454.6K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dareeche Dil Ke) Episode 5

ماضی
بہرام آج ایک یونورسٹی کے ایوینٹ پر مدعو تھا۔بہرام کے خاندان میں اس کے چچا ایک جانے مانے بیرسٹر تھے جہنیں گزرے کئی برس ہوگئے تھے۔آج بہت عرصے بعد بہرام پاشا ایک لا یونورسٹی آیا تھا۔اس کے پیچھے اس کا چھپا ہوا ایک مقصد بھی تھا۔ہال میں سربراہی کرسی پر بیٹھے ہوئے اس کی نظر دروازے پر ہی تھی جہاں سے آنے والی شخصیت کا اسے بے صبری سے انتظار تھا۔
لیلی اپنی دوستوں کے ساتھ ہال میں آئی۔آج لیلی کا اس یونورسٹی میں آخری دن تھا۔لا کر چکی تھی لیلی اور اب اس کا مستقبل اپنے باپ کے ساتھ اس کے لا فرم میں تھا۔لیلی نے پریکٹس اپنے باپ کے ساتھ ہی کرنی تھی۔کون نہیں جانتا تھا خان کو وہ ایک جانے مانے لا فرم کے مالک تھے۔لا فرما بہت کم کامیاب ہوتی تھی مگر خان نے اپنی لا فرم کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچایا۔
لیلی سٹیج پر اپنی سہیلی کے ساتھ آئی۔آج لیلی نے کمپیرنگ کرنی تھی۔لیلی جیسی لڑکی یونورسٹی کے ہر قدم پر کامیاب رہی تھی اس کی سب سے بڑی وجہ عالم بھی تھا جس نے اس کو بہت زیادہ سپورٹ کیا تھا۔اپنے دور کی یہ ایک لائق سٹوڈنٹ تھی مگر اپنے والد کے ساتھ ان کے شعبے کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے کی وجہ سے اسے کافی مدد ملی۔
لیلی نے اس وقت وائٹ رنگ کا فراک زیب تن کیا ہوا تھا۔ہاتھوں میں بہت خوبصورت پنک اور سفید رنگ کی کانچ کی چوڑیاں تھی جو اسے عالم نے صبح ہی تحفے میں دی تھی۔بالوں کو کھلا چھوڑے چہرے پر ہلکا میک اپ کیئے لیلی اس وقت کسی کے بھی دل میں باآسانی اتر سکتی تھی۔لیلی سٹیج سے اتری اور اپنے ایک ٹیچر کے پاس آئی جو بہرام کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔بہرام کی نظر لیلی پر تھی۔لیلی نے بھی اسے پہچان لیئے تھا مگر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔اپنے ٹیچر سے کچھ بات کر کے لیلی چلی گئی۔لیلی نے بہرام کو دیکھا اور پھر سٹیج پر دوبارہ چڑھ گئی۔بہرام کی نظر اس پورے ہال میں لیلی پر ہی تھی اور یہ بات لیلی نے بھی نوٹ کی تھی۔
“میرب جلدی سے آئو بیگ سٹیج کوئی مسئلہ ہوگیا ہے میڈیم تمہیں بلا رہی ہیں۔”
لیلی ایک لڑکی کی بات سنتے ہی بیگ سٹیج چلی گئی۔فنکشن بہت اچھے سے اختتام پذیر ہوا۔شام یہاں جو ڈنر پارٹی تھی اس وقت سارے ہی۔یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ جمع تھے۔لیلی کی ملاقات اس وقت عالم سے ہوئی۔
“کیسی ہیں آپ مس میرب۔”
بہرام نے لیلی کو مخاطب کیا جو اس وقت بہت خاموش تھی۔
“میں ٹھیک ہوں مسٹر پاشا۔”
“ویسے شاید آپ اس دن کی ملاقات کو لے کر شاید ناراض ہیں۔”
