400.2K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-e-Dilbrum Episode 17

تم جو میرا ساتھ دو۔۔۔

سارے غم بھلا دوں جیوں مسکرا کر۔۔

زندگی۔۔

تو دے دے میرا ساتھ ،تھام لے ہاتھ

چاہے جو بھی ہو بات ۔۔

تو بس دے دے میرا ساتھ۔۔۔

گاڑی میں سوائے گانے کے اور کوئی دوسری تیسری آواز نے نہیں وہ دونوں ہی خاموش تھے۔

ایک بہترین وقت گزار کر اب وہ دونوں واپس گھر جارہے تھے جب اس خاموشی کو توڑنے کے لئے یشم نے میوزک آن کیا۔

گانے کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی گنگنانے لگا تو بنفشے نے چور نظروں سے اسے دیکھا۔

کھڑی ناک ماتھے پر بکھرے بال ہلکی بڑھی شیو آستین کو کہنیوں تک فولڈ کئے وہ اس سادہ سے حلیے میں بھی اسکی توجہ اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔

خود کو سرزنش کرتے اس نے رخ موڑ کر کھڑکی کی جانب کیا تو یشم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔

آسیہ نے اسے بتایا کہ وہ اسے پسند کرتی تھی مگر وہ یہ سب بول کر اسے کسی بھی طرح پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا مگر یہ جاننے کے بعد کہ وہ اس کے کئے جذبات رکھتی ہے اسکا دل ہمک ہمک کر اسکے ساتھ کا طلبگار ہورہا تھا۔

گاڑی سگنل پر رکی تو یشم نے اپنی سائیڈ کی ونڈو کھول تازہ ہوا کو اندر آنے کا راستہ دیا۔

“سر جی گجرے”باہر سے آتی لڑکے کی آواز پر اس نے بنا سوچے سمجھے پیسے نکال کر اسکے ہاتھ میں تھمائے اور گجرے لے کر گود میں رکھے۔۔

وہ منتظر تھی کہ وہ گجرے اسے پہنائے گا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور اسی بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔

پہلے ہی اسکے نظر انداز کرنے پر وہ چڑی بیٹھی تھی مزید چڑ گئی۔۔

گاڑی اپارٹمنٹ کے باہر رکتے ہی بنا اسکا انتظار کئے وہ فوراً سے گاڑی سے نکلی تو اسکے تپے تپے انداز پر وہ بے اختیار ہنس دیا۔۔

گاڑی پارک کر کے وہ ہانیہ یوسفزئی سے ملتا اوپر آیا تو وہ چینج کر بستر میں گھس چکی تھی۔

“یار بیا اتنی جلدی سوگئیں اب یہ گجرے کون پہنے گا؟”شرارت سے کہتے وہ بیڈ پر اسکے پاس بیٹھا تو وہ اور خود میں سمٹی۔۔

“بیا۔۔۔”جذبوں سے بوجھل آواز میں پکارتے یشم نے ہاتھ بڑھا کر اسکا بلینکٹ سے ہاتھ نکالا تو اسنے دانتوں تلے لب دبایا۔

اسکی ہتھیلی پر انگلی پھیرتے وہ مسلسل اسے تنگ کر رہا تھا.

“بیا یار”اسکے مسلسل ایسے ہی لیٹے رہنے پر اس نے جھنجھلا کر کہا تو اسکا قہقہ گونجا تھا۔

وہ پہلی بار اسے یوں کھل کر ہنستے دیکھ رہا تھا۔

“آپ اتنی جلدی پریشان کیوں ہوجاتے ہیں ؟”

“کسی اور کام سے تو کبھی نہیں ہوا ہاں آپ مجھے بہت پریشان کرتی ہیں وہ الگ بات ہے “

“آپ کو جھوٹ بولتے زرا شرم نہیں آتی نا میں نے کب آپ کو پریشان کیا یشم؟”مصنوعی غصے سے اسے گھورتے کہا تو اس نے اسکا ہاتھ تھام ان میں گجرے پہناتے اس کے دونوں ہاتھوں پر لب رکھے۔

اسکے لمس سے وہ خود میں سمٹی تھی۔

اسکی حیا سے جھکی پلکوں پر لب رکھتے اس نے آہستہ سے اسکی ناک کو چھوا تو اسے لگا اسکا دل باہر آجائے گا۔۔

