400.2K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-e-Dilbrum Episode 12

واثق اسکی والدہ سب بار بار اس سے بات کر رہے تھے مگر وہ تھی کہ مان کہ نہیں دے رہی تھی۔

سب حیران تھے اسکی ضد پر وہ ضدی تو کبھی رہی ہی نہیں تھی مگر اس بار اسکی ضد سمجھ سے باہر تھی۔

کوئی اسکے ساتھ زبردستی بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ جو کچھ اسکے ساتھ ہوا تھا اسکے بعد اپنا فیصلہ اس پر وہ تھوپنا تو ہر گز نہیں چاہتے تھے۔

مسلسل دو مہینے سے وہ لوگ کوشش کر رہے تھے مگر وہ ناجانے کیا سوچ کر بیٹھی تھی۔

اس سے محبت کی دعویدار وہ اب اسکی چاہت سے منکر تھی اسکے اندر کیا چل رہا تھا کوئی نہیں جانتا تھا اور جو کچھ وہ کہہ رہی تھی اس پر کوئی یقین نہیں کر رہا تھا۔

اسکے الفاظ اسکی آنکھوں کا ساتھ نہیں دے رہے تھے ناجانے کیوں؟

وہ چپ تھا وہ انتظار میں تھا کب وہ کھول کر اس سے اپنی بات کا اظہار کرے گی مگر اتنے وقت بعد بھی اس کی طرف سے انکار نے یشم یوسفزئی کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا جبھی آج وہ اس واقعے کے بعد پہلی بار اسکے سامنے آیا تھا۔

وہ آسیہ کے ساتھ اسکے گھر پر تھی جب آسیہ باہر گئی اور پھر اندر یشم یوسفزئی آیا۔

اس ستم گر کو سامنے دیکھ اسکا دل زور سے دھڑکا تھا۔

“کیوں آئے ہیں آپ یہاں میرا جواب آپ کے پہنچ تو گیا ہے اسکے سامنے بیٹھنے پر وہ چٹخ کر بولی تو یشم نے ایک نگاہ اس پر ڈالی اس ایک نگاہ میں پتا نہیں ایسا کیا تھا کہ وہ بری طرح گھبرا گئی۔

“مجھ سے شادی کرلو بنفشے۔۔” اپنی ساری ضد انا کو چھوڑے وہ اسکے در پر آیا تھا۔

“میں مر جاؤ گی مگر یہ شادی نہیں کروں گی خود کو مت تھکائیں آپ کو خدا کا واسطہ ہے یشم۔۔”, اسکے آگے ہاتھ جوڑے وہ بے بسی سے رو دی اور اسکے رونے پر یشم یوسفزئی کے دل کو کسی نے مٹھی میں لیا تھا۔

“مجھے صرف وجہ بتا دو تا کہ مجھے یہاں دوبارہ نا آنا پڑے۔۔” وہ آج باضد تھا۔

“وجہ جاننا چاہتے ہیں؟؟ ہمت ہے؟ اگر میں کہوں میرے طلاق کی وجہ صرف اور صرف یشم یوسفزئی ہے تو کیا کرو گے؟ آپ کی وجہ سے میں برباد ہوگئی ہوں بدنام ہو کر رہ گئی ہوں کیا مجھے میرا گزرا وقت لوٹا دو گے نفرت ہے مجھے آپ سے یشم یوسفزئی نفرت۔۔۔۔ اتنا کافی ہے یا اور بتاؤ کہ میں آپ سے کتنی نفرت کرتی ہوں آپ اس دنیا کے آخری مرد بھی ہوئے تب بھی میں آپ سے تو ہر گز شادی نہیں کرونگی اب چلے جائیں یہاں سے دوبارہ کبھی مجھے اپنی شکل مت دیکھانا۔۔” بہتے اشک کانپتے لبوں سے اس نے یشم کی دنیا ہلا دی تھی۔

“اگر یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے تو اسے ٹھیک بھی مجھے کرنا چاہیے اگر تمہیں لگتا ہے تمہاری یہ نفرت بھری تقریر سن کے میرے قدم رک جائیں گے تو بنفشے عبد العزیز اس بات کو کہیں لکھ کر رکھ لو جب تک تمہیں اپنی دولہن نہیں بنا لیتا میں ہار نہیں مانوں گا اور ہاں اگلی بار تقریر میں تھوڑی جان لانا میں زرا متاثر نہیں ہوا۔۔”اپنی بات کہتے وہ مزید وہاں رکا نہیں تھا۔

