Aseer-e-Dilbrum by Fariha Islam Readelle 50358 Aseer-e-Dilbrum Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Aseer-e-Dilbrum Episode 3
پڑھائی ختم ہوچکی تھی اور آگے پڑھنے کا اسکا ارادہ اسکی شادی نے ختم کردیا تھا۔
لیکن وہ خوش تھی ایک مہینے کے لئے ہی سہی مگر وہ جاب کرنے والی تھی عارفہ عمرہ کرنے جارہی تھی اور بابا سے اس نے ہی پرمیشن لی تھی جانے سے پہلے وہ اسے اپنی جگہ پر سیٹ کرکے جانا چاہتی تھی تاکہ اسے کام آجائے اس لئے آج وہ اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار تھی۔
بلیک شرٹ اور ٹراؤزر کے ساتھ میچنگ دوپٹہ لئے وہ بالکل تیار تھی ۔
“اپنا خیال رکھنا اور محتاط رہنا بیٹا عارفہ ایک عرصے سے جاب کر رہی ہے اس لیے میں نے اور تمہارے بابا نے ہامی بھر لی مگر اپنی حفاظت خود کرنی ہے کچھ وقت بعد شادی ہے تمہاری تمہاری تائی تو بہت خوش ہیں اس نوکری کا سن کر اور یہی بات مجھے مطمئن کر رہی ہے”
“آپ بے فکر رہیں امی ایسا کچھ نہیں ہوگا میں بہت خوش ہوں سچ میں آپ سوچ بھی نہیں سکتیں ” خوشی اسکے ہر ایک انداز سے عیاں تھی۔
“اچھا اب جلدی سے چادر کو عارفہ آتی ہی ہوگی”اسکا ماتھا چومتے وہ باہر بڑھ گئیں تو ان کے جاتے ہی اس نے ایک بار پھر اپنا جائزہ لیا جلدی سے چادر اوڑھ کر وہ باہر آئی تو سامنے ہی عارفہ صوفے پر براجمان تھی اسے دیکھتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھی تو بنفشے بھی اسکے ہم قدم ہوئی۔
“عارفہ آپی تھینک یو سو مچ”
“کوئی تھینک یو نہیں تم میں تو اتنی ہمت ہے نہیں کہ پھوپھا کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کرو اس لئے میں نے ہی یہ کام سر انجام دے دیا۔۔”
عارفہ کی بات پر وہ سر ہلا کر رہ گئی۔
گاڑی آفس کی بلڈ بلڈنگ کے سامنے رکی تو اتنی بڑی بلڈنگ دیکھ اسکے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے تھے۔
کراچی میں رہنے کے باوجود وہ سوائے گھر سے کالج اور کالج سے گھر کے کہیں نہیں گئی تھی۔۔
عارفہ کی ہمراہی میں اندر آتے وہ کافی متاثر ہوئی آفس کا ایک ایک کونہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔
کانچ کی دیواروں کے پیچھے کام کرتے لوگ۔۔
لفٹ کی مدد سے وہ لوگ اوپری منزل پر آئے تو عارفہ اسے لئے ایک کمرے میں آئی جہاں عارفہ کی ڈیکس تھی اور اسی کے ساتھ سامنے گلاس وال جس کے پیچھے سے اسے کچھ بھی نظر نہیں آیا۔
“آپی یہ اس وال کے پیچھے کیا ہے؟”
“یہ میرے باس کا آفس ہے اور تم ان کے سارے کام کرنے کی پابند ہو جو جو کام میں کرتی ہوں وہ تمہیں کرنے ہونگے۔۔۔”
عارفہ نے بتانے کے ساتھ ساتھ ایک ڈائری اسکے حوالے کی۔۔
“اور ایک بات انہیں کام میں کوئی غلطی برداشت نہیں بندے کو کھڑے کھڑے فائر کردیتے ہیں اوپر سے اس جیسا کھڑوس انسان پورے اگست
