Dareeche Dil Ke By Hafsa Javed Readelle50326 (Dareeche Dil Ke) Episode 10
Rate this Novel
(Dareeche Dil Ke) Episode 10
شادی پر لیلی بہت خوبصورت تیار ہوئی تھی۔لیلی اپنے والد خان کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔اسے اس محفل میں بس ایک ہی شخصیت کا انتظار تھا وہ تھا بہرام۔لیلی بہرام کی منتظر تھی کہ وہ کب آئے گا۔بہرام تھوڑی ہی دیر بعد لیلی کو آتا دیکھائی دیا دیا۔بہرام نے بھی لیلی کو دیکھ لیا تھا مگر یہ پہلے اپنی دوست سے ملنے کے لیئے چلا گیا۔لیلی بہرام کا انتظار کر رہی تھی کہ وہ کب اس کی طرف آتا ہے۔بہرام اس کے پاس آیا۔
“کیسی ہیں آپ میرب۔”
“میں بلکل ٹھیک ہوں مسٹر پاشا آپ کیسے ہیں۔”
“جیسا آپ نے کل چھوڑا تھا۔ویسے بہت خوبصورت لگ رہی ہیں آپ۔”
لیلی نے پیلے فراک پر سلور رنگ کی جیولری پہن رکھی تھی جو فراک کے ساتھ میچ کر رہی تھی۔
“آئیے ہم وہاں چل کر بیٹھے ہیں۔”
خان ماہا کے ساتھ کچھ لوگوں سے مل رہے تھے ۔اس لمحے لیلی بہرام کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔بہرام نے لیلی کو باتوں میں لگایا۔
“میرب آپ کو اپنی زندگی میں کیسا ہمسفر چایئے۔”
“مجھے ایسا ہمسفر چایئے جو میرا بہت زیادہ خیال رکھے ۔آپ کو بتا ہے مجھے وہ لوگ بہت زیادہ پسند ہیں جو کسی بھی قیمت پر اپنے پیار کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔میرا خیال ہے کہ محبت سے زیادی عزت معنی رکھتی ہے کسی بھی رشتے میں۔”
“میرا بھی یہی خیال۔ہے۔آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں میرب۔زندگی میں میں نے کسی لڑکی کے ساتھ خود کو اتنا مکمل نہیں پایا جتنا آپ کے ساتھ خود کو مکمل محسوس کیا ہے۔آپ کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے میری برسوں کی تلاش مکمل ہوگئی ہے۔”
لیلی بہرام کی بات پر شرما گئی اور چہرہ نیچے کرلیا۔
“کیا آپ کو بھی میں اچھا لگتا ہو”
“میں اس جذبے کو کوئی نام نہیں دے پارہی مسٹر پاشا۔”لیلی نے بہت مدہم آواز میں اپنا مسئلہ بہرام کو بتاہا۔
“یہ تو اچھی بات نہیں ہے نہ ۔آپ کو سمجھنا ہوگا کہ میں آپ کے لیئے کیا جذبے رکھتا ہوں۔”
“میرے والدین نہیں مانیں گے۔وہ میرا رشتہ عالم کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں ۔”
“کیا آپ بھی عالم کو پسند کرتی ہیں لیلی۔”
“معلوم نہیں وہ شروع سے میرے قریب رہا ہے۔ہم پچپن سے ساتھ تھے ۔آپ جانتے تو ہیں ایک گھر میں رہیں ہیں ہم۔میں نے عالم کو ہمیشہ اپنا ایک اچھا دوست مانا ہے۔ماما بابا کی خواہش تھی شروع سے کہ ہم دونوں ایک ہوجائیں۔”
“آپ کی کیا خواہش ہے میرب۔”