“ارے نہیں مسٹر پاشا وہ تو بس ویسے ہی کہہ دیا تھا ۔میں رائٹنگ کے معاملے میں بہت سنجیدہ ہوں نہ۔”
“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ایسا کیوں نہ کریں کہ آپ رائٹنگ کلب آئیں وہاں پر ایک میچ ہو جائے مزہ آئے گا۔”
“ضرور میں ویسے بھی کلب میں ہونے والے بہت سے مقابلوں حصہ لے چکی ہوں۔”
“ملاقات ہوگی پھر میرب وہاں آپ سے۔”
“ضرور مسٹر پاشا۔”
لیلی بہرام سے بات کرنے کے بعد ہٹ گئی۔بہرام لیلی کو ہی دیکھ رہا تھا جو اپنی کسی سہیلی کے ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھی۔اس کی سہیلی نے کچھ کہا تو لیلی نے اپنی چوڑیاں آنکھوں کے سامنے رکھ کے ہلائی ۔بہرام یہ منظر دیکھ رہا تھا۔لیلی کی نظر بہرام پر پڑی تو اس نے فورا سے اپنا چہرہ پھیر لیا۔بہرام اس کی حرکت پر ہنسنے لگ گیا۔
یہ شام اپنے اختتام کے ساتھ بہت سے راض لے کر دفن ہوئی تھی۔


عالم نے لیلی کا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور یہ اسے ڈاکٹر کے پاس لایا تھا۔لیلی کی پرینگنسی کو چھ ماہ ہوگئے تھے۔لیلی اس وقت میں نہ ہی کچھ بولتی تھی اور نہ ہی اپنا خیال رکھتی تھی۔ڈاکٹر نے لیلی کا چیک اپ کیا اور عالم کے پاس آئی۔
“مسٹر عالم مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔”
عالم ڈاکٹر کے ساتھ اس کے کیبن میں بیٹھا تھا۔
“دیکھیں مسٹر عالم لیلی کی حالت بہت خراب ہے۔آپ سمجھ سکتے ہیں لیلی کس کنڈیشن میں ہے۔اس کا وزن کم ہوگیا بجائے بڑھنے کے۔لیلی کے بچے کی گروتھ تو ٹھیک ہے مگر لیلی کی کندیشن بلکل ٹھیک نہیں تھی۔ آپ کوشش کریں کہ لیلی کو جتنا جلدی ہوسکے اس فیز سے نکالیں ۔ “
“ڈاکٹر میں پوری کوشش کررہا ہوں۔”
“امید ہے جب وہ اگلی بار آئے گی تو ٹھیک ہوگی۔”
عالم ڈاکٹر سے بات کرنے کے بعد باہر آیا ۔لیلی سامنے کرسی پر بیٹھی تھی۔کالی چادر کے ہالے میں لیلی کا چہرہ ذرد رنگ لیئے ہوا تھا۔وجود کو چادر میں چھپائے لیلی خاموش سے سکن بیٹھی تھی۔نرس نے لیلی کے بازو میں انجکشن لگایا۔
“آپ کے شوہر آپ سے بڑی محبت کرتے ہیں میڈیم۔آپ بھی اپنا خیال رکھیں نہ دیکھیں وہ آپ کے لیئے کتنے پریشان رہتے ہیں۔”
لیلی نے نرس کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔عالم لیلی کے پاس آیا۔نرس ان دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی۔یہ ان کا اپنا علاقہ تھا سوات ۔باہر ہلکی ہلکی سردی تھی۔عالم نے لیلی کی چادر ٹھیک کروائی اور اٹھا کر باہر لایا اور گاڑی میں بٹھایا۔لیلی عالم کے بیٹھنے کے بعد بہت مدہم آواز میں بولی۔
“مر جانے دو اس بچے کو اور مجھے۔جس کو دنیا جائز ہونے کے باوجود گناہ کہے ایسے بچے کا اس دنیا میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔”
