400.2K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-e-Dilbrum Episode 6

“وہاج آج تیرے نکاح کا جوڑا لینے جانا ہے تو چل ساتھ ورنہ پھر سو باتیں سنائے گا” بیگ میں سامان رکھتے انہوں نے بیڈ پر لیٹے وہاج کو کہا تو اسکے چہرے کے زاویے بگڑے۔۔

“دولہن تو میری مرضی کی ہے نہیں سوٹ مرضی کا لے کر اچار ڈالوں گا”

“شرم کر تھوڑی عزیز کا احسان ہے جو اتنی پیاری بیٹی تجھے دے رہا ہے ورنہ تجھ جیسے نکمے کو کون اپنی اولاد دے گا” ان کے آئینہ دیکھانے پر وہ بلبلا اٹھا

“تم میری ماں ہو یا اسکی زرا کو مجھ پر رحم آجائے مگر نہیں تم اور ابا کہاں مجھ پر رحم کھاؤ گے”

“تو اس قابل تو بن وہاج دیکھ زرا زین کو کیسے اپنے مرے ماں باپ کا خواب پورا کرنے میں لگا ہوا عزیر پڑھ رہا ساتھ کام میں کر رہا عائشہ مدرسہ پڑھاتی ہے اب تو اپنی بیا بھی نوکری کر رہی صرف تو ہے جو ناکارہ ہے”

“ان سب کے پاس میری جیسی شکل نہیں ہے نا۔۔”

“اچار ڈال تو اچھی شکل کا۔۔۔ جا اب منہ دھو اور ہاں ایک چکر لگا کر آ اسکے آفس کا پتا تو چلے کیسے ماحول میں کام کر رہی ہے”

“اچھا اچھا چلا جاؤ گا اب سونے دو مجھے “تکیے میں منہ دیتے وہ ان کا خون جلا گیا۔

“سوتا ہی رہنا تو ہمیشہ”غصے سے بڑبڑاتے وہ نیچے آئیں تو عبدالرحمن صاحب نے انہیں دیکھا۔

ب”بول دیا اسے کہ آج جانا ہے بنفشے کے آفس چیک کرنے ارے اتنے بڑے ادارے میں کام کر رہی ہے ہوسکتا ہے اس ناہنجار کا ہی کچھ بندوست کردے”

“بول دیا ہے میں نے صاحب کا موڈ ہوگا تو چلے جائے گا۔۔چائے لاتی ہوں آپ کے لئے”سر جھٹک کر کہتے وہ آگے بڑھ گئیں۔۔

_____________

اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے بھی اسکا سارا دھیان اندر کام کرتے یشم پر تھا۔

وہ نہیں جانتی تھی کیوں مگر یہ احساس بہت عجیب تھا کہ کچھ نا ہونے کے باوجود ایسا تو کچھ تھا کہ وہ ہر بار اس شخص کے سحر میں مبتلا ہوتی جارہی تھی کوئی ایسی کشش جو اسے یشم کی طرف کھینچتی چلی جارہی تھی۔

وہ چاند تھا اسکی دسترس سے بہت دور۔۔۔

اور وہ کسی کی امانت تھی اسے اپنی اصل جگہ پتا تھا اور یہی بات تو اسے بے چین کر رہی تھی کہ کسی کی امانت ہوتے ہوئے بھی وہ ہر بار کیوں اس انسان کی طرف کھینچتی جارہی تھی وہ تو پلٹ کر دیکھتا بھی نہیں تھا اسے۔۔

اپنی سوچوں سے گھبرا کر وہ نیچے آئی مگر اسے رکنا پڑا وہاں اسی کے متعلق بات ہورہی تھی۔

“یار یشم سر نے اس سے پہلے تو کسی اسسٹنٹ کو اتنی اہمیت نہیں دی جتنی بنفشے کو دے رہے ہیں”