“میں کوئی تقریر نہیں کر رہی ہوں آئی سمجھ آپ کو؟”

“اچھا ویسے پتا ہے جب اتنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں نا تو آپ جناب کا تکلف نہیں کرتے”

اس پر چوٹ کرتا وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا مگر جاتے جاتے وہ ایک دم پلٹا۔

“اب بھی مانیں آپ تو میں دوبارہ آؤ گا اور تب تک آؤ گا جب تک آپ مان نہیں جاتیں”اسے کہتا وہ مزید رکا نہیں تھا۔۔

___________

خود کو کمرے میں قید کئے وہ مسلسل رو رہی تھی ہمیشہ لوگوں کو تنگ کیا تھا نیچا دیکھایا تھا مگر خود کے ساتھ ایسا ہوگا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔

“یاللہ میری مدد کریں میں کیا کروں ؟” دوسروں کی زندگی برباد کرنے والی کو آج اپنی باری پر خدا یاد آیا تھا۔

کوئی اور بات ہوتی تو وہ خود سے مقابلہ بھی کر لیتی مگر خود کو کیسے اس ذلت کے گڑھے سے نکلتی۔۔

سوچ سوچ کر دماغ شل ہوگیا تھا یشم تو اسے ویسے ہی غلط سمجھتا تھا وہ اس سے تو کبھی کر بھی یہ بات نہیں کر سکتی تھی۔

سوچتے سوچتے اب سر دیکھنے لگا تھا جب اسے اچانک اسکا خیال آیا۔۔

“زین۔۔۔ ہاں وہ میری مدد کر سکتا ہے میں اپنے کئے کی معافی مانگ لونگی وہ جانتا ہے اپنے کزن کے کرتوت وہ مدد کر سکتا ہے میری”خود سے بول پر وہ فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔

جس کی بہن کی زندگی برباد کردی تھی اج اسی سے اپنی زندگی کی بھیک مانگنے جارہی تھی۔

اللّٰہ برے لوگوں کو سزا ضرور دیتا ہے مگر اسے اتنی جلدی ملے گی یہ تو سوچا بھی نہیں تھا ہاں یہی تو نظام قدرت ہے وہ ہوجاتا ہے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔۔۔

_________

گھنٹوں کے گرد بازو باندھے وہ چھت پر بیٹھی آسمان کو تک رہی تھی جب کوثر بیگم اس کے پاس آکر بیٹھیں۔۔

“کیوں خود کو تھکا رہی ہوں بیا”ان کی آواز پر اس نے چونک کر انہیں دیکھا اور پھر ان کا سوال سمجھتے وہ سر جھکا گئی۔

“آپ وجہ جانتی ہیں امی میں نہیں کر سکتی شادی نا۔یشم سے نا کسی اور سے میری زندگی میں کوئی خوشیاں نہیں ہیں میں نے مان لیا ہے آپ بھی مان لیں نا۔۔”ان کا ہاتھ تھامے وہ عاجزی سے بولی تو ان کا دل کیا تھا۔

“پہلے تو کبھی اتنی ضدی نہیں رہی تم”

“پہلے اتنا سب کچھ ہوا بھی تو نہیں تھا نا امی میرا دامن اور کردار دونوں صاف تھے اب میرے دامن پر طلاق کا داغ اور میرے کردار پر بد کرداری کی کیچڑ پڑ گئی ہے میں کیسے نا خود کو بدلوں ؟”

“میں جانتی ہوں میری جان ہمارے ایک غلط فیصلے نے تمہاری زندگی کو مشکل کر دیا۔۔۔”

“یہ میرا نصیب تھا امی خود کو مت تھکائیں خود کو قصوروار مت سمجھیں آپ لوگ بس خوش رہیں میں بھی خوش رہنا چاہتی ہوں بھول جائیں جو ہوا شادی ضروری نہیں ہے امی مجھے وقت دیں تھوڑا پلیز “

ان کے آگے ہاتھ جوڑے وہ التجا کر رہی تھی اب ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اس لئے خاموشی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ نیچے چلے گئیں۔

