454.6K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dareeche Dil Ke) Episode 1

لیلی ابھی سوئی نہیں تھی۔ساری رات کام کرتے ہوئے اس کو وقت کا احساس نہیں ہوا۔اب وقت کا احساس بھی ہونا بند ہوگیا تھا۔پچھلے چھ سال سے یہ ایک robot کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔کام سے واپس آکر اس کے پاس اتنا وقت نہیں بچ پاتا تھا کہ یہ اپنی جان عزیز بہن کو وقت دیتی جس کی خاطر یہ زندہ تھی۔چھ سال پہلے سب کچھ کتنا خوبصورت تھا مگر ایک حادثہ کیسے اس کی زندگی بدل گیا۔کسی سے دل لگانے کی سزا اسے بہت بھیانک ملی تھی۔اپنے ماں باپ کو کھو دیا تھا اس نے ۔کچھ بھی نہیں بچا تھا اس کے پاس سوائے ہیر کے۔
“لیلی یار تم بات کیوں نہیں کرتی۔جب دیکھو بس ایک ہی فکر ہوتی ہے کہ کہیں بابا کو برا نہ لگ جائے ۔ہماری شادی ہونے والے ہے اب تو اپنے مامی ڈیڈی فیز سے نکل آئو۔”
لیلی کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر نکلا۔
“ایسی لڑکیاں شادی کے قابل نہیں ہوتی بابا سائیں۔یہ صرف وقت گزاری کے لیئے ہوتی ہیں۔بیوی تو وہ ہوتی ہے جس کو سات پردوں میں چھپایا گیا ہو۔”
یہ زہریلے الفاظ لیلی کی سماعتوں میں آج بھی گونج رہے تھے۔بیرسٹر لیلی خان جس کی شہرت اتنی تھی کہ کہا جاتا یہ جس کیس کو لے لیتی ہے اسے ہارتی نہیں۔مگر زندگی کے مقدمے میں لیلی خان ہار گئی۔
لیلی نے آئینے کے سامنے اپنا چہرہ دیکھا۔کوئی لڑکی اسے خوبصورتی میں ہرا نہیں سکتی تھی مگر اس کی ایک بیوقوفی نے اسے عرش سے فرش پر لا پھینکا ۔اپنا گھر چھوڑ کر یہاں اس انجان شہر میں رہتے ہوئے لیلی ماں باپ کی قبروں پر جانے کو بھی ترس جاتی۔اسے ہیر کی آواز آئی۔
“آپی کیا کر رہی ہیں یار ابھی بھی جاگ رہی ہیں۔”
ہیر معصوم بچوں کی طرح اس کے سینے سے لگ گئی۔آخر اس سے پورے سات سال چھوٹی تھی۔آج سے پورے چھ سال پہلے ہوئے حادثے کا علم ہیر کو تھا مگر یہ نہ سمجھ تھی اتنا نہیں جانتی تھی کہ اس کی آپی تو مر چکی ہیں چھ سال پہلے۔یہ لڑکی تو زندہ لاش ہے۔
“ہیر تم ابھی تک جاگ رہی ہو بیٹا۔جائو سو جائو صبح یونیورسٹی کے لیئے لیٹ ہوگا۔منصور انکل کل بھی کہہ رہے تھے کہ آج کل پڑھائی پر دھیان نہیں دیتی تم۔”
“آپی ان کا بس چلے نہ تو وہ مجھے ڈھیر ساری کتابیں دے کر ہر وقت پڑھاتے ہی رہیں۔”
“بری بات بیٹا بابا کے دوست ہیں وہ۔ان کی وجہ سے ہی تو ہم آج یہاں محفوظ ہیں۔”
“اچھا آپی چھوڑیں ان سب باتوں کو آپ مجھے کہانی سنائیں گی وہی سنڈریلا والی۔”
“حیقیت میں کوئی سنڈریلا نہیں ہوتی ہیر میں تمہیں کیسے سمجائوں۔”
لیلی نے اپنے خاموش آنسو دل میں اتارے اور ہیر کے ساتھ بیڈ پر سونے آگئی۔


لیلی کی ایک کلائنٹ کا بیٹا اس کے پاس بیٹھا تھا۔اس بچے کو دیکھ کر لیلی کے دل میں نجانے سالوں سے دفن ارمان جاگے تھے۔
“بیٹا کیا نام ہے آپ کا۔”
“محب نام ہے میرا آنٹی۔”
لیلی نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اسے پرانا وقت یاد آیا۔
ہسپتال کے بیڈ پر سوئیوں سے جکڑی ہوئی لیلی بلکل خاموش تھی۔منصور انکل اس کے ساتھ تھے۔منصور انکل کی بیوی مسز کرمانی اس کے سر میں ہاتھ پھیر رہی تھی۔
“بیٹا ہوش کرو ۔جس سے جانا ہوتا ہے وہ چلا جاتا ہے۔خدا تمہیں اور اولاد دے گا۔”
لیلی نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا جہاں اسے کوئی امید محسوس نہ کوئی۔آج ایک ظالم شخص نے اس سے ایک بدلے کی خاطر سب کچھ چھین لیا تھا۔