“ارے یہ امیر زادے ہوتے ہی ایسے ہی شرافت کا لبادہ اوڑھے۔۔ جہاں موقع ملتا ہے وہاں کام کر جاتے ہیں اور بنفشے تو ہے بھی بیوقوف اسے پاگل بنانا کون سا مشکل ہے” دوسرے والے کے لہجے میں اسکے لئے تمسخر تھا

“بات تو سہی ہے مگر میری دعا ہے وہ یشم یوسفزئی سے محبت ہی نا کر بیٹھے۔۔”

“محبت کرتی ہے تو کرے یشم یوسفزئی اسے منہ تک نہیں لگائے گا ابھی تو دل بہلانے کے لئے کافی ہے وہ ورنہ مڈل کلاس کی ایک دبو سی لڑکی کو کون منہ لگانا پسند کرے گا؟”

وہ مزید بھی کچھ کہہ رہے تھے مگر اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ مزید یہاں رکتی اور اپنے بارے میں ایسی باتیں سنتی ہمیشہ اپنے کردار کو صاف رکھا تھا ہر قدم پر احتیاط مگر اب کیا ہوا۔۔

یہ سوچ آتے ہی اسکی آنکھوں میں نمی آئی تو ہاتھ کی پشت سے اس نے بے دردی سے آنکھوں کو مسلا۔۔

اپنی سیٹ پر بیٹھتے اس نے نم آنکھوں سے اپنی ہتھیلیوں کو دیکھا۔

“یا اللّٰہ مجھے اس آزمائش میں مت ڈال میرے مالک میرے دل سے یشم کا خیال نکال دے۔۔”,ڈیسک پر سر ٹکاتے وہ بے آواز روئے گئے۔۔

خود کو سنبھالتے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اب مزید یہاں رہنا اسکے لئے اچھا نہیں تھا۔

خود کو کنٹرول کرتے وہ اندر آئی تو یشم نے بغور اسکا چہرہ دیکھا۔

“سر مجھے گھر جانا ہے میرے سر میں درد ہے بہت کیا میں جاسکتی ہوں؟”نظریں جھکائے وہ اس سے جانے کی اجازت مانگ رہی تھی۔

“خیریت ہے بنفشے زیادہ طبعیت خراب ہے تو ڈاکٹر۔۔”

“مجھے گھر جانا ہے سر۔۔”اسکی بات کاٹتے اسنے دوٹوک انداز میں کہا تو یشم نے اسکا بدلہ بدلہ انداز دیکھا

“ٹھیک ہے میں ڈرائیور کو بولتا ہوں آپ کو چھوڑ دے”

“کیا باقی ورکرز کو بھی آپ ایسے ہی ڈرائیور کے ساتھ بھیجتے ہیں ؟”اسکی بات پر انٹرکام کی طرف بڑھتا یشم کا ہاتھ رکا تھا اس نے بے یقینی سے بنفشے کو دیکھا۔

“بنفشے۔۔”

” سر اگلے ہفتے میرا نکاح ہے تو میں زیادہ دن نہیں ہوں عارفہ اگلے ہفتے تک ہی آئیں گی مگر کل میرا یہاں آخری دن ہے امید ہے آپ میری جگہ کسی کو دے دینگے”

“نکاح؟؟؟”

“جی نکاح اگلے ہفتے نکاح ہے میرا خیر میں چلتی ہوں۔۔”بنا اسکی سنے وہ نکلتی چلے گئی یہ جانے بغیر کہ اسکے اس انکشاف نے سامنے موجود شخص کی ہستی ہلا دی تھی۔

اسکا باہر کی جانب بڑھتا ایک ایک قدم اسکے دل پر پڑ رہا تھا بے یقینی کی کیفیت سے نکلتے وہ تیزی سے لاکر کی جانب بڑھا اور اسکے نام کی فائل نکالی تھی۔

جسے اس نے آج تک نہیں کھولا تھا آج دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر کھول رہا تھا۔

