Aseer-e-Dilbrum by Fariha Islam Readelle 50358 Aseer-e-Dilbrum Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Aseer-e-Dilbrum Episode 19
اسپتال کے کاریڈور سے گزرتا وہ ایک کمرے کے سامنے آکر رکا تھا۔
ہاتھ میں پکڑے گلدستے کو اسنے مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔
دوسرے ہاتھ سے دروازے کی ناب گھما کر وہ اندر داخل ہوا تو بیڈ پر بیٹھی آرزو نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو ایک جھٹکا تھا جو اسے لگا تھا۔
وہ اس وقت ہر چیز سوچ سکتی تھی سوائے اس شخص کی موجودگی کے۔۔
آہستہ سے قدم بڑھاتا وہ اسکے سامنے آ رکا تھا۔
“کیسی ہو؟”اسکی گرد میں وہ پھول رکھتا وہ پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔
“زندہ ہوں اپنے پچھتاؤں اور گناہوں کے ساتھ”
“یہی زندگی ہے “اسکی بات پر وہ فقط اتنا ہی کہہ سکا۔
“کیا تم نے مجھے معاف کردیا ؟”
اپنے ہاتھوں کو دیکھتے وہ آہستہ سے پوچھ بیٹھی جس پر زین نے اسکا جھکا سر دیکھا۔
“میری بہن نے تمہیں معاف کردیا ہے”
“اور تم نے؟”اب کی بار اس نے سر اٹھا کر زین کو دیکھا تھا جو اسکی گود میں رکھے پھولوں کو دیکھ رہا تھا۔
“تم میری گناہگار نہیں تھیں”
“تو کیا تم مجھے ایک موقع دو گے زین اپنی غلطیاں سدھارنے کا؟”وہ ایک امید سے اس دیکھ رہی تھی۔
“میں کون ہوتا ہوں تمہیں موقع دینے والا تمہیں قدرت نے یہ ایک موقع دیا ہے امید کرتا ہوں تم ماضی میں کی گئی غلطیوں کو دہراؤ گی نہیں “اتنا کہہ کر وہ اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھا تھا۔
“مجھ سے شادی کرسکتے ہو میں ایک مکمل زندگی گزارنا چاہتی ہوں”اپنی انا کچلتے اس نے بہت ہمت جمع کر یہ کہا تو ضبط سے زین نے مٹھیاں بھینچیں۔
“میں کسی اور کی امانت ہوں جلد شادی کرنے والا ہوں میرے سہارے کے بغیر بھی تم آگے بڑھ سکتی ہو”سرد لہجے میں کہتا وہ وہاں مزید رکا نہیں تھا جانتا تھا رکا تو شاید آج وہ ہوجائے جس کی خواہش وہ مر کر بھی نہیں کرسکتا تھا۔
اس کے انکار پر کئی آنسو ٹوٹ کر اسکے عارضوں پر بہے تھے۔
اچھے سے برا بننا جتنا آسان ہوتا ہے برے سے اچھا بننا اتنا ہی مشکل۔
جب آپ اچھے ہوتے ہو اور پھر برے کی طرف چلے جاتے ہو آپ کسی کو جوابدہ نہیں ہوتے مگر جب آپ برے ہوتے ہو اور اچھے بننے لگتے ہو تو یہ دنیا یقین نہیں کرتی اسے یقین دلاتے دلاتے آپ ٹوٹ جاتے ہو اور یہی اب اسکے ساتھ ہوا تھا۔
اپنی خامیاں چھپانے کو وہ دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی وہ ایک بار زین سے بات کرنا چاہتی تھی مگر کچھ بھی نہیں کر سکی وہ۔۔۔
________
وہ اپنا کام کر کے واپس ہٹ میں آیا تو غیر معمولی احساس نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔
وہ جیسے ہی ہٹ میں داخل ہوا سامنے زمین پر بنفشے کو بے ہوش دیکھ اسکی جان لبوں کو آئی تھی۔
“بیا۔۔۔۔۔۔۔”وہ تقریباً بھاگتے اس تک پہنچا اور اسکا سر زمین سے اٹھا کر اپنی گود میں رکھا۔
“بیا آنکھیں کھولیں کیا ہوا ہے آپ کو بیا؟”اسکا چہرہ تھپتھائے وہ اسے اٹھانے کی کوشش کررہا تھا جس کا وجود سرد پڑھ رہا تھا۔
بنا وقت ضائع کئے وہ اسے بانہوں میں اٹھائے اندر بیڈ روم لایا اور اسکے چہرے پر پانی چھڑکا۔
مسلسل اسکے ہاتھوں کو مسلتے وہ اسے گرمائش پہنچا رہا تھا
اس کے لمس کی حدت تھی یا کیا مگر وہ آہستہ سے ہوش میں آئی تھی۔
آہستہ سے آنکھیں کھولے اس نے پریشان سے یشم کو خود پر جھکے دیکھا تو اسے اپنی حالت کا احساس ہوا۔
“بیا خدا کا شکر ہے آپ کو ہوش آگیا پتا ہے میں کتنا ڈر گیا تھا”
اسے ہوش میں آتے دیکھ یشم نے اسکا ماتھا چوما تو بیا نے بےساختہ اسکے گال پر اپنا سرد ہاتھ رکھا
“میں ٹھیک ہوں یشم آپ پریشان نہیں ہوں”
“آپ ٹھیک ہیں آپ بیہوش ہوگئی تھیں بیا”
“کچھ کھایا نہیں ہے نا بس کمزوری ہوگئی تھی اب ٹھیک ہوں نا میں”وہ ہر ممکن طریقے سے اسے تسلی دے رہی تھی۔
“سب میری غلطی ہے آپ کی صحت کا خیال نہیں رکھ سکا دراصل ہٹ کے مالک کے پاس گیا تھا ان سے کچھ کام تھا آئی ایم سوری “اسکے سرد ہاتھوں کو اپنی گرفت میں مضبوطی سے تھامے وہ ایسے ہی لبوں سے لگا گیا تو اسکی فکر پر اسے شرمندگی ہوئی۔
“میں ٹھیک ہوں اب ہم گھر جائیں گے تو اور ٹھیک ہوجاؤ گی”اسے ٹینشن فری کرنے کو وہ مسکرا کر بولی اور اسے احساس ہوا مسکرانا اس سے زیادہ پہلے کبھی مشکل نہیں لگا تھا۔
اسکی ضد پر وہ مزید وہاں نہیں رکے تھے راستے میں یشم نے اسے ناشتہ کروایا اور پھر ہاسپٹل سے اسکے منع کرنے کے باوجود چیک اپ کروایا۔
اور ڈاکٹر کے مطابق وہ سٹریس کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی تھی.
ڈاکٹر کے پاس سے وہ لوگ سیدھا گھر آئے تھے اور پھر ہانیہ بیگم اس کے پاس سے ہلی نہیں تھیں۔
“نظر لگ گئی ہے بچی کو دیکھو تو زرا کیسا منہ نکل آیا ہے یشم جاؤ اور صدقہ دو۔۔”
“مما کچھ نہیں ہوا آپ پریشان نہیں ہوں نا پلیز “
“ایسے کیسے پریشان نہیں ہوں بیٹا میں کل واپس چلی جاؤ گی یشم آفس ہوگا کیسے تم اپنا خیال رکھو گی “
“میں رکھوں گی نا آپ ایسے تو پریشان نہیں ہوں”اسے شرمندگی محسوس ہورہی تھی انہیں اپنے لئے پریشان دیکھ کر۔۔۔
“مام باہر میں نے سامان رکھوایا ہے آپ چیک کرلیں”
“ٹھیک ہے اس کے پاس بیٹھو میں جا دیکھ لیتی ہوں”
اسے کہتے وہ باہر نکل گئیں تو بنفشے نے نروٹھے انداز میں اسے دیکھا
“اتنی سی بات کو اتنا کردیا یشم کیا سب بیمار نہیں ہوتے کیا؟”
“بیمار ہوتے ہیں سب ہوتے ہیں”
“تو پھر میری باری پر ایسا کیوں “
