400.2K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-e-Dilbrum Episode 4

“یار زین اس ہفتے ہم لوگ پارٹی کر رہے تو آئے گا نا؟” علی نے اسکے ساتھ چلتے اس سے پوچھا تو اسکا سر فوراً سے نا میں ہلا تھا۔

“تو جانتا ہے میں اس طرح کی چیزوں کو پسند نہیں کرتا پھر بھی بار بار پوچھتا جب کے جواب تو جانتا ہے میرا۔۔”

“بار بار اس لئے پوچھتا ہوں کہ کیا پتا تیرا مائنڈ چینج ہوجائے”

“ناممکن مجھے ایسی خرافات میں پڑنے کا کوئی شوق ہے تو جانتا ہے مجھے آگے بڑھنا ہے اپنے ماں باپ کا خواب پورا کرنا ہے میں محنت کرونگا تو ہی کامیابی حاصل کرسکوں گا”سیڑھیاں اترتے اس نے رسان سے علی کو سمجھایا۔

“اچھا چل جیسے تجھے ٹھیک لگے ویسے پروفیسر باقر تجھے بلا رہے تھے” اچانک یاد آنے پر اسنے بتایا تو زین اسے گھور کر رہ گیا۔

“کام کی بات تو ہمیشہ لاسٹ میں ہی بتایا کر مجھے۔۔” اسے کہتے اس نے آفس کی طرف رخ کیا سر باقر سے مل کر وہ باہر تو اسے علی کہیں نظر نہیں آیا۔

واپسی کے لئے مڑتے وہ جیسے کی آگے بڑھا کسی نے اچانک اسکے آگے اپنی ٹانگ اڑائی تھی اگر وہ دیوار کو نا تھامتا تو بری طرح زمین بوس ہوتا۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے ” سامنے کھڑی آرزو کو دیکھ اسکے ماتھے پر بل آئے۔

“بدتمیزی یہ نہیں وہ ہے جو تم نے اس میرے ساتھ کی تھی۔”

“تمہاری حرکت اسی لائق تھی اور مس تمہارا جو بھی نام ہے آئندہ میرے راستے میں مت آنا ورنہ اچھا نہیں ہوگا آئی سمجھ ” اسے تنبیہ کرتے وہ آگے بڑھا جب وہ دوبارہ اسکے راستے میں آئی۔

“اپنی بہنوں سے بھی ایسے ہی بات کرتے کو تم مسٹر زین ؟” وہ اسکے بارے میں ساری معلومات لے کر بیٹھی تھی

“ہر گز نہیں کیونکہ میری بہنیں تمہاری طرح نہین ہیں جنہیں نا اپنی عزت کی پرواہ ہے نا اپنے ماں باپ کی میری جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید اب تک اچھے سے سبق سیکھا چکا ہوتا آئندہ اگر میرے سامنے آئیں تو اچھا نہیں ہوگا اور ہاں ایک بات۔۔” آگے بڑھتے وہ ایک دم رکا تھا۔

“آئندہ خود کو میری بہنوں سے کمپئر مت کرنا کیونکہ تم ان کی برابری کبھی نہیں کر سکتیں۔۔” اسے کہتا وہ وہاں رکا نہیں تھا۔۔

پہلے ہی کام پڑھائی کو لے کر اتنا بوجھ تھا اوپر سے اس لڑکی کا یوں بار بار سامنے آنا۔۔

وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسے سنا گیا تھا۔

جبکہ دوسری طرف اسکے لفظوں پر وہ سر تا پا سلگ اٹھی تھی۔

“بہت غرور ہے تمہیں زین اپنی بہنوں پر مگر افسوس تم ابھی مجھے جانتے ہی نہیں ہو اب دیکھنا تمہارا یہ غرور نا توڑا تو میرا نام بھی آرزو مشارب نہیں ہے۔۔”خود سے کہتی وہ موبائل کی طرف متوجہ ہوگئی۔

آرزو مشارب۔۔۔۔ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی لاڈلی جو ہر ایک کو پاؤں کی جوتی سمجھتی تھی کوئی اسکے آگے کچھ بولے وہ اس شخص کا جینا حرام کر دیتی تھی ہر کوئی اس سے بچتا تھا مگر زین کے آئینہ دیکھانے پر وہ بلبلا اٹھی تھی۔۔۔

_____________

“سر میں آجاؤ ؟” دروازہ ناک کرتے اس نے زرا سا جھانک کر اندر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔

خالی کمرہ دیکھ اسکی جان میں جان آئی۔

“اللّٰہ کا شکر ہے نہیں ہیں ورنہ اس انسان کو دیکھتے ہی مجھے ہارٹ اٹیک ہونے لگتا ہے۔۔” ادھر ادھر نظریں دوڑاتے فائل ٹیبل پر رکھتے وہ جیسے ہی مڑی سامنے دیوار کے سہارے اسے کھڑا دیکھ اسکا سانس اٹکا تھا۔

“ارے ارے ریلکس ہارٹ اٹیک نا ہوجائے” اسکے قریب آتے اسنے کہا تو بنفشے کا دل کیا یہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔

“آپ ٹھیک ہیں آپ کا دل ٹھیک ہے؟” اسکے ہوائیاں اڑنے چہرے کو دیکھ یشم کا دل کیا قہقہ لگا کر ہنس پڑے۔

“سوری سر۔۔” سر جھکاتے وہ حد سے زیادہ شرمندہ تھی اسکا بس چلتا تو زمین میں دھنس جاتی۔۔

“فائل کے علاؤہ کوئی کام آپ کو؟” اسکے جھکے سر کو دیکھ وہ مسکراہٹ دباتا اپنی جگہ پر بیٹھا۔

“مسٹر مشارب آج وزٹ کریں گے اس کے علاؤہ کچھ نہیں سر۔۔۔”دھڑکتے دل کے ساتھ جلدی جلدی کہتے وہ واپسی کے لئے مڑی مگر برا ہو اسکی قسمت کا کہ دروازہ کھولنے کے بجائے وہ سیدھا بند دروازے سے جا ٹکرائی

“اہہہہ۔۔۔۔افففف”

“بنفشے آر یو اوکے۔۔” وہ ایک دم اپنی جگہ سے اٹھا تھا مگر اس سے پہلے وہ اس تک پہنچتا وہ تیر کی سی تیزی سے کمرے سے باہر نکل چکی تھی۔

“اففف اتنا بھی کیا ڈر بیوقوف لڑکی۔۔۔” پریشانی سے اسے دیکھتے سر پر پکڑ کر رہ گیا۔۔

دوسری طرف تیزی سے اپنی سیٹ پر بیٹھتے اس نے سر تھاما۔

“بنفشے کیا ضرورت تھی فضول بولنے کی کیا سوچ رہے ہونگے وہ کہیں میری فضول گوئی کی وجہ سے آپی کو مسئلہ نا ہو” مسلسل گھبراتے اسکی جان نکل رہی تھی جب انٹر کام بجا۔

اسکی آواز پر وہ ایک دم چونک کر سیدھی ہوئی تھی۔

جلدی سے فون ریسیو کیا تو دوسری طرف یشم تھا۔۔

” مس بنفشے میرے روم میں آئیں” بھاری گھمبیر آواز جسے سن کر ہی اسکے ہاتھ کانپے تھے۔

دل تو نہیں تھا مگر مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق خود کو مضبوط بناتے وہ اسکے کمرے میں آئی تو وہ کام میں مصروف تھا اسکی موجودگی محسوس کر یشم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

“آجائیں بیٹھیں” اسے اشارہ کرتے یشم نے فائل کھولی تھی۔

” تھینک یو سر” سیٹ پر بیٹھتے اس نے قدرے آہستہ آواز میں اس کا شکریہ ادا کیا۔

“مس بنفشے کیا میں بہت خوفناک دیکھتا ہوں؟” اسکی نظریں فائل پر تھیں مگر سوال بنفشے سے کیا تھا

“جی۔۔میرا مطلب ہاں مطلب نہیں آپ خوفناک تو نہیں ہیں..’ وہ جو پہلے ہی حواس باختہ تھی اس سوال پر گڑبڑا گئی۔

“ہاں یا نہیں ؟؟ ایک بتائیں”

“سر آپ خوفناک نہیں دیکھتے”

” تو مجھ سے ڈرنا چھوڑ دیں میں کوئی جن نہیں ہوں جو آپ اتنی خوفزدہ رہتی ہیں آپ یہاں کام سیکھیں تجربہ حاصل کریں ڈر کر رہیں گیں تو سیکھیں گی کیسے ؟ ریلکس ہو کر کام کریں کوئی آپ کو کچھ نہیں کہے گا ٹھیک ہے نا؟” اپنی بات مکمل کرتے اس نے بنفشے کی رائے مانگی تو وہ جلدی سے سر ہاں میں ہلا گئی۔