“میڈیم وہ باہر آپ کو ناصر سر میڈینگ کے لیئے بلا رہے ہیں۔”
لیلی نے آنسو صاف کیئے اور باہر کی بڑھی۔
________________ ۔
فون کی بل بج رہی تھی۔ہیر کمرے سے بھاگ کر نکلی اور بی اماں کو آوازیں دینے لگ گئی۔
“بی اماں کہاں ہیں آپ۔جب دیکھو مجھے ہی گھر کے سارے کام کرنے پڑتے ہیں ۔یہ نلکے خراب ہوگئے تھے تو کسی ٹھیک کروانے والے کو بلا لیتی مجھے کیوں زحمت دی۔”
فون کان سے لگاتے ہو کسی کونے میں گھسی بی اماں کو ہیر آوازیں دے رہی تھی۔
“ہیلو۔”
“نہ سلام نہ دعا ۔یہ زمانہ آگیا ہے کہ اب میری بہن مجھے سلام بھی نہیں کرے گی۔”
“عالم بھائی آپ۔”
“جی میں کہاں غائب ہو سب۔تمہاری بہن محترمہ بھی نظر نہیں آرہی وہ کہاں موجود ہیں۔”
“آپ اتنے دور بیٹھے ہیں کیسے نظر آئیں گی آپ کو۔اچھا بتائیں ہمارا بھتیجا کیسا ہے۔”
“بلکل ٹھیک ہے اور اپنی ماں کو یاد کرتا ہے۔اس مہینے چکر لگائوں گا تم لوگوں کی طرف۔میں چاہتا ہوں ہادی اب لیلی کے پاس رہے۔بچا کب تک اس سے دور رہے گا آخر ہم والدین ہیں اس کے کمی محسوس کرتا ہے وہ لیلی کی۔”
“عالم بھائی آپی تو بتا نہیں کون سی دنیا میں رہتی ہیں۔ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ہادی کو بھی وہ بہت یاد کرتی ہیں مگر ان کے پاس وقت ہی نہیں میرے لیئے بھی۔آپ آجائیں میں اس مرتبہ آپی کو منا لوں گی ہم ہادی کے ساتھ اکٹھے رہیں گے۔”
“تم بے فکر رہو اس بار آئوں گا تو تمہاری بہن کو ساتھ ہی واپس لائوں گا۔”
ہیر کو اپنے پیچھے لیلی کی آمد کا علم ہوا۔
“آپی۔۔۔۔آپی ۔۔۔۔۔عالم بھائی کی کال ہے۔”
ہیر فون لیلی کے ہاتھ میں پکڑا کر چلی گئی۔
“ہیلو۔”
“اسلام علیکم لیلی کیسی ہو ۔کتنے دن بعد سن رہا ہوں تمہاری آواز۔تم کتنی بے حس ہو کچھ احساس ہے تمہیں ہمارا بچہ تمہیں کتنا یاد کرتا ہے۔”
“جانتی ہوں میں مگر میں کچھ نہیں کرسکتی اس کے لیئے۔”
“کیوں لیلی تم اتنا بے رحم دل نہیں رکھتی لیا۔پرائے بچوں کے لیئے تم کتنے کام کرتی ہو اور اپنے ہی بچے کے لیئے اتنی سفاک کیسے ہوسکتی ہو۔اس دفعہ آئوں گا میں تو تمہیں ساتھ ہی واپس لے کر جائوں گا۔تمہارا ہاتھ بابا نے مرتے وقت بھی میرے ہاتھ میں دیا تھا۔”
“میں معافی کے قابل نہیں ہوں عالم ۔مجھ سے اتنی ہمدردی مت کیا کرو۔تمہاری باتیں مجھے مردہ میرب کی یاد دلاتی ہیں جبکہ اسے مرے ہوئے چھ سال ہوگئے۔میں نے گناہ کیا تھا اس کی سزا میرا مقدر ہے۔”
“تم اپنے حصے کی سزا کاٹ چکی ہو۔جتنی قصوروار تم ہو اتنا ہی قصوروار کوئی اور بھی ہے۔زندگی اکیلے نہیں گزرتی۔”
لیلی اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بھیگی آواز میں بولی۔
“تم بھی خود پر یہ فارمولا اپلائے کرلو عالم۔”
“تم یہ بات کرتے ہوئے اچھی نہیں لگتی لیلی۔تم میرے لیئے آج بھی میرب ہو اور ہمیشہ رہو گی۔ساری عمر تمہارے لیئے انتظار کرسکتا یوں۔میں صرف بابا کا بیٹا ہی نہیں تمہارا دوست اور چاہنے والا ہوں۔بابا کی بہت خواہش تھی میرا اور تمہارا ساتھ۔”
“میں بابا کی اچھی بیٹی نہیں ہوں عالم ۔بیٹیاں کبھی باپ کا سر نہیں جھکاتی۔جو بیٹی اپنے ماں باپ کی بنائی حفاظتی حدود سے باہر آجائے تو پھر تھوکریں ہی اس کا مقدر ہوتی ہیں۔”
“بکواس مت کیا کرو میں سامنے ہوتا تو دو لگاتا تمہیں۔اچھا اپنے بیٹے سے بات تو کرو صبح سے رو رہا ہے تمہارے لیئے۔”
لیلی نے نھنی سے آواز فون سے سنی۔
“ماما۔۔۔۔۔”
“ماما کی جان کیسے ہو میرے ہادی۔”
