Dareeche Dil Ke By Hafsa Javed Readelle50326 (Dareeche Dil Ke) Episode 8
Rate this Novel
(Dareeche Dil Ke) Episode 8
ہیر کی آنکھ کھلی تو اسے سمجھنے میں تھوڑا وقت لگا کہ یہ کہاں ہے۔اپنے اوپر رکھے ہوئے شہرام کے ہاتھ کو اس نے ہٹایا ۔پیر بیڈ سے اٹھی اور رات کا منظر یاد کرنے لگی جب دودھ لینے کے بعد یہ فورا سے ہی سو گئی تھی۔ہیر کو یقین ہوگیا تھا کہ دودھ میں ایسی کوئی چیز تھی جس کی بدولت اس کو نیند آگئی تھی۔
“باربی تم جاگ گئی ہو۔”
“تم نے رات کو میرے ساتھ کیا کیا۔”
“کچھ بھی نہیں باربی تمہیں سکون کی ضرورت تھی اور میں نے تمہارے دودھ میں نیند کی گولی ڈال دی۔میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور تمہارے بے ہوشی کا فائدہ اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا میں۔”
“تم جیسے انسان سے امید بھی کیا کی جاسکتی ہے۔مجھے میرے گھر جانا ہے میں تمہارے ساتھ دو سیکنڈ کے لیئے بھی نہیں رہ سکتی۔”
ہیر صوفے پر بیٹھ کر تیز آواز میں شہرام سے بولی۔
“باربی اب رہنا تو تمہیں ساری زندگی کے لیئے میرے ساتھ ہی ہے بے شک تم اسے قبول نہ کعو۔”
“تمہاری کوئی بہن ہے شہرام۔”
“ہاں میری دو بہنیں ہیں ۔ایک فوت ہوگئی ہے اور ایک ابھی چھوٹی ہے۔ بی اے میں پڑھ رہی ہے۔”
“سوچو اگر اسے کوئی لڑکا یوں اپنی قید میں رکھے تو تمہیں کیسا لگے گا ۔اچھا لگے گا نہ آخر کو تم نے بھی تو کسی کی بیٹی کو اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔”
“میں ایسا ہرگز نہیں چاہوں گا پلیز تم میرے عمل کے لیے میری بہن کو قصوروار مت ٹہرائو۔”
“واہ پاشا صاحب جہاں بات بہن کی آتی ہے وہاں آپ جناب کی عزت جوش مارتی ہے۔اپنی بہن پر تو آئی کوئی تکلیف برداشت نہیں ہوتی مگر دوسروں کی بیٹیوں کا کیا جسے تم جیسے لوگ دو کوڑی کا بھی نہیں چھوڑتے۔”
” پلیز ہیر مجھے سمجھنے کی کوشش کرو جو کچھ ہوا ہے اس میں سراسر میری ہی غلطی ہے ۔کسی کا عمل دخل نہیں ہے سب میں۔”
“تم جانتے ہو شہرام تمہیں دیکھ کر تمہارے خاندان کی ذہنیت پتا چلتی ہے انتہائی گھٹیا ہے تمہارا خاندان جس کے نزدیک عورت کچھ نہیں۔میرے بھیا کہا کرتے تھے کہ عورت بڑی قیمتی چیز ہے ۔ایک مرد کا ظرف اس کی عورت کی خوشی دیکھ کر پتا چلتا ہے۔مگر تم کیا جانو ظرف کیا ہوتا ہے یہ لفظ تو شاید تم نے کبھی بھی سنا نہ یو۔میں تمہیں پھر سے کہتی ہوں کے مجھے گھر چھوڑ دو۔ہم نہ کبھی ایک تھے نہ کبھی ہوسکتے ہیں۔”
” ہیر تم جانتی ہو نہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔”
“محبت اس لفظ کا ذکر مجھ سے مت کیا کرو۔”
ہیر صوفے پر بیٹھے ہوئے شہرام کو سنا رہی تھی۔شہرام ہیر کے پاس آیا اور ہیر کو اپنی بانہوں میں بھرا۔شہرام نے ہیر کے بالوں میں چہرہ چھپایا تو ہیر نے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کی۔