“آپ لوگ کیوں نہیں سمجھتے مجھے کیوں آپ لوگ میرے ساتھ یہ کر رہے ہیں میں نے اس شخص کی محبت کی تمنا کی تھی میں ٹوٹ جاؤں گی مجھے اس شخص سے نفرت کرنی ہے جتنی میں اس سے محبت کرتی ہوں میں اس سے بھی زیادہ اس سے نفرت کرنا چاہتی ہوں اور اب اس بات سے میں پیچھے نہیں ہٹوں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے “

مگر وہ کہاں جانتی تھی کہ جس قسمت نے اسکے ساتھ یہ کھیل کھیلا ہے آگے بھی وہی قسمت اسکے سارے فیصلے کرے گی۔۔

__________

“بیا بیا جلدی اٹھو دیکھو تمہارے بابا کو کیا ہورہا ہے بیا”وہ نیند میں تھی جب کوثر بیگم کی آواز پر ایک دم ہڑبڑا کر اٹھی۔

“امی کیا ہوا ہے سب خیریت ہے”اٹھتے ہی وہ بنا سوچے سمجھے تیزی سے باہر کی جانب بھاگی تھی۔

“بیا اپنے بابا کو دیکھو بیٹا یہ اٹھ کیوں نہیں رہے ہیں”وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی سامنے بستر پر اپنے بابا کو یوں پڑے دیکھ اس کے ہاتھ پیر پھولے تھے۔۔

“بابا اٹھیں کیا ہوا ہے آپ کو بابا…”انکا ہاتھ سہلاتے وہ مسلسل انہیں پکار رہی تھی۔

گھر میں سوائے ان تینوں کے کوئی تھا بھی نہیں عائشہ اور عزیر دونوں عارفہ کی طرف رکے تھے اور زین ہاسٹل میں تھا۔۔

“امی آپ رکیں میں ایمبولینس کو کال کرتی ہوں آپ بابا کو سنبھالیں۔۔”

کوثر بیگم کو کہتی وہ جلدی سے اپنے کمرے میں آئی اور بار بار کال کرکے کے باوجود دوسری طرف سے کوئی رسپانس نہیں دیا تھا۔

“یا اللّٰہ پلیز میری مدد کریں “

ایک بار پھر موبائل کان لگائے وہ باہر آئی تو حیرت کا زور دار جھٹکا اسے لگا تھا۔

“بیا جلدی سے اپنے بابا جی رپورٹس دو”چادر پہنے انہوں نے اسے کہا تو وہ چونکی۔

“آپ کہاں جارہی ہیں گاڑی نہیں آئی ابھی”

“یشم آگیا ہے لینے تک جاؤ جلدی وہ باہر انتظار کر رہا ہے”

ان کی پکار پر وہ جلدی سے رپورٹس لینے اندر بھاگی جب تک وہ باہر آئی کوثر بیگم گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں اس نے جلدی سے رپورٹس انہیں تھمائیں۔

“خیال رکھنا دروازہ لاک رکھئے گا اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں میں ہوں ان لوگوں کے ساتھ”اپنے پیچھے مردانہ آواز پر وہ جھٹکے سے مڑی تو سامنے وہ تھا۔

بکھرے بال سرخ ہوتی آنکھیں۔

وہ یقیناً نیند سے اٹھ کر یہاں آیا تھا۔

“جائیں بنفشے اندر”اسے اندر جانے کا کہتا وہ جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو وہ ہوش میں آتی جلدی سے اندر چلی گئی۔

اور پھر ان کے جانے تک وہ جھری سے انہیں دیکھتی رہی

“مجھے معاف کر دیں بابا آپ کی حالت کی زمہ دار صرف میں ہوں”خود سے کہتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی آج وہ اکیلی تھی اسے کوئی روک نہیں سکتا تھا رونے سے اپنے دل کا غبار نکالتے وہ ناجانے کتنی دیر تک روتی رہی۔۔۔

___________

بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے وہ بے حس و حرکت بیٹھی تھی۔

اتنے وقتوں سے وہ زین سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ اس سے ملنا ہی نہیں چاہتا تھا وہاج کی حرکتیں بڑھتی جارہی تھیں۔

اسکے پیسوں کے مطالبے میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔

وہ تھک گئی تھی خود سے اگر اسکی وڈیوز اسکے پاس نہیں ہوتیں تو شاید آج حالات مختلف ہوتے۔۔