“تمہاری ایک بات نہ سنوں اب میں۔یہ بچہ میرے نام کے ساتھ اس دنیا میں جانا جائے گا۔”
“یہ جس کا خون ہے اسی کا رہے گا عالم۔میرا تمہارا کوئی رشتہ نہیں۔تم میرے کچھ نہیں لگتے پھر دنیا کے سامنے کیوں میری عزت رکھتے ہو ہاں۔”
“میں تمہارے ساتھ پچھلے کتنے سالوں سے یوں۔ایک گھر میں رہیں ہیں ہم۔تمہارے والد نے مجھے باپ بن کر پالا ہے۔یہ جائیداد یہ دولت سب بابا کی ہے مگر وہ یہ سب میرے سپرد کر کے گئے ہیں ۔وہ مجھے اپنا بیٹا مانتے تھے تو میں اتنا کم ظرف نہیں ہوں کی ان کی بیٹی کو تکلیف میں تنہا چھوڑ دوں ۔جو بابا کا احسان ہے مجھ پر اس کے بدلے میں ساری عمر بھی اترتا نہیں تو نہیں اتار سکتا۔”
“تمہاری زبان تمہارا ساتھ نہیں دیتی عالم۔تم آج بھی مجھ جیسی بے وفا کے ساتھ کیسے ہو۔میں نے تو تم سے وفا نہیں کی تمہارے بجائے ایک خود غرض اور مطلبی شخص کو اپنا سب کچھ دے دیا۔”
“لیلی یہ بات یاد رکھو میں نے تم سے عشق کیا ہے۔میرے عشق کی کوئی حد نہیں۔عشق کبھی انسان کو رسوا نہیں کرتا۔میں تم سے بے پناہ عشق کرتا ہوں اور مجھے یہ گوارا نہیں کہ تمہیں دنیا والے کچھ کہیں۔”
“عالم مت کرو مجھ سے ہمدردی۔”
لیلی نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے عالم کو تھکے ہوئے انداز میں کہا۔
“یہ ہمدردی نہیں محبت ہے اگر تم سمجھ پائو تو۔جو ہوچکا ہے وہ ختم کرو۔تم اس شخص سے طلاق لو۔”
“میں۔۔۔۔۔۔۔کیسے یہ سب کروں گی عالم۔”
“تم جب تیار ہو تو مجھے آواز دینا میں حاضر ہوجائوں گا۔ابھی کے لیئے آنے والی جان پر دھیان دو۔میں اسے خود پال لوں گا۔یہ ہمارے گھر کا وارث ہے۔تم بیگم سرکار ہو میری چاہے ہمارے درمیان کوئی رشتہ نہیں لیکن لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں۔”
“تھک جائو کے عالم۔”
“سچا عشق نہیں تھکتا میرب لیلی خان۔”
عالم نے لیلی کو نیند میں جاتے دیکھا اور گاڑی چلا دی۔


حال
بہرام اپنے دوست کی بہن کی شادی میں آیا ہوا تھا۔ایک بچہ اس کے پاس سے بھاگتا ہوا اس کے دوست کے پاس آیا۔
“چاچو چاچو بابا بلا رہے ہیں آپ کو۔”
زید ہادی کی طرف متوجہ ہوا۔بہرام نے جیسے ہی ہادی کو دیکھا یہ چونک گیا کیونکہ ہادی کا ہر ایک نقش اس کا بچپن تھا۔ہادی کو دیکھ کر یوں گمان ہوتا تھا کہ یہ بہرام ہے۔
“چاچو کی جان چاچو آتے ہیں آپ جائو اندر۔”
ہادی اندر بھاگ گیا۔
“یہ کون تھا زید۔”
“میرے کزن کا بیٹا ہے۔بہت شرارتی ہے ۔آج کافی عرصے بعد یوں اس کے والدین اسے فیملی فنکشن پر لائے تو بہت خوش ہے۔”
“کون سے کزن کا بیٹا ہے تمہارے زید۔”
“عالم اور لیلی دونوں کا بیٹا ہے۔”
بہرام کی زمین ہل گئی تھی۔لیلی وہ تو بہرام کی بیوی تھی پھر اس کا اور عالم کا بچہ۔