“یہ آنکھیں مجھے بہت پسند ہیں”ایک بار پھر اسکی آنکھوں کو چھوتے اس نے بالوں کو سائیڈ رکھ اسکے کاندھے پر لب رکھے تو وہ خود میں سمٹتی اسکے سینے سے لگی تھی۔

اسکی پیش قدمی دیکھ یشم نے اسکے ماتھے پر مہر ثبت کی اور اسکا ہاتھ تھام اپنے دل کے مقام پر رکھا۔۔

“آپ کو پتا ہے میں جب جب آپ کو دیکھتا ہوں مجھے حیرت ہوتی ہے میں وہ انسان جسے شادی محبت جیسے لفظوں سے سخت چڑ تھی کیسے ایک ایسی لڑکی سے محبت کر بیٹھا جس کا وہ نام تک نہیں جانتا تھا۔۔”

اسکی بات پر وہ چونکی مگر اسے ٹوکا نہیں۔۔

“جاننا چاہیں گی مجھے آپ سے محبت کب ہوئی ؟”اس کے سوال پر اس نے آہستہ سے سر ہلایا تو وہ مسکرا اٹھا۔

“جب میں کسی کام سے آپ کے کالج کے پاس سے گزر رہا تھا میں نے آپ کو روڈ پر کھڑے دیکھا۔

چہرے پر بیزاری غصہ مسلسل غصے سے کچھ بولنا مجھے آپ کہیں سے بھی آج کے زمانے کی لڑکی نہیں لگیں آپ میں سادگی تھی معصومیت تھی جو مجھے آپ کی طرف کھینچنے لگی۔۔۔”

“تو وہ آپ تھے جس نے وہ شلٹر ؟”اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی جس پر وہ ہولے سے ہنس پڑا۔

“آپ کے معاملے میں ایسا بہت کچھ کیا ہے میں جسے سوچ کر ہنستا ہوں اب میں کیونکہ ایسا تو میں کبھی نہیں رہا۔۔۔ لیکن پھر کہتے ہیں نا قسمت آپ کے ساتھ کھیل کھیلتی ہے آپ میرے پاس آئیں میرے آفس میں میری نظروں کے سامنے مگر آپ کو دیکھ میں ڈر گیا کیونکہ میں محبت نبھا ہی نہیں سکتا تھا میں محبت نہیں کرسکتا تھا کسی سے۔

آپ کے نکاح کی خبر نے مجھے ہلا دیا تھا میں خود سے بے خبر ہوگیا تھا مجھے پرواہ تھی تو آپ کی بس آپ کی میں اپنے باپ جیسا نہیں بن سکتا تھا۔۔۔ مگر قسمت نے آپ کو ایک بار پھر میرے سامنے لا کھڑا کیا مجھے آپ کا پتا چلا میں تڑپ میں نے خود سے سوال کیا تو کیا آپ واقعی میرے نصیب میں تھیں ؟ آپ میرے نصیب میں تھیں آپ کو مجھ تک ہی آنا تھا تو یہ خیال دل میں کبھی مت لائیے گا کہ میں نے ہمدردی اور ترس کھا کر آپ سے شادی کی ہے بیا آپ سے میری محبت بہت الگ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں آپ سے مرتے دم تک ایسی ہی محبت کرتا رہوں آپ کو بری ہوا چھو کر بھی نا گزرے یا آپ مجھ پر بھروسہ کریں گی مجھ سے محبت کرینگی ؟”وہ اس کے سامنے دست سوال تھا۔

بنفشے نے محض لمحے کو سوچا تھا اور پھر آہستہ سے آگے بڑھ اسنے یشم کے ماتھے کو نرمی سے اپنے لبوں سے چھوا تھا۔

ایک سکون تھا جو اسکے رگ و پے میں اترا تھا

“مجھے فخر ہے آپ پر یشم”اسکی آنکھوں کو اپنے لمس سے مہکاتے وہ اسکا دل دھڑکا گئی۔

یشم نے اسکی گردن کو اپنے لبوں سے چھوا اور پھر آہستہ سے وہاں اپنا لمس چھوڑنے لگا۔

اسکے لمس سے گھبرا کر اس نے سختی سے یشم کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑا تھا۔