“میرے قریب مت آنا تم۔تم سمجھتے کیا ہو خود کو ہاں۔میرے نزدیک تمہاری کوئی اہمیت نہیں میں تم جیسے انسان سے نفرت بھی کرنا اپنی توہین سمجھتی ہوں۔”
“تمہیں اس رشتے کا احساس بھی تو کروانا ضروری ہے ورنہ تم یہی سمجھا گی کہ میں تمہارے لیئے کچھ نہیں۔”
شہرام نے ہیر کو اٹھایا اور بیڈ پر لایا۔ہیر کو شہرام سے ایسی امید نہیں تھی۔شہرام کی آنکھوں میں جو چمک ہیر نے دیکھی ہیر کو اس لمحے شہرام سے سخت نفرت ہوئی۔شہرام کو اپنے قریب آتا دیکھ کر ہیر پیچھے ہوئی ۔
“مت کرو شہرام ۔میں ساری زندگی تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔تم نے مجھ سے شادی کر لی ہے اب مجھے آزاد کر دو۔دیکھو میں تمہیں کبھی تنگ نہیں کروں گی۔”
“شش اس لمحے تم سب کچھ چھوڑ دو ہیر۔اس لمحے صرف اتنا سوچو کہ میں اور تم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔”
شہرام نے ہیر کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیا۔شہرام نہیں جانتا تھا کہ اس کے ایک عمل سے ہیر اس سے کتنے دور چلی گئی ہے۔
دن کا وقت تھا مگر ہیر کو اندازہ نہیں ہوسکا ۔سرد موسم کی بدولت باہر اندھیرا ہی تھا۔ایسا ہی اندھیرا ہیر کی زندگی میں تھا۔ہیر اپنے سب کچھ ایک لمحے میں شہرام جیسے شخص کو دے چکی تھی۔ہیر کی آنکھوں سے آنسو اب تھم چکے تھے مگر پھر بھی ہیر کو رونا آرہا تھا اور اس کا دل کر رہا تھا کہ یہ اس سب سے بہت دور چلی جائے۔ہیر بیڈ سے اٹھی ۔اس نے پیروں میں جوتے بھی نہیں پہنے تھے۔یہ۔سیدھا باہر کی طرف بڑھی ۔سخت سردی تھی۔ہیر نے مین گیٹ کھولا اور پیروں میں چپل کے بغیر ہی باہر نکل آئی۔ہیر کو نہیں پتا چلا کے سامنے کیا ہے اور کون سا رستہ ہے۔اسے بس شہرام سے بہت دور جانا تھا جہاں شہرام کا سایہ بھی اس تک نہ پہنچے۔ہیر بھاگنے لگ گئی ۔ابھی یہ تھوڑا دور ہی بھاگی تھی کہ سامنے آنے والی کھائی کو نہ دیکھ پائی اور برف سے سلپ ہوکر کھائی میں گری۔اس کی چیخ فضا میں گونجی۔شہرام جو باتھ روم سے نکلا تھا ہیر کو نہ پاکر فورا باہر کی طرف بھاگا۔ہیر کے قدموں کے نشان سے یہ کھائی تک پہنچا۔
“باربی یہ کیا کر لیا تم نے میری جان۔”شہرام نیچے اترا۔ہیر اس وقت نیم غنودگی کی حالت میں تھی۔شہرام نے اسے اٹھایا۔ہیر کی آنکھوں کے آگے تاریکی چھا گئی۔
ہیر کی جب دوبارہ آنکھ کھلی تو یہ ہسپتال کے بیڈ پر تھی۔ایک ہاتھ میں ڈرپ لگے ہوئی تھی۔دوسرے ہاتھ میں پٹی تھی۔پائوں پر پلاسٹر تھا۔سر پر بھی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ہیر کو اس وقت اپنے وجود میں سخت درد تھا۔برف کی وجہ سے ہیر کو کافی زیادہ چوٹ آئی تھی۔
“باربی تمہیں ہوش آگیا۔”