“گڈ اب آپ جا کر میری فائل ریڈی کریں” اسکی اجازت ملتے ہی وہ فوراً سے باہر آئی تھی۔

اور آج اسے احساس بھی ہوا تھا کہ اس پورے وقت میں یشم نے ایک بار بھی اسکی طرف نہیں دیکھا تھا۔

فضول سوچوں سے سر جھٹکتے وہ اس کے دئیے گئے کام میں مصروف ہوگئی۔۔۔

____________

“بنفشے فائل میٹنگ روم میں لے کر آؤ” آفس سے باہر نکلتے اسنے فائل پر جھکی بنفشے کو کہا اور خود میٹنگ روم کی جانب بڑھا تو اسکا حکم ملتے ہی وہ اسکے پیچھے لپکی تھی۔

“ہیلو مسٹر یشم کیا حال ہیں ؟” وہ میٹنگ روم میں داخل ہوا ہی تھا کہ اسکے کانوں میں نسوانی آواز گونجی تو یشم نے سامنے دیکھا جہاں وہ بکو جینس اور وائٹ ٹاپ میں کھلے بالوں کے ساتھ موجود تھی جسے دیکھتے ہی یشم یوسفزئی کے ماتھے پر کئی بلوں کا اضافہ ہوا تھا۔

“بس یہی فیس دیکھنے کے لئے میں اتنی دور آتی ہوں” اسکے تاثرات کا مزہ لیتے وہ ہنس کر بولی تو اپنا رخ پھیرتے وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔

“کم آن یشم ہم کزنز ہیں اتنی بھی کیا بیزاری مجھ سے۔۔” اسکے قریب آتے آرزو نے کہا تو اس نے موبائل فون کانوں سے لگایا۔

“مسٹر مشارب اگر آپ نہیں آسکتے تو کم از کم اپنی لاڈلی کو بھی مت بھیجا کریں میں زرا بھی فارغ نہیں ہوں اسکی بکواس سننے کے لئے۔۔”اپنی بات مکمل کر اسنے کھڑاک سے فون بند کیا تو اس بدتمیزی پر وہ اسے گھور کر رہ گئی۔

“ہم بچے نہیں ہیں اب کہ ہر بات کا تم بابا کو بتاؤ یشم”

“اگر تمہاری حرکتیں درست ہوتیں آرزو تو شاید میں یہ نا کرتا مگر میں مجبور ہوں اب برائے مہربانی اپنی شکل یہاں سے گم کرو اور اگر آئندہ میرے آفس میں قدم رکھنا ہے تو اپنے لباس کا خیال رکھنا۔۔”دو ٹوک انداز میں کہتے وہ آگے بڑھا۔

“ہونہہ یہاں ہر کوئی آنکھیں ماتھے پر رکھ کر گھوم رہا ہے پتا نہیں کس بات کا غرور ہے خیر یشم یوسفزئی پر تو ججتا بھی ہے غصہ مگر اس دو ٹکے کے لڑکے کو تو ایسا سبق سیکھاؤ گی کہ ساری زندگی یاد رکھے گا”

غصے سے بڑبڑاتے وہ باہر آئی تو سامنے کھڑی بنشے جو دیکھ اسکے چہرے کے زاویے مزید بگڑے تھے وہ جو ہمیشہ خود کو اوپر رکھتی تھی آج اسکے معصوم حسن سے بری طرح چونکی تھی۔۔

_________

“”امی یہ سب کیا لے کر بیٹھی ہیں”؟ کوثر بیگم کو سوٹبکیس کھولے دیکھ وہ چائے کا کپ لیتی ان کے پاس آ بیٹھی۔

“تمہاری شادی کی تیاریاں شروع کرنی ہیں تمہاری تائی نے تو کہہ دیا ہے نکاح پہلے کرینگے اگلے مہینے کی تاریخ مانگ رہی ہیں اب دیکھو تمہارے بابا کیا جواب دیتے ہیں مگر میں تو اپنی تیاری پوری کر کے رکھوں نا.٫”

وہ اپنی دھن میں بولتی جارہی تھیں بنا اسکے تاثرات دیکھے جس کے چہرے پر سایہ سا لہرایا تھا۔

“جا نا بیا دیکھ الماری میں ایک سوٹ رکھا ہے وہ لا کر دے میں اسے بھی رکھوں”

“جی امی “بے دلی سے کہتے وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔

کیا ضروری تھا یہ سب اسکے ساتھ ہی ہوتا۔۔

ان کو کپڑے دے کر وہ باہر صحن میں آگئی موسم اب جا کر کچھ ٹھنڈا ہوا تھا مگر دن میں گرمی اب بھی ناقابل برداشت تھی۔