اسکی شہہ رگ پر لب رکھتے اسنے آہستہ سے اسکے لبوں کو اپنی گرفت میں لیا۔

وہ شدت سے اسے اپنے لمس سے مہکا رہا تھا اسے جب لگا کہ وہ اگلا سانس نہیں لے پائی گئی وہ آہستہ سے اس سے الگ ہوا۔

اسکے دور ہونے پر اس نے گہرے سانس بھر کر خود کر پرسکون کرنا چاہا۔

اسے اپنے حصار میں قید کرتا وہ اس پر ابر بن کر چھایا تھا اور پھر آہستہ سے لائٹس آف کرتے وہ اسے اپنا بنا گیا۔۔۔۔۔

دونوں کی دھڑکنیں ایک ہوئی تھیں اسکے گلے میں بانہوں کو حصار باندھے وہ اسے یشم کے سپرد کر گئی تھی۔۔۔

_________

مسلسل کمرے میں ٹہل لگاتا وہ پاگل ہورہا تھا ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس نے بنفشے اور یشم کو دیکھا تھا اور تب سے ہی اسکے سینے پر سانپ لوٹ رہے تھے۔

“بیٹھ جا وہاج کیا ادھر سے ادھر گھوم رہا ہے”الیاس کی بات پر اسنے گھور کر اسے دیکھا۔

“عیش کر رہی ہے وہ اور میرے ہاتھ کچھ نہیں آیا وہ منحوس بھی غائب ہے۔۔”

“عیش کر رہی ہے تو کیا ہوا تو بھی عیش کر سکتا ہے اسکے ساتھ جا اسکے پاس اور درس دھمکا پیسہ حاصل کر اس سے اس میں کون سی بڑی بات ہے؟”

الیاس کی بات پر اس نے غور سے اسے دیکھا۔

“تجھے لگتا ہے وہ مجھے پیسہ دے گی؟”

“مجھ سے زیادہ تو اپنی اس کزن کو جانتا ہے”خباثت سے کہتے وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا اور ویسی ہی ہنسی اب کے وہاج کے چہرے پر بھی آئی تھی۔۔

___________

“کیا ہوا کن سوچوں میں گم ہیں؟”وہ چھت پر بیٹھا کسی غیر موئی کو دیکھنے میں مصروف تھا عائشہ کی آواز پر چونکا۔

“ہاں۔۔؟”

“میں پوچھ رہی ہوں کیا سوچ رہے ہیں آپ ؟”چائے کا کپ اسکے سامنے رکھتے اس نے اپنا سوال ایک بار پھر دھرایا تو اب کی بار اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“کچھ نہیں بس ویسے ہی بیٹھو تم”اسے بیٹھنے کا کہتے اس نے کپ لبوں سے لگایا تو عائشہ نے بغور اسکا چہرہ دیکھا۔

“ایسی کون سی بات ہے جو آپ کو پریشان کر رہی ہے مگر آپ شئیر نہیں کرنا چاہتے؟”

“ایسی تو کوئی بات نہیں اور بھلا میں نے کبھی کچھ چھپایا ہے ؟”

“لیکن اب تو چھپا رہے ہیں نا زین پلیز مجھے بتائیں ایسے اپنے اندر مت رکھیں۔۔”

“ارے میرا مسئلہ ہوتا تو میں بتا دیتا دراصل ایک دوست کا ایشو تھا “وہ نہیں جانتا تھا کیوں مگر وہ اس سے جھوٹ بول گیا۔

“کیسا ایشو ؟”

“اسکی بہن کے ساتھ ایک لڑکی نے غلط کیا اور اسکی بہن کی طلاق کروا دی مگر اب وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہے معافی مانگ رہی ہے حال میں ہی اسکا ایکسیڈنٹ بھی ہوا ہے ” سچ جھوٹ ملا کر اس نے کہانی بتائی تو عائشہ نے بغور اسکا چہرہ دیکھا۔

“ایک بار جو اس حد تک جا سکتا ہے وہ بار بار جا سکتا ہے اور مومن ایک ہی سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا آج وہ شرمندہ ہے کل کو وہ دوبارہ اپنی اصلیت دیکھا گئی تو؟ معاف کردینا ٹھیک ہے مگر اس پر بھروسہ کبھی دوبارہ مت کرنا”

آہستہ سے کہتے وہ اپنی جگہ سے اٹھی مگر نیچے جانے سے پہلے اس نے ایک نظر مڑ کر زین کو دیکھا۔

“رات بہت ہوگئی ہے سوجاؤ کل اپیا کے ولیمے کی تیاری بھی کرنی ہے آنٹی واپس جانے سے پہلے ولیمے کی دعوت کرنا چاہتی ہیں “اسے کہہ کر وہ رکی نہیں اور اسکے تاثرات سے زین کو لگا وہ اس سے ناراض ہو کر گئی ہے۔

___________

اگلی صبح بے حد روشن و خوبصورت تھی اسکے حصار میں قید وہ گہری نیند میں تھی جب موبائل نے یشم کی نیند میں خلل ڈالا تھا ۔

خاص نمبر دیکھ وہ ایک دم الرٹ ہوا اور پھر ایک نظر اپنے بازو پر سر رکھے سوئی بیا پر ڈالی۔۔

اسکا سر تکیے پر رکھتے وہ آہستہ سے اٹھ کر بالکونی میں آیا اور کال بیک کی۔

“ہاں جمشید بولو ؟”کاک ریسیو ہوتے ہی اس نے سوال کیا اور دوسری طرف سے جو بتایا گیا اس نے یشم کے کشادہ ماتھے پر بلوں کا اضافہ کیا تھا۔

“ٹھیک ہے میں خود جا کر اس سے بات کرتا ہوں فلحال اسکی حفاظت تمہاری زمہ داری ہے جمشید”سامنے والے کو وارن کرتا وہ جیسے ہی پلٹا سامنے بنفشے کو کھڑے پایا۔

“آپ یہاں کیوں آگئے یشم”نیند سے بوجھل آنکھیں لئے وہ اس کی غیر موجودگی محسوس کر اٹھی تھی اور پھر اسکی آواز سن یہاں آئی تھی۔

“کچھ نہیں جاناں ایک ضروری کام تھی ریسو کرنا ضروری تھا آپ کی نیند خراب نا ہو اس لئے یہاں آگیا”اسکے اپنے حصار میں لیتے یشم نے دائیں ہاتھ سے اسکے بال سنوارے تو بنفشے نے آہستہ سے اسکے کندھے کر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔

اسکے یوں کرنے پر وہ مسکراتا اسے بیڈ تک لایا اور اسے لٹایا۔

“شادی کے بعد لڑکیاں میچور ہوجاتی ہیں اور آپ میچور سے بچی بن گئیں ہیں”اسکے گود میں سر رکھنے پر وہ شرارت سے کہتا اسکے گال پر چٹکی کاٹ کر بولا تو مندی مندی آنکھیں سے بیا نے اسے گھورا۔

“زیادہ باتیں نہیں بنائیں سونے دیں مجھے بہت نیند آرہی ہے”اسکے پہلو میں منہ چھپاتے وہ ایک بار پھر آنکھیں موند گئی۔

اسکے آنکھیں بند کرتے ہیں چہرے پر آئی مسکراہٹ سمٹی تھی اسکا سارا دھیان فون کال پر تھا

جب جب چیزیں ٹھیک ہونے لگتی تھیں تب تب کچھ ایسا ہوجاتا تھا جو سب کچھ برباد کردیتا تھا اور اب بھی ایسا ہی ہوا تھا مگر اب وہ اپنی خوشیوں کو تباہ نہیں ہونے دے سکتا تھا۔۔

____________

یشم کے نکاح کی خبر اس کے لوگوں کو ملی تو سب ہی خوش تھے اور اسکی طرف سے باقاعدہ طور پر اناوئسمنٹ کا انتظار کر رہے تھے اسی لئے اس نے اور ہانیہ بیگم نے مل ریسیپشن پارٹی کا اہتمام کیا تھا۔

یشم کے بزنس سرکل کے لوگوں کو انوائیٹ کیا گیا تھا۔

“مشارب صاحب سے بات ہوئی ؟” وہ باہر سے آیا تھا جب ہانیہ بیگم نے اس سے ان کا پوچھا۔