شہرام ہیر کے پاس آیا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“تم پھر آگئے ہو۔تمہیں شرم نہیں آتی شہرام پاشا۔تم جیسے انسان سے نفرت کرتی ہوں میں۔تم صرف وجود کی چاہ رکھتے ہو اور کچھ نہیں ۔تم نے مجھے داغدار کر دیا ہے۔تم سے جتنی نفرت میں کرتی ہوں شاید ہی کسی اور سے کرتی ہوں۔”
“باربی جو ہوا وہ جائز تھا۔میں تمہارا شوہر ہوں۔”
“زبردستی کے شوہر۔کیوں سمجھنے لگ ہو تم مجھے ایک ملکیت۔میں جیتی جاگتی انسان ہوں میں جس کے احساسات ہیں مگر تم نہیں سمجھو گے۔ہوگئی ہے نہ اب تمہاری خواہش پوری مجھے اب گھر جانے دو۔”
شہرام نے ہیر کے ماتھے پر اپنا ماتھا رکھا۔
“باربی ہمارا رشتہ کچھ وقت کا نہیں ہمیشہ کا ہے۔ہم تبھی الگ ہوں گے جب میری موت ہوگی۔”
ہیر نے چہرہ پھیر لیا ۔ڈاکٹر ہیر کا چیک اپ کرنے آئی ۔شہرام کچھ دیر کے لیئے باہر چلا گیا۔
“”ڈاکٹر مجھے اس آدمی نے قید کر رکھا ہے۔میرا نکاح زبردستی اس کے ساتھ ہوا ہے۔آپ کے پاس کوئی فون ہے تو مجھے دے دیں مجھے اپنے گھر اطلاع کرنی ہے۔میری بہن بہت پریشان ہوں گی۔”
ہیر نے ڈرپ اتارتی ڈاکٹر سے التجا لی۔
“دیکھیں مسز پاشا ہم جانتے ہیں آپ کے اور آپ کے شوہر کے درمیان تلخیاں ہیں مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ اپنے رشتے کے بارے میں ایسی باتیں کریں۔آپ اس وقت ذہنی طور پر بہت ڈسٹرب ہیں مگر مجھے امید ہے آپ کے شوہر آپ سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ جلد ہی آپ ٹھیک ہوجائیں گی۔”
“وہ میرے شوہر زبردستی کے ہیں۔آپ سمجھ کیوں نہیں رہی کہ مجھے اغوا کیا ہے انہوں نے۔”
“مسز پاشا آپ کی شادی کی خبر میں نے خود ٹی وی میں دیکھی ہے۔ میں آپ کو پھر کہوں گی کہ چھوٹی سی بات پر اپنا گھر خراب مت کریں۔مسٹر پاشا نے مجھے بتایا ہے کہ آپ اپنے گھر جانا چاہتی تھی مگر انہوں نے کچھ وقت انتظار کے لیئے کہا تو آپ ناراض ہوکر گاڑی کے کر نکلی۔دیکھیں آپ کی غلطی سے اب آپ ایک ماہ تک ٹھیک سے چل نہیں پائیں گی۔”
“دیکھیں آپ میری بات۔۔۔۔۔”
“پلیز مسز پاشا آپ آرام کریں ۔”
“مجھے اتنا بتا دیں یہ کون سی جگہ ہے۔”
“آپ سوات میں ہیں مسز پاشا۔امید ہے آپ میری باتوں کو سمجھیں گی اور اپنے شوہر سے نفرت کے بجائے محبت کا اظہار کریں گی۔”
ڈاکٹر باہر چلی گئی۔ہیر کو معلوم ہوگیا تھا کہ اب چاہے یہ جو مرضی کر لے زمانہ اس کا اعتبار نہیں کرے گا۔ہیر جانتی تھی کہ خبروں میں آنے کے بعد تو کوئی بلکل یقین نہیں کرے گا کہ اس کی شادی زبردستی ہوئی ہے۔نجانے لیلی نے خبریں دیکھی ہیں ہوں گی یا نہیں۔ہیر نہیں جانتی تھی کہ لیلی بھی تو آنکھیں بند کیئے بیٹھی ہے۔
ڈاکٹر سے اجاذت لینے کے بعد شہرام آیا اور ہیر کو اپنی بانہوں میں اٹھایا۔ ہسپتال والے یہ منظر بہت اشتیاق سے دیکھ رہے تھے۔ہیر کو جیب میں بٹھا کر شہرام دوسری طرف آیا۔شہرام نے ہیر کا ہاتھ تھاما اور اسے کے ہاتھ پر اپنے لب رکھے۔