مشارب صاحب کافی عرصے سے ملک سے باہر تھے اور ایسا اکثر ہوتا تھا وہ مہینے دو مہینے کے لئے ملک سے باہر لازمی جاتے تھے ڈائیورس کے بعد اسکی ماں نے تو پلٹ کر بھی خبر نہیں لی تھی۔

کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اگر وہ وہاج کو پیسے نا دیتی تو وہ اسکی وڈیو سوشل میڈیا پر لیک کردیتا اور اس سے نا صرف اسکی بلکہ مشارب صاحب کی ساکھ بھی بہت بری طرح متاثر ہوتی ان دونوں کی عزت کی دھجیاں اڑ جاتیں۔۔

اسکی نظر میں ایک زین ہی تھا جو اسکی مدد کر سکتا تھا کیونکہ وہ وہاج کا کزن تھا مگر اتنا کچھ ہونے کے بعد وہ اسکی شکل دیکھنے کا روادار نہیں تھا یہ آگ اسکی اپنی لگائی ہوئی تھی جس میں وہ خود بری طرح جھلس گئی تھی۔

وہ خود کو ختم کر دینا چاہتی تھی مار دینا چاہتی تھی مگر مرنے سے پہلے وہ ایک آخری بار اپنے کئے کی معافی زین سے مانگنا چاہتی تھی۔

اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے وہ آج ایک بار پھر اسکے ہاسٹل کے باہر کھڑی تھی۔

گارڈ اندر زین کو بلانے گیا تھا اسکا بار بار یہاں آنا زین کی امیج خراب کر رہا تھا اور اسکی آج یہاں آمد نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا جبھی غصے سے کھولتا وہ آخرکار اسکے روبرو آیا تھا۔

اسے سامنے دیکھ وہ اپنی گاڑی سے اتر کر اسکے سامنے کھڑی ہوئی۔

“کیا چاہتی ہو تم کیوں میرا پیچھا لے لیا ہے جان چھوڑ دو میری زرا شرم نام کی چیز نہیں ہے نا تم میں”اسکے باہر آتے ہی وہ بری طرح اس پر چڑھ دوڑا ۔

“مجھے معاف کرو زین پلیز مجھے معاف کردو دیکھو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے معاف کردو ایک بار میری سن لو..”

“پلیز آرزو تمہارے اب کسی ناٹک میں نہیں آنے والا میں “

“کوئی ناٹک نہیں ہے میں اعتراف کرتی ہوں کہ جو کچھ اب تک ہمارے درمیان ہوا میں کر بار حد سے گزرتی چلی گئی تم وہ واحد انسان تھے جس نے مجھے اگنور کیا تھا مجھے میری حیثیت بتائی تھی میری انا پر بہت گہری چوٹ لگی تھی مجھے نہیں سمجھ آرہا تھا میں کیا کروں تبھی میں نے وہاج کے ساتھ مل کر تمہاری بہن کی زندگی برباد کردی میں ہی تھی وہ جس نے یشم کے ساتھ اسکی تصویر لی تھیں میں تمہیں برباد کرنا چاہتی تھی مگر دیکھو میرے ساتھ۔۔”

اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتی زین کا ہاتھ اٹھا تھا جو اسکے چہرے کر نشان چھوڑ گیا۔

“دفع ہوجاؤ یہاں سے اس سے پہلے میں کچھ کر جاؤ تم جیسی لڑکی معافی کے قابل نہیں ڈوب کر مر جاؤ تم”

“مرنے ہی جارہی تھی جبھی معافی مانگنے آئی ہوں ہوسکے تو معاف کر دینا ۔۔۔۔”

اسکے ہاتھ جوڑ معافی مانگنے کے بعد وہ رکی نہیں تھی۔

وہ اسے پیچھے چھوڑ آئی تھی برستی آنکھیں منظر کو دھندلا رہی تھیں مگر اسکی زندگی میں تو اندھیرا ہو ہی گیا تھا

اتنی ذلت کب آرزو مشارب کے حصے میں آئی تھی۔

بے بسی سے روتے اس نے گاڑی کی اسپیڈ تیز کی تھی جب اچانک سامنے سے آتی وین اس کی گاڑی کے سامنے آئی تھی۔

لاکھ کوششوں کے بعد بھی اسکی گاڑی بری طرح اس وین سے ٹکرائی تھی۔

چاروں طرف ہولناک چیخوں نے ڈیرہ جمایا وہیں زخموں سے چور اسکا سر ایک طرف ڈھلکا تھا۔۔۔