400.2K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-e-Dilbrum Episode 21

“بیا رونا بند کرو یشم کو پتا چلا تو وہ غصہ ہوگا”اپنی گود میں سسکتی بنفشے کو دیکھ ان کا دل اداس ہوگیا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں حالات اس نہج ہے پہنچ جائیں گے۔۔

وہ چاہتی تھیں یہ بات عبدالعزیز صاحب کو پتا نا چلے مگر انہیں پتا چل چکی تھی اور اب وہ ناجانے کہاں تھے۔

گھر کا ماحول ایک دم سے گھٹن زدہ ہوگیا تھا۔

“بیا پلیز چپ ہوجاؤ دیکھو تمہیں ایسے دیکھ یشم بھائی کو کتنی تکلیف ہوگی “

“عائشہ اگر یشم نا آتے تو ؟”اتنا کہہ کر وہ ایک بار پھر سسکی اور یہ الفاظ اندر آتے یشم کے کانوں سے ٹکرائے تھے۔

“اسلام وعلیکم”اندر آتے اس نے سلام کیا تو اس نے چہرہ ہاتھوں میں چھپایا تھا۔

“وعلیکم السلام آجاؤ بیٹا”

“امی آپ انہیں تیار کر دیں میں بابا کو لینے جارہا ہوں “فقط اتنا کہتا وہ واپس مڑا تو بنفشے کی جان لبوں پر آئی تھی۔

کیا وہ اس سے ناراض ہوگیا تھا اتنا سوچنا تھا کہ فوراً سے اٹھ کر بیٹھی۔

“امی وہ ناراض ہوگئے ہیں نا مجھ سے ؟”

اسکی بے تابی دیکھ عائشہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔

“ظاہر ہے انہوں نے کہا تھا تمہیں رونے نہیں دینا مگر تم نے سنی نہیں اب دیکھو “

“امی میں کیا کروں مجھے رونا آرہا ہے مجھ سے چپ نہیں ہوا جارہا امی”بے بسی انتہا کو پہنچ گئی تھی۔

“کچھ نہیں ہے گڑیا وہ ناراض نہیں ہے بس پریشان ہے میرے بچے تم تیار ہو اسکے ساتھ جاؤ اور اب خود کو تکلیف مت دینا۔”

“امی وہ واپس آگیا تو؟”اسکے دل میں کہیں نا کہیں وہاج کا ڈر ابھی بھی موجود تھا۔

“نہیں آئے گا وہ اپیا جیل میں ہے وہ اور اس سب کے بعد بھائی اسے اتنی آسانی سے باہر نہیں آنے دینگے مجھے اتنا یقین ہے تو آپ کو کیوں نہیں ہے اب بس کریں رونا اور مضبوط بنیں آپ کی اسی کمزوری نے سب کو شیر بنایا ہے کب بہادر بنیں گی آپ اگر آپ کا یہی حال رہا تو کوئی آئے گی اور یشم بھائی جو آپ سے چھین کر لے جائے گی”

عائشہ نے جان کر بات کر دوسرا رخ دیا تھا اور یہ پلین کامیاب بھی ہوا تھا دوسری عورت کا ذکر وہ ایک دم سیدھی ہو کر بیٹھی تھی۔

“دماغ خراب ہے کیا فضول بول رہی ہو وہ ایسے نہیں ہیں”اس نے فوراً سے تڑخ کر کہا تو عائشہ نے سر جھٹکا۔

“بس لڑکے ایک جیسے ہوتے ہیں آج ایک کے کل کو کسی اور کے۔۔۔ اور آج کل تو یہ دور ہے کہ آپ اپنے سایہ پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتے تو دوسروں پر کیسے کرینگے”

“تم زین سے ناراض ہو اسی بات پر”بات کا رخ بدلتے بدلتے یہاں تک آیا تو وہ ایک دم چپ ہوئی تھی۔

“مجھے پتا ہے تم اس سے ناراض ہو عائشہ مگر اسکی بات ایک بار سن لو”

“میں اس سے کیوں ناراض ہونگی اپیا ؟ میری اور اسکی تو کوئی بات ہی نہیں ہوئی ناراضگی تو تب ہوگی نا جب ہمارے درمیان کچھ ہوگا آپ فکر نا کریں “