“تم نے جو آج کیا وہ آئیندہ مت کرنا ۔میں تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔تم تو میری زندگی کو۔”
ہیر نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا لی۔شہرام ڈرائیو کرتے ہوئے ساتھ ساتھ ہیر کو بھی دیکھ رہا تھا۔دو گھنٹے بعد یہ لوگ دوبارہ اسی کاٹیچ میں آگئے۔
“ہیر تم بیٹھو یہاں میں آتا ہوں۔”
ہیر کو بیڈ پر بے چھوڑ کر شہرام باہر گیا۔شہرام واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں گیلا کپڑا تھا۔گرم پانی بھی تھا ایک مگ میں۔
“کیا کرنے والے ہو تم۔”
“بے فکر رہو تمہارے ہاتھوں پر چوٹ لگی اس لیئے تمہاری مدد کرنے لگا ہوں۔تم مجھے بہت عزیز ہو میری باربی۔آئیندہ ایسی حرکت مت کرنا۔ہمارا گھر تیار ہورہا ہے اور آخری مراحل میں ہے۔جیسے ہی ہمارا گھر تیار ہوجاتا ہے ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔”
“میں تمہارے ساتھ رہوں گی یہ تمہاری خیام خیالی ہے۔اس قید سے نکلنے کے بعد میں سیدھا اپنی آپی کے پاس جائوں گی۔”
“چلی جانا مگر تھوڑی دیر کے لیئے۔بیوی اپنے شوہر کے گھر ہی اچھی لگتی ہے۔”
“بیوی۔۔۔۔۔بڑے آئے مجھے یہاں قید کرنے والے۔تم اور کچھ بھی نہیں کرسکتے ہو سوائے کمزور عورت کو زیر کرنے کے۔”
“آج تو یہ سب باتیں کر دی آئیندہ مت کرنا پاشا بیگم۔مجھے یہ باتیں نہیں پسند۔”
شہرام گرم گیلے کپڑے سے ہیر کا چہرہ صاف کر رہا تھا۔ہیر کو شہرام کے ہاتھوں کا لمس سخت برا لگ رہا تھا۔ہیر کو ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ سانپ کے ہاتھ ہوں۔شہرام باہر گیا۔ہیر بند دروازے کو دیکھ رہی تھی ۔”نجانے مستقبل کیا لانے والا تھا۔لیلی آپی نجانے کیا کر رہی ہوں۔مجھے تلاش تو کر رہی ہوں گی ۔کاش ہم یہاں سے بہت دور چلے جاتے جہاں اس خاندان کا کوئی فرد ہم سے نہ ملتا ۔ہم اپنی دنیا میں خوش تھے۔بابا میں اور شازل بھیا عالم بھیا۔آپ کتنا ہنسا کرتی تھی نہ آپی مگر اب تو آپ نے بھی ہنسنا چھوڑ دیا تھا۔ہمارا گھر کیسے ویران ہوگیا تھا نہ آپی۔کاش پاشا خاندان کبھی ہمارے نزدیک نہ آیا ہوتا۔کاش ہم اپنی دنیا میں خوش رہتے۔”
ماضی
شازل کا شاندار رزلٹ آیا تھا۔سب گھر والے باہر کھانا کھانے آئے ہوئے تھے۔شازل کے ساتھ بیٹھی ہوئی میرب مینیو کارڈ دیکھ رہی تھی۔
“اب کھانا منگوا بھی تو میرب۔ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی ہم باہر آتے ہیں اور اس میں تم جیسے بور بندے کا کیا کام ۔”
شازل نے مینیو کارڈ میرب سے لیا۔
“بابا دیکھیں نہ شازل ہمیشہ ایسی ہی حرکتیں کرتا پے۔آپ۔اسے کیوں نہیں کہتے کہ مجھے عزت دیا کرے۔میں بڑی ہوں اس سے۔”
“صرف دس منٹ۔یاد رکھو ہم دونوں جڑواں ہیں۔”
