Aseer-e-Dilbrum by Fariha Islam Readelle 50358 Aseer-e-Dilbrum Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Aseer-e-Dilbrum Episode 9
اسٹڈی میں بیٹھا وہ بے دریغ سیگریٹ پی رہا تھا واثق کی باتوں نے ایک بار اسے دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا۔
“خود کو چھپا لینے سے حقیقت چھپ نہیں جائے گی یشم”اسٹڈی میں داخل ہوتے وہ ایک بار تیار تھا اس سے مقابلہ کرنے کے لئے
“تو کیا چاہتا ہے واثق۔۔؟”
“میں صرف ایک ہی بات پوچھنا چاہتا ہوں یشم دل سے جواب دے مجھے اسکا۔”
“کیا؟”
“جب اس سے محبت تھی تو کہا کیوں نہیں ؟؟”
“کہنے سے کیا ہوتا کیا حقیقت بدل جاتی؟” سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے اس نے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کیا۔
“تو اسے بتاتا کہ تو اس سے محبت کرتا ہے تو ہوسکتا تھا اسکا دل بدل جاتا۔۔”واثق کی بات پر پیپر ویٹ پر چلتا اسکا ہاتھ تھما تھا۔
“محبت بھیک نہیں ہوتی ہے جو آپ مانگوں التجا کرو اور آپ پر ترس کھا کر آپ کی جھولی میں ڈال دی جائے محبت دل میں خود اترتی ہے وہ میرے نصیب میں ہوگی تو دنیا کی کوئی بھی رسم اسے مجھ سے دور نہیں کر سکتی۔۔”
“تو ان افسانوی باتوں میں الجھا رہے اور کل وہ رخصت ہوجائے گی۔
واثق کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کیا کر جائے۔ پتا نہیں کیسی محبت تھی اپنی محبت کو کسی اور کا ہونے دے رہی تھی۔
“رخصت نہیں ہورہی بس نکاح ہے شاید تو نے کارڈ غور سے نہیں پڑھا۔”
“یشم میں مذاق نہیں کر رہا جب اس سے محبت کرتا ہے تو اسے بتاتا نا اور اگر وہ نہیں مانتی تو اور بھی طریقے تھے ہمارے پاس”
“کیسے طریقے ؟”
“یشم تو اتنی طاقت تو رکھتا ہی ہے نا کہ اپنی محبت کو حاصل کر سکے سیدھے طریقے سے نہیں تو دوسرے طریقے سے۔”
“تو تم چاہتے ہو میں اسے زبردستی اپنی زندگی میں شامل کروں ؟”اپنی جگہ سے اٹھتا وہ واثق کے سامنے آیا۔
“ہاں بعد میں سب ٹھیک ہوجاتا ہے وہ تجھ سے محبت کرنے لگے گی زندگی نارمل ہو جائے گی”وہ اپنی بات پر ڈٹا ہوا تھا۔
“نارمل ہو جائے گی؟۔۔۔۔۔تو میرا ماضی بھول گیا ہے؟”
“ساری کہانیاں مختلف ہوتی ہیں یشم یوسفزئی تمہیں یہ بات سمجھنی ہوگی”
“میں سمجھ بھی جاؤں تو اسے زبردستی اپنی زندگی میں کبھی نہیں لاؤں گا کیونکہ زبردستی کے رشتہ تو بن جاتا ہے مگر محبت و احترام نہیں رہتا اور اسکی نظروں میں اپنے لئے نفرت دیکھنے سے بہتر یشم یوسفزئی مرنا پسند کرے گا”اپنے لفظوں پر زور دیتے ہیں وہ اسے خاموش کرگیا۔
“تو کیا کہہ رہا تھا اسے حاصل کرلوں تجھے لگتا ہے واثق یہ میرے لئے ناممکن ہے؟ لیکن میں ایسا نہیں کر رہا جانتا ہے کیوں؟ کیوں میں نے اس سے اپنی محبت چھپائی اور کیوں اسکی آنکھوں میں اپنے لئے ایک احساس دیکھتے ہوئے بھی میں پتھر بنا رہا جاننا چاہتا ہے؟” اسکی آخری بات پر واثق کا جھکا سر ایک جھٹکے سے اٹھا تھا۔
تو کیا وہ جانتا تھا کہ بنفشے اسکے لئے فیلنگز رکھتی ہے؟
“میں جانتا تھا مگر یہ وہ راز تھا جو اسکا تھا وہ کسی اور سے منسوب تھی اور پتا ہے واثق اذیت کیا ہوتی ہے جب آپ کو پتا ہو آپ کو کسی اور کا ہونا ہے مگر پھر بھی آپ کو محبت ہو جائے وہ اپنے ماں باپ کا مان رکھنے والی میں اسے ہارتے نہیں دیکھ سکتا۔
اسے لگتا ہے یہ ایک طرفہ محبت ہے اور یہی چیز اسے آگے بڑھنے میں مدد کرے گی اور میں چاہتا ہوں وہ اپنا سر بلند کرتے آگے بڑھے۔ میں ایک ٹوٹی ہوئی شخصیت کا انسان اسے کچھ نہیں دے سکتا مگر ہاں میرا یہ خود سے وعدہ ہے اس کے ہر کڑے وقت میں یشم یوسفزئی اسکے ساتھ رہے گا ظاہر یا چھپ کر مگر ریے گا ضرور”