“جی کسی کام کے سلسلے میں باہر ہیں آرزو بھی ٹرپ پر گئی ہے معذرت کر رہے تھے کہ نہیں آ سکیں گے”سنجیدگی سے کہتے اس نے ملازمہ سے پانی کا گلاس تھام کر لبوں سے لگایا

“اوو چلو کوئی بات نہیں۔۔ تم جاؤ ریڈی ہوجاؤ بیا کو پارلر بھیج دیا ہے میں بھی جارہی ہوں تم ہمیں وہیں سے پک کرلینا”اسے کہتے وہ اٹھیں تو اس نے سر ہلا دیا۔

اپنی تیاری مکمل کر کے وہ ڈائریکٹ ہاٹل آیا تھا کیونکہ ہانیہ بیگم نے اسے کال کر کے کہا تھا کہ وہ خود آرہی ہیں سارے انتظامات دیکھنے کے بعد اب وہ خود باہر انٹرنس پر ان کا انتظار کر رہا تھا کہ تبھی ان کی باری آکر رکی تھی۔

گاڑی سے سب سے پہلے ہانیہ بیگم نکلی تھیں

اور پھر ان کے پیچھے اس نے قدم نکالا تو اسے دیکھ وہ مہبوت سا رہ گیا۔۔

پیروں کو چھوتی لائٹ پرپل میکسی پر دوپٹہ سر پر ٹکائے فل میک اپ میں وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ یشم کی نظر اس پر ہٹنا بھول گئی۔

اپنی بے ساختگی پر شرمندہ ہوتے اسنے ہاتھ بڑھایا تو بیا نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں رکھا تھا۔

کمرے کے فلیش دھڑا دھڑ ان پر پڑ رہے تھے ہر کسی کو ان کی مکمل تصویر چاہئے تھی۔۔

اس کا ہاتھ تھامے وہ اندر آیا تو دونوں اطراف انار جل اٹھے۔

یہ منظر کسی فیری ٹیل سے کم نہیں تھا لوگوں کے ہجوم میں وہ دونوں سب سے نمایاں تھے۔

اس نے تو کبھی یہ سب سوچا بھی نہیں تھا یشم نے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔

اسٹیج پر پہنچ کر ان کا فوٹو شوٹ ہوا اور پھر یشم نے اسے اپنے سرکل میں متعارف کروایا۔۔

“ہم سے نہیں ملواؤ گے ہماری بہو کو؟”مردانہ آواز پر جہاں اسے حیرت ہوئی وہیں یشم کے چہرے پر چٹانوں کی سی سختی آئی تھی۔

بنفشے نے گردن موڑ کر دیکھا تو وہ سرخ و سفید رنگت لئے کھڑے انسان تقریباً پچاس سال کے تھے وہ جو کوئی بھی تھے مگر تھے بہت خوبصورت اور ان کی آنکھیں بالکل یشم جیسی تھیں اور اسی بات نے اسے چونکایا تھا۔

“ماشاءاللہ جیسا سنا تھا میری بہو واقعی جیسے سے بھی زیادہ خوبصورت ہے”اسکے سر پر ہاتھ رکھ انہوں نے شفقت سے کہا تو وہ ہولے سے مسکرا دی اور پھر انہوں نے کئی نوٹ ان دونوں پر وار کر ویٹر کے حوالے کئے تھے۔

“یشم بات کرنی ہے سائیڈ آؤ”اس سے بات ختم کرتے وہ اس سے مخاطب ہوئے تو ناچاہتے ہوئے بھی وہ اسے ایک طرف کھڑا کرتا ان کے پیچھے ہوا تھا۔

وہ سب کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک اسکی نظریں دروازے پر جا کر ساکت ہوئی تھیں۔

وہاج کو دیکھ وہ ساکت ہوا تھا

وہ اسے شعلہ بار نظروں سے گھور رہا تھا اسکی نظریں بنفشے کو اپنے اندر تک گھسی محسوس ہوئی تھیں

اسے نظروں ہی نظروں میں دھمکاتے وہ وہاں سے غائب ہوا مگر وہ پتھر کی ہو گئی تھی۔۔