“یہی تو زندگی کا سب سے بڑا روگ ہے کہ تم میرے جڑواں بھائی ہو۔سچ میں لوگ تو اپنی بہنوں کے لیئے کیا کچھ کرے ہیں اور ایک تم ہو نہ کام نہ کاج دشمن اناج۔”
“جی بلکل میں تو مفت کی روٹیاں توڑتا ہوں اور اپنے بارے میں خیال ہے۔مجھ سے زیادی پیسے تو بابا تمہیں دیتے ہیں۔مجھے سمجھ نہیں آتی کس اینکل سے تم میری بہن لگتی ہو۔”
عالم اور ہیر نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے برگر ٹیبل پر رکھ کر ان دونوں کے ساتھ بیٹھ گئے۔
“دیکھ لیں ماما بابا یہ دونوں باز نہیں آتے۔آپ انہیں سمجھاتے کیا نہیں اب اتنے بڑے ہوگئے ہیں۔اب بھی یہ حرکتیں کریں گے۔سچ میں ان دونوں کے ساتھ تو باہر آنا ہی نہیں چاہیئے۔دیکھو لوگ کیسے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔”
عالم نے برگر خان کو دیتے ہوئے لیلی اور شازل کو گھورا۔
“تم تو بس ہی کر دو مسٹر کھڑوس۔تم سے امید ہی نہیں ہے تم میرا کسی لڑائی میں ساتھ دو گے۔بابا پتا ہے کالج میں اس کے ساتھ جاتے ہوئے مجھے لگا کہ چلو میرا بھائی ہے کالج میں میرا روب ہوگا ۔سارے خواب خاک میں ملا دیئے میرے۔الٹا میرے ٹیچرز سے آکر میری ہی رپورٹ لیتے ہیں محترم۔”
“تو تم سے کس نے کہا دیا مسٹر شازل خان کہ میں تمہاری کسی غلط کام میں حمایت کروں گا۔بابا کالج میں ہر طرف مسٹر شازل صاحب کے چرچے ہوتے ہیں۔جہاں کہیں لڑائی ہو وہاں یہ پایا جاتا ہے۔آپ بتائیں مجھے کیا ضرورت پڑی ہے اس کے پیچھے خود کو بدنام کرنے کی۔”
“جو تین ماہ بڑے ہو اس کا لحاظ کرتا ہوں ورنہ تمہیں بتاتا میں۔بابا آپ نے اسے سکول جلدی کیوں بھیجا تھا ۔”
“تم دونوں خاموش ہوگے یا نہیں۔عجاز آگیا ہوں میں تم دونوں کی لڑائیوں سے۔بھائی ہو مگر لڑتے ہو دیکھ کو تو ایسا لگتا ہے ساس بہو لڑ رہی ہیں۔”
خان نے ہنستے ہوئے دونوں کا مذاق بنایا۔
“بابا آپ ہر بار ایسا ہی کرتے ہیں۔ہمارے گھر میں نہ ایک ہی بندی ہے جسے ڈانٹ نہیں پڑتی وہ یہ چھوٹی ہے۔”
شازل نے ہیر کی طرف اشارہ کی جو اپنا جوس ختم کر رہی تھی۔
“تو کس نے کہا ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے کو بھیا۔میں تو کہتی ہوں کسی دن آپ کا ان دونوں کے ساتھ میچ کرواتے ہیں مزہ آجائے گا۔”
ہیر کا اشارہ لیلی اور عالم کی طرف تھا۔
“چلو چپ کرو اب سب۔ماہا آئیے ہم تھوڑی دیر کے لیئے گھوم آتے ہیں بچے بیٹھ کر باتیں کر رہے ہیں۔”
خان نے ماہا کا ہاتھ پکڑا۔
“صاف کہیں آپ کو ماما کے ساتھ اکیلے میں وقت گزارنا ہے۔بچے تو بچے یہاں تو ماما بابا بھی ہم سے دو ہاتھ آگے ہیں۔”
شازل کی بات پر خان نے اس کے سر پر تھپڑ لگایا۔سب ہنس رہے تھے مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کی یہ مسکراہٹ تو کچھ وقت لے لیئے ہے پھر غم ان کے خاندان میں آجائے گا۔