“یشم میں ایک بار پھر کہوں گا ابھی بھی وقت ہے بعد میں پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا “
“میں ایک بار کہوں گا اس کے بعد نہیں ہمارے نصیب میں جو ہوتا ہے وہ ہی ہمیں ملتا ہے اگر میرے نصیب میں اسکا ساتھ ہے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمارے بیچ نہیں آئے گی اور اگر ہمارا ساتھ نہیں لکھا تو میں ایڑی چوٹی کا بھی زور لگا لوں ناکام رہوں گا۔”
“ایک کوشش تو بندہ کرتا ہی ہے نا یشم”
“کوشش ضرور کرتا واثق خدا کی قسم کوشش کرتا اگر وہ منسوب نا ہوتی میری ایک کوشش اسکی زندگی برباد کردے گی اس پر اسکے اپنے سوال اٹھائیں گے اور میری محبت اتنی خود غرض تو ہر گز نہیں ہے”
اسکی باتوں نے واثق کو لاجواب کردیا تھا اسکے پاس اب بچا کیا تھا کہنے کو۔
“مجھے کبھی کبھی تو انسان نہیں لگتا تھا یشم ایک روبوٹ۔۔ دنیا جسے خودغرض کہتی ہے وہ ہیرا ہے “اسکے گلے لگتے وہ اسے خود میں بھینچ گیا۔
______________
مہندی لگے ہاتھوں دیکھتے اس نے سامنے رکھا نکاح کا جوڑا تھا کچھ دیر میں پارلر جانا تھا۔
“کاش میں آپ کا دیکھ سکتی “
“تم ٹھیک ہو بیا؟”
“ہاں ٹھیک ہوں”ہلکا سا مسکراتے اس نے ایک بار پھر اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔
“نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے تمہیں وہاج اچھا لگنے لگے گا بیا”آسیہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے اسے سمجھائے۔
“ایک بار جو دل کو پسند آ جائے نا آسیہ اسکے بعد دل کو کوئی اور پسند نہیں آتا مگر دیکھو مجھے وہاج کو پسند کرنا ہے یہ میرا نصیب ہے ایک طرفہ محبت ایسی ہی ہوتی ہے انسان کو اندر سے کھا لیتی ہے”
“بیا مت کرو ایسے خدا کا واسطہ ہے”اسے یوں ٹوٹا دیکھ آسیہ کا دل دکھا تھا۔
“جب وہ میرے نصیب میں تھا ہی نہیں تو کیوں میرے دل میں اسکی جگہ بنی میں نے تو آج تک کسی کو اس دل تک رسائی نہیں دی تو کیوں وہ کچھ نا کرتے ہوئے بھی اس دل تک آگیا آسیہ میرے سادہ سی زندگی میں بھونچال آگیا ہے میرا دل کرتا ہے میں پھوٹ پھوٹ کر روؤں”اسکے گلے لگ کر روتے وہ اپنا سارا غبار نکال گئی۔
“سب ٹھیک ہوجاؤ گا اللہ پر یقین رکھو میرے جان اب رونا نہیں جلدی سے آجاؤ پارلر بھی جانا ہے”اسکا گال تھپھتاتے وہ بجھے دل سے باہر آگئی اسے وقت دینا بہت ضروری تھا حد سے زیادہ اسے خود کو اکیلے اس وقت سے نکالنا تھا۔
_____________
ہال اس وقت مہمانوں سے بھرا پڑا تھا بارات آچکی تھی اور نکاح کی رسم ادا ہوگئی تھی۔
ڈریسنگ روم میں بیٹھے اس نے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھا دل میں ایک عجیب سی بے چینی نے ڈیرا جمایا ہوا تھا۔
“کیا ہوا پریشان کیوں لگ رہی ہو بھئی زرا مسکراؤ.”اس کی دلی کیفیت سے انجان آسیہ نے اسے کہا مگر چہرے پر مسکراہٹ آ ہی نہیں سکی۔
جب دل میں ویرانیوں کا راج ہو تو باہر کا شور بھی کچھ نہیں کر پاتا۔۔
“آسیہ آپی امی کہہ رہی ہیں آپی کو لے آئیں ۔۔” اپنا شرارہ سنبھالتے اس کی چھوٹی بہن اندر آئی تو باہر سے حکم ملتے ہی وہ اور آسیہ اسے لئے باہر اسٹیج کی جانب بڑھیں تھیں۔
کمرے کے فلش اسکے چہرے پر پڑ رہے تھے کئی نگاہوں میں ستائش تھی تو کہیں رشک۔۔
دولہن بن کر اسکا روپ ہی الگ تھا وہ کسی ریاست کی شہزادی لگ رہی تھی ہمیشہ سے خود کو سنبھال کر رکھا تھا زمانے کی رنگینیوں سے بہت دور۔۔۔
اپنے دل کو مار کر اس نے یہ قربانی دی تھی ۔
