Aseer-e-Dilbrum by Fariha Islam Readelle 50358 Aseer-e-Dilbrum Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Aseer-e-Dilbrum Episode 18
وہ پتھر کی ہوگئی تھی اسکا دل دھڑکنا بھول گیا تھا۔۔
“بیا یشم بھائی وہاں بلا رہے ہیں”عائشہ نے آکر اسے کہا مگر وہ ہوش میں ہوتی تو سنتی۔
“اپیا۔۔۔؟”اس کی غائب دماغی محسوس کر عائشہ نے اسکا کندھا ہلایا تو وہ جیسے ہوش کی دنیا میں آئی۔
“ہاں کیا ہوا؟”
“ایسے کن خیالوں میں گم ہو یشم بھائی وہاں بلا رہے ہیں چلو”اسکا ہاتھ تھام کر عائشہ آگے بڑھی تو خود کو سنبھالتے وہ اسکے پیچھے چل پڑی۔
“آجائیں”اسے آتے دیکھ یشم نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے قریبی لوگوں سے ملوانے لگا۔
اسکا دل عجیب ہو رہا تھا دل کر رہا تھا یہاں سے بھاگ جائے مگر یشم کی خاطر چہرے کے مصنوعی مسکراہٹ سجائے وہ سب سے ملتی رہی۔۔
“بیا آپ ٹھیک ہیں؟”اسکی اڑی اڑی رنگت دیکھ یشم نے اسکی جانب جھک کر پوچھا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
“میں ٹھیک ہوں “مسکرا کر کہتے اس نے یشم کو تسلی دی تھی مگر وہ مطمئن نہیں ہوا
“یشم میں ٹھیک ہوں بس تھک گئی ہوں عادت نہیں ہے نا اتنا ہیوی پہننے کی تو تھوڑا عجیب لگ رہا”اسکا ہاتھ نرمی سے تھام اسنے کہا تو وہ سر ہلا گیا۔
رات گیارہ بجے تک فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا تو ڈرائیور کو بول اس نے بنفشے کی پوری فیملی کو گھر بھیجا اور ہانیہ بیگم کو بھی گھر روانہ کیا
“آپ اوپر روم میں جا کر چینج کرلیں”
“ہم گھر کب جائیں گے”سب کو جاتے دیکھ اس نے پوچھا تو وہ ہولے سے مسکرایا۔
“چلیں گے مگر اس سے پہلے ایک اور جگہ جانا ہے اوپر آپ کے لئے ایک ڈریس ہے چینج کر کے آجائیں”اسکا گال تھپھتاتے وہ بولا تو ناچاہتے ہوئے بھی وہ اوپر چلے گئی۔
جب تک وہ چینج کر کے واپس آئی تو یشم کو گاڑی سے ٹیک لگائے اپنا منتظر پایا.
جو وائٹ ہائی نیک پر بلیک کورٹ پہنے اچھا خاصا ہینڈسم لگ رہا تھا۔
“یشم اوپر میرا سارا سامان”
“اسکی فکر نہیں کریں وہ سب سامان گھر پہنچ جائے گا پریشان نا ہوں آپ آجائیں گاڑی میں بیٹھیں”اسکا ہاتھ تھام یشم نے اسے گاڑی میں بیٹھایا اور پھر خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا۔
“ہم جا کہاں رہیں ہیں پہلے ہی اتنا لیٹ ہوگیا ہے”
“آپ تو ایسے خوفزدہ ہورہی ہیں جیسے میں آپ کو اغوا کر کے لے کر جارہا ہوں”
“اغوا نہیں کر رہے مگر اتنی رات کو لے کر جا کہاں رہے ہیں یہ بھی تو نہیں بتا رہے”
“آپ کو ایسی جگہ لے کر جارہا ہوں جہاں سوائے آپ کے اور میرے کوئی نہیں ہوگا وہاں ہم ہونگے اور صرف ہماری محبت”اسکا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگاتے وہ اسکے سرخ کرگیا۔
“آپ راستے پر دھیان دیں نا”اسکی گرفت سے ہاتھ چھڑاتی وہ آہستہ سے بولی تو یشم نے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت مزید سخت کی تو اس نے بھی مزاحمت ترک کر دی۔
گاڑی سمندری علاقے میں داخل ہوئی تو اس نے حیرت سے یشم کو دیکھا۔
ٹھنڈی ہوا نے اسکا استقبال کیا تھا۔
“یشم سمندر”سدا کی پانی کی شوقین وہ دیوانی ہوئی تھی۔
“جی میری جان”گاڑی پارک کرتے وہ اسکی جانب آیا اور اسکا ہاتھ تھام اسے باہر نکالا۔
“یشم مٹی کی خوشبو” وہ دیوانی تھی اس خوشبو کی۔
“آجائیں “اسکا ہاتھ تھامے وہ اسے لئے ہٹ میں داخل ہوا تو اسکا ہاتھ چھڑاتے وہ باہر بالکونی میں آئی تھی سامنے ہی ٹھاٹھیں مارتا سمندر پوری شان سے وہاں موجود تھا۔
“یشم ہم وہاں چلیں”پانی کی طرف اشارہ کرتے اسنے بچوں کی طرح ضد کی تو وہ مسکرا اٹھا۔
ساتھ لائے بیگ سے کورٹ نکال کر اس نے بیا کو پہنایا اور اسکے چہرے پر آئے بال سیٹ کئے.