“میں ٹھیک ہوں ماماآپ کا بیٹا بہت زیادہ بریو ہے۔آپ کب لینے آئیں گی مجھے ۔بابا مجھے روز کہتے ہیں ماما کام میں بزی ہیں اس لیئے وہ ہمارے ساتھ نہیں رہتی۔ماما کام چھوڑ دیں مجھے زیادہ ضرورت ہے آپ کی۔”
ہادی بات کرتے ہوئے رونے لگ گیا۔
“اچھا پریشان نہیں ہو میں اپنے بیٹے کو جلدی پاس بلا لوں گی۔بابا کو شکایت کا موقع مت دینا ہادی وہ دنیا کے سب سے اچھے بابا ہیں آپ کے لیئے۔”
میں جانتا ہوں ماما وہ ورلڈ کے بیسڈ بابا ہیں۔۔۔۔۔۔”
بہت دیر ہادی سے باتیں کرنے کے بعد لیلی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی جہاں یاد ماضی کبھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے والا تھا۔


بہرام پاشا سومنگ کر رہا تھا ۔اس کی رفتار بہت تیز تھی۔کالج میں ہونے والے سومنگ مقابلوں میں حصہ لیتا تھا یہ ۔بہرام پاشا وجاہت کا جیتا جاگتا ثبوت تھا۔اس پر دنیا کی ہزاروں لڑکیاں مرتی تھی مگر یہ جتنا خوبصورت شکل سے تھا اندر سے اتنا ہی سفاک تھا۔سومنگ پول سے باہر آکر بہرام نے تولیہ بال خشک کرنے کے بعد چیئر پر پھینکا اور روم میں چینچ کرنے چلا گیا۔عامر اس کے پیچھے آیا جو کب سے اس کا پول سے نکلنے کا منتظر تھا۔
“کیا ہوا عامر کوئی خاص بات ہے۔”
“سر آپ کی ایک بہت خاص میٹنگ تھی آج۔آپ نے پریس کانفرنس بھی کرنی تھی اور حویلی سے فون آیا تھا۔”
“کس کی کال تھی۔ “
الماری سے اپنے کپڑے نکالتے ہوئے عامر سے مخاطب ہوا۔
” پاشا بیگم کی کال تھی وہ آپ کو یاد کر رہی ہیں کہتی ہیں کہ میرے بیٹے سے کہو مجھ سے آکر مل لے کتنا تڑپائے گا مجھے۔”
” ایسا کرو تم آج شام میری تمام میٹنگز کینسل کر دو آج ماں سے جاکر مل ہی لیتا ہوں میں. وہ سچ ہی کہتی ہیں میں بہت عرصے سے حویلی نہیں گیا تھا شہرام سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔”
عامر اپنے سرد باس کو دیکھ رہا تھا جسے تنہائی سے بلکل خوف نہیں آتا تھا۔اس مینشن میں اتنی تنہائی تھی مگر بقول پاشا بہرام کے اسے تنہائی پسند تھی۔
عامر گاڑی کے پاس کھڑا ہوا پاشا بہرام کا منتظر تھا۔بہرام کے آتے ہی کالی گاڑی کے شیشے بند ہوئے۔35 سالہ پاشا بہرام کی آنکھوں کی میں ایک خاص چمک تھی جو کسی کو بھی زیر کر سکتی تھی اور انہیں کالی سحر آنکھوں نے کسی کی روشن آنکھوں کو ہمیشہ کے لیئے ویران کر دیا تھا۔


شہرام حویلی میں داخل ہوا تو سب سے پہلے اس نے دادی صاحب کو اپنا منتظر پایا۔
“ماں صدقے آگئی تجھے گھر کی یاد یا اپنے دوستوں کے ساتھ ہی ہمیشہ رہنے کا ارادہ ہے. “
” دادی صاحب آپ کیوں غصہ کرتی ہیں میں تھوڑی دیر کے لئے ہی تو نہر کے پاس گیا تھا نہ کچھ بھی تو نہیں کیا میں نے اس دفعہ. “
” گاؤں کے اتنے بڑے سردار کے بیٹے ہو اس کے باوجود تمہاری ایسی حرکتیں ہیں جیسے کسی کمین کی اولاد ہو. مجھے نہیں پسند تمہارا نوکروں کے ساتھ گھومنا پھرنا اپنے بھائی بہرام سے کچھ سیکھو جو جتنی اوقات پر ہوتا ہے اسے اتنی ہی اوقات پر رکھنا چاہیے۔”
” دادی صاحب مجھے معلوم ہے اپنی حویلی کے اصول آپ بے فکر رہیے “
شیر بخش پاشا خان کے بیٹے تھے شہرام اور بہرام۔ حویلی اور خاندان نے گاؤں والوں پر حکومت کی تھی ان کے ظلم کے قصے پورے گائوں میں مشہور تھے۔ بہرام پاشا کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے باپ کی کاپی ہے. بے رحمی اس کے لہجے سے جھلکتی تھی۔ اس حویلی میں ایک نوکر کو جانور سے زیادہ حیثیت نہ دی جاتی .
” جا اب تو جا اندر اور جا کر کھانا کھا لے صبح سے تیری ماں دی منتظر ہے۔”
دادی صاحب نے شہرام کو حویلی کے اندر بھیجا۔شہرام سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں آیا۔ شہرام کے کمرے میں ہر طرف ایک تصویر بنی ہوئی تھی جس میں ایک خوبصورت لڑکی ہاتھ میں گلاب لیے کھڑی تھی.”
” کیسی ہو میری گلبہار. آج تو بہت تھکا دینے والا دن تھا۔”
شہرام نے ٹیبل پر رکھی ہاتھ سے بنی ہوئی لڑکی کی تصویر سے باتیں شروع کر دی۔
” مجھے تو لگتا ہے کہ تم جب تک مجھے ملو گی میں بوڑھا ہی ہو جاؤں گا. بھیا کہتے ہیں کہ وہ میری شادی جلدی کریں گے انہیں بہت خواہش ہے میرے بچے دیکھنے کی۔ لیکن میں چاہتا ہوں پہلے وہ شادی کریں انہیں حویلی آئے ہوئے پورا ایک سال ہوگیا ہے۔”
شہرام اپنے لالہ کو یاد کرتا ہوا مسکرانے لگا جو اس کی جان تھے۔دنیا میں جس انسان سے شہرام کا لگاؤ تھا وہ اس کے لالہ بہرام تھے۔
“چلو تم بھی یاد کرو گی آج تمہیں تنگ نہیں کرتا سو جائو تم بھی۔”
تصویر ٹیبل پر رکھی کر شہرام نے سر تکیئے پر رکھا اور سو گیا۔


ہیر نلگے سیٹ کر رہی تھی جب اچانک ہی ایک نلکا اس سے کھل گیا۔ پیچھے کھڑا معاذ بھی چیخ اٹھا.
” ہائے یہ مزدوروں والے کام تم نے کہاں سے شروع کر دیے۔”
ہیر پیچھے مڑی تو معاز جو انکل منصور کا بیٹا تھا اور ہیر اور لیلیٰ کیلئے یہ بھائی کی حیثیت رکھتا تھا وہ پورا گیلا ہوا کھڑا تھا۔
” تمہارا آنا ضروری تھا اس وقت. “
” مجھے چھوڑو تم یہ بتاؤ تمہارا ان لڑکوں والے کاموں سے کیا کام. “
” بی اماں نے کسی کو بلایا ہی نہیں کہ گھر کے نلکے سیٹ کروا دیں پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے پانی ہی نہیں آرہا تھا تو میں نے کھول دیا بند ہی نہیں ہو رہا یہ۔”
” تم سے کچھ نہیں ہوگا بس ہر وقت باتیں کر والو ہٹو دیکھتا ہوں میں. “
” سارے لڑکوں والے کام کر سکتی ہوں میں لڑکوں سے کم نہیں ہوں. “
” وہ تو میرا اور تمہارا حال دیکھ کر ہی پتہ چل رہا ہے. “
” زیادہ باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ انکل کو جا کر ساری یونیورسٹی کی باتیں بتا دوں گی۔”
“تو کل کے بجائے آج ہی چلی جائوں جس کو دیکھو مجھے تھمکاتا پھرتا ہے ۔اندر جائو آرہا ہوں میں۔۔۔۔”
جاری ہے۔