Aseer-e-Dilbrum by Fariha Islam Readelle 50358 Aseer-e-Dilbrum Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Aseer-e-Dilbrum Episode 15
آنکھیں موندے وہ اپنی آنکھوں پر وہ اسکا سلگتا لمس محسوس کر ساکت رہ گئی تھی۔
“جج۔۔۔جھوٹ مت بب۔۔بولیں آپ”اسکے پیچھے ہٹنے پر لڑکھڑاتے لہجے میں کہتے وہ یشم یوسفزئی کے ماتھے پر بل ڈال گئی۔
“کیا جھوٹ لگتا ہے آپ کو ؟”انگلیوں کی پوروں سے اسکے ماتھے پر سجی بندیا جو چھیڑتے وہ اسے پزل کر رہا تھا
“آپ۔۔کی باتیں سب جھوٹ۔۔۔ کک۔۔۔کوئی محبت نہیں ہے”اسکے ہاتھ جھٹکتے وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر سسک اٹھی اور اسکی اس حرکت نے نے یشم کو پاگل کیا تھا۔
اپنا ہاتھ اسکی کمر میں ڈالے اس نے اچانک اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ جو اس حملے کے لئے تیار نہیں تھی سیدھا اسکے سینے سے ٹکرائی۔۔
“آپ کو ایسا لگتا ہے محبت نہیں ہے آپ کو لگتا ہے ترس ہے وہ بھی ٹھیک ہے سب مان لیتا ہوں مگر آج ایک بات کہوں گا آخری بار “اسکے گال پر سلگتے لب رکھے وہ سرگوشی میں بولا تو بنفشے کو اپنا گال دھکتا محسوس ہوا۔
“میں صرف ایک ہی لڑکی سے محبت کرتا ہوں اور وہ ہے بنفشے یوسفزئی اور یہ بات آپ کبھی مت بھولیئے گا کیونکہ جب جب آپ بھولنے لگیں گی میں آپ کو اچھے سے یاد دلا دوں گا کہ میری زندگی میں آپ کی کیا اہمیت ہے۔۔”
اسکی نتھ پر لب رکھتے یشم نے جھک کر اسکی ٹھوڑی کو لبوں سے چھوا تو اسکی رہی سہی جان بھی ہوا ہوئی تھی اس سے پہلے وہ بے ہوش ہوتی یشم نے اسے خود سے دور کیا تھا۔۔
“جائیں فریش ہو جائیں ورنہ میں خود پر سے کنٹرول کھو دوں گا”زومعنی لہجے میں کہتے وہ پیچھے ہوا تو بنا وقت ضائع کئے وو چھپاک سے واشروم میں بند ہوئی تھی
اسکے یوں غائب ہونے پر گہرا سانس بھرتے اسنے بالوں میں ہاتھ چلایا تھا۔
اپنے کمرے لئے وہ ڈریسنگ میں بند ہوا تھا اور جب وہ چینج کر کے باہر آیا تو وہ ابھی تک واشروم میں تھی۔
“بنفشے کیا آج رات وہیں سونے کا ارادہ ہے آپ جا تو بتادوں رات میں واشروم میں کاکروچ آتے ہیں اور چھوٹے بھی نہیں کافی بڑے بڑے”دانتوں تلے لب دبا کر کہتا وہ مزے سے بیڈ پر بیٹھا تھا۔
اور جو اندر دیوار کے سہارے کھڑی تھی اسکی بات پر بے اختیار اچھلی۔
کاکروچ سے اسکا ڈر کسی سے ڈھکا چھپا تو نہیں تھا۔۔
“رہ لیں وہیں مجھے بعد میں مت بولئے گا کہ میں نے بتایا نہیں”ایک بار پھر اسکی آواز بنفشے کے کانوں سے ٹکرائی تو ناچاہتے ہوئے بھی دروازہ کھولتی باہر آئی تو اسے بیڈ پر براجمان پایا۔
“آجائیں رات بہت ہوگئی ہے تھک گئی ہونگی نا”بیڈ کے دوسرے سائیڈ اشارہ کرتے وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھا تو اس نے ایک نظر اسے دیکھا۔
“یہ شادی میری مرضی سے نہیں ہوئی تو برائے مہربانی مجھ سے دور رہیے گا اب”غصے سے اسے وارن کرتی وہ صوفے پر لیٹی تو یشم نے صوفے پر موجود اسکے نازک سے وجود کو دیکھا اور پھر وہ آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔
“مجھے پتا ہے آپ کی مرضی سے نہیں ہوئی شادی مگر میری مرضی سے تو ہوئی ہے نا تو آپ مجھ سے دور رہ لیجئے گا مگر میں نہیں رہوں گا”اپنی بات مکمل کرتے اس نے جھک کر اسے بازوؤں میں بھرا تو وہ حواس باختہ ہوگئی اس سے پہلے وہ چیختی یشم نے نرمی سے اسکے لفظوں کو قید کیا تھا۔
اسکے لمس کی حدت پر بنفشے نے بے اختیار اسکی شرٹ کو مٹھی میں جکڑا تھا۔
اسے بیڈ پر لیٹتے وہ اس پر ابر بن کر چھایا تھا۔۔۔
“آئندہ مجھ سے دور ہونے کی کوشش مت کیجئے گا جتنا دور رہنا تھا آپ رہ چکی ہیں مگر اب مجھ سے دور جانے کا سوچا بھی تو یاد رکھئے گا میں آپ کی سانسوں تک پر اختیار رکھتا ہوں مجھے مجبور مت کریں بنفشے کہ میں وہ کرجاؤں جس کے بعد آپ اپنے کئے پر پچھتاتی رہیں”اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکائے وہ شدت بھرے لفظ اسکے کانوں میں انڈیل رہا تھا اور اس شخص کی دیوانگی بنفشے کے اوسان خطا کر رہی تھی بھلا وہ کب ایسے اسکے سامنے آیا تھا۔۔۔
“مزید تنگ نہیں کرونگا اور نا آپ مجھے کریں”اسکے برابر لیٹتے یشم نے اسکا سر اپنے سینے پر رکھ اسے خود میں سمویا تھا۔۔”
“بے فکر ہو کر سوجائیں آج سے آپ کی ساری تکلیفیں میری ہیں کوئی برا سایہ بھی آپ کو چھو نہیں سکتا کیونکہ اب آپ کی ڈھال یشم یوسفزئی ہے جو صرف اور صرف بنفشے کا ہے”اسکے ماتھے پر مہر ثبت کر وہ آنکھیں موند گیا اور اسکی قربت کی آنچ میں دھکتی وہ نم آنکھیں موند گئیں وہ بھلا کب ایسے التفات کی عادی تھی۔۔۔
_________
اسپتال کے بیڈ پر پڑی وہ زخموں سے چور تھی خود میں اتنی سکت تک نہیں تھی کہ اٹھ کر پانی پیتی۔۔
سوائے مشارب صاحب اور چند ایک لوگوں کے اسکے ایکسیڈنٹ کی خبر کسی کو نہیں تھی کیونکہ وہ یہ سب افورڈ نہیں کر سکتی تھی اور سب سے وہاج کو اسکی خبر نہیں ہونی چاہیے تھی اس لئے اسکے ایکسیڈنٹ کی خبر کو چھپا لیا گیا تھا۔
“تم ٹھیک ہو آرزو ؟”اسکے پاس بیٹھی ردا اسکے کرہانے پر ایک دم سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔
“میں ڈاکٹر کو دیکھتی ہوں “اسکے نظروں کے اشارے پر وہ جلدی سے باہر بھاگی تھی
تبھی سامنے سے آتے زین کو دیکھ اسکے قدم ٹھٹکے تھے۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو زین؟”ردا ہر گز نہیں چاہتی تھی کہ اسے آرزو کے بارے میں پتا چلے۔
“دوست سے ملنے آیا ہوں مگر تم یہاں ؟”وہ جان کر انجان بن گیا تھا۔
“میں یہاں ایک جاننے والے کے پاس آئی تھی اللّٰہ حافظ “بنا وقت ضائع کئے وہ فوراً وہاں سے نکلی تو وہ آہستہ سے چلتا اس کمرے تک آیا تھا جہاں آرزو موجود تھی۔
دروازے سے ہی اسے دیکھتے وہ واپس آگیا بنا کچھ کہے۔
وہ نہیں جانتا تھا کیا چیز اسے بے چین کر گئی تھی وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ یہاں آیا کیوں؟؟
ہاسٹل آکر بھی وہ بے چین ہی رہا اس نے جتنا برا کیا تھا اسکے باوجود وہ اسکے لئے دل میں ہمدردی رکھ رہا تھا اور یہی بات اسے پریشان کر رہی تھی۔۔
_______
“دیکھ لیا آپ نے ٹھیک کیا جو میں نے اس کے ساتھ کیا شادی کر لی اس نے “وہ پاگلوں کی طرح کبھی ادھر چکر لگا رہا تھا کبھی ادھر۔۔
سلمہ بیگم نے افسوس سے اسے دیکھا جس کی حالت ہی عجیب ہو رہی تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے پرسکون ہوجاؤ وہاج”