پورا دن اسکا ہر چیز کو سمجھنے میں لگا تھا وہ خوش تھی پرجوش تھی وہیں ایک ڈر بھی تھا مگر وہ اس ایک مہینے میں اپنی خواہش کو پورا کرنا چاہتی تھی آگے بڑھنے کی خواہش تو شاید کبھی پوری نا ہو سکے مگر وہ یہاں خود کو ثابت کرنا چاہتی تھی اور اس بات کا اس نے خود سے وعدہ کیا تھا۔۔
______________
ریسٹورنٹ میں بیٹھا وہ مسلسل موبائل کو دیکھ رہا تھا جیسے کسی کے میسج کا انتظار ہو ۔
“اففف ایک تو ان امیر زادیوں کا بھی کوئی حال نہیں بندہ انتظار کرتے کرتے سوکھ جائے۔۔” گھڑی کو دیکھتے وہ بیزار سی شکل بنائے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا جب سامنے سے اسے وہ آتی نظر آئی۔
اسے دیکھتے ہی چہرے پر چھائی بیزاری فوراً غائب ہوئی۔ چہرے پر مسکراہٹ لاتا وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔
“وہاج تم تو واقعی وقت کے پابند ہو ” اپنی سیٹ پر بیٹھتے وہ مسکرا کر بولی تو وہ ہنس دیا۔۔
“بس کیا کریں ڈرائیور آج چھٹی پر تھا تو میں خود ہی نکل آیا تیز ڈرائیو کی اور سب یہاں۔۔” خوش مزاجی سے کہتے اس نے سامنے بیٹھی جدید تراش خراش کے کپڑوں میں ملبوس سنبل کو دیکھا جو ایک ادا سے بال جھٹکتے پیچھے کو ہو کر بیٹھی تھی۔
اسکے ہاتھ میں موجود کھڑی چیخ چیخ کر اپنی قیمت بتا رہی تھی۔۔
“وہاج یہ تمہارے لئے میں دبئی سے لائی تھی مجھے امید ہے تمہیں پسند آئے گا یہ گفٹ” گفٹ بیگ اسکے سامنے رکھتے وہ وہاج کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولتے اسے کرنٹ سا لگا گئی۔
“ارے جان اس کی کیا ضرورت تھی تم آگئیں واپس یہی میرے لئے بہت ہے ویسے میں نے سوچ لیا ہے اس بار کینیڈا ٹور پر جاؤ گا تو تمہیں ساتھ لے کر جاؤ گا۔۔” اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کرتا وہ خوشگوار لہجے میں کہتا کھانا آرڈر کرنے لگا۔
“بل میں پے کرونگی “اس سے پہلے وہ کچھ آرڈر کرتا وہ فوراً سے بول اٹھی اور بھلا اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں۔
تھوڑی تگ ودو کے بعد وہ راضی ہوگیا۔
اور پھر اس ملاقات کے بعد اس نے کون سا دوبارہ اس لڑکی سے ملنا تھا۔
اچھا خاصا ڈنر اور پھر اس سے مہنگا ترین تحفہ وصول کرتے وہ خوش باش سا گھر میں داخل ہوا مگر سامنے بیٹھے اپنے باپ کو دیکھتے ہی اس نے چہرے کے تاثرات بگڑے۔
“یہ وقت ہے گھر آنے کا ٹائم دیکھا ہے کیا ہورہا ہے اگر یوں ہی آوارہ گردی کرنی ہے تو بتا دے مجھے تاکہ میں دوسروں کے آگے شرمندہ نا ہوں تجھے کہا تھا سیٹھ کے پاس چلے جانا تیری نوکری کی بات کی ہے مگر مجال ہے جو تجھے کچھ سمجھ آجائے۔۔۔”
“بس کردو یار ابا ابھی گھر میں آیا بھی نہیں ہوں تم شروع ہوگئے “
“اور تو کیا کروں شادی ہے تیری اور تجھے کام نہیں کرنا کیا کھلائے گا اسے؟” ان کا بس نہیں چل رہا تھا آج وہاج کی چھترول کر جائیں