“لیلی اور عالم ان کی شادی کب ہوئی ۔”
“چھ سال ہوگئے۔دونوں اندر ہیں آئو تمہیں ملواتا ہوں ان سے۔”
بہرام جانتا تھا زید عالم کے ماموں کا بیٹا ہے مگر زید بہرام کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔فیملی ہال کی طرف جاتے ہوئے بہرام کو میوزک کی آواز آرہی تھی۔ہال میں صرف فیملی ممبر تھے ۔فنکشن ختم ہوچکا تھا بس خاندان والے باقی تھے۔بہرام کی نظر سامنے پڑی تو اٹھنے سے انکاری تھی۔گرین کلر کے لہنگے پر سر پر ڈوپٹے کے ساتھ ماتھا پٹی لگائے لیلی کھڑی تھی۔ساتھ میں سفید کرتے میں ملبوس عالم تھا جس نے ہادی کو اٹھا رکھا تھا اور ہادی کو پکڑ کر دونوں کسی گانے پر ڈانس کر رہے تھے۔
“وہ دیکھو بہرام لیلی اور عالم۔دونوں بہت خوش ہیں۔میں تو عالم کو دیکھ کر اس کی قسمت پر رشک کرتا ہوں کہ اسے لیلی جیسی لڑکی ملی ہے۔”
عالم نے کوئی بات کی جس سے لیلی اور ہادی دونوں ہنس پڑے۔بہرام کا خون کھول اٹھا۔اس نے لیلی کے بارے میں کوئی بھی معلومات ان سالوں میں نہیں رکھی تھی۔اس نے لیلی کو مکمل چھوڑ دیا تھا مگر وہ اس کے نکاح میں تھی اور اس نے شادی کرلی۔
“لیلی میرے دوست بہرام سے ملو۔”
زید بہرام کو لیلی کے پاس لایا۔عالم نے نظر اٹھائی تو اس کی گرفت ہادی پر مضبوط ہوگئی۔عالم نے بڑھ کر لیلی کو کمر سے تھاما اور بہرام سے ملا۔
“ہیلو مسٹر بہرام کیسے ہیں آپ۔”
بہرام تو لیلی کو ہی دیکھ رہا تھا جس کی نظر میں بے انتہا نفرت تھی اس کے لیئے۔
“بابا یہ انکل کون ہیں۔”
“بیٹا زید چاچو کے دوست ہیں۔آپ جائو آنی کے پاس میں آپ کی ماما کو لاتا ہوں۔”
زید بھی بہرام کے پاس سے ہٹا۔
“بہت جلدی نہیں کی شادی کرنے میں۔تم جانتی ہو بیوی ہو تم میری اور اس کے باوجود تم نے اس شخص سے شادی کر لی۔”
لیلی کو دیکھتے ہوئے بہرام زہرخندہ لہجے میں بولا۔لیلی کے بجائے عالم نے جواب دیا بہرام کی بات کا۔
“کون سی شادی مسٹر بہرام جس کا ہر ثبوت مٹا دیا تھا تم نے۔بقول تمہارے وہ نکاح تو نقلی تھا پھر ہماری شادی پر اتنا اعتراض کیوں۔تم بات کرنے کے لائق نہیں ہو بھری محفل میں تم نے لیلی کے ساتھ ہر رشتے کو ماننے سے انکار کیا اب ہماری زندگی میں دخل اندازی بند کرو۔”
“شٹ اب بیوی ہے یہ میری۔”
“اپنے زبان کو قابو میں رکھو تو تمہارے لیئے بہتر ہے بہرام پاشا۔میں تمہاری نام نہاد عزت کی دھجیاں اڑانے میں دیر نہیں لگائوں گی۔اپنا یہ غلیظ چہرہ لے کر یہاں سے چلے جائو اس سے پہلے کے میں تمہیں تمہاری اوقات یاد کروا دوں۔”
لیلی نے عالم کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
“تم کیا سمجھتی ہو اتنی آسانی سے ہمارے رشتے کو بھول جائو گی تمہیں تمہاری حیثیت بہت جلد واضح کروں گا میں۔”