“پرسکون ہوجاؤ مجھے اس لڑکی کی وجہ سے گھر سے نکالا تھا اور دیکھیں کیسے وہ شادی کر کے بیٹھ گئی اب کہاں ہیں آپ کے وہ شوہر نامدار بلائیں نا زرا انہیں میں بھی تو دیکھتا ہوں اب بھتیجی کی محبت میں کیا کہیں گے.”اسے کسی پل سکون نہیں تھا ایک طرف آرزو لاپتہ تھی تو دوسری طرف بنفشے کی شادی کی خبر نے اسکے ہلا کر رکھ دیا تھا۔
“اچھا بس۔۔۔ ہم لڑ آئے ہیں ان لوگوں سے اور اب کوئی تعلق بھی نہیں رکھنا ان سے تو سکون سے بیٹھ جا وہاج “
“میں تو اب سکون سے نہیں بیٹھو گا اس بنفشے کو اپنے کئے کی سزا بھگتنی پڑے گی مجھے دھوکہ دے کر شادی کی ہے نا اب میں بتاؤ گا کہ وہاج آخر ہے کیا چیز “غصے سے کھولتا وہ وہاں سے واک آؤٹ کرگیا تو اسکی باتوں پر وہ سر تھام کر رہ گئیں۔
جتنا وہ جنونی ہورہا تھا کوئی بعید نہیں تھی اس سے کہ کیا کر جائے۔۔
وہ غصے سے کھولتا اپنے اڈے پر آیا تھا۔
“کیا ہوگیا آج کیوں غصے سے کھول رہا ہے؟”
“تو کیا کروں وہ سونے کی چڑیا تو ایسی غائب ہوئی ہے دور دور تک کوئی آتا پتا نہیں چل رہا ہے اور جسکی وجہ سے یہ سب ہوا ہے وہ خود شادی کر کے بیٹھ گئی ہے کچھ نہیں آیا میرے ہاتھ “
“تو اس میں کون سی بڑی بات ہے بڑی بڑی مچھلیوں کو پھانسنا تو تیرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور رہی بات تیری اس منگیتر کی تو پہلے ایک طلاق ہوگئی تھی اب دوسری ہوجائے گی اس میں کیا؟”خباثت سے کہتا وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔
“اتنا آسان نہیں ہے اسے طلاق دلوانا اس کا شوہر بڑا نامی گرامی آدمی ہے”
“کتنا بھی نامی گرامی آدمی کیوں نا ہو بیوی کے معاملے میں سارے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں کم طرف کم سوچ کے”
اسکی باتوں میں دم تھے۔
پہلے ہی زندگی برباد کرے اسے سکون نہیں ملا تھا کہ ایک بار پھر وہ اسکی زندگی برباد کرنے کی تیاریوں میں تھا۔
_____________
اسکی آنکھ کھلی تو وہ اسکے سینے پر سر رکھے گہری نیند میں تھی۔
گھڑی صبح کے چھ بجا رہی تھی۔
ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھا کر اس نے چیک کیا تو ایسا کوئی خاص کال اور میسج نہیں تھا۔
موبائل سے دھیان ہٹا تو نظریں بے ساختہ اپنے پہلو میں سوئی بنفشے پر پڑی تھیں۔
چہرے پر آئے بالوں کو سائیڈ کرتے اسنے آہستہ سے اسکے ماتھے کو لبوں سے چھوا۔
“بیا اٹھیں نماز کا وقت ہوگیا ہے”اسکے کان میں کہتے وہ اپنے لب سے اسکی کنپٹی چھوتا بولا تو اسکی آواز پر بیا نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو اسے خود پر جھکا پایا۔
“مارننگ جان دلبرم”مسکرا کر کہتا وہ اسے بوکھلا گیا۔
اسنے جلدی سے بلینکٹ خود پر ٹھیک کیا تو وہ اسکی معصوم سی حرکت پر بے اختیار ہنس پڑا۔
“سارا غصہ مجھ پر ساری احتیاط میرے سامنے قسم سے زرا اعتبار نہیں آپ کو مجھ معصوم پر”
“معصوم آپ جیسے نہیں ہوتے ہیں اب پلیز اٹھیں میری جان نکل جائے گی”اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے وہ اسے پیچھے کرنے لگی مگر اس چکر میں وہ مزید اسکے قریب ہوا تھا۔