“یہ ناممکن ہے بنفشے کیسے ایسا ہوسکتا ہے میرے ساتھ ایسا کیوں ۔”بے یقینی سی بے یقینی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کرے تو کیا کرے وہ جاچکی تھی اور وہ بے بس تھا جبھی اسکے پیچھے لپکا تھا۔

________________

تیز تیز قدم بڑھاتی وہ یہاں سے دور جانا چاہتی تھی جب اچانک اپنے پیچھے کسی کے قدم محسوس ہوئے تو اسے احساس ہوا کہ وہ اس تپتی دوپہر میں اکیلی ہی روڈ پر ہے۔

ڈر کے مارے اسکے قدموں میں پھرتی آئی مگر اس سے پہلے کے وہ آگے بڑھ پاتی کسی نے اسکا ہاتھ پکڑا کر گھمایا۔۔

لمحوں کا کھیل تھا ڈر کے مارے اسکی چیخ نکلی وہیں سامنے والے کا قہقہ گونجا۔

“ارے پیاری بھاگ کیوں رہی ہے زرا میرے ساتھ تو چل”

وہ آوارہ کھلے گریبان منہ میں گٹکا کھائے اسکا ہاتھ سختی سے دبوچے ہوئے تھا۔

“چھوڑو۔۔۔چھوڑو۔مجھے جانے دو ۔۔۔” اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے چھڑانے کی کوشش میں وہ رو دی تھی ۔

“ارے ارے کچھ نہیں ہوگا چل نا زرا”وہ خبیث انسان اپنی خباثت دیکھاتا اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے لگا وہ پوری طاقت سے اس سے ہاتھ چھڑا رہی تھی مدد کے لئے پکار رہی تھی مگر اس تپتی دوپہر میں کوئی اسکی مدد کے لئے موجود نہیں تھا۔

“کوئی ہے پلیز مجھے بچاؤ چھوڑو مجھے چھوڑو۔۔۔۔”

“چپ کر بے*****”اس نے گندی سی گالی اسے دی اور تبھی اسکا منہ بند ہوا تھا کہ کسی کی لات اسکے منہ پر پڑی ۔

اس آدمی کے منہ سے خون نکلتا دیکھ اسکی چیخ نکلی تھی مگر تبھی یشم اسکے سامنے آیا اور پھر وہ رکا نہیں تھا

“چھوڑیں اسے وہ مر جائے گا”وہ جنونی انداز میں سے مار رہا تھا بنفشے کو اس سے خوف محسوس ہوا۔

“سر وہ مر جائے گا چھوڑ دیں اسے”یشم کو اس آدمی سے دور ہٹاتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تو وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا۔

“اب کس لئے رو رہی ہیں آپ بنفشے بہت شوق تھا نا آپ کو اکیلے آنے کا ہوگیا شوق پورا تو خاموشی سے گاڑی میں بیٹھئے” سختی سے کہتے وہ آگے بڑھ گیا تو اسکے آنسوؤں میں روانی آگئی۔

“بنفشے اب کسی دوسرے کے آنے کا انتظار کر رہی ہیں آپ جلدی آکر بیٹھیں”

اسکی آواز اتنی تیز تھی وہ شرافت سے آکر اسکی گاڑی میں بیٹھ گئی مگر پورے راستے اس نے اپنے رونے کا شغل کیا تھا اور اسکا رونا برابر والے کی طبعیت پر اس قدر گراں گزر رہا تھا مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔۔

_________________

بائیک روک کر اس نے تنقیدی نظروں سے اس بڑی سی عمارت کا جائزہ لیا۔

“واہ بھئی اتنی بڑی جگہ پر نوکری کیا ہی بات ہے”خود سے کہتا وہ بائیک سے اترا تبھی ایک بڑی سی گاڑی اسکے سامنے آکر رکی تھی۔

اتنی بڑی گاڑی دیکھ اسکی آنکھیں پھٹی تھیں۔

تبھی اس گاڑی سے آرزو باہر آئی ہمیشہ کی طرح کھلے بال بلیک ٹائٹ جینز شرٹ پہنے۔۔

گاڑی سے اترتے ہی اسکی نظر سامنے کھڑے وہاج پر پڑی تو لمحے کو وہ اپنی نظریں وہاں سے ہٹا ہی نا سکی.

