Aseer-e-Dilbrum by Fariha Islam Readelle 50358 Aseer-e-Dilbrum Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Aseer-e-Dilbrum Episode 7
بجھے دل کے ساتھ گھر میں قدم رکھا تو اندر سے آتی آوازوں نے اسکی توجہ کھینچی تھی۔
“ارے بیا آج جلدی آگئیں”
کوثر بیگم کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تو وہ سر ہلاتی اندر آئی تو اچانک ہی کوئی پیچھے سے اسکے گلے لگا تھا
“سرپرائز” زور سے اسے خود میں بھینچتے آسیہ قہقہ لگا کر ہنسی تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔
“آسیہ تم۔۔”خوشگوار سی حیرت نے اسے لپیٹ میں لیا تھا۔
آسیہ پیپرز کے بعد سے گاؤں چلے گئی تھی اور اب اسکی اچانک آمد نے اسے حیران ہی تو کر دیا تھا۔
“ہاں بھئی ہم محترمہ آپ نکاح کر رہی ہیں اور ہمیں خبر تک نہیں اگر آج بھی میں نہیں آتی تو مجھے پتا ہی نہیں چلنا تھا۔۔”
“وہ..”اس سے جواب نہیں دیا گیا تو اسکی مشکل عائشہ نے آسان کی۔
“آسیہ آپی ساری باتیں یہاں ہی کرینگی کیا چلیں اندر روم میں”اسے کہتی وہ تینوں اندر کمرے میں آئیں تو عائشہ نے آسیہ کو اشارہ کیا اور خود وہاں سے چلے گئی۔
“اب بتاؤ کیا مسئلہ ہے بیا ؟”اسکے یوں ٹون بدلنے پر بنفشے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“مسئلہ تو کوئی نہیں ہے آسیہ “
“مسئلہ نہیں ہے یہ تم بولوں گی اور میں یقین کرلوں گی تو یہ تمہاری بھول ہے بنفشے عبدالعزیز تم اس نکاح سے خوش نہیں ہو یہ بات تمہارا چہرہ ہی بتا رہا ہے اور یہ جو آنکھیں ہیں ان میں آنسو بے وجہ تو نہیں ہوسکتے نا”
اسکے پھیلے کاجل پر چوٹ کرنے پر اسنے فوراً سے آنکھیں صاف کیں تو آسیہ نے تاسف سے سر ہلایا۔
“یشم یوسفزئی کون ہے ؟”
آسیہ نے ایک دھماکہ اس کے سر پر کیا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آسیہ اس سے یشم کے بارے میں سوال کرے گی۔
“تم۔۔تم کیسے جانتی ہو انہیں”
“میں نے پہلے سوال کیا ہے بنفشے کون ہے یشم؟”
“کیا ہوگیا ہے آسیہ باس ہیں میرے۔۔”اسکی باتوں سے خائف اسنے خود کو سنبھالا تھا جو راز وہ خود سے بھی چھپا رہی تھی کیسے کسی دوسرے پر آشکار ہونے دیتی۔
“بیا میں پاگل نہیں ہوں عائشہ نے مجھے بتایا ہے کہ یشم تمہارا باس ہے مگر یہ جو تاثرات تمہارے چہرے پر ابھی آئے اسکے نام پر میں کیا سمجھو اسے”
“کیا فضول کی بات ہے میں حیران ہی ہونگی نا جب تم اچانک ان کا نام لوگی”خفگی سے کہتے وہ رخ موڑ گئی تو آسیہ نے اسکی پشت کو گھورا اور اٹھ کر اسکے سامنے آکر بیٹھی۔
“یہ نکاح مت کرو میری جان پوری زندگی برباد ہو جائے گی میں نے ایک نظر میں اس انسان کو پہچان لیا تھا تو تمہارے امی ابو کیوں نہیں پہچان پارہے “