“میرے علاؤہ بھی لوگ ہیں جنہیں تم دونوں کی فکر ہے بات کرو اور اپنا مسئلہ حل کرو “

“آپ اپنی بات کا رخ بدل کر فضول ٹاپک پر نا آئیں”

عائشہ کے گھور کر کہنے پر وہ سر جھکا گئی۔

“اپیا خود کو اتنا بہادر بنائیں کے اگر کوئی آپ کے اوپر انگلی اٹھائے تو آپ وہ انگلی توڑ کر رکھ دیں آپ سمجھ رہی ہیں نا کہیں یہ نا ہو کہ کوئی یشم بھائی کو آپ سے چھین لے”

“اللّٰہ نا کرے کیا فضول بول رہی ہو مجھے سننا ہی نہیں ہے تمہیں عائشہ “غصے سے اسے جھڑکتے وہ تکیے میں منہ دے گئی تو عائشہ بس گہری سانس بھر کر رہ گئی۔

___________

غصے سے کھولتے وہ اندر آئے تو چائے پیتی سلمی بیگم ایک دم کھڑی ہوئی تھیں۔

“ہمت کیسے ہوئی ہمارے گھر آنے کی ؟”

“ہمت ہمت کی بات مت کریں بھابی کیونکہ جو ہمت آپ کے بیٹے نے آج کی ہے اسکا حساب آپ سب کو دینا ہوگا “

ان کی بات پر وہ چونک اٹھیں

“ایسا کیا کیا ہے میرے بیٹے نے “

“جو کیا ہے اسکا حساب وہ جیل میں دے گا اور اگر اب میرے بچیوں پر ایک انگلی بھی اٹھائے تو ان پر اٹھی ہر انگلی توڑ دونگا میں بنا کسی لحاظ کے یہ ایک باپ کا آپ سے وعدہ ہے”

انہیں وارن کرتے وہ وہاں سے نکلے تو سامنے ہی یشم کی گاڑی آکر رکی تھی۔

“بابا”

“میں ٹھیک ہوں یشم آزاد ہوں ان نام نہاد رشتوں کی ڈور سے جن کے چکر میں مجھے اپنوں کو تکلیف دینی پڑی میری اولاد کو برداشت کرنا پڑا سب کچھ اب اور نہیں”

اتنا کہتے وہ گاڑی میں آکر بیٹھے تو یشم بھی خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔

_________

اس بڑے سے بنگلے کے سامنے کھڑے اس نے ایک نظر اس گھر کو دیکھا اور پھر نگاہیں نیچے کرلیں

وہ آنا نہین چاہتا تھا وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کیوں وہ آخر آیا ہے مگر اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔

“آپ اندر آجائیں”گارڈ کے بلانے پر وہ گہرا سانس بھرتا انڈر بڑھا تھا وہ سوچ چکا تھا اسے کیا فیصلہ کرنا ہے۔

وہ اندر داخل ہوا تو وہ سامنے وہ صوفے پر بیٹھی تھی اسکے اندر آتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی تھی۔

“اسلام وعلیکم زین پلیز بیٹھو”

“وعلیکم السلام” اتنا کہتا وہ اسکے سامنے بیٹھا تو ایک عجیب طرح کی خاموشی ان دونوں کے بیچ در آئی تھی۔

“کیسے ہو ؟”اس خاموشی کو آرزو کی آواز نے توڑا تھا۔

“ٹھیک ہوں”

“میں پاکستان چھوڑ کر جارہی ہوں زین سوچا ایک بار تم سے مل لوں” اس کی بات زین نے بےساختہ سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

“ایسے اچانک ؟”

“اچانک تو نہیں بس مجھے لگتا ہے پاکستان میں اب میری زندگی ویسے نہیں ہو سکتی جیسے میں چاہتی ہوں اس لئے یہاں سے جانا ہی بہتر ہے مگر جانے سے پہلے میں ایک بار تم سے ملنا چاہتی تھی تمہیں بتانا چاہتی تھی کہ تم سے نفرت کی تھی مگر اب جو میں تمہارے لئے محسوس کرتی ہوں وہ محبت ہر گز نہیں ہے ایک پچھتاوا ہے افسوس ہے میں اسے محبت کا نام نہیں دے سکتی اور میں یہ بھی جانتی ہوں تمہارے دل میں میرے لئے سوائے ہمدردی اور ترس کے کچھ نہیں ہے “اتنا کہتے وہ لمحے کو رکی تھی۔

“میں ایک نئی شروعات کرنا چاہتی ہوں دوبارہ سے خود کو ایک مضبوط لڑکی بنانا چاہتی ہوں اور اس لئے میں یہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جارہی ہوں امید ہے تم مجھے معاف کردو گے”

اس نے مسکراتے چہرے کے ساتھ زین کو دیکھا جس کے چہرے پر ہنوز سنجیدگی طاری تھی۔

“کچھ کہو گے نہیں ؟”

“تمہاری باتیں سوچ کر میں حیران ہوں واقعی جس بات کا جواب میں ڈھونڈ رہا تھا وہ مجھے مل گیا ہے میں دعا کروں گا کہ تم زندگی میں آگے بڑھو کامیاب ہو اور ایک بہترین ہمسفر تمہیں ملے “

“آمین شکریہ میری بھی دعا ہے کہ تم بھی اپنی زندگی میں کامیاب ہو”

“شکریہ خیر میں اب چلتا ہوں خدا حافظ “محض اتنا کہتا وہ وہاں سے اٹھ گیا اور اسکے جاتے وہ آرزو کے مسکراتے چہرے پر تاریک سایہ سا لہرایا تھا۔

ایک آخری بار اس نے جھوٹ کہا تھا کہ اسے زین سے محبت نہیں ہے اسے تھی اس شخص سے محبت بہت پہلے سے مگر جب تک احساس ہوا بہت دیر ہوگئی تھی بہت زیادہ۔۔۔۔

_______________

آج کا دن حد سے زیادہ تھکا دینے والا تھا وہ سب کو سلا کر خود چائے کا کپ لئے چھت پر آگئی۔

شال کو اچھے سے لپیٹے سے اس نے منڈیر سے نیچا جھانکا تو دور دور تک سناٹوں کا راج تھا۔

کچھ ہی دیر پہلے یشم اور بنفشے گئے تھے اور پھر ان کے جانے کے بعد سب کچھ سمیٹ وہ سب کو سلا کر معمول کے مطابق وہ چھت پر موجود تھی۔

کرسی پر بیٹھ اس نے چائے ٹیبل پر رکھی اور آسمان پر نظریں جمائیں جو آج بے حد صاف تھا کہ چمکتے تارے آنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے۔

وہ اپنے خیالوں میں گم تھی جب کوئی اسکے پاس آکر بیٹھا تھا۔

کسی کی موجودگی محسوس کر وہ بری طرح چونکی تھی۔

گردن موڑ کر دیکھا تو سامنے زین کو کھڑا پایا۔۔

“کیسی ہو۔۔؟”

“ٹھیک ہوں تم کیسے ہو؟”اسے جواب دیتے عائشہ نے واپس سے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا تو زین نے بغور اسکا چہرہ دیکھا۔

ان کچھ دنوں میں کتنے فاصلے آگئے تھے ان دونوں کے درمیان۔۔

“ناراض ہو مجھ سے؟”

“کس بات کے لئے؟”

اسکے سوال پر زین نے لمحے کو اسے دیکھا۔

“اس سب کے لئے جو ہمارے بیچ کبھی نہیں ہوا “

“یہ کیسا جواب ہے زین؟”

“جیسا سوال تھا ویسا ہی جواب ہے”

“پہلیاں کیوں بجھا رہے ہو”

“کیونکہ ہمارے درمیان لگی اس ناراضگی کی آگ بڑھتی جارہی ہے”

“کونسا افسانہ پڑھ کر آئے ہو؟”

“افسانوں میں جلنے جلانے کی باتیں نہیں ہوتی وہاں بس محبت ہوتی ہے”

“وہی محبت جو ہم دونوں کے درمیان سے کب کی نکل گئی ہے”

“ایسا کیوں لگتا ہے”

“جب انسان کسی اور کے لئے ہمدردی محسوس کرنے لگے نا تو پہلی محبت کی حیثیت دو کوڑی کی رہ جاتی ہے “

“تم نے کسی کا ڈائیلاگ چرایا ہے عائشہ “

“ہاں ڈائیلاگ چرانا کسی کا منگیتر چرانے سے تو بہتر ہے”

آخر وہ دل کی بات زبان پر لے ہی آئی تھی اور اس بات کا اندازہ ہونے پر اس نے بری طرح لبوں کو کچلا تھا۔

“جو چیز چوری ہو جائے وہ پھر اپنی کب رہتی ہے؟”

“جیسے تم نہیں رہے میرے “اب کی بار عائشہ نے اسکی آنکھوں میں براہ راست دیکھا تھا نظروں کا تصادم ہوا تو دونوں کا دل عجیب سے انداز میں دھڑکا تھا۔

ایک کے دل میں کسی کو کھو دینے کا ڈر تھا تو دوسرے کے دل میں سب کچھ پھر سے ٹھیک کرنے کی امید۔۔۔۔

“ایسا تمہیں لگتا ہے”

“اپنے دل سے پوچھو کیا اب بھی تمہارے دل میں میری وہی جگہ ہے جو پہلے تھی ؟ اب تمہاری آنکھوں میں مجھے اپنا عکس کیوں نہیں دیکھتا زین؟”

“کیونکہ تم نے یہ سوچ لیا ہے کہ زین بدل گیا حالانکہ ایسا نہیں ہے “

“آرزو سے محبت ہوگئی ہے نا تمہیں “

اب کی بار اس نے زین کی آنکھوں میں جھانکا تھا اور اس نے نظریں ہٹائی نہیں تھیں۔۔

“آرزو وہ لڑکی ہے جس نے ہمیشہ وہ سب کیا جس سے مجھے اس سے چڑ ہوئی غصہ آیا اور پھر اس نے میری بہن کے ساتھ وہ کیا جس نے میری بہن کی زندگی کا رخ ہی بدل گیا جو کچھ بیا نے کیا وہ بہت تکلیف دہ تھا مگر میں خوش تھا کہ اسے اسکے حصے کی ساری خوشیاں مل گئیں۔

جب آرزو میرے پاس آئی تو مجھے اسکا چہرہ دیکھ اسکی حالت دیکھ ترس آیا مگر وہ گناہگار تو تھی کیسے معاف کردیتا؟ میں نے اسے معاف نہیں کیا اور وہ چلے گئی۔ اور پھر مجھے بتایا گیا کہ اسکا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے میں فریز ہوگیا مجھے لگا وہ میری وجہ سے اس حالت کو پہنچی ہے کوئی لاکھ برا کیوں نا ہو مگر ہمیں یہ حق تو حاصل نہیں نا کہ ہم اسے اس مقام تک لے جائیں میں ڈر گیا تھا عائشہ کہ میری وجہ سے اسکا باپ تڑپے گا کہیں نا کہیں میں بھی تو اسکا زمہ دار ہونگا نا وہ ہمدردی وہ تکلیف جو میں نے برادشت کی بہت مشکل وقت ہوتا ہے وہ سب”

“تو تمہیں اس سے اتنی ہمدردی تھی کہ تم اس سے شادی کرنے کے خواہشمند ہوگئے ؟”

“شادی؟ ہمدردی تھی دکھ تھا مگر واللہ میں نے شادی کا نہیں سوچا تھا “

“جھوٹ ایسے ہی کوئی لڑکی امید نہیں لگا کر نہیں بیٹھتی جب تک لڑکے کی طرف سے کچھ نا ہو “

“تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے؟”

“یقین نہیں ہوتا تو شاید آج تم صحیح سلامت میرے سامنے نا بیٹھے ہوتے مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ تم نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا کیا میں تمہیں غلط سمجھتی یا تمہیں کسی بھی عمل سے روکتی ہم ساتھ پلے بڑھے ہیں ہم ایک دوسرے کو خود سے بھی زیادہ جانتے ہیں تو تمہارا یوں بدلہ رویہ مجھے اذیت دینے لگا تھا میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ کوئی بھی رشتہ زبردستی کی بنیاد پر نا بنے”