کوثر بیگم کو بتا کر وہ اوپر چھت پر آگئی۔

منڈیر کے پاس کھڑے ہوتے اسنے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔

“کیا ضروری ہے جو چیز دسترس میں نا ہو اسکی خواہش کی جائے” چاند کو دیکھ کر کہتے اسنے دونوں ہاتھوں کو منڈیر پر رکھ اپنا چہرہ ان پر ٹکایا تھا۔

“کیا سوچا جارہا ہے بہنا” وہ جو اپنی سوچوں میں مگن تھی آواز پر اچانک اچھلی۔

“زین بدتمیز ڈرا دیا ۔”اسکے بازو پر ہاتھ مارتے وہ غصے سے بولی تو ہنس پڑا

“یہ ڈرنے کی عادت ناجانے کب جائے گی تمہاری۔٫”

“یہ تب جائے گی جب تم مجھے ڈرانا بند کردو گے ویسے بڑی جلدی نہیں آگئے تم اس بار۔۔”

“ارے یار لاسٹ سیمسٹر ہے تو تمہیں پتا ہے میرا”

“ہاں میرا قابل بھائی کچھ عزیر کو بھی سیکھا دو “

“ارے اپنا من موجی بندہ ہے وہ خوش رہنے دو اسے” اسی کی طرح منڈیر پر ہاتھ رکھتے وہ باہر دیکھنے لگا۔

“بیا ایک بات کہوں؟”

طویل خاموشی کے بعد اسکی آواز نے اس سکوت کو توڑا۔

“ہمم پوچھو۔۔”

“تم اس رشتے سے خوش نہیں ہو نا؟”

اسکا سوال اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ لمحے کو کچھ بول ہی نا سکی۔

“بتاؤ بیا میں بات کروں گا تایا ابو سے “

“میں خوش ہوں اگلے مہینے نکاح ہے میرا فضول نا سوچو اور نا مجھے سوچنے پر مجبور کرو پاگل لڑکے “

“پکا نا ؟”وہ ابھی بھی مطمئن نہیں تھا۔

“ہاں بابا اب چلو نیچے کھانا کھاتے ہیں”اسے ساتھ لئے وہ نیچے بڑھ گئی۔

عبد العزیز صاحب تین بھائی تھے۔

بڑے عبدلرحمن پھر عبدالعزیز اور سب سے چھوٹے عبدالباسط۔۔۔

عبد الباسط اور ان کی بیوی کی جوان موت نے سب کو ہلا ڈالا تھا زین اس وقت بہت چھوٹا تھا جب عبدالعزیز صاحب نے اسے اپنی سر پرستی میں لے لیا ان کے اس وقت صرف بنفشے تھی زین کے آجانے سے اسکے بھائی کی کمی پوری ہوئی اور پھر عزیر اور عائشہ کی آمد نے ان کی فیملی کو مکمل کیا تھا

عبد الرحمن اور سلمہ بیگم کی وہاج کے بعد ایم بیٹی تھی جس کی شادی کچھ ہی سال پہلے ہوئی تھی۔

عبد الرحمن صاحب کی خواہش پر ہی بنفشے اور وہاج کی منگنی ہوئی تھی اور اب شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں۔

__________

“اچھا امی میں جارہی ہوں “

“رکو بیا میں چھوڑ دیتا ہوں ” اسے تیار دیکھتے بائیک کی چابی لیتا زین آگے بڑھا تو وہ مسکرا کر اسکے پیچھے باہر آئی۔

“شکر آج بس کی خواری نہیں ہوگی”بائیک پر بیٹھتے اس نے کہا تو وہ ہنس پڑا۔

“کوئی نہیں ابھی ہم تمہیں جہیز میں گدھا گاڑی دینگے” شرارت سے کہتے اس نے بائیک اسٹارٹ کی تو وہ بدلہ بھی نا لے سکی۔

آفس پہنچ کر وہ بائیک سے اتری تو زین نے اسکا بیگ اسکے حوالے کیا۔

“خیال رکھنا اپنا “اسے ہدایت دیتے وہ وہاں سے نکلا تو اس کے یوں کہنے وہ مسکراتی اندر بڑھی

جبکہ کسی نے منظر بڑی حیرت سے دیکھا اور پھر اس چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔

“مجھے آوارہ بولنے والے کا کیریکٹر آج خود سامنے آگیا۔”

ہنس کر کہتے وہ اندر بڑھ گئی۔