“آسیہ پلیز امی باہر ہی ہیں کوئی فضول بات مت کرو”
“فضول بات یہ فضول بات ہے تم آخر بتاتی کیوں نہیں انکل آنٹی کو کہ تم نے خود اسے کئی دفعہ لڑکیوں کے ساتھ دیکھا ہے”
“اور یہ بات بتانے کے بعد کون میرا یقین کرے گا آسیہ یہاں اگر لڑکی ایسا کرتی پائی جائے تو اسکی چمڑی ادھیڑ دی جاتی ہے لیکن اگر یہی غلط کام لڑکا کرے تو اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ لڑکا ہے لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں وہ ایک کیا دس لڑکیوں کے ساتھ بھی گھومے گا تو کوئی اس کے کردار پر بات کرنے نہیں آئے گا اور اگر یہی کام لڑکی کرے گی تو یہ زمانہ اسے جینے نہیں دے گا۔۔”
“تو کیا اس ڈر سے ساری زندگی گھٹ گھٹ کر جیو گی جب ہمیشہ خود کو اس سب سے دور رکھا ہے تو تم ایسا انسان تو ڈیزرو نہیں کرتیں “
“میں ایسا ہی انسان ڈیزرو کرتی ہوں کیونکہ کہیں نا کہیں میں بھی اس جرم کی مرتکب ہوگئی ہوں آسیہ “وہ ٹوٹ گئی تھی اور اسکی آخری بات پر آسیہ بری طرح چونکی۔
“کیا مطلب ہے اس بات کا بیا؟”
“مجھے وہ اچھا لگنے لگا ہے آسیہ میں نہیں جانتی جب کیسے کیوں ہوا یہ سب مگر میرا دل اسکی جانب مائل ہوگیا آسیہ کیوں میں تو جانتی تھی نا کہ میں کسی اور کی امانت ہوں تو کیوں میرا دل مجھ سے بغاوت کرتا ہے اس شخص کا لہجہ انداز نرمی اسکی آنکھیں مجھے نہیں پتا کس بات نے مجھے اسکے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا مگر اب میرے پاس کچھ نہیں بچا ساری زندگی خود کو بچا کر رکھا اپنے ماں باپ کے لئے خود تک کو قربان کردیا مگر میرے دل نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا آسیہ “اسکے گلے لگتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
اسکا یوں رونا آسیہ کا دل کرلا رہا تھا
“تمہارا اس میں کوئی قصور نہیں ہے میری جان تم ایسے ماحول میں پلی ہو جہاں عورت کو اہمیت نہیں دی جاتی اسے اپنے حق میں بولنے کا حق نہیں ہے انکل چاہے لاکھ اچھے سہی مگر کیا انہوں نے کبھی تم سے رضامندی پوچھی کسی چیز کے لئے؟”
“ان سب باتوں کا اب فائدہ کیا ہے اگلے ہفتے نکاح ہے میرا اور میں خود کا تماشہ نہیں بنا سکتی میں نے سب کچھ وقت پر چھوڑ دیا ہے جو میرے نصیب میں ہے مجھے ملے گا”اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے وہ پرانی واپس سے اپنے خول میں سمٹی تو آسیہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی۔
_______________
“آپ کے ساتھ کافی اچھا وقت گزرا امید ہے آپ سے بات ہوتی رہے گی”وہاج کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے وہ ایک ادا سے بولی تو اس نے بے یقینی سے اپنے ہاتھ پر رکھے اسکے ہاتھ کو دیکھا۔
