کوئی زندگی نہیں تھی۔