“چلیں”اسکا ہاتھ تھام کر وہ اسکے ساتھ باہر آیا تو پانی کے پاس آتے ہی وہ بھاگ کر لہروں کے ساتھ بھاگی تھی۔
ٹھنڈا ٹھنڈا پانی دل کو سکون دے رہا تھا۔
دیوار سے ٹیک لگائے یشم نے اس دیوانی کو دیکھا۔
“یشم آئیں نا”ہاتھ کے اشارے سے اسے بلاتے وہ زور سے بولی تو اس نے آہستہ سے اپنے قدم اسکی جانب بڑھائے اور اسکے قریب پہنچ کر اسکے کمر کے گرد ہاتھ باندھ اسے اپنے قریب تر کیا تھا۔
“یہ ساحل یہ موجیں اور یہ رات کا پہر
بانہوں میں محبوب ہو تو واللہ ان کو دیکھنا بنتا نہیں ہے۔۔۔”
سرگوشی کرتا وہ اسکی کنپٹی پر لب رکھتا شرمانے پر مجبور کر گیا۔
“میرا دل کرتا ہے کہ ساری زندگی یونہی اپنے حصار میں قید کئے تمہیں اس دنیا سے بہت دور میں چھپ جاؤں جہاں بری ہوا کا گزر بھی نا ہو تم یوں ہی آغوش میں قید میری محبت میں کی بارش میں بھیگتی رہو اور تمہارے لئے میری محبت کا یہ دریا وسیع تر ہوتا چلا جائے”اسکے لبوں کو نرمی سے چھوتا وہ اسے بانہوں میں بھر کر اندر کی جانب بڑھا تو بنفشے کی جان لبوں پر آئی تھی۔
ٹھوکر سے دروازہ بند کرتا وہ اسے لئے ایک کمرے میں آیا جو پھولوں سے مہک رہا تھا کمرے کا دلفریب منظر دیکھ اسنے اسکی گردن میں منہ چھپایا تھا۔
اسے بیڈ پر لٹاتے یشم نے آہستہ سے اسکے ماتھے کو اپنے سلگتے لبوں سے چھوا تو اسنے گھبرا کر اسکا کندھا پکڑا.
“یش۔۔۔”باقی کے لفظ یشم نے چرائے تھے۔
اسکی حالت پر رحم کھاتے وہ اس سے الگ ہوا تو بنفشے نے بھیگی پلکوں کے ساتھ اسے دیکھا۔
“ان آنکھوں میں میرے عکس کے سوا کچھ اچھا نہیں لگتا یہ آنسو بھی نہیں خبردار آج کے بعد ان میں سے یہ موتی نکلے “اسکے آنسوؤں کو اپنی پوروں پر چنتا وہ ان نم آنکھوں پر لب رکھ گیا۔
“اس کائنات کی ہر شے میں مجھے آپ کا عکس دیکھتا ہے اگر کوئی کہے کہ یشم یوسفزئی پاگل ہے تو مجھے بالکل برا نہیں لگے گا کیونکہ میری محبت رفتہ رفتہ عشق میں تبدیل ہوتی جارہی ہے میرا بس چلے تو میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ آپ کے نام لکھ دوں”اس کی ہتھیلی پر لکھے اپنے اور اسکے نام پر لب رکھتے وہ اسے اپنے لفظوں سے معتبر کر رہا تھا۔
اس وقت وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی تصور کر رہی تھی کیونکہ اسکے حصے میں یشم یوسفزئی آیا تھا۔
وہ اسکی طرح بےباک نہیں تھی وہ اپنے لفظوں اور لمس سے اسے مہکا رہا تھا اور وہ پاگل دیوانی اس شخص کے رنگ میں رنگنے کو تیار تھی۔
اتنا آج اس نے جان لیا تھا کہ محبت کے معاملے میں یشم کا پلڑا ہر صورت اس سے بھاری رہنے والا ہے وہ کبھی اسکے جتنی محبت اس سے نہیں کر سکے گی کیونکہ وہ سراپا محبت تھا بنفشے کو اس سے محبت تھی وہ قابل محبت تھا مگر وہ بنفشے کو عشق جیسے بڑے مرتبے پر فائز کر اسے فرش سے عرش پر بیٹھا گیا تھا.