“مجھے بھی بہت اچھا لگا بہت وقت بعد کسی سے یوں اپنے لیول کی بات ہوئی ہے”
“کیوں بنفشے سے بات نہیں ہوتی آپ کی؟”اس نے حیرت سے کہا تو وہاج نے نفی میں سر ہلایا۔
“اسکا اور میرا لیول ملتا ہی نہیں ہے میں تو یہ شادی بھی نہیں کرنا چاہتا۔”
“شادی نہیں کرنا چاہتے تو منع کردیں “
“ایسا ممکن ہوتا تو کر دیتا میرے ابو کے پاس بنفشے اور زین کی شان میں پڑھنے کو اتنے قصیدے ہیں کہ حد نہیں”وہ پہلی ملاقات میں اتنی بے تکلفی دیکھا رہا تھا کیونکہ اسکا نیچر ہی ایسا تھا۔
“زین کون؟”زین کے نام پر اسکے کان کھڑے ہوئے تھے۔
“کزن ہے میرا دوسروں کو نیچا دیکھانے کا بہت شوق ہے اسے زہر لگتا ہے وہ مجھے”
“اوو ویسے تو مجھے بولنے کا حق نہیں مگر کیونکہ ابھی ہماری دوستی ہوئی ہے تو میں تو ایک ہی مشورہ دونگی اس رشتے سے فوراً سے جان چھڑاؤ کیونکہ بنفشے زرا اچھی لڑکی نہیں “
وہ اپنے تیئں ایک نیا کھیل کھیل رہی تھی۔
“کیا مطلب میں سمجھا نہیں ؟”
اسکی بات پر آرزو اپنے مطلب کی بات پر آئی تھی
____________
“آرزو مشارب آج آپ کے چہرے پر الگ ہی چمک ہے؟”ردا کے پوچھنے پر اس نے ایک ادا سے بال چھٹکے۔
“اس بار میری جگہ کس نے لی تھی کلاس میں؟”
“زین نے دیکھو آرزو وہ تو قسمت تھی اسکی.”
“ہمم قسمت یو نو درا میں بھی قسمت پر آج کل بڑا یقین کر رہی ہوں ویسے جو شخص ایک وجہ سے مجھ سے ٹکرایا اور جب جب ملا اسنے مجھے نیچا ہی دیکھایا یہاں تک کہ اس نے میری جگہ تک چھین لی میں آرزو مشارب جس نے ہمیشہ سب کو پیچھے چھوڑا اس نے میری زندگی جہنم کر دی اور اب دیکھو قسمت نے مجھے بھی ایک موقع دیا ہے تو میں اسے کھلے دل سے مانوں گی.”
“کیسا موقع ؟؟”
“وقت آنے پر پتا چل جائے گا”مسکر کر کہتے وہ لائبریری میں داخل ہوئی تو سامنے ہی زین موجود تھا اسکی سیٹ پر بیٹھا ہوا۔
“یہ میری جگہ ہے اٹھو یہاں سے”اسکے پاس جا کر اس نے اپنا بیگ ٹیبل پر پٹخا تو زین نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر واپس سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
“میں نے تم سے کچھ کہا ہے سمجھ نہیں آرہی ہے کیا تمہارے میری جگہ سے اٹھو۔۔
“تمہیں شوق ہے نا مجھ سے الجھنے کا تو میں بتا دوں تم جیسی لڑکی کے منہ لگنا میں پسند نہیں کرتا کجا کہ تمہاری جگہ پر بیٹھنا مگر افسوس کہ جگہ تمہاری نہیں ہے تو مجھ سے فضول میں بحث مت کرو”دو ٹوک انداز میں کہتا وہ واپس سے کتاب پر جھکا تو غصے سے اسکا چہرہ سرخ ہوا تھا۔
“مجھ جیسی لڑکی سے بات کرنا نہیں پسند مگر میرے ہی جیسی لڑکی کے بھائی تو ہو تم” تمسخر سے ہنستے اس نے دونوں ہاتھوں کو ٹیبل پر جمایا تو اسکی بات پر زین نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“ارے ارے بہن کی بات پر برا لگ گیا چلو کوئی نہیں بہت پاک صاف بہن کے بہت پاک صاف بھائی سنبھال کر رکھنا اپنا یہ پاکیزہ روپ”ایک ایک لفظ چبا کر کہتی وہ اپنا بیگ سنبھالتی وہاں سے نکلتی چلے گئی اور اسکے لفظوں نے زین کا دماغ خراب کیا تھا