اسے لے کر اسٹیج پر بیٹھایا ہی گیا تھا کہ دولہا کی آمد کا شور مچ گیا اور اسکی آمد کا سن سجی سنوری اس دولہن کا دل ہتھیلیوں کی دھڑکا تھا۔
وہ پوری شان سے اسٹیج پر آکر اسکے سامنے کھڑا ہوا تو لوگوں نے ان کی جوڑی کو سراہا۔
مگر یہ سراہنا محض کچھ وقت کا تھا۔
“اپنی آوارگی چھپانے کو میں ہی ملا تھا تمہیں مگر اچھا ہوا وقت رہتے مجھے تمہاری بدکاری کا علم ہوگیا۔۔” لوگوں کے شور کو چیرتی اس شخص کی تیز آواز گونجی تو سب کو سانپ سونگھ گیا۔۔
“یہ یہ کیا بکواس کررہے ہو؟” سب سے پہلے عزیر آگے آیا تھا۔
“بکواس نہیں حقیقت ہے اپنی بدکردار بہن کو میرے پلے باندھتے شرم نہیں آئی ” اس کے منہ پر تصویریں پھینکتے اس نے زہر اگلا تو مہندی میں سجے ہاتھ کپکپائے تھے۔۔
اس میں ہمت نہیں تھی کہ اپنے لئے کچھ بول سکتی۔۔
“دماغ خراب ہوگیا ہے تیرا کیا بکواس کر رہا ہے کیا ہے یہ سب۔۔”اتنے لوگوں کے سامنے اس طرح کا تماشہ۔۔
غصے سے کھولتے عبدالرحمن صاحب آگے آئے مگر وہ تو جیسے سب سوچ کر بیٹھا تھا۔
“میں مزید اس تماشے کا حصہ نہیں بن سکتا اور نا اسے اپنی بیوی کی حیثیت سے قبول کرسکتا ہوں اس لئے میں اسے آپ سب کی موجودگی میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں۔۔”, اسکے منہ سے جملے ادا ہوتے ہی ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے منہ پر پڑا تھا۔
اسکا باپ دل تھام کے ایک طرف لڑکھڑایا وہیں اس کی ماں نے اپنی آنکھوں سے قیامت دیکھی۔
کچھ لمحے پہلے جو تین لفظ اسے اس شخص سے باندھ گئے تھے اب یہ تین لفظ اسے سہاگن سے طلاق یافتہ و بدکردار بنا گئے تھے۔
یہ صدمہ اتنا شدید تھا کہ وہ بنا کچھ بولے ہی ہوش وحواس سے غافل ہوئی تھی۔۔۔
“بیا” اسکے گرنے پر سب اسکی طرف بڑھے تھے لمحوں کا کھیل تھا قیامت آکر گزر گئی تھی۔
کوثر بیگم کو سینے سے لگائے زین کی آنکھیں نم تھیں وہ کچھ نہیں کر سکا تھا اپنی بہن کے لئے
اسی ہال کے کونے میں کھڑی آرزو مشارب دل کھول کر مسکرائی تھی اسکی نظریں زین پر تھیں اسے دیکھ آرزو کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ آئی۔
“چچ مجھے برا تم نے صرف میرے سامنے کہا تھا مگر دیکھو تمہاری بہن کو برا دنیا کے سامنے بولا گیا ہے اب میں بھی دیکھتی ہوں کیسے فخر کرو گے اپنی بہن پر تم”خود سے کہتے وہ جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس چلے گئی۔
______________
“یہ کیا کر کے آیا ہے تو وہاج کچھ ہوش ہے سب تباہ و برباد کردیا تو نے”سلمہ بیگم نے رو رو کر پورا گھر سر پر اٹھا لیا تھا۔
“اماں تم شکر کیوں نہیں مناتی کہ اس آوارہ سے جان چھوٹ گئی وقت رہتے مجھے اس کے کرتوت پتا چل گئے ورنہ میرے ساری زندگی برباد ہوجاتی۔٫”
“بس کردے وہاج بس کرے تو کیا سمجھتا ہے ہم کچھ جانتے نہیں اس کے اوپر الزام لگا کر تو اس رشتے سے آزاد تو ہوگیا مگر اس پر اتنی بڑی تہمت لگائی ہے جانتا ہے کیا عذاب ہے تیرے لئے “اسکا گریبان پکڑتے سلمہ بیگم نے اسے آئینہ دیکھایا تو وہ ساکت ہوگیا
“تو اپنے مفاد میں اتنا گر جائے گا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی اس سے اچھا تھا کہ میں بے اولاد رہتی یا اس یتیم کو ہی گود لے لیتی کم از کم زندگی میں سکون تو ہوتا”
“واہ امی واہ کیا کہنے اس دو کوڑی کے شخص سے میرا موازنہ کر رہی ہو آج مجھے فخر ہے خود پر جو کیا میں نے ٹھیک کیا اس کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا اور ہاں اب ضرورت نہیں ہے مجھے تمہاری یا تمہارے شوہر کی جا رہا ہوں میں”
غصے سے کہتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