“زبردستی کی بچی “اسکے سر پر چپت لگاتا وہ بے اختیار ہنس دیا۔

“میں چپ تھا صرف اس لئے کیونکہ مجھے کچھ چیزوں کو سمجھنا تھا میں خود کو سمجھنا چاہ رہا تھا ایک نیا رشتہ شروع کرنے سے پہلے میں اپنا دل دیکھنا چاہتا تھا اگر میں بے ایمانی سے رشتہ بناتا تو نا خود خوش رہتا نا تمہیں رکھ سکتا تھا “

“تو اتنے دنوں کے سوچ و بچار کے بعد کیا فیصلہ کیا تم نے؟”

یہ سوال کرتے اسکا دل بری طرح دھڑک اٹھا تھا۔

اور اسکے سوال پر وہ ایک دم ہنس دیا۔

“ہنس کیوں رہے ہو مذاق کر رہی ہوں کیا میں ؟”اتنے سیریس ماحول میں زین کا یوں ہنسنا اسے ٹھیک ٹھاک غصہ دلا گیا جبھی وہ ایک دم اپنی جگہ سے اٹھی تھی مگر اسکی کلائی زین کی گرفت میں آئی تھی۔

“ہنس تمہارے شکل دیکھ کر رہا ہوں کیونکہ دل میں تمہارے کچھ اور ہے اور شکل ایسے بنائی ہوئی جیسے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔”

“زین”اسکے شرارتی انداز پر وہ بری طرح تڑخی تھی۔

“میں یہاں ہوں کیا یہ کافی نہیں ہے اپنا فیصلہ بتانے کے لئے ؟ محبت ایک بار ہی ہوتی ہے اور میں نے ایک ہی بار محبت کی اور اسے مرتے دم تک نبھانا چاہتا ہوں بابا کو پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا تھا اس لئے فضول کی ٹینشن میں نہ آؤ تم”اسکے روبرو آتا وہ اسکا دوسرا ہاتھ بھی اپنی گرفت میں لے گیا۔۔

“زین “

اپنا ہاتھ اسکی گرفت میں دیکھ عائشہ نے بے ساختہ اسے پکارا تو زین نے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔

“تم واقعی یہ فیصلہ دل سے لے رہے ہو نا؟”وہ اب بھی شاید اسی ایک خوف کے زیر اثر تھی اسے کھونے کا ڈر محبت روٹھ جانے کا ڈر۔۔

“میں اتنا کم ظرف تو نہیں ہوں نا میں اتنا بزدل ہوں کہ جس سے محبت کروں اسے اپنا نام نا دے سکوں ۔۔ اگر میں کہتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے اور میں تمہارے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں تو اس بات کا یقین کرو اگر مجھے کسی اور سے زرا سی بھی محبت ہوتی تو میں تمہیں ایک ادھوری زندگی میں شامل نا کرتا کیونکہ اس وقت شاید میں تمہارے ساتھ ہوتا مگر میرا دل و دماغ نہیں۔۔

اس کے سامنے بھی میرے دل و دماغ کے دھاگے تم میں الجھے تھے مجھے تمہاری فکر تھی اب بھی تمہیں صفائیاں دوں؟”زرا سا جھک اس نے پوچھا تو سر جھکاتے وہ نا میں سر ہلا گئی۔

“اب یقین کرنا میرا بس کچھ وقت بعد میرے پاس آنا ہے”شرارت سے کہتا وہ اسکے شرمانے پر مجبور کرگیا۔۔

____________

گاڑی اپارٹمنٹ کے باہر رکی تو اس نے بے چینی سے یشم کو دیکھا جو پورے راستے ایسے چپ بیٹھا تھا جیسے کچھ بولے گا تو گناہ ملے گا۔

وہ بولنا چاہتی تھی اس سے بات کرنا چاہتی تھی مگر اسکے سنجیدہ تاثرات دیکھ اسکی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔

گاڑی پارک کرتا وہ باہر نکلا تو وہ خاموشی سے اسکے پیچھے آئی تھی۔

آج ایسا پہلی بار تھا نا اس نے کوئی بات کی نا اسکا ہاتھ پکڑا۔۔

وہ اوپر بڑھا تو اس نے اپنے قدم روک لئے۔

اپنے پیچھے آہٹ نا پاتے وہ ایک دم سے رکا اور پھر مڑ کر دیکھا تو وہ نہیں تھی۔

ماتھے پر بل ڈالے وہ واپس آیا تو وہ باہر کھڑی تھی۔

اسکے ماتھے پر پڑے بلوں کو نظر انداز کرتے اس نے نروٹھے انداز میں اپنا آگے کیا تو یشم آہستہ سے آگے بڑھا اور اسکا ہاتھ تھام اندر بڑھا مگر بات اس نے اب بھی نہیں کی تھی۔۔

دروازہ ان لاک کرتا اندر آیا اور اسکا ہاتھ چھوڑ کمرے میں چلا گیا۔

وہ جانتی تھی وہ غصہ ہے غلطی اسکی تھی وہ اسے نہیں بتا سکی تھی وہاج کے بارے میں مگر اب منائے تو منائے کیسے یہ سب سے ضروری تھا۔۔

گھڑی رات کے بارہ بجا رہی تھی۔

ایک ڈر بھی تھا دل میں کہ وہ ڈانٹے گا مگر ہمت کرتے وہ آگے بڑھی اور جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا ایک جھٹکا تھا جو اسے لگا تھا۔

یشم بیڈ پر اپنی جگہ پر سو رہا تھا۔

کیا وہ اتنی جلدی ہوگیا؟”اسکی آنکھوں کے پر رکھے ہاتھ دیکھ اسکا دل کیا خوب زور زور سے روئے.

“اٹھیں کوئی نہیں سوئے گا آج آئی سمجھ”اے سی فل کرتے وہ غصے سے چلائی۔

اتنی سردی میں اے سی آن کر وہ اسے جگانا چاہتی تھی۔

“اٹھیں یشم یہ کوئی ٹائم نہیں سونے کا”غصے سے اسکے سر پر چلاتے وہ دیوار بجانے لگی مگر وہ بھی ڈھیٹ بنا لیٹا رہا۔۔

“یشم اٹھ جائیں”اسکا ہاتھ ہلاتے وہ روہانسی ہو گئی تھی۔

“یشم میں رو دوں گی اور چپ بھی نہیں ہونگی “نم آنکھوں کے ساتھ کہتی وہ اسے اٹھانے کو جھکی تھی جب اچانک یشم نے اپنا ہاتھ اسکی کمر میں ڈال اسے خود پر گرایا تھا۔

ابھی وہ اس ایک جھٹکے سے نہیں سنبھلی تھی کہ کروٹ لیتا وہ اسے بیڈ پر لیٹاتا اس پر حاوی ہوا تھا۔۔۔

“کیوں تنگ کر رہی ہیں مجھے دیکھ نہیں رہا تھا آپ کو کہ میں سو رہا ہوں”

ماتھے پر بل ڈال کر کہتا وہ اسے پاگل کر رہا تھا۔

“کیوں سونے دوں ؟پہلے کبھی سوئیں ہیں ایسے جو آج سو رہے ہیں”

“ہاں ہمیشہ سے اکیلے ہی سوتا آیا ہوں میں”

“کیونکہ پہلے میں نہیں تھی “

“پہلے تو میں بھی نہیں تھا تو آپ کو اب کیوں اتنا فرق پڑ رہا ہے؟”

“یشم میں آپ کے ساتھ بہت برا پیش آؤ گی”

“اس سے زیادہ کیا برا پیش آئیں گی آپ کے مجھے بے اعتبار سمجھا ہوا ہے”

“یشم۔۔۔۔۔”اسکے شکوے پر وہ تڑپ اٹھی

“بنفشے جائیں مجھے نیند آرہی ہے”اسکے اوپر سے ہٹتا وہ اپنی جگہ پر لیٹا تو وہ تڑپی تھی اس فاصلے پر۔۔

“واپس آئیں جہاں تھے آپ”غصے سے کہتے اس نے یشم کو دیکھا۔

“بیا سوجائیں مجھے نیند آرہی ہے”آنکھوں پر ہاتھ رکھتے وہ اس سے بالکل انجان بن گیا اور یہاں بنفشے کی بس ہوئی تھی۔

