Dareeche Dil Ke By Hafsa Javed Readelle50326 Last updated: 10 November 2025
Rate this Novel
(Dareeche Dil Ke) Episode 1(Dareeche Dil Ke) Episode 2(Dareeche Dil Ke) Episode 3(Dareeche Dil Ke) Episode 4(Dareeche Dil Ke) Episode 5(Dareeche Dil Ke) Episode 6(Dareeche Dil Ke) Episode 7(Dareeche Dil Ke) Episode 8(Dareeche Dil Ke) Episode 9(Dareeche Dil Ke) Episode 10(Dareeche Dil Ke) Episode 11(Dareeche Dil Ke) Episode 12(Dareeche Dil Ke) Episode 13(Dareeche Dil Ke) Episode 14(Dareeche Dil Ke) Episode 15(Dareeche Dil ke) Last Episode
Dareeche Dil Ke
By Hafsa Javed
عالم اپنے کمرے میں تھا۔ہادی بار بار اٹھتا تھا کیونکہ اسے بخار تھا۔ہادی سے عالم کو ایسے ہی محبت ہوگئی تھی جیسے خان کو عالم سے محبت تھی۔عالم ابھی دوبارہ ہادی کو سلا کر کھڑکی کے پاس آیا۔عالم کی آنکھیں آج پھر یاد ماضی میں کھو گئی۔
چھوٹا سا عالم تین برس کا تھا ۔اسے اپنے ساتھ خان گھر لائے تھے۔ماہا اور ان کی شادی ہوگئی تھی۔عالم خان کے پاس پہلے پہلے تو جاتا ہی نہیں تھا پھر خان نے آہستہ آہستہ اسے اپنے بچوں کے قریب کیا۔وقت کے ساتھ ساتھ خان اپنے بچوں سے گئی زیادہ پیار عالم کو کرتے۔عالم نے آخرکار خان کو بابا کہہ ہی دیا۔عالم خان کے بے حد قریب تھا۔شازل شاید ماہا سے زیادہ محبت کرتا تھا خان کی نسبت اسی خاطر ماہا اب سب چھوڑ کر بھی شازل کے پاس ہی گئی تھی۔عالم جب 14 برس کا تھا تو ایک دن خان نے اسے اپنے پاس بلایا۔دونوں باپ بیٹا باہر کھومنے گئے ۔ایک پرسکون جگہ بیٹھ کر خان عالم کو کچھ بتانا چاہتے تھے۔
"عالم میرے شیر بیٹے میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔امید ہے آپ میری بات بہت تحمل سے سنیں گے۔یہ آپ کا ماضی ہے جو آج نہیں تو کل آپ کے سامنے آئے گا۔میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا اپنی زندگی کا ہر راز جانے۔لوگ تمہیں میرے خلاف کر سکتے ہیں مگر میں تمہیں آج خود ساری سچائی بتا دینا چاہتا ہوں ۔مجھے غلط مت سمجھنا اور اپنی ماں سے کبھی کسی چیز کے بارے میں سوال مت کرنا۔"
عالم خان کے ہاتھوں کو پکڑ کر بولا۔
"بابا آپ کی نیت پر کبھی شک کر سکتا ہوں میں۔یہ تو ایسا عمل ہے نہ کہ میں اپنے وجود کا حصہ الگ کر دوں۔"
14 سالہ عالم اپنی عمر سے گئی سال بڑا تھا۔
"تمہیں پتا ہے تمہارے والد کا نام شہزاد پاشا تھا۔تمہارے والد اور میں نے اکٹھی وکالت کی تھی۔پاشا خاندان میں لڑکے لڑکیوں کو کچھ نہیں سمجھتے۔ماہا ایک بہت اچھی وکیل بنتی مگر نجانے کیسے وہ شہزاد پاشا کی محبت میں گرفتار ہوگئی ۔تم جانتے ہو شہزاد پاشا نے ماہا سے شادی نہیں کرنی تھی۔ماہا بے حد خوبصورت تھی۔ایک دن وہ تمہارے والد سے ملنے گئی۔"
بولتے بولتے خان چپ ہوگئے۔
"بولیں نہ بابا۔"
عالم نے بہت ضبط سے خان سے سوال کیا۔
"شہزاد نے تمہاری ماں کو قید کر لیا ۔منصور تمہارے ماموں اس وقت میرے پاس آئے ۔وہ سمجھتے تھے کہ شاید مجھے کچھ علم ہو شہزاد کے بارے میں مگر میں کچھ نہیں جانتا تھا۔"
خان بھی یاد ماضی میں تھے۔
"منصور یقین کرو مجھے نہیں بتا کیا ہوا ہے اور ماہا تمہاری بہن کہاں ہے۔"
"تم یقین کرو خان اگر تم کسی بات میں شامل ہوئے تو تم میرے ہاتھوں نہیں بچو گے۔"