“کیونکہ آپ میری بیوی ہیں اور میں چاہتا ہوں میری بیوی کو زرا سی ہوا بھی نا چھو کر گزرے”
“اتنے شدت پسند نہیں ہوں اگر کل کو مجھے کچھ ہوگیا تو کیا کریں گے؟”چہرے پر سنجیدگی لائے وہ یشم کے دل پر کچوکہ لگا گئی۔
“تو میں خود کو ختم کرلوں گا”سختی سے کہتا وہ وہاں مزید رکا نہیں تھا۔
اسکی شدت پسندی پر وہ سر جھکا گئی وہ کیسے اس سے دور رہے گی کتنا مشکل تھا۔۔۔
“کوئی ایسی بات ہے جو آپ کو پریشان کر رہی ہے ؟”
“نہیں تو بالکل بھی نہیں “وہ اپنی وجہ سے اسے مصیبت میں نہین ڈال سکتی تھی یشم نے بغور اسکا چہرہ دیکھا اور پھر سر ہلاتا وہ وہاں سے اٹھ گیا۔
اسکے جاتے ہی اس نے بیڈ کراؤن سے سر ٹکایا تھا آخر کیوں جب سب ٹھیک ہونے لگتا ہے کوئی نا کوئی ایسی بات ہو ہی جاتی تھی ۔
_____________
“یہ پھول کون دے کر گیا ہے؟”ردا کمرے میں آئی تو اسکی گود میں پھول ویسے کے ویسے ہی رکھے تھے۔
“زین”
“زین آیا تھا تم نے بات کی اس سے ؟”
ردا بےچینی سے اسکے پاس آکر بیٹھی تو آرزو نے نم آنکھیں اٹھائیں اسے دیکھا
“میں اس ملک سے جانا چاہتی ہوں ردا میں ایک نئی پہچان بنانا چاہتی ہوں یہاں رہی تو کبھی آگے نہیں بڑھ سکوں گی”
“اس نے تمہیں معاف نہیں کیا؟”
“وہ معاف کرگیا ہے مگر موقع نہیں دینا چاہتا آخر وہ مجھے کیوں موقع دے گا میں نے اس سے بھیک مانگنی چاہی مگر وہ مجھے بھیک بھی نہیں دے سکے گا کیونکہ وہ تو کسی اور کا ہے”
اسکی بات پر ردا چونکی تھی۔
“اسکا نکاح ہے بہت جلد تم بابا سے بات کرو اور انہیں کہو مجھے یہاں سے نکالیں”
“آرزو اپنے ساتھ ایسا مت کرو خدا کے لئے تم نے جو کچھ بھی کیا تم شرمندہ ہو تم بدل گئی ہو پھر کیوں یہاں سے جانا چاہتی ہو؟”
“کیونکہ جب تک میں یہاں رہوں گی میرے ماضی کی سیاہی میرے دامن پر پڑتی رہے گی ہر ایک قدم پر پلیز میری مدد کرو”
اسکی التجا پر وہ سر ہلا گئی۔
“ٹھیک ہے مگر اس سے پہلے اس وہاج کا اصلی چہرہ تمہیں دنیا کے سامنے لانا ہوگا یشم یوسفزئی کو اس بارے میں بتاؤ تاکہ وہ مزید کسی کی زندگی برباد نا کرے”,
اس سے پہلے وہ مزید کچھ دروازے پر ہوئی دستک نے ان دونوں کو الرٹ کیا تھا۔
ردا فوراً سے سیدھی ہو کر بیٹھی تھی اور اندر آنے والوں کو دیکھ اس کی سانس اٹکی تھی۔
“یش۔۔۔ واثق؟”ان دونوں کو یوں اتنے وقت بعد اپنے سامنے دیکھ سے جھٹکا لگا تھا۔
“ردا مجھے آرزو سے بات کرنی ہے کیا کچھ دیر آپ ہمیں اکیلا چھوڑ سکتی ہیں؟”یشم کی نظریں آرزو پر تھیں مگر وہ مخاطب ردا سے تھا جبھی وہ فوراً سے سر ہلاتی کمرے سے باہر نکل گئی۔
“اتنے دن اس ہاسپٹل میں نظر بند ہونے کی وجہ جان سکتا ہوں آرزو مشارب ؟”کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے یشم نے بغور اسے دیکھا جو اب بری طرح اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔
“آرزو یہ خاموشی ؟”اسکے جھکے سر کو دیکھ یشم نے طنز کیا تھا۔
“ہاں خاموشی کیونکہ کہنے کو اب کچھ نہیں ہے کیونکہ اب میں وہ آرزو نہیں جو سر اٹھا کر چلتی تھی”
“وجہ؟”
“میں نے”
“تم نے بنفشے کے ساتھ وہ سب کیا اس کے علاؤہ کچھ ؟؟”وہ سب کچھ جانتا تھا آرزو کو دھچکا لگا تھا یہ جان کر
“اس بحث میں نہیں پڑوں گا کیوں کیا کیسے کیا کیونکہ تم پہلے ہی شرمندہ ہو مگر ایسی بھی کیا مجبوری کہ لوگوں کو اپنے باہر ملک جانے کا بتا کر تم یوں چھپی بیٹھی ہو؟”
“شرمندہ ہوں اس لئے منہ نہیں چھپا رہی بلکہ اس لئے منہ چھپا رہی ہوں کیونکہ میں اپنے اوپر کالک ملتے نہیں دیکھ سکتی”اتنا کہتے وہ رو دی تھی اور یہی بات یشم اور واثق کے لئے حیران کن تھی
وہ روتی گئی اور ان دونوں کو سب کچھ بتاتی چلے گئی کہ دنیا میں شاید یہی لوگ تھے جن پر وہ اعتماد کرتی تھی۔
“مجھے معاف کردو یشم پلیز”
اسکے آگے ہاتھ جوڑے وہ التجا کر رہی تھی۔
“یہ سب وہاج نے کیا اور اسکے اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی تم چپ ہو؟”بات بدلتے اسنے سخت لہجے میں اس سے پوچھا تھا
“میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا میں بہت مجبور ہوگئی تھی مجھے کوئی نہیں مل رہا تھا ایسا جس کے سامنے میں رو سکوں اپنا حال بتا سکوں یشم میں دوسروں کے ساتھ برا کر رہی تھی مجھے میری غلطی کی سزا اسی دنیا میں مل گئی”چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ سسک رہی تھی۔
“بنفشے تمہیں معاف کرچکی ہے یہ قمست تھی ہماری یہ سب ایسے ہی ہونا طے تھا خود کو اس گلٹ سے نکال دو کیونکہ اگر یہ سب نا ہوتا تو وہ میری نا ہوتی اور رہی بات وہاج کی تو اس کے ساتھ تو ہمارے بہت بڑے بڑے حساب نکلتے ہیں وقت آنے پر فرصت سے سارے حساب برابر کرینگے”
“یشم میں یہاں سے بہت دور جانا چاہتی ہوں کچھ وقت کے لئے”
“وجہ؟”وہ وجہ جان کر بھی انجان بن رہا تھا۔
“میں ایک ایسی جنگ لڑ رہی ہوں اگر مزید یہاں رہی تو مر جاؤ گی پلیز بابا سے کہو مجھے نکالیں یہاں سے”
“دبئی والی کمپنی جا کر سنھبال لینا میں انکل سے بات کرلوں گا اور ہاں “اپنی بات کہتے کہتے وہ اچانک بیچ میں ہی رکا تھا۔
“بزدلوں کی یہاں اب کوئی جگہ نہیں یہاں لڑنا پڑے گا اپنے لئے تمہارے فیصلے کی قدر کرتا ہوں اس لئے واثق بھی تمہارے ساتھ دبئی جائے گا تم اس کے انڈر کام کرو گی” وہ فیصلہ کر چکا تھا واثق نے اسکے فیصلے پر فوراً سے سر ہلایا تھا۔۔
_________
شام ہوتے ہی سرد لہر نے سب کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا کرسی پر پاؤں کئے بیٹھی وہ گہری سوچ میں تھی جب کوثر بیگم اسکے پاس آکر بیٹھیں.
“کن سوچوں میں گم ہو عائشہ .”
“کچھ نہیں امی بس ویسے ہی “مسکرا کر کہتی وہ سیدھی ہو کر بیٹھی تھی۔
“موسم میں خنکی بڑھتی جارہی ہے لحاف نکال لینگے کل”
“جی”
“تمہارے بابا کہہ رہے تھے زین سے بات کر کے نکاح کی تاریخ رکھ لیں مگر وہ اتنا مصروف ہوگیا ہے کہ بات کرنے کا وقت ہی نہیں مل رہا”ان کی بات پر اسکے دل سے ہوک سی اٹھی تھی مگر وہ کچھ نا بول سکی۔
“امی ایک بات پوچھوں ؟”لمحے کو توقف کے بعد اس نے اُنہیں پکارا تو کوثر بیگم نے اثبات میں سر ہلایا۔
“امی کیا ہو اگر میں یہ نکاح نا کرنا چاہوں یا زین اس نکاح سے منع کردے؟”
اس کے سوال پر وہ زرا سا مسکرائی تھیں۔
“تو تم دونوں کی مرضی کو اہمیت دی جائے گی ایک بار جو غلطی کر چکے ہیں اسے دہرا نہیں سکتے بنفشے کے وقت جو ہوا وہ بہت بڑا سبق ہے ہمارے لئے کہ رشتہ کرتے ہوئے ایک بار بچوں کی مرضی پوچھ لینی چاہیے انہیں حق ہے اس بات کا کیونکہ کبھی کبھی ماں باپ کا کیا فیصلہ بھی اولاد کو ساری زندگی تڑپاتا ہے ماں باپ کو کم از کم اپنی اولاد کو اتنا اعتماد تو دینا ہی چاہیے اور ہمیں افسوس ہے کہ کم تم تینوں کو وہ سب نہیں دے سکے “
“ایسا تو مت بولیں امی آپ نے اور بابا نے ہمیں تمام آسائشیں دی ہیں اور رہی بات بیا کی تو اسکے ساتھ ایسا ہونا اسکا نصیب تھا اور کہیں نا کہیں ہم سب کے لئے بھی کی چاہیے کوئی کتنا بھی اپنا کیوں نا ہو بنا چھان بین کئے رشتہ نا دیں اور اپیا کتنا خوش ہیں کیونکہ انہیں بدترین سے گزار کر بہترین سے نوازہ گیا ہے۔
“اللہ تمہیں بھی ایسے ہی خوش رکھے “اسکے سر پر ہاتھ رکھ وہ وہاں سے اٹھ گئیں اور ان کی بات پر ایک پھیلی سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئی تھی۔
_________
یشم روم میں داخل ہوا تو وہ کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی اسے دیکھتے ہی وہ سیدھی ہو کر بیٹھی مگر وہ نظر انداز کرتا اپنے کپڑے لئے واشروم میں بند ہوگیا۔
اسکی ناراضگی کا سوچ بنفشے کی جان ہوا ہوئی تھی۔
لب کچلتے اسنے پریشانی سے واشروم کے بند دروازے کو دیکھا تھا۔
تھوڑی دیر بعد وہ گیلے بالوں کے ساتھ باہر آیا تو وہ فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔
“آپ کے لئے کھانا لاؤں ؟”اسکے سامنے آتے وہ جلدی سے بولی تو بنا اس پر یک نظر ڈالے وہ الماری کی طرف بڑھ گیا۔
“یشم۔۔۔۔۔”
“مجھے بھوک نہیں ہیں جا کر سوجائیں “
“یشم آپ نے دن میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا پلیز کھا لیں ورنہ میری طرح آپکی طبعیت بھی بگڑ جائے گی”
اسکی بات پر طنزیہ ہنسی ہنستا وہ اسکے سامنے آیا تو اسنے ناسمجھی سے یشم کا چہرہ دیکھا۔
“میرے لئے اتنی فکر مند نا ہوں کیونکہ اگر کل کو مجھے کچھ ہوگیا اور میں مر”اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتا بنفشے نے تڑپ کر اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا تھا۔
“ایسی بات کیوں کر رہے ہیں یشم مجھ سے ناراضگی ہے تو مجھے سنائیں یوں مرنے کی باتیں مت کریں”
“شروعات تو آپ نے ہی کی تھی نا مسزز یوسفزئی “اسکا ہاتھ ہونٹوں سے ہٹاتے وہ سرد لہجے میں بولا تو وہ بے ساختہ اسکے سینے سے لگی تھی۔
“جانتی ہوں غلط بولا تھا مگر آپ کو حق نہیں ہے آپ غصے میں بھی ایسی بات کریں یشم یوسفزئی”اسکے سینے پر ہاتھ مارتے وہ غصے سے بولی تو بے ساختہ مسکرایا تھا مگر فوراً سے اپنی مسکراہٹ چھپائے وہ سنجیدہ ہوگیا اور اسکا چہرہ اوپر اٹھائے اسکی آنکھوں کو لبوں سے چھو کر پیچھے ہوا۔
“کچھ آفس کا کام ہے اسٹڈی روم میں جا رہا ہوں میرا انتظار مت کیجئے گا “اسکا گال تھپھتاتے وہ آگے بڑھا مگر بنفشے نے اسکا ہاتھ تھام اسے روکا
“ناراض ہیں ابھی بھی”
“نہیں میں ناراض نہیں ہوں لیکن آئندہ کچھ بھی ایسا بولنے سے پہلے میرا ایک بار سوچ لیجئے گا اب آرام کریں بھوک لگے گی تو میں خود کھا لونگا ٹھیک ہے “اسکے ماتھے پر لب رکھتے وہ چلا اور وہ وہیں کھڑی رہ گئی۔