اپنے آنسو چھپانے کو وہ بیڈ سے اتر بالکونی میں آگئی اور دروازہ بند کردیا۔

آنسو پلکوں کو بھگو کر اسکے عارضوں پر بکھرتے جارہے تھے۔۔

“کیا اب میں ناراض بھی نہیں ہوسکتا آپ سے “ناراضگی بھری آواز اسکے کانوں میں ٹکرائی مگر وہ ہنوز روتی رہی بنا اسکی طرف رخ کئے۔۔

تبھی اس نے پیچھے آکر اسے اپنے حصار میں قید کیا اور اسکا لمس پاتے ہی وہ ٹوٹ کر ایک بار پھر بکھری تھی۔

سسکیوں سے روتے وہ اسے تکلیف میں مبتلا کر رہی تھی۔

“بیا اگر آپ نے رونا تو ہے میں چلا جاؤ”اسکی دھمکی پر جلدی سے نفی میں سر ہلاتے اس نے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے۔

یشم نے آہستہ سے اسکی کنپٹی پر اپنے لب رکھے۔

“آئی ایم سوری میں ڈر گئی تھی یشم بہت زیادہ ڈر گئی تھی آئی ایم سوری”

“جان ہیں آپ میری آپ کے بغیر میرا کوئی وجود نہیں ہے میں مر جاؤ گا اگر آپ کو کچھ ہوا بیا مجھ سے مت چھپائیے گا کبھی کچھ آج مجھے لگا میں جان نکال کسی نے میرا دل مٹھی میں لے لیا میری زندگی کا سب سے اہم حصہ ہیں آپ۔۔”

“یشم آپ مجھ سے ناراض ہو کر دوسری شادی تو نہیں کرینگے نا؟”کب سی دماغ میں اٹکی بات بالآخر لبوں پر آگئی تھی۔۔۔

“آپ کو مجھ پر شک ہے میری محبت پر ؟”

اسکے گرد اپنا حصار مزید سخت کرتا وہ اسکی پچھلی گردن پر اپنے سلگتے لب رکھ گیا۔

“مجھے خود پر یقین نہیں ہے میں بری ہوں ہمیشہ اپنوں کو تکلیف دیتی ہوں”

“لیکن آج کے بعد میں آپ کو یہ موقع ہی نہیں دوں گا آپ کو اپنی شہہ رگ سے زیادہ قریب رکھو گا اتنا کہ آپ کا دل میرے ساتھ دھڑکے گا”اسکی لو پر لب رکھتا وہ گردن تک آیا اور پھر اسکا رخ اپنی طرف کرتے وہ اسکے لبوں کو اپنی دسترس میں لے گیا۔

“میں لے چلوں گا آپ کو اپنی دنیا میں اس تکلیف بھرے ماحول سے دور چلیں گی میرے ساتھ؟”

اسکے لبوں کو آزادی بخشتے اس نے اپنا ماتھا اسکے ماتھے سے ٹکا کر سرگوشی کی تو بنفشے اسکے سینے سے لگی تھی۔

اسے بانہوں میں اٹھاتے وہ اندر کی جانب بڑھا لے جا کر بیڈ پر لیٹاتا اس پر جھکا تھا۔

“آنکھوں میں اپنے کئے اعتبار دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ آج کے بعد کوئی بات آپ مجھ سے چھپائیں نہیں “اسکی آنکھوں پر لب رکھتے وہ آہستہ سے گویا ہوا۔

“ان لبوں کو چھو کر میں اپنی مسکراہٹ آپ کو دینا چاہتا ہوں۔”سرگوشی کرتا وہ اسے اپنے لمس سے مہکا گیا تھا۔

وہ اسکی محبت تھی جنون کی حد تک وہ اس سے محبت کرتا تھا اور آج وہ اسے شدت سے یہ احساس دلا رہا تھا کہ وہ اسکے لئے کیا ہے۔

گزرتی رات اور معنی خیز خاموشی ۔

وہ اسے آج محبت کہ ایک اور بڑی سنگھاسن پر بیٹھا گیا تھا۔

اسکے ہاتھوں میں بنفشے کے ساتھ قید تھے وہ چاہ کر بھی اس سے فرار نہیں پا سکتی تھی۔۔