بہرام نے لیلی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اس سے بہت نرم انداز میں پوچھا جو اس کے دل کرکے تار چھیڑ گیا۔لیلی اپنے سامنے بیٹھے شخص کی نیت کے بارے میں جان نہیں پا رہی تھی کہ وہ اسے استعمال کرنا چاہتا ہے۔لڑکیاں اکثر اوقات کسی کے کہے محبت کے دو جملوں کو لے کو اس قدر سنجیدہ ہوجاتی ہیں کہ انہیں بھول جاتا ہے کے ایک محرم اور نامحرم کے درمیان ایک دیوار ہے جسے پار کر کے جانے کے بعد کوئی کنارہ نہیں ملتا جہاں وہ اپنی زندگی کی ایک غلطی کو سدھار سکیں۔کیا نہیں تھا لیلی کے پاس پیسہ عزت ۔مگر لیلی نے بھی غلطی کی ایک نامحرم کو اتنا حق دیا کہ وہ اس کا ہاتھ تھامے۔کیا کوئی محبت کرنے والا آپ سے آپ کے والدین کے بغیر بات کرے گا۔اگر وہ آپ سے بات بھی کرے گا تو آپ کے والدین کی اجازت سے۔یہ پیار محبت کیا ہے کچھ بھی نہیں۔شادی کے بغیر ہر چیز بے معنی ہے ۔کوئی بھی شخص جو کسی لڑکی سے محبت کا ڈھونک رچائے اور اپنی محبت کے ثبوت مانگے تو وہ دھوکے باز ہے۔اس میں قصوروار وہ شخص بھی ہے اور وہ لڑکی بھی جو اپنے والدین کی عزت کو چھوڑ کر ایک انجان شخص کے پیچھے جاتی ہے ۔دونوں برابر کے قصوروار ہیں۔حقیقت میں کہیں پر میوزک کے ساتھ پھول نہیں ہوتے اور آپ کی محبت آپ کو ساری زندگی گزارنے کا نہیں کہتی۔آج ایک لڑکی تو کل کوئی دوسری ایسے لوگوں کا ہدف بن جاتی ہیں۔
“میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں لیلی۔اپنے والدین سے بات کریں۔اگر آپ کو بھی مجھ سے محبت ہے تو مجھے سے ملنے آئیے گا میں آپ کا جواب لوں گا وہاں۔”
لیلی بہرام کے اٹھ جانے کے بعد بہت دیر سوچتی رہی۔
خان اور ماہا دونوں سونے کی تیاری کر رہے تھے جب لیلی آن کے کمرے میں آئی۔
“ارے میری بیٹی آئی ہے۔کوئی مسئلہ ہے میری بچی کو۔”
ماہا نے لیلی کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
“ماما بابا میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔”
“بولو بیٹا۔”
خان اپنی بیٹی کی بات کی طرف متوجہ ہوگئے۔
“بابا میں عالم سے شادی نہیں کرنا چاہتی میں کسی اور پسند کرتی ہوں۔”
“کیوں بیٹا ایسا کیا ہوگیا کہ آپ عالم سے شادی کرنے سے انکاری ہو ۔میری جان جس کو بھی پسند کرتی ہو تم وہ تمہیں عالم سے زیادہ خوش نہیں رکھ سکتا۔”
ماہا نے لیلی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے پیار سے کہا۔
“ماما میں پاشا میرا مطلب ہے وہ مشہور زمانہ بزنس میں ہیں نہ بہرام پاشا ان کو پسند کرتی ہوں۔وہ بھی مجھے لائیک کرتے ہیں۔”
خان لیلی کی بات سن کر غصے میں آگئے”میں تمہارا رشتہ کہیں بھی کردوں گا مگر اس خاندان میں نہیں۔تم جانتی ہو وہ کتنے گھٹیا لوگ ہیں۔”
“پلیز بابا وہ ایسے نہیں ہیں ۔بہرام بہت اچھے ہیں۔ آپ ایک بات بار ان سے مل تو لیں ۔”
“میرب لیلی خان ہم نے کہہ دیا نہ کہ یہ رشتہ ممکن نہیں ۔عالم ہی آپ کے لیئے اچھی چوائس ہے۔اب ہم آپ کے منہ سے دوبارہ بہرام پاشا کا نہ سنیں۔جا سکتی ہیں آپ۔”
لیلی روتے ہوئے کمرے سے گئی۔
“خان وہ بچی ہے ابھی ناسمجھ ہے۔”
“بس چھوڑ دیں ماہا آپ سب کچھ۔جیسے ہی عالم آتا ہے ان دونوں کی شادی کرتا ہوں میں۔مورے نے بلایا ہے اسے گائوں۔”
“جیسے آپ کہیں خان۔”
یہ اگلے دن کی بات تھی۔لیلی بہرام کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔
“بابا نہیں مان رہے بہرام ۔میں کیا کروں ان کے نزدیک عالم سے اچھی چوائس ہوہی نہیں سکتی۔”
“یہ تو بہت عجیب بات ہوگئی۔تمہاری والدہ بھی غالبا سوتیلی ہیں۔وہ کیسے گھر کی اتنی جائیداد تمہارے ساتھ کہیں باہر جانے دے سکتی ہیں۔ “
“نہیں بہرام وہ ایسی نہیں ہیں۔”
“تم بہت پاگل ہو میرب۔بھائی تمہارا باہر ہوتا ہے۔عالم کو ہی انہوں نے تمہارے والد کے ساتھ لگایا ہوا ہے تاکہ وہ ہر چیز پر قابض رہیں۔دیکھو تمہیں میری بات بری لگے گی مگر یہی حقیقت ہے۔تمہیں اس بارے میں سوچنا چاہیئے۔”
“میں کیا کرسکتی ہوں بہرام ۔میرے ہاتھ میں تو کچھ نہیں ہے۔”
“ارے پاگل تم ہی تو سب کچھ کرسکتی ہو۔ایسا کرو تم اور میں نکاح کر لیتے ہیں ۔جب ہم تمہارے والد کو بتائیں گے تو وہ راضی ہوجائیں گے۔”
“نہیں بہرام میں یہ سب نہیں کر سکتی ۔بابا کو مجھ سے بہت ساری امیدیں ہیں میں کیسے ان کا مان توڑ دوں۔”
“تو ساری زندگی تم اپنے حق کے لیئے آواز نہیں اٹھا پائو گی۔تمہاری سوتیلی والدہ کبھی تمہیں تمہارے والد کے سامنے نہیں بولنے دیں گی۔میں صرف نکاح کا کہہ رہا ہوں اگر تم چاہتی ہو کہ ہمارا رشتہ مزید آگے چلے تو نکاح کرلو مجھ سے۔”
لیلی سوچ میں پڑ گئی۔خان جو کہتے تھے وہ کرتے تھے۔لیلی جانتی تھی خان کبھی نہیں مانیں گے۔لیلی نے بھی خاموشی سے ہاں بول دی۔ لیلی نے اپنی ذات کے ساتھ ایک بہت بڑی زیادتی کی تھی نکاح ہوگیا۔لیلی اس لمحے بہت پریشان تھی۔
“کیا ہوا میرب تم خوش نہیں ہو۔”
“نہیں ایسی بات نہیں پاشا۔مگر بابا پتا نہیں راضی ہوں گے بھی یا نہیں۔”
“پلیز میرب تم۔اب ان باتوں کو چھوڑ دو۔تمہیں اب خوش ہوجانا چاہیئے کہ تمہارے پیچھے بہرام پاشا ہے۔”
لیلی مسکرا بھی نہ سکی۔دن بہت سستی سے گزر رہے تھے۔عالم گائوں میں تھا جس کی وجہ سے لیلی کہیں بھی جاتی تھی تو خان کو معلوم نہیں ہوتا تھا۔لیلی آئے دن بہرام سے ملتی۔
ایک دن لیلی بہرام سے ہوٹل میں ملنے آئی۔
“میرب تم سے ایک بات پوچھوں۔”
“پوچھیں بہرام۔”
“کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔”
“یہ کیسا سوال ہے بہرام میں آپ سے محبت کرتی ہوں تبھی تو یہاں آپ کے ساتھ آپ کی بیوی بن کر بیٹھی ہوئی ہوں۔”
“مجھے ایسا کیوں لگتا ہے میرب تم مجھ سے دن بدن دور ہورہی ہو۔”
“ایسا نہیں ہے پاشا آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔”
“تم مجھ سے محبت کرتی ہو نہ میرب۔”
بہرام نے لیلی کا چہرہ ہاتھوں میں سنو کر پوچھا۔
“جی پاشا۔”
“تو اپنا آپ مجھے سونپ دو۔میں چاہتا ہوں ہمارے درمیان یہ فاصلے مٹ جائیں۔”لیلی بہرام کی بات پر بہرام سے دور ہوئی۔
“پاشا شادی سے پہلے یہ سب مجھے اچھا نہیں لگتا۔”
“میں تمہارا غیر محرم تو نہیں ہونا میرب۔ہم نے شادی کرنی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے مکمل طور پر اپنا لو۔تمہارا شوہر ہونے کے ناطے میں تم سے یہ سوال کر رہا ہوں۔اگر تم مجھ سے محبت کرتی یو تو مجھ پر اتنا تو اعتبار کر سکتی ہو نہ۔”
“میں آپ پر بہت اعتبار کرتی ہوں پاشا مگر شادی سے پہلے یہ سب ۔۔۔۔۔۔”