ماہا کو بہت تلاش کیا گیا۔ایک دن شہزاد کے ایکسیڈنت کی خبر منصور اور خان کو ملی۔یہ شہزاد کے فارم ہائوس پہنچے تو انہیں شہزاد کے مرنے کی خبر ملی۔اس لمحے انہیں ایک کمرے سے سہمی ہوئی ماہا ملی۔جن کے چہرے سے شادابی ختم ہوگئی تھی۔ماہا کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا شہزاد نے۔قسمت ایسی تھی ماہا کی کہ شہزاد کا ایکسڈنٹ ہوا اور اسی وقت موقع پر وہ دم توڑ گیا۔منصور فورا بہن کو لے کر نکلے۔فارم ہائوس کے پاس ہی ایکسڈنٹ ہوا تھا اس لیئے فورا ہی خان وہاں پہنچے۔شیر بخش نے خان پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے دوست کو مار دیا ہے ۔خان بھی ایک مضبوط خاندان سے تھے انہوں نے ثابت کردیا کہ یہ ایک حادثہ تھا ۔اس سب میں جس چیز کو چھپا لیا گیا وہ تھی ماہا کی کہانی ۔منصور نے اپنے تمام بھائیوں اور خاندان والوں کو کچھ نہیں بتایا۔ماہا کو خان اور ان کی پہلی بیوی کے پاس چھوڑا گیا۔ماہا ایک سال کچھ بھی نہ بولی اور ایک سال بعد منصور نے خاندان میں یہی بتایا کہ انہوں نے ماہا کی شادی کر دی تھی اور اس کا شوہر فوت ہوگیا ہے۔ننھا سا عالم ماہا کی گود میں آیا۔ماہا عالم سے نفرت کرتی تھی۔ایک دن منصور نے انہیں سمجھایا کہ ایک غلطی ان کی بھی تھی کہ کیوں یہ ایک اوباش شخص سے ملنے گئی۔آج ان کی عزت کی خاطر منصور چپ ہیں کیونکہ اگر بات کھلتی ہے تو تمام عمر لوگ عالم کو جس طریقے سے مخاطب کریں گے وہ عالم کے لیئے بہت تکلیف دہ ہوگا۔ماہا نے اپنی سزا پائی۔خان کی پہلی بیوی بچوں کی پیدائش کے بعد گزر گئی اور تین برس بعد خان نے ماہا اور ان کے بیٹے یعنی عالم کو اپنا نام دیا جس کی رگوں میں پاشا خاندان کا خون تھا۔حال میں دیکھا جاتا تو لیلی کے ساتھ سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی وہ بدنام نہیں ہوئی وجہ یہی تھی کہ لیلی کے باپ نے ایک عورت کو عزت دی تھی اس کے بچے کو نام دیا تھا۔ماہا کو کبھی زندگی میں خان نے کچھ بھی یاد نہیں کروایا تھا۔عالم کو بھی بس اتنا ہی معلوم تھا کہ اس کے باپ کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا۔ہادی کو دیکھ کر عالم کو اپنا عکس نظر آتا تھا عالم تو بے نام تھا اسے دنیا ایک گالی کے طور پر لیتی۔مگر خان نے اسے اپنایا ۔عالم نے خان سے بے پناہ محبت کی۔کیسے وہ خان کو بھول سکتا تھا۔ہادی خان کا خون بھی تو تھا۔ہادی اسی خاندان کا خون تھا جہاں سے عالم کا تعلق تھا مگر عالم صرف اپنے باپ کا نام استعمال کرتا تھا ورنہ اس کے لیئے باپ ہمیشہ خان ہی رہے۔
عالم نے خان کی ساری بات سنی۔
"بیٹا میرا مقصد تمہیں تکلیف دینا نہیں تھا۔میرا مقصد صرف تمہیں تمہارے خاندان کا بتانا تھا۔اپنی ماں سے ساری عمر کبھی سوال مت کرنا۔میں نے ماہا کو بڑے پیار سے رکھا ہے۔عورت تو ہوتی ہی عزت کے قابل ہے بس کچھ لوگ اسے بہکا دیتے ہیں ۔تم تو میرے بیٹے ہو میرے شیر۔کبھی عورت سے بدلہ مت لینا۔عورت بہت مضبوط ظاہر ہوتی ہے مگر ہے وہ بہت نازک۔عورت کو عزت کے لیئے پیدا کیا گیا ہے۔اگر کوئی انسان غلطی کر جائے تو میرا بیٹا اسے معاف کر دینا چاہیئے۔معافی سے ہمیں خود بھی سکون ملتا ہے اور دوسرا فریق بھی سکون میں رہتا ہے۔"
عالم اس وقت رو رہا تھا۔یہ نیچے بیٹھا اور خان کے ہاتھ تھام کا چومے۔
"میں کبھی آپ کا احسان اتار نہیں پائوں گا۔"
خان نے عالم کے بال اس کے ماتھے سے پیچھے کیئے اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
"باپ کبھی اولاد پر احسان نہیں کرتی۔تم تو بیٹے ہو میرے۔آج یہ بات ہوگئی آئندہ تم سے کبھی یہ بات دوبارہ نہیں کروں گا میں ۔میرا مقصد محض تمہیں سچائی سے آگاہ کرنا تھا ۔سچائی انسان کی زندگی کے لیئے بہت ضروری ہوتی ہے میرے بیٹے۔"خان نے عالم سے کبھی دوبارہ کسی ایسی بات کا ذکر نہیں کیا۔
عالم آج بھی ماضی میں کھویا تھا۔بہرام کو دیکھتے ہی عالم کو علم ہوگیا تھا کہ یہ اسی کم ظرف خاندان سے ہے جہاں سے عالم کا تعلق ہے۔