“میں نے نہیں کہا تھا کہ میری شادی اس سے کرو اب آئے گی تو خود ہی کمائے اور کھائے اماں بھی تو سلائی کرتی ہیں وہ بھی کرلے گی “وہ ڈھیٹ بنا آج ہر حد پار کر رہا تھا۔
“میرے سر پر لاد دیا ہے اسے ارے عجیب کوئی دبو سی تو ہے کوئی ڈھنگ نہیں ہے نا بات کرنے کی تمیز ہے اور لے کر میرے گلے باندھ رہے سے چپ ہوں تو ابا چپ ہی رہنے دو خود لا رہے ہو تو خود ہی کھلانا اسے میری زمہ داری نہیں ہے وہ۔۔”تڑخ کر انہیں کہتا وہ سیڑھیاں چڑھتا اوپر چلے گیا اور اسکی بات پر وہ سر تھام کر رہ گئے۔
“وہاج کے ابا پریشان نا ہوں دیکھنا شادی کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔” ان کو پریشان دیکھ انہوں نے دلاسہ دیا۔
لوگ اپنے بگڑے بیٹے کی شادی کروانے پر باضد ہوتے ہیں کہ آنے والی اسے ٹھیک کردے گی مگر اس چکر میں آنے والی کا پورا مستقبل روتے سسکتے گزرتا ہے اور یہی بات یہاں لوگوں کو سمجھ نہیں آتی اپنی خراب اولاد کو سدھارنے کے چکر میں وہ دوسروں کی بیٹی کی زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔
_________________
اپنے آفس میں بیٹھا وہ لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے بیٹھا تھا کچھ دیر بعد اس کی ایک میٹنگ تھی اہم پوائینٹس پر نظر ڈالتے اسنے انٹر کام سے کافی منگوائی اور واپس سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
ایک ہاتھ گال پر ٹکائے دوسرے سے کی بورڈ چلاتے وہ حد سے زیادہ مصروف تھا جب ڈور ناک ہونے کی آواز نے اسکی توجہ آہنگ کام سے ہٹائی تھی۔
“یس” باہر والے کو اندر آنے کی پرمیشن دیتا وہ واپس سے اپنے کام میں مصروف ہوا تھا جب کسی نے اسکی ٹیبل پر کافی کا مگ رکھا تھا۔
اور کافی کا مگ رکھتے کپکپاتے ہاتھوں نے بہت اچانک ہی اسکی متوجہ اپنی طرف کھینچی تھیں۔
اسنے سر اٹھا کر سامنے دیکھا جو جیسے اسے لگا وقت تھم سا گیا ہے۔
کی بورڈ پر چلتا اسکا ہاتھ ساکت ہوا تھا۔
وہ سامنے تھی کیا یہ خواب تھا یا اسکا وہم وہ سمجھ نہیں سکا مگر اسے یوں اپنے اتنے قریب دیکھ وہ سانس لینا بھول گیا تھا۔
“سر آپ کی کافی” اسکی نظروں سے گھبراتے اس نے جلدی سے کافی اسکے سامنے رکھی تھی وہ نہیں جانتی تھی کیوں مگر اس شخص کی نظروں نے اسے اچانک سے بوکھلا دیا تھا۔
کافی رکھتے ہی وہ جیسے ہی واپسی کے لئے تو اسے ہوش آیا اپنی بے اختیاری پر شرمندہ ہوتے یشم نے اسے پکارا۔
“مس آپ یہاں مس عارفہ کہاں ہیں؟” اتنا نرم لہجہ اگر کوئی دوسرا سنتا تو یقیناً بت ہوش ہوجاتا۔
“سر وہ۔۔وہ مس عارفہ عمرہ کرنے۔۔”
“اٹس اوکے میں سمجھ گیا” اسکی گھبراہٹ دیکھتے وہ اسے ٹوک گیا۔
“آپ جاسکتی ہیں” اجازت ملتے ہی وہ تیر کی تیزی سے باہر اپنی سیٹ پر آئی تھی دل بری طرح دھڑک رہا تھا جو کچھ عارفہ نے اسے باس کے بارے میں بتایا تھا اسے جاننے کے بعد اسکا خوفزدہ ہونا بنتا بھی تھا
“یا اللّٰہ یہ تو دیکھنے میں ہی اتنے کھڑوس ہیں ۔” دل پر ہاتھ رکھتے اس نے خود کو پرسکون کیا اور پھر سارا دھیان اپنے کام پر لگایا عارفہ کی ساری باتوں پر دھیان میں رکھتے اس نے پھر سے اپنا کام شروع کیا تھا۔
______________
“سر آپ نے بلایا۔۔” کمرے میں داخل ہوتے بیگ صاحب نے اس سے سوال کیا جو ناجانے کیا سوچنے میں مصروف تھا ان کی آواز پر چونکا۔
“اہا۔۔ہاں۔۔ بیگ صاحب یہ جو باہر لڑکی ہے یہ کون ہے مطلب پچھلے ہفتے تو یہ نہیں تھیں”؟
“سر میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ آپ کی اسسٹنٹ جو ہے وہ عمرہ کرنے جارہی تو میں نے آپ سے بات کی تھی کہ وہ اپنی جگہ اپنی کزن کو بھیجیں گی۔۔” مسٹر بیگ کے یاد دلانے پر اسے یاد آیا اسے یہ پتا تھا کہ اس کی اسسٹنٹ جارہی ہے مگر اسکی جگہ کون آئے گا اس بات کا اسے زرا بھی اندازہ نہیں تھا۔
“بنفشے عبد العزیز آپ کی اسسٹنٹ ہیں جب تک عارفہ نہیں آجاتی”
“ہممم ٹھیک کام سمجھا دیجئے گا انہیں تاکہ کوئی مسئلہ نا ہو۔۔”انہیں کہتا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر گلاس ونڈو تک آیا جہاں سے باہر کا منظر صاحب نظر آرہا تھا۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا اسکی موجودگی کو یہاں پر ۔
سامنے دیکھتے اسے وہ منظر یاد آیا جب اس نے پہلی بار اسے دیکھا تھا۔
ائیرپورٹ سے سیدھا وہ آفس کی طرف نکلا تھا جب گاڑی اچانک رکی تھی۔
ڈرائیور گاڑی چیک کرنے باہر نکلا تو اسنے غیر ارادی طور پر ادھر ادھر دیکھا تو ایک جگہ آکر اسکی نظریں ٹہر سی گئی تھیں
کتاب کا سایہ کئے وہ معصوم سا چہرہ اسکی نظروں میں آکر ٹہر سا گیا تھا۔
وہ بار بار پریشانی سے کبھی گھڑی دیکھ رہی تھی تو کبھی روڈ کو۔۔۔
آنکھوں پر ٹکا چشمہ بار بار ٹھیک کرتے وہ یشم یوسفزئی کے دل میں ایک عجیب سا احساس بیدار کر گئی۔
وہ جو اپنی دنیا کا بادشاہ تھا جس کے آگے کوئی ٹک نہیں سکتا تھا آج ایک معمولی سے لڑکی کی ایک جھلک نے اسے ساکت کیا تھا وہ سمجھ نہیں سکا کہ ایسا اس میں کیا ہے مگر ہاں وہ ٹھٹکا تھا وجہ وہ جان نہیں سکا مگر وہاں سے نکلنے سے پہلے وہ اپنے بندے کو ایک کام کر لگا گیا تھا۔
اگلے دن اسکے لئے شیلٹر وہاں موجود تھا۔
وہ اسے بھولنا چاہتا تھا مگر اس کا بار بار یشم کے سامنے آنا۔۔
وہ اس کھیل کو سمجھ نہیں پارہا تھا جو قدرت نے اسکے کھیلا تھا۔
اس کے وہم و گمان میں نہیں تھا جس لڑکی کو دیکھ وہ ٹھکٹکا تھا وہ یوں آج اسکے روبرو ہوگی مگر وہ اسے کچھ کہہ نہیں سکے گا بنفشے کی فائل ابھی بھی اسکے پاس تھی مگر وہ اسے کھول نہیں سکا۔
اسے یوں دیکھ وہ ناجانے کیوں واپس سے اپنے خول میں سمٹا تھا۔
“نہیں یشم یوسفزئی محبت نہیں کرنی یہ ایک لفظ نہیں ہے یہ وہ زہر ہے جو تمہیں مار دے گا۔۔” اسکی فائل سے نظر ہٹاتے اس نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔۔
