400.2K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-e-Dilbrum Episode 16

سنہری دھوپ اسکے چہرے پر پڑتی اسکی آنکھوں کے رنگ کو مزید نمایاں کر رہی تھیں۔

بدلتا موسم فضا میں خنکی کا رنگ لئے ہوئے تھے۔

یشم کسی کام سے باہر گیا تھا ماما بھی اسکے ساتھ گئی تھیں۔

وہ فلحال اکیلی تھی اس لئے بالکونی میں آکر کھڑی ہوگئی۔

“بٹیا آپ کی چائے”وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب ملازمہ کی آواز پر اس نے بےساختہ چونک کر اسے دیکھا۔

“تھینک یو “مسکرا کر انہیں کہتی وہ کرسی پر بیٹھی تو وہ اس کے لئے چائے بنانے لگیں۔

“آپ رہنے دیں میں کر لوں گی پریشان نا ہوں.”

“ارے بیٹا پریشانی کیسی آپ تو ہمارے یشم بابا کی بیوی ہیں اس گھر کی بہو آپ کو کام کرنا تو ہماری خوش قسمتی ہے”

“خوش قسمتی کیوں میری جگہ کوئی بھی تو ہوسکتی تھی”

“شاید نا ہوتی”ان کی اس بات پر اسکا چائے کے کپ کی طرف بڑھتا ہاتھ ساکت ہوا۔

“مطلب کیا آپ مجھے سب بتا سکتی ہیں؟”

وہ ناچاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھی تھی۔

“آپ بے فکر رہیں یہ بات ہمارے درمیان ہی رہے گی”انہی۔ ہچکچاہٹ کا شکار دیکھ اسنے جلدی سے کہا تو سر ہلا گئیں۔

اور پھر کو کچھ انہوں نے بتایا وہ سے بالکل سن کر گیا تھا اس نہج پر جا کر تو وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔

ہانیہ علی کا تعلق کراچی سے تھا اور ابو بکر یوسفزئی بزنس کی دنیا کا ابھرتا نام۔۔۔

انہوں نے ایک شادی میں پہلی بار ہانیہ علی کو دیکھا تھا اور اس پر بری طرح فریفتہ ہوگئے مگر معلوم کرنے پر پتا چلا وہ کسی کی منگیتر ہیں انہوں نے ابو بکر یوسفزئی کو انکار کیا تھا اور یہ انکار ابو بکر یوسفزئی کی انا پر لگا تھا۔

اور پھر اپنی انا کی تسکین کے لئے ٹھیک ان کی شادی کے دن انہوں نے ہانیہ یوسفزئی کا اغوا کروایا اور پھر خود ان سے نکاح کر لیا۔

اور تب ایک ایسی زندگی کا آغاز ہوا جو وہ کبھی نہیں چاہتی تھیں ایسا رشتہ کیسے نبھا سکتی تھیں وہ جس میں ان کی ذات کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہوں۔۔

یشم کی پیدائش کے بعد ابو بکر کا ان سے بھی دل بھر گیا اور پھر آئے دن کی لڑائیاں۔۔۔

انہیں یشم کے لئے سمجھوتہ کرنا تھا مگر اس معصوم کا بچپن ان سب نے چھین لیا تھا اسے سب سے نفرت ہوگئی تھی۔

لڑکپن کی دہلیز پر قدم رکھتے وقت وہ سوچ چکا تھا نا اسے محبت کرنی ہے نا شادی کیونکہ جس طرح اسکے باپ نے اسکی ماں کے ساتھ کیا آخر وہ بھی تو ان کا ہی بیٹا ہے یہ ڈر اسکے دل می۔میں ناسور کی طرح پلتے اسے ختم کر رہا تھا اور پھر ایسے میں بنفشے کی آمد اور اس سے شادی۔۔

وہ ایک نیا یشم بن کر سب کے سامنے آیا تھا تکلیفوں کو بھولے وہ بس اسکی خوشی چاہتا تھا وہ اپنے باپ جیسا ہر گز نہیں بن سکتا تھا اس کی ماں نے ایڈجسٹ کرلیا تھا مگر وہ ایسے مر کر بھی نہیں کرسکتا تھا کبھی نہیں۔۔۔۔

___________

وہ روم میں آیا تو وہ بیڈ پر گم صم سی بیٹھی تھی۔

“بیا “اسکی پکار پر بنفشے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو اسکی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ وہ تڑپ کر اسکے پاس آیا۔

“کیا ہوا ہے آپ روئی ہیں ؟”اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ پریشان ہوگیا تھا۔

“نن۔۔نہیں بس سر میں درد”اتنا کہہ کر وہ سر جھکا گئی تو یشم نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔

“آپ یہاں لیٹیں میں آپ کا سر دباؤ دیکھئے گا کیسے ٹھیک ہو جائے گا آپ کا درد “اپنی گود کی طرف اشارہ کرتے وہ اسے پہلے سے کئی گنا زیادہ پیارا لگا۔۔

“میں ٹھیک ہوں آپ بیٹھیں میں مما کو دیکھ لوں”نرمی سے کہتے وہ اسکے برابر سے نکلتی چلی گئی تو یشم نے حیرت سے اسکا یہ انداز تھا۔

کچھ تھا جو اسے ٹھٹکا تھا

سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس لگاتے وہ کچھ سوچ رہا تھا جب اسکا موبائل رنگ ہوا۔

انجام نمبر دیکھ وہ لمحے کو تھما مگر پھر اسنے کال ریسیو کی اور دوسری طرف سے جو کچھ اسے سننے کو ملا اس نے صحیح معنوں میں اسے ہلا دیا تھا۔

گلاس ویسے ہی اپنی جگہ رکھ وہ فوراً وہاں سے نکلا تھا۔

“یشم کہاں جارہے ہو؟”اسے یوں باہر جاتے دیکھ ہانیہ یوسفزئی پریشانی سے بولی کیونکہ اسکے چہرے کے تاثرات بہت خطرناک لگ رہے تھے۔

“کام سے جارہا ہوں آکر بات کرتا ہوں”بنا بنفشے کی طرف دیکھے وہ انہیں جواب دیتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تو بنفشے نے پریشانی سے انہیں دیکھا۔

“کچھ نہیں ضرور کوئی کام ہوگا پریشان نہیں ہو”اسکے گال تھپھتاتے وہ اس سے زیادہ خود کو تسلی دے گئیں۔

“مما کیا میں ایک بات پوچھ سکتی ہوں ؟”

“ہاں بیٹا پوچھوں نا “

“مجھے آپ کے اور انکل کے بارے میں پتا چلا۔۔۔”اس نے بات ادھوری چھوڑ دی ناجانے کیوں اس کی بات پر انہوں نے گہرا سانس بھرا اور پھر اسکا ہاتھ تھاما۔

“جو گزر گیا وہ ماضی کا حصہ تھا ہم میں سے کوئی اس بارے میں بات کرنا نہیں چاہتا نا کرتا ہے یشم کے بابا نے خود کو بہت بدل لیا ہے مگر یشم کی ضد انہیں بھی ضد دلا دیتی ہے آخر خون تو ایک ہے نا”اپنی بات کہتے وہ ہولے سے ہنسیں۔

“میں نے انہیں معاف کردیا کیونکہ یہاں بات میرے بچے کی تھی مگر یہ بات ہم دونوں نے ہی دیر سے سمجھی ان کی خطاؤں کا پلڑا بھاری رہا ہے ہمیشہ میں چاہتی ہوں ان دونوں کے درمیان سب ٹھیک ہو جائے مگر وہ ان کا نام سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے تو میری یہی ریکوسٹ ہے کہ کبھی ان کے سامنے اس بارے میں بات نہیں کرنا بیٹا “ان کے ریکوسٹ کرنے پر وہ جلدی سے سر ہلا گئی۔

“میں جانتی ہوں تم میاں بیوی کے معاملے میں بولنے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے مگر اس نے ترس کھا کر شادی نہیں کی ہے اسے وہ خوشیاں دے دینا بیٹا جس کا وہ حقدار ہے”اس کے ہاتھ مضبوطی سے تھامے وہ التجا کر رہی تھی اس وقت بنفشے کو اپنا آپ بہت چھوٹا لگا تھا اپنی محرومی کا بدلہ وہ اس شخص سے لے رہی تھی جس کا سرے سے کوئی قصور ہی نہیں تھا یہ سوچ آتے اسکا دل کیا وہ ڈوب مرے۔

“آپ کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی میں بس یہ سوچتی ہوں ان جیسا مکمل انسان میں ڈیزرو نہیں کرتی مجھے کہیں نا کہیں یہ ڈر ہے کہ ایک وقت آئے گا اور انہیں اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہوگا میں ان کی آنکھوں میں اجنبیت دیکھنے سے ڈرتی ہوں”اپنے دل کا ڈر ان کے سامنے بیان کرتے اس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔

“یہ ڈر دل سے نکال دو کیونکہ اس دنیا اگر کوئی واحد انسان بھی ہوگا نا جو تمہارے لئے کھڑا ہوگا وہ یشم یوسفزئی ہوگا یہ میرا یقین ہے “

_____________

“تم ٹھیک ہو آرزو “اسے بیڈ پر بیٹھاتے ردا نے اس سے پوچھا تو اثبات میں سر ہلا گئی۔

“کیا ہوا ہے ایسے چپ کیوں ہو؟”

“کیا بولوں بولنے کو میرے پاس بچا کیا ہے ردا ساری زندگی اپنے ماں باپ کی توجہ کے لئے تڑپتی رہی اور اب جب موت کی دہلیز پر تھی تب بھی میرے باپ نے ایک بار آکر مجھ سے بات نہیں کی مجھے تو لگا تھا وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے محبت کرنے والا اس دنیا میں کوئی نہیں میں ایک قابل نفرت انسان ہوں “اشک اسکی آنکھوں سے رواں تھے وہ جو دنیا کی نظر میں ایک بگڑی ہوئی ضدی لڑکی تھی اسے ایسا اسکے اپنوں نے بنایا تھا۔

“میں نے ایک لڑکی کی زندگی برباد کردی ردا اسکی زندگی میں سیاہی بھر دی یہ ناسور مجھے چین نہیں لینے دے رہا دوسروں کے گرانے کے چکر میں مجھے بہت بری ٹھوکر لگی ہے ایسی ٹھوکر کہ میں سنبھلنا بھی چاہوں تو نہیں سنبھل پاؤ گی “

“ایسا مت کہو تم شرمندہ ہو یہی بہت ہے تمہیں احساس تو ہوا اپنی غلطی کا”

“ایسے احساس کا فائدہ کیا ہے ردا جو خود کو مصیبت میں دیکھ کر ہو؟اپنی عزت اپنا غرور سب کچھ تو کھو دیا میں نے اب بچا کیا ہے میرے پاس؟”

وہ زندگی کے اس موڑ سے گزر رہی تھی جہاں سوائے پچھتاؤں کے اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔

دروازے کے باہر کھڑے زین نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں تھیں اسکی بہن کی زندگی برباد کرنے والی آج حال میں تھی اسے تو خوش ہونا چاہیے تھا مگر ناجانے کیوں اسے تڑپتا دیکھ وہ وہاں مزید رک نہیں پایا۔

__________

“اب کیوں آئے ہیں یہاں؟”سرخ چہرے کے ساتھ اس نے سامنے چئیر پر پیچھے اپنے باپ سے پوچھا تو جن کا پیپر ویٹ گھوماتا ہاتھ اسکی آواز پر تھما تھا۔

“اس سوال کا مطلب ؟”

آئی برو آچکا کر انہوں نے الٹا اس سے سوال کیا تو ضبط سے ہونٹ بھینچتا بہت کچھ کہنے سے خود کو روک گیا۔

“نئی شادی ہوئی ہے کیا آفس کے بکھیڑوں میں خود کو پریشان کرو گے اس لئے سوچا بہو کو وقت دو یہاں میں سب سنبھال لونگا”

“مجھے آپ کی مدد نہیں چاہیے اور اپنا کام کرنا میں اچھے سے جانتا ہوں مسٹر ابو بکر “ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہو انہیں ہنسنے پر مجبور کرگیا۔

“لوگ کہتے ہیں تم اپنی ماں جیسے ہو مگر برخودار شکل پہلے ماں کی چرائی ہو مگر انداز سارے میرے جیسے ہیں “وہ جان بوجھ کر اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ گئے اور وہ واقعی اس بات پر بلبلایا تھا۔

“آپ جیسا کبھی نہیں تھا میں نا ہو گا اپنی غلط فہمی دور کر لیں آپ ایک خود غرض انسان ہیں لیکن میں نہیں ہوں “

“چلو مان لیتا ہوں مگر فلحال دیکھو یہ خود غرض انسان چاہتا ہے تم بنفشے کو وقت دو کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے اسے خطرہ ہے اس کی حفاظت کرو ” وہ ناجانے اسے کیا سمجھانا چاہ رہے تھے وہ سمجھ نہیں سکا مگر ان کی باتوں پر وہ ٹھٹکا ضرور تھا۔

“کیا مطلب ہے اس بات کا میں سمجھا نہیں”

“مطلب مت سمجھو کو کہا ہے وہ کرو اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا باپ باپ ہوتا ہے اولاد کتنی ہی بڑی ہو جائے باپ سے چار قدم پیچھے ہی رہتی ہے

“جاؤ گھر اسکا خیال رکھو یہاں ہوں میں “وہ ضدی تھا تو وہ اس سے کئی گنا زیادہ ضدی تھے ان سے بحث وہ کرنا ہی نہیں چاہتا تھا جبھی وہاں مزید نہیں رکا۔۔

___________

“پانی”وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں بیٹھا تھا جب اسکی آواز پر آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔

“پانی”پانی کی طرف اشارہ کرتے اس نے گلاس اسکے آگے کیا تو اپنی حیرت چھپاتا وہ پانی کا گلاس اس سے لیتے لبوں سے لگا گیا۔

“امی کی کال آئی تھی مجھے گھر جانا ہے “اس کے سامنے بیٹھتے وہ آہستہ سے بولی تو یشم نے بغور اسکے بدلے انداز کو دیکھا دو دن سے جو غصہ و نفرت کا اظہار ہو رہا تھا اسکی جگہ نرمی دیکھ وہ جتنا حیران ہوتا کم تھا۔

“ٹھیک ہے ریڈی ہوجائیں میں چھوڑ آؤ گا”

“میں ریڈی ہی ہوں”اسکی بات پر وہ جلدی سے بولی تو یشم نے اسے دیکھا جو سادہ سے لباس میں بنا میک اپ کے موجود تھے۔

“بنفشے آپ شادی ہے بعد پہلی بار اپنے گھر جارہی ہیں اس حلیے میں جائیں گی تو سب کو لگے گا آپ خوش نہیں ہیں میں جانتا ہوں آپ خوش نہیں ہیں مگر ایسے گھر والے پریشان ہونگے آپ کے”

“میں تیار ہوکر آتی ہوں “بنا بحث کئے وہ شرافت سے اٹھی اور وارڈروب سے اپنا ڈریس لیتی ڈریسنگ روم میں بند ہوئی تو وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔

اسکا یہ بدلہ رویہ اسے عجیب سا لگ رہا تھا مگر پھر سر جھٹک وہ نیچے چلا گیا تاکہ ہانیہ بیگم کو اپنے جانے کا بتا سکے۔

وہ روم میں آئی تو روم خالی تھا۔

پنک ٹخنوں کو چھوتی فراک پہنے ہاتھوں میں ہانیہ بیگم کے دئیے کنگن پہنے اس نے ہلکا سا میک کیا اور ایک نظر خود کو آئینے میں دیکھا۔

اپنا یہ روپ دیکھ اسکے چہرے پر خود بخود ہی مسکراہٹ آئی تھی مگر یہ مسکراہٹ تب سمٹی جب اپنے عکس کے ساتھ یشم کا عکس آئینے میں نمایاں ہوا۔

یشم نے اسکے پاس کر اسے اپنے حصار میں قید کیا تو اسکی نظریں جھکی تھیں۔

“اچھی لگ رہی ہیں اپنی اپنی سی اسکے بالوں کو سائیڈ کرتے وہ آہستہ سے وہاں اپنے لب ثبت کرگیا تو بنفشے نے مٹھیاں بھینچیں۔

“میرا تحفہ تو میں نے آپ کو دیا نہیں سب پوچھیں گے تو کیا بولیں گی”اسکے کندھے پر ٹھوڑی ٹکاتا وہ اسکے کنگن سے کھیلتے اسکے دل کی رفتار بڑھا رہا تھا۔۔

“ا۔۔آپ۔۔ نے دیا نہیں”اسکی آواز اتنی آہستہ تھی مگر وہ سن چکا تھا اور بات سنتے ہی اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔

ہاتھ بڑھا کر دراز سے مخملی کیس نکالتے یشم نے اسکے سامنے کیا تو اسنے ناسمجھی سے آئینے میں اسے دیکھا۔

تب یشم نے وہ کیس کھول اس نے میں پینڈنٹ نکال کر اسکے سامنے کیا۔

“یہ آپ کی منہ دیکھائی “اس کی گردن میں وہ پینڈنٹ پہناتے وہ آہستہ سے اسکی گردن چھو کر بولا تو بنفشے نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کیں۔

اسکے کانوں میں ایرننگ پہناتے اسکے ان پر لب رکھے۔

“ہممم۔۔۔۔ہمیں دیر۔۔”یشم کی جسارتوں کے ساتھ اسکی دھڑکنیں بھی بڑھ رہی تھیں۔

“جانتی ہیں آپ کی خوشبو مجھے اپنا دیوانہ بنا رہی ہے”اسکے گال پر لب اپنے دہکتے لب رکھتے وہ سرگوشی کرتے اسکی ہوش اڑا رہا تھا۔

اس سے پہلے وہ مزید کوئی گستاخی کرتا دروازے پر ہونے والی دستک نے جہاں اسکے ماتھے پر بل ڈالے تھے وہیں اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔

اس سے دور ہوتا وہ صوفے پر جاکر بیٹھا تبھی دروازہ کھولے ہانیہ بیگم اندر آئی تھیں۔

“بیا بیٹا گھر جاتے ہوئے کچھ سامان میں نے لاونج میں رکھوا دیا ہے اسے ساتھ لے کر جانا ہے ٹھیک ہے”

“آپ کہاں جارہی ہیں؟”

“میں کسی کام سے جارہی ہوں تم دونوں اپنا خیال رکھنا “یشم کو جواب دیتے وہ آگے بڑھ گئیں تو یشم نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا۔

اس سے پہلے وہ کچھ کرتا وہ پھرتی سے کمرے سے باہر نکلی تھی کہ یشم کے قہقے نے باہر تک اسکا پیچھا کیا تھا۔