“تمہاری حیثیت بھی میرے نزدیک ایک غلیظ شخص سے زیادہ کچھ نہیں ۔”
لیلی عالم کے ساتھ ہال سے نکلی۔لیلی کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔کوئی نہیں جانتا تھا عالم اور خان بابا کے درمیان چھپے اس رات کے راض کو جس دن عالم نے لیلی پر اپنی عزت کی چادر ڈالی تھی۔کوئی رشتہ ہوکر نہ بھی دنیا کی نظر میں ان کا بہت گہرا تعلق تھا۔


ہیر بی اماں لے پاس سے ابھی ہی اٹھ کر کمرے میں آئی تھی۔ہیر کے ہاتھ میں یہ ابھی بھی ہیرے کی انگوٹھی پوری آب و تاب سے چمک رہی تھی۔ہیر کو یقین تھا کہ یہ شخص پاگل ہے۔آپی اور بھائی کے واپس آتے ہی ہیر نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ بھائی کے ساتھ سوات چلی جائے گی۔پیپر تو ویسے بھی ختم ہوگئے تھے۔
ہیر کا فون بجا۔
“ہیلو ۔”
ہیر نے جیسے ہی بولا آگے سے ایک تھکی تھکی سے آواز آئی۔
“کیسی ہو باربی۔”
“کون۔”
“شہرام پاشا جس کے نام کی انگوٹھی تم نے اپنے ہاتھ میں پہن رکھی ہے۔تم ٹھیک تھی کچھ غلطی میرے خاندان کی طرف سے ہوئی ہے میں اس کے لیئے معذرت چاہتا ہوں بس تم مجھ سے ناراض مت ہو۔”
“تمہیں میرا نمبر کا نے دیا ہاں ۔تمہیں شرافت کی زبان سمجھ نہیں آتی کیا کہ میں تم جیسے انسان کے ساتھ رہنا تو دور تمہاری طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی۔تمہارے بھائی نے جو کیا ہے ہمارے لیئے وہی کافی ہے ۔میں نہ کبھی تمہاری تھی نہ کبھی ہوسکتی ہوں۔”
“تم میری تھی ہو اور رہو گی باربی ۔بہت جلد تم میرے پاس ہوگی باربی۔”
ہیر نے غصے سے فون بند کر دیا ۔یہ بندہ تو سر ہی چڑھتا جارہا تھا۔


بہرام اپنے روم میں آیا اور آتے ہی اپنا کوٹ اٹھا کر پھینکا ۔بہرام کا خون کھول رہا تھا یوں ایک بچے کے ساتھ اور عالم کے ساتھ لیلی کو دیکھ کر۔
“بچہ شادی یہ کیسے ہوسکتا ہے۔تم میری بیوی ہو میں نے اس لیئے تمہیں ساری زندگی اپنے نام کا پابند کیا تھا کہ کوئی تمہاری طرف دیکھ نہ سکے۔تم ایسا نہیں کرسکتی۔”
بہرام کمرے کی ہر چیز پھینک رہا تھا جب اس کی نظر اپنے بچپن کی تصویر پر بڑی۔ہادی کی اور اس تصویر کی مشابہت دیکھ کر دو پل بہرام رکا۔
“بچہ۔۔۔۔۔میرا بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔”
بہرام کے آنکھیں اس وقت بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔
“وہ بلکل میری طرح تھا میرا بچہ۔۔۔۔۔۔۔”
بہرام نے اس بچے کی شکل یاد کی۔
“اگر ایسا ہے تو میرب تم نے اچھا نہیں کیا میرے بیٹے کو مجھ سے دور کر کے تمہیں حساب دینا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔”
کمرے کی ہر چیز کو پھینکتے ہوئے بہرام جنونی کیفیت میں مبتلا تھا۔مگر وہ یہ بھول گیا تھا کہ اس کا مقابلہ میرب سے نہیں لیلی سے ہے۔