“آپ کون؟”گلاسس سر پر ٹکاتے وہ آہستہ سے چلتی اسکے پاس آئی تو وہ بے اختیار چونکا

“میں۔۔۔”؟

“جی بالکل کیونکہ آپ کو آفس میں تو نہیں دیکھا آج تک۔۔”

“ہاں وہ میں اپنی منگیتر کو لینے آیا ہوں”اسکے منگیتر کہنے پر آرزو کا حلق تک کڑوا ہوا تھا

“کون منگیتر؟”

“بنفشے عبدالعزیز”یہاں اس نے نام لیا تھا وہی دوسری طرف آرزو کے آگ لگ گئی۔

ہمیشہ یہ بنفشے ہی کیوں اسکے آگے آرہی تھی۔

“کیا ہوا میڈم”

اسے سوچ میں دیکھ وہاج نے اپنا ہاتھ اسکے آگے لہرایا ۔

“اہہ۔۔ہاں کچھ نہیں میں بس سوچ رہی تھی کہیں وہی بنفشے تو نہیں جو بہت عام سی شکل کی ہے”کل جو بنفشے کی خوبصورتی سے متاثر ہورہی تھی آج اسے عام سی شکل وصورت والی کہہ رہی تھی

“ہاں ہاں وہی عام سی شکل والی”یہ بولتے ہوئے اسکے چہرے کے تاثرات اتنے عجیب تھے کہ جنہیں دیکھ بےاختیار وہ قہقہ لگا اٹھی۔

اسکی ہنسی اتنی دلکش تھی کہ وہاج اسکے سحر میں کھو سا گیا

“ویسے تمہیں وہی ملی تھی منگنی کرنے کے لئے”اسکی ہنسی کو بریک لگا تو اسنے اپنا اگلا پتا پھینکا۔

“بس ماں باپ کے آگے چلتی کس کی ہے ویسے تم بہت خوبصورت ہو”بولتے بولتے وہ عادت کے مطابق ٹریک سے اترا تو آرزو نے معنیٰ خیز نظروں سے اسے دیکھا۔

قسمت خود اسکا ساتھ دے رہی تھی تو وہ کیوں پیچھے ہٹتی۔۔

“آجاؤ اندر کافی پیتے ہیں تب تک اپنی منگیتر کو بھی دیکھ لینا” اسے آفر کرتے وہ خود آگے بڑھ گئی تو وہاج اسکے پیچھے ہولیا۔

_________________

گاڑی اسکے گھر کے آگے روک یشم نے ایک نظر اسے دیکھا جو سر جھکائے بیٹھی اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی۔

“گھر آگیا ہے جاؤ اب”سختی سے کہتے اس نے دروازہ ان لاک کیا تو وہ بنا انتظار کئے فوراً سے گاڑی سے اتر گئی اور اسکے جاتے ہی یشم نے اپنا سر اسٹیرنگ پر ٹکایا۔

“اففففف”گہرا سانس لیتے اسنے خود کو کمپوز کیا اور آفس جانے کے بجائے وہ سیدھا اپنے گھر آیا تھا۔

گھر آتے ہی وہ کمرے میں بند ہوا تھا۔

جس چیز سے وہ ہمیشہ بھاگتا آیا تھا وہ ہوگئی تھی اور ایسے ہوئی کہ اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا وہ خالی ہاتھ تھا۔

“نہیں یشم یوسفزئی تم کمزور نہیں ہو تم کسی غلط راہ پر نہیں چل سکتے وہ تمہارے نصیب میں نہیں تھی یہ بات سمجھ لو تم۔۔”ایک ہی بات بار بار دہراتے وہ بے بسی سے رو دیا۔۔