“کل تک تو آپ کہہ رہی تھیں مر جاؤں گی مگر آپ کے پاس نہیں آؤ گی آج آپ خود کو میرے قریب کر رہی ہیں”شرارت سے کہتا وہ اسکی گردن پر جھکا تو اسکی داڑھی کی چبھن محسوس کر اس نے کئی مکے اسکے کندھے پر مارے تھے۔
“آپ ہٹ جائی۔۔۔جائیں پلیز۔۔۔۔”اسکی قربت سے گھبراتی وہ روہانسے لہجے میں بولی تو گہرا سانس بھر اس سے دور ہوا۔۔
“یہ سب ہمیشہ نہیں چلے گا جاناں آپ کو وقت اس لئے دے رہا ہوں تاکہ آپ کے دماغ میں جو خناس بھرا ہوا ہے وہ نکل جائے اور ایک نارمل بیوی کی طرح میرے ساتھ زندگی گزاریں”
“میرے دماغ میں کوئی خناس نہیں بھرا ایک مہینے تک تو کوئی فیلنگ نہیں تھی آپ میں لیکن جیسے ہی میری طلاق کوئی اسکے اگلے دن ہی آپ کو مجھ سے اس قدر محبت ہوگئی کہ مجھ جیسی طلاق یافتہ کو اپنی بنا لیا اور اب ترس۔۔”اسکے باقی لفظ ادھورے رہ گئے تھے کیونکہ وہ جھک کر ان لفظوں کو قید کرگیا۔
وہ اس کے لئے تیار نہیں تھی۔
وہ دیوانہ سا اسے خود میں قید کرگیا تھا۔
بنفشے کو جب لگا وہ اگلا سانس نہیں لے سکے گی تب اسے آزادی بخشتا وہ دور ہوا۔
“آئیندہ میری محبت کو اگر ترس کا نام دیا تو میں اس سے بھی زیادہ برا پیش آؤ گا یاد رکھئے گا۔”اسے وارن کرتا وہ اٹھ کر واشروم میں بند ہوا مگر وہ ویسے ہی ساکت پڑی تھی یہ لمحوں کا کھیل تھا وہ سمجھ ہی نہیں سکی وہ تو بس اسکے لمس کی شدت پر ساکت سی بیٹھی تھی۔
_____________
فریش ہو کر وہ نیچے آئی تو مسزز یوسفزئی اسی کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔
“اسلام وعلیکم”
“وعلیکم السلام بچے”اس کے سامنے جھکنے پر انہوں نے محبت سے اسکے سر پر پیار کیا اور اسے اپنے ساتھ بیٹھایا۔
“رشیدہ بچے اٹھ گئے ہیں ناشتہ لگائیں”ملازمہ کو کہتے وہ انہوں نے اٹھ کر ٹیبل پر رکھا باکس اٹھایا تھا۔
“میں نے سوچا تھا شاید ہی بہو کو دیکھ سکوں مگر قدرت کے فیصلے سب کے فیصلوں سے زیادہ بڑے ہوتے ہیں دیکھو جس انسان کی شادی کی دعائیں کرتے کرتے میں تھک گئی تھی آج اسکی بیوی میرے سامنے ہے”ہنس کر کہتے وہ اسے کنفیوز کر گئیں۔
“کیا یشم شادی نہیں کرنا چاہتا تھا”اس نے خود سے سوال کیا تھا۔
“یہ کڑے میں نے بہت سالوں پہلے بنوائے تھے اپنے یشم کی دولہن کے لئے اور آج آخر کار وہ وقت آگیا ہے جب یہ کڑے اسکے اصل مالک تک۔پہنچ گئے ہیں”باکس میں سے کڑے نکال کر انہوں نے اسکا ہاتھ تھاما اور وہ نفیس سے کنگن اسکی نازک کلائی کی زینت بنائے۔
“ماشاءاللہ بہت خوبصورت لگ رہے ہیں یہ تمہارے ہاتھوں پر”
ان کے محبت بھرے لہجے پر وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔
“بہو ہی تعریف ہوگئی ہو تو تھوڑی میری بھی کرلیں”یشم کی شرارت بھری آواز پر وہ دونوں چونکیں اور پھر مسزز یوسفزئی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔
“میرا شہزادہ اتنا پیارا ہے تبھی تو اسے پری جیسی دولہن ملی ہے”اسکا ہاتھ لبوں سے لگاتے وہ محبت سے بولی تو وہ ہنس دیا
“اپنی پری سے پوچھ تو لیں انہیں شہزادہ لگتا ہوں یا دیو ؟”ایک آنکھ دبا کر کہتے وہ انہیں قہقہ لگانے پر مجبور کرگیا جب کہ اسکی ان باتوں پر وہ بس پہلو بدل کر رہ گئی۔