آخر ہمیشہ وہ ہی کیوں اس سے الجھتی تھی وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔
_________
“تمہاری پسند تو کوئی انتہا کی گھٹیا ہے آخر کہاں کی پڑھی لکھی ہو تم”وہ سب اس وقت نکاح کی شاپنگ کے لئے آئے تھے مگر وہاج اسکی ہر پسند کی ہوئی چیز کو بری طرح ریجکٹ کررہا تھا۔
“کچھ پسند کرتے ہوئے اپنی شکل کا بھی خیال کرلو تم پر اچھا بھی لگے گا”غصے سے بڑبڑاتے وہ آگے بڑھا تو وہیں کھڑی رہ گئی اس انسان سے بحث کرنا بیکار تھا۔
اسکے جانے کا فائدہ ہوا نہیں تھا سب کچھ سلمہ بیگم کی پسند کا لے کر وہ واپس آئے تو بنفشے آفس کی تیاری کرنے لگی کل آخری دن تھا عارفہ لوگ آ چکے تھے تو اسکا اب جانا بیکار تھا مگر وہ ایسے نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔
اس لئے صبح معمول کے مطابق وہ آفس آئی تو وہاں آکر پتا چلا کہ یشم تو آج آیا ہی نہیں۔
بجھے دل سے اپنے نکاح کا کارڈ مینجر کو دیتے وہ وقت سے پہلے ہی گھر واپس آگئی اب اس انسان سے تعلق ختم تھا اب وہ کبھی اسکی شکل نہیں دیکھ سکے گی اسنے صبر کیا تھا ہمیشہ۔
گھر آکر بھی اسکا دل اداس ہی رہا لاکھ کوشش کے باوجود وہ خوش نہیں ہو پا رہی تھی۔
__________
“یشم یوسفزئی صاحب کدھر غائب ہیں آپ ٫؟”گھر میں اس وقت اندھیرے کا راج تھا لائٹس آن کرتے واثق نے اسے ڈھونڈتا اوپر اسکے کمرے میں آیا تو سیگریٹ کے دھوئیں نے اسکا استقبال کیا۔
“یشم”لائٹس آن کر اسنے سامنے دیکھا تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔
وہ سامنے ہی بیڈ پر اوندھے منہ پڑا تھا ساتھ ہی سیگریٹ کا ایک ڈھیر تھا جو ایش ٹرے میں پڑا تھا
اسکی حالت دیکھ واثق کا دل خوف سے سکڑا۔
“یشم تو ٹھیک ہے ؟”پیروں میں آئی چیزوں کو سائیڈ کرتے وہ اسکے پاس آیا اور اسکا ہاتھ پکڑا وہ بخار میں جھلس رہا تھا۔
“یشم یار۔۔۔۔”غصے سے کہتے وہ اس پر جھکا تھا
“میں ٹھیک ہوں واثق “غنودگی بھری آواز میں اسے تسلی دیتا وہ واثق کا میٹر شاٹ کر گیا
“بکواس بند کر اپنی یہ ٹھیک ہے تو پھر اسموکنگ کی ہے نا تو نے مر جا نا ایک ہی بار یوں بار بار کیوں خود کو اذیت دے رہا ہے بتا مجھے اب کیا ہوا ہے میں جان نکال لونگا اس انسان کی”غصے سے کھولتا وہ جگہ سے اٹھا تو یشم نے نفی میں سر ہلایا۔
“کسی نے کچھ نہیں کہا اب کی بار خود کو میں نے ہی تکلیف دی ہے واثق ایسی تکلیف جو ساری زندگی میرے ساتھ رہے گی۔۔” نم آنکھوں سے کہتا وہ آنسو چھپانے کو آنکھوں پر ہاتھ رکھ گیا