_______________
رات آہستہ آہستہ سرد ہوتی جارہی تھیں چھت پر اس وقت سوائے چاندنی کے کوئی روشنی نہیں تھی۔
شال کو اچھے سے اپنے گرد لپیٹے وہ واک کر رہی تھی جب اسکے قدموں کے ساتھ کسی اور کے قدم بھی شامل ہوئے تھے۔
عائشہ نے چونک کر سر ہٹایا تو ساتھ زین کو کھڑے پایا۔
“امی بابا سو گئے ؟”اسے ساتھ چلتے دیکھ اس نے سوال کیا تو زین نے اثبات میں سر ہلایا۔
“تم ناراض ہو مجھ سے ؟” اسے آگے بڑھتا دیکھ زین نے پوچھا تو عائشہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
“بابا تمہارے اور میرے نکاح کی ڈیٹ فائنل کر رہے ہیں اپنا فیصلہ انہیں بتا دینا “بنا اسکی بات کا جواب دئیے اس نے اپنی بات کہی تو وہ چپ کا چپ رہ گیا۔
“تم مجھ سے بدگمان ہورہی ہو عائشہ”اسکا ہاتھ تھامے وہ اسے نیچے جانے سے روک گیا تو اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“میں بدگمان ہونے کا حق نہیں رکھتی مگر ہمارے بیچ آئے فاصلے کو دیکھ مجھے یہ بہتر لگ رہا ہے کہ اپنے دل سے پوچھو اور پھر فیصلہ کرو کیونکہ ان چاہی ہمسفر بننے سے بہتر ہے ہمارے راستے جدا ہوجائیں۔۔”اسکی گرفت سے اپنے ہاتھ چھڑاتی وہ آگے بڑھی مگر پھر رک کر اسنے ایک اسے دیکھا۔
“میں بچی نہیں ہوں زین جو چیزیں سمجھ نا سکوں آئندہ اپنی بات کسی اور سے منسوب کرنے کی ضرورت نہیں”اپنی بات کہہ کر وہ رکی نہیں تھی۔
وہ جانتا تھا وہ حساس ہے اور وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسے تکلیف دے گیا تھا۔
اپنے اصولوں پر کھڑا رہنے والا انسان اج اس دوراہے پر کھڑا تھا کہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے کس طرح سب چیزوں کو نارمل کرے زندگی اچانک ہی بہت مشکل ہوگئی تھی اور اتنی ہوا میں بھی اسے سانس لینا دشوار ترین کام لگا تھا۔
بچپن کے رشتے یوں ہی تو ختم نہیں ہوتے۔۔
وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا مگر کر نہیں سکا جس لڑکی نے اتنا کچھ کیا صرف اس سے بدلہ لینے کے لئے اس سے ہمدردی اسے ہونی نہیں چاہیے تھی مگر وہ خود کو اسکے ایکسیڈنٹ کا زمہ دار سمجھ رہا تھا۔
خود سے لڑتے لڑتے وہ تھک گیا تھا جبھی خاموشی سے آکر اپنے کمرے میں بند ہوگیا۔
کل صبح اسے ہاسٹل چلے جانا تھا وہ عائشہ سے بات کرنا چاہتا تھا مگر وہ کیا بات کرتا۔
انہیں سوچوں کے گرداب میں الجھے کب اسکی آنکھ لگی اسے پتا نہیں چل سکا۔۔
_____________
کروٹ لیتے اس نے اپنے پہلو پر ہاتھ رکھا تو کچھ غیر معمولی احساس نے اسکی نیند اڑائی تھی۔
نیند سے بوجھل آنکھیں کھولتے اس نے برابر میں دیکھا تو بنفشے کو غائب پایا۔
اسکی غیر موجودگی پر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور شرٹ پہنتے باہر آیا مگر پورا ہٹ خالی پڑا تھا۔
وہ اچھے سے سمجھ گیا کہ وہ اس وقت کہاں ہوگی۔