“یعنی تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتی۔”
“پلیز پاشا ایسا نہیں ہے۔”
بہرام لیلی نے قریب آیا۔اس وقت لیلی بہرام کے ساتھ ہوٹل کے روم میں تھی۔
“تو بولو نہ کیا مجھے خود کے قریب نہیں آنے دو گی۔”
بہرام نے لیلی کی آنکھیں پر بوسہ دیا۔
بہرام نے لیلی کو بے بس کر دیا۔لیلی اپنے سب کچھ بہرام پاشا کو دے چکی تھی۔
“بہرام آپ جلد از جلد بابا سے شادی کی بات کریں ۔ہمارا نکاح ہوچکا ہے وہ کبھی انکار نہیں کریں گے۔”
لیلی بیڈ پر بیٹھے ہوئے بہرام سے سیک سوال کر رہی تھی۔
“تم فکر کیوں کرتی یو میں اسی مہینے گائوں سے مورے اور بابا کے ساتھ تمہارے گھر آئوں گا۔”
لیلی نہیں جانتی تھی کہ اپنے باپ کے ساتھ کتنا بڑا دھوکا کیا ہے اس نے۔
ایک پورے ماہ لیلی منتظر رہی کہ بہرام کے والدین آئیں گے مگر وہ نہ آئے اور نہ ہی انہوں نے آنا تھا۔ایک دن کورٹ سے واپس آتے ہوئے لیلی کی طبیعت خراب ہوئی ۔یہ ڈاکٹر کے پاس چلی گئی۔وہاں اسے معلوم ہوا یہ ماں بننے والی ہے۔یہ خبر اسے جلد از جلد سب سے پہلے بہرام کو دینی تھی جسے بچے بہت پسند تھے ۔
بہرام سے ملنے لیلی اس کے پاس اس کے آفس آئی تھی۔
“بہرام آپ کو ایک سرپرائز دینا ہے۔”
“کیا ہوگیا اب میرب۔”
“آپ کو بچے بیت پسند ہیں نہ بہرام ۔میں ماں بننے والی ہوں۔”
بہرام اس کے بات پر شاک ہوکر اٹھ گیا۔
“کیا کہا۔”
“ہاں بہرام میں ماں بننے والی ہوں۔ہمارا بھی ایک پیارا سا بچہ ہوگا۔”
“شٹ اب کس کا بچہ ہے یہ۔”
“بہرام آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔بیوی ہوں میں آپ کی یہ بچہ آپ کا ہے۔”
“میں اس بات کو نہیں مانتا۔تم اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر مجھ سے تعلق قائم کرسکتی ہو۔تمہارے اندر تو اپنی عزت کو لے کر کوئی شرم ہی نہیں تھی۔مجھے چھوڑ کر نجانے تم نے اور کتنے لوگوں سے تعلق قائم کر رکھے ہوں گے۔”
لیلی کی زمین ہل گئی تھی۔
“نہیں پاشا ایسا نہیں ہے۔آپ تو میری پاک دامنی کے گواہ ہیں نہ۔”
“ارے پاگل میں تمہاری گواہی کیسے دے سکتا ہوں جو عورت اپنے ماں باپ کی نہ ہوسکتی وہ میری کیسے ہوگی ۔میں کیسے یقین کر لوں کے ماں باپ کی دی ہو سالوں کی محبت کے باوجود تم نے میرے ساتھ اپنے تعلقات قائم کیئے ۔ ہمیں تو ملے ہو پھر کچھ ہی دن ہوئے ہیں۔نجانے میرے علاوہ کتنے لوگوں سے ملتی رہی ہو تم۔”
“نہیں پاشا ایسا مت کریں۔”
“جائو چلی جائو یہاں سے اور اس بچے کو اس کے اصل باپ کے حوالے کرنا۔”
“پاشا ایسا امت کریں پلیز۔”
لیلی کی زمین ہل گئی تھی۔اگلے گئی دن یہ بہرام کو ماناتی رہی۔آخر عالم سے بات کرنا ہی پڑی لیلی کو جو ایک دن پہلے ہی شہر آیا تھا۔
“عالم مجھ سے ایک غلطی ہوگئی یے۔”
“غلطی کیسی غلطی میرب۔”
لیلی نے آنکھوں میں آنسو لے کر عالم کو یہ داری بات بتائی۔
“تم ایسا کیسے کرسکتی ہو۔ہمارے ماں باپ کی عزت کو یوں کیسے خراب کر سکتی ہو۔تمہیں ذرا شرم نہیں آئی تم کیا کرنے لگی ہو۔تمہیں احساس ہے کیا کیا ہے تم نے۔”
“عالم مجھے معاف کردو۔پلیز میرا ساتھ دو عالم۔تم تو میرے بابا کے اچھے بیٹے بنے ہو نہ۔میں بابا کی اچھی بیٹی نہیں ہوں میرا ساتھ دو پلیز۔”
“دل تو کر رہا ہے تمہارا مار مار کر وہ حال کروں گے تمہیں یاد آجائے کیا حرکت کی یے تم نے۔ہیر کا بھی خیال نہ کیا کہ تمہارے اس عمل سے اس کا کیا ہوگا۔”
عالم بہت غصے میں تھا۔
“عالم میں بہت اکیلی یوں پلیز میری مدد کرو۔” عالم مجبور ہوگیا اور بہرام کے آفس چلا آیا لیلی کے ساتھ۔بہرام سے آن کی ملاقات باہر کی ہوگئی جہاں سارے ایمبلائے کھڑے تھے۔
“زہے نصیب ملکہ عالیہ اپنی عاشق کے ساتھ آئی ہیں۔”
“بہرام پاشا کا قسم کی بے ہودہ باتیں کر رہے ہو تم۔”
“بے ہودہ ارے اس لڑکی سے پوچھو جو نجانے مجھ سے کیا چاہتی ہے ۔میں نے اس کے ساتھ دو پل کیا گزار لیئے یہ کسی اور کا گناہ میرے سر ڈال رہی ہے۔”
لیلی اس وقت بے یقینی کی کیفیت میں کھڑی تھی۔آج وہ اپنے باپ کی پسند اپنے بچپن کے ساتھی عالم کو اس شخص کے لیئے چھوڑ کر آئی تھی جس نے بھری محفل میں اس کی عزت کو دو کوڑی کا کر دیا تھا۔
“پلیز بہرام مجھے یوں رسوا مت کرو۔تم میرے کردارکو جانتے ہو میں تو تمہارے علاوہ کسی سے نہیں ملی کبھی۔”
“اچھا تو یہ جس کی بانہوں کا ہار بنی رہتی تھی ہر وقت اس کا کیا۔کھانا تم اس شخص کے بغیر نہیں کھاتی اور کہتی ہو تم مخلص ہو۔ارے تم جیسی لڑکیوں کا بھی کردار ہوتا ہے۔جو اپنے ماں باپ کی نہ ہوسکتی وہ کسی کی کیا ہوگی۔تم نے میرے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرنے سے پہلے ایک بار بھی اپنے والدین کا سوچا جہنوں نے ساری عمر تمہیں پالا۔میں کیسے تم جیسی لڑکی کا یقین کروں۔دو مہینوں کی محبت ساری عمر کی محبت کے آگے کچھ نہیں۔”
عالم لیلی کی تذلیل ہوتے دیکھ رہا تھا۔
“بس بہرام پاشا ایک اور لفظ نہیں۔نہیں رکھنا اسے مت رکھو ابھی کے ابھی طلاق دو اسے ۔”
بہرام عالم کی بات پر ہنسا۔
“طلاق پہلے یہ تو پوچھ لو اپنی عاشق سے کہ کیا ہمارا نکاح ہوا تھا۔”
“بہرام۔۔۔۔۔۔”
لیلی کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔
“نجانے کس کا بچہ میرے سر ڈال رہی پے۔لے جائو اسے اور آئندہ میرے آفس میں قدم مت رکھنا۔”
بہرام اپنے آفس میں چلا گیا۔سب ایمبلائے لیلی کو افسوس کی نگاہ سے دیکھا رہے تھے۔عالم لیلی کو تھامے باہر آیا۔
” عالم کیا مجھے کہیں پناہ ملے گی اب۔”
“چپ کر کے گھر چلو میرب۔جو ہوچکا ہے اس سے بابا کی بہت بدنامی پو6گی۔لوگ پوچھیں تو کہنا کہ یہ بچہ عالم کا ہے اور میری بیوی ہو تم۔اپنے باپ کی بنائی ہوئی عزت کو میں یوں کسی کے پیچھے خراب نہیں ہونے دوں گا۔”
“تم بھی مجھے بد کردار سمجھتے کو نہ۔میں ایسی نہیں ہوں عالم۔اس نے مجھ سے نکاح کیا تھا۔بابا ٹھیک کہتے تھے ہمارے کچھ کام ساری زندگی ہم سے حساب مانگتے ہیں۔”
لیلی کی آنکھیں بند ہورہی تھی۔آخری منظر جو لیلی نے دیکھا تھا وہ عالم اسے پکار تھا وہ عالم جو نے یہ ثابت کیا تھا کہ عشق کیا ہوتا ہے۔