شال اٹھاتے وہ باہر آیا تو وہ سامنے ہی تھی۔
سمندر کی لہروں کھیلتی۔۔
سیڑھیاں اترتے وہ آہستہ سے اسکے پیچھے جا کر کھڑا ہوا اور شال پہناتے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں قید کیا اور اسکے کندھے کر اپنی ٹھوڑی ٹکرائی تو اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“مارننگ مسٹر یشم”اسکے گال کو محبت سے چھوتی اس نے کہا تو یشم نے اسکے گال پر اپنے لب رکھے۔
“میری نیند صبح صبح خراب کر آپ یہاں مزے کر رہی ہیں یہ تو بہت غلط بات کے جانم”
“آپ نے بھی میری نیند خراب کی ہے بھولیں نہیں آپ “اسکے کہتے بنفشے نے اپنا رخ اسکی طرف کیا اور اسکی کمر کے گرد ہاتھ باندھ اپنی ٹھوڑی اسکے سینے پر ٹکائی۔
“خیریت ہے آج بہت پیار آرہا ہے مجھ پر”اسکے چہرے پر آئے بالوں پر پھونک مارتے وہ آنکھ دبا کر بولا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
“کیوں نہیں آسکتا کیا؟”آئی برو آچکا کر اسنے پوچھا تو یشم تو اسکے انداز پر بے ہوش ہوتے ہوتے بچا.
“بیگم بندہ بشر پہلے ہی گھائل ہے آپ کیوں اپنی اداؤں سے اسے مزید گھائل کرنا چاہتی ہیں؟”
“بس کردیں گھائل تو نہیں ہیں آپ “اسکے ٹھوڑی سے ناک رگڑتے وہ آج شرارت پر آمادہ تھی مگر یہ شرارت اسے تب مہنگی پڑی جب یشم نے اسے بازوؤں میں بھرا تھا۔
“کافی شرارت کرلی آپ نے اب تھوڑی سی میری باری”اسکی بات پر بنفشے نے کئی مکے اسکے سینے پر برسائے تھے۔
______________
بھیگے بالوں کو ہلکا سا موڑ کر کیچر میں قید کئے اس نے باقی سارے بال کھلے چھوڑے تھے۔
یشم کسی کام سے گیا تھا اس لئے وہ سارا سامان بیگ میں رکھ رہی تھی کیونکہ ان دونوں کو اب گھر کے لئے نکلنا تھا۔
سارا سامان پیک کر وہ ابھی فارغ ہی ہوئی تھی جب باہر سے کھٹکے کی آواز پر وہ چونکی۔
“یشم آپ آگئے ؟”یشم کو پکارتے وہ باہر آئی تو کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ اسے دبوچ کر دیوار سے لگایا تھا
سامنے وہاج کو دیکھ اسکی آنکھیں پھٹی تھیں۔
“کیا ہوا حیرت ہوئی مجھے یہاں دیکھ کر ؟کیوں یار”اسکے کان میں کہتا وہ اسکا دل دہلا رہا تھا۔
“مجھ سے بے وفائی کی اور اب خوش رہ رہی چچ۔۔۔۔ دوسری شادی کرلی خوش بھی ہے اور میں ۔۔”وہ اسکے کان میں غرایا۔۔
“اتنا پاگل تیری چال سمجھ ہی نہیں سکا مگر یاد رکھنا تو میری بیوی ہے طلاق دی تھی تو کیا ہوا بیوی تو میری ہی تھی نا اور اب اگر تو اس انسان کے قریب گئی یا اسے میرے بارے میں بتایا تو دوبارہ اسکی شکل دیکھنے کے لئے ترس جائے گی جلد آؤ گا دوبارہ تجھے لے جانے کے لئے تیار رہنا “اسکے گال پر انگلی پھیرتا وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی غائب ہوا تھا اور اسکے جاتے ہی وہ زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔۔
