Aseer-e-Dilbrum by Fariha Islam Readelle 50358 Aseer-e-Dilbrum Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Aseer-e-Dilbrum Episode 20
وہ اداسی سے بالکونی میں کھڑی ڈھلتی شام کا منظر دیکھ رہی تھی۔
ہانیہ بیگم آج واپس چلے گئی تھیں اور یشم آفس میں تھا اسکا دل تھا وہ اپنے گھر جائے مگر سفر کا سوچ ہی اسکا دل خراب ہوا تھا دوسرا وہاں وہاج کی موجودگی اسے اپنے ارادے سے باز رکھ رہی تھی۔
گھر میں زین اور عائشہ کے نکاح کی بات چیت ہورہی تھی مگر ان دونوں کی طرف سے ہی عجیب سے رویے پر وہ دونوں پریشان تھے۔
کوثر بیگم نے اس سے کہا تھا کہ وہ بات کرے ان دونوں سے اور اس نے وعدہ کر بھی لیا تھا۔
کچھ وقت پہلے زین نے اسے آرزو کے بارے میں بتایا تھا اور اس نے معاف بھی کردیا تھا اس نے زین کی آنکھوں میں آرزو کے لئے ہمدردی دیکھی مگر کیا وہ محبت تھی وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی عائشہ اور زین بچپن سے ساتھ تھے ایک دوسرے کے لئے پسندیدگی رکھتے تھے تو اب زین کا یوں کسی اور کی طرف رجحان۔۔۔۔
وہ اسے الزام نہیں دے سکتی تھی کیونکہ وہ خود بھی تو کسی کی محبت میں گرفتار ہوئی تھی وہ کھل کر زین سے بات کرنا چاہتی تھی تبھی اس نے زین کو گھر آنے کا کہا تھا اور اس نے ہامی بھی بھر لی تھی ۔
ان سب فکروں کو لئے وہ یونہی بالکونی میں کھڑی تھی جب کسی نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں قید کیا تھا۔
مخصوص خوشبو اور لمس محسوس کر اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی سارے فکریں خود ہی ختم ہوگئی تھیں۔
“ویلکم ہوم”اپنے کندھے پر اسکے لب محسوس کر خود میں سمٹی تھی۔
“تھینکس ڈارلنگ ویسے آپ اتنی ٹھنڈ میں یہاں کیوں کھڑی ہیں؟”اسکا رخ اپنے طرف کرتے وہ پوچھ بیٹھا۔
“کچھ نہیں اکیلے دل نہیں لگ رہا تھا تو یہاں یہ شور دیکھنے آگئی خیر آپ فریش ہو جائیں میں چائے بناتی ہوں پھر چائے پیئے گے”اسکے گال پر ہاتھ رکھ کہتے وہ باہر کی جانب بڑھی تو یشم نے گردن موڑ اسے جاتے دیکھا۔
اسکی الجھن سے انجان تو وہ ہر گز نہیں تھا۔
فریش ہو کر وہ باہر آیا تو وہ اسکا ہی انتظار کر رہی تھی۔
“کوئی بات پریشان کر رہی ہے بیا؟”اسے مسلسل خاموش دیکھ یشم نے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ نفی میں سر ہلا گئی۔
“آپ جانتی ہیں نا مجھ سے کچھ بھی چھپانا مشکل ہے آپ کے چہرے پر سب لکھا ہوا ہوتا ہے عائشہ اور زین کی وجہ سے پریشان ہیں؟”
یشم کی بات پر اس نے چونک کر اسے دیکھا تھا
“آپ کو کیا لگتا ہے میں اپنے اپنوں سے اتنا بے خبر ہوں؟”
“نہیں مگر میری کچھ سمجھ بھی تو نہیں آرہا امی چاہتی ہیں میں ان دونوں سے بات کروں جبکہ مجھ سے زیادہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے کی ضرورت ہے”
“ہمم وہ دونوں کریں گے بات انہیں وقت دیں “
“یشم میں زین کو غلط نہیں کہہ سکتی اس کے امی پاپا کی جس طرح ڈیتھ ہوئی تھی اس کے بعد اسکا آرزو سے ہمدردی کرنا میں اچھے سے سمجھ رہی ہوں وہ ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں اسے سمجھنے کی ضرورت ہے اور میں چاہتی ہوں کہ عائشہ اسے سمجھے تو دوسری طرف میں عائشہ کا سوچتی ہوں جس نے ہمیشہ ہی اسکا سوچا اور اب اسکا بدلہ رویہ عائشہ کو توڑ رہا ہے وہ اپنے رشتوں کو لے کر بہت حساس ہے یشم میں نے چاہتی ایک غلط فیصلہ سب تباہ کر دے۔۔”
اس نے اپنا دل کھول کر اسکے آگے رکھ دیا تھا۔
یشم نے آگے بڑھ کر اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔
“مجھے خوشی ہے کہ آپ ایک طرف کی بات نہیں سوچ رہیں آپ دونوں کو سمجھ رہی ہیں مگر آپ پریشان نہیں ہوں آرزو یہاں سے جانا چاہتی ہے اور واثق اسکے ساتھ جارہا ہے زین اور عائشہ کے درمیان بھی سب ٹھیک ہو جائے گا ڈونٹ وری”اسکے ماتھے پر لب رکھتے وہ اسے پرسکون کرنا چاہتا تھا اور وہ ہو بھی گئی تھی۔۔
____________
اپنے گھر میں قدم رکھتے ایک اجنبی سا احساس اسے ہوا تھا کتنے وقت سے وہ اپنے گھر سے دور تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی انجانی جگہ پر آگئی ہے۔
دل میں ہوک سے اٹھی تھی مگر خود کو سنبھالتے وہ ردا کے ساتھ اوپر آئی تھی اور اپنا سامان پیک کرنے لگی۔
“آرزو ایک بار پھر سوچ لو میری جان ایسے اپنا ملک چھوڑنا آسان تو نہیں ہے”
ردا نے ایک بار پھر اس نے سمجھانا چاہا تھا اور وہ یہ کام کل سے کر رہی تھی۔
“ہر گز نہیں ردا میں اب یہاں نہیں رک سکتی “
“کیوں آخر صرف زین کی وجہ سے تو میں بات کرتی ہوں میں کہتی ہوں اسے تمہیں ایک موقع دے دیکھنا وہ مان جائے گا “
“میں نہیں چاہتی ردا کہ وہ مانے”اسکی بات پر ردا کو جھٹکا لگا تھا۔
“کیوں ؟”
“وہ کسی کی امانت ہے اور میں اس سے التجا کر اسے اپنوں سے دور نہیں کر سکتی میں پہلے ہی بری کسی کی خوشیوں کو لات مار میں اپنی خوشیاں نہیں حاصل کر سکتی میں اب یہ نہیں کر سکوں گی۔۔
اگر وہ کسی کا نا ہوتا تو شاید میں اس سے التجا کر لیتی اس سے اپنی محبت کی بھیک مان لیتی وہ محنت جو میں جانے انجانے میں اس سے کر بیٹھی ہوں مگر اب جبکہ میں جانتی ہوں کوئی ہے جو اس شخص کے خواب سجائے بیٹھی اسکا حق زیادہ ہے زین پر میں ان دونوں کو خوش دیکھنا چاہتی ہوں میں ایک ابھی لڑکی بننا چاہتی ہوں تاکہ مجھے ایک اچھا ہمسفر مل سکے میں ایک مکمل زندگی چاہتی ہوں ردا اور یہ سب مجھے اس جگہ سے دور جا کر ہی مل سکتا ہے۔”
“تم خود کو اذیت دینے جارہی ہو آرزو مت کرو تم ایسی تو نہیں تھیں کبھی بھی میں جانتی ہوں غلطی ہوئی ہے ہر انسان سے ہوتی ہے مگر تم آرزو مشارب ہو تم خود کو سنبھال سکتی ہو”
“میں آرزو مشارب ضرور ہوں مگر ہوں تو انسان ہی نا مجھ میں شاید اب وہ پہلے والی بات نہیں رہی تم جانتی ہو ردا کتنا درد ہوتا ہے جب کوئی آپ کی ہی وڈیو آپ کے سامنے پیش کردے اور آپ کا سر شرمندگی سے ایسا جھکے کی آپ کو لگے کہ اب یہ سر جب بھی اٹھے گا سب کی نفرت بھری نظریں آپ کے وجود پر پڑ کر آپ کو فنا کر دینگی”
وہ حد سے زیادہ ٹوٹ گئی تھی ردا کو اس پر ترس آیا تھا.
“میں نہیں چاہتی ردا میرے بابا کو میرے بارے میں کچھ بھی بتا چلے میں ایک اچھی بیٹی بننا چاہتی ہوں تم دعا کرنا میرے لئے پلیز”
اسکی بات پر ردا نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا جو تھا جیسے بھی تھا اب شاید وقت آگیا تھا ان کے الگ ہونے کا۔۔۔
“میں ایک آخری بار اس سے ملنا چاہتی ہوں میں اسے بتانا چاہتی ہوں سب ردا اس سے میری طرف سے ریکوسٹ کرنا کہ وہ ایک بار آکر مجھ سے مل لے”
“اچھا ٹھیک ہے میں کہوں گی اسے تم بس خوش رہو “اسکے گال پر رکھتے وہ نم آنکھوں سے بولی تو وہ اسکے گلے لگ گئی۔
__________
وہ آج بہت دنوں بعد اپنے گھر آئی تھی ڈرائیور اسے چھوڑ کر گیا تھا مجاز کو ایمرجنسی میں جانا پڑ گیا تھا اس لئے وہ ڈرائیور کے ساتھ آئی تھی۔
“امی”کوثر بیگم کچن میں مصروف تھیں جب وہ پیچھے سے ان کے گلے لگی تھی۔
“ارے بیا”اسے دیکھ انہیں خوشگوار حیرت ہوئی تھی کام چھوڑ انہوں نے اسے گلے لگایا۔
“کیسا لگا سرپرائز ؟”
“بہت اچھا چلو آجاؤ اندر بیٹھتے ہیں”اسکا ہاتھ تھامے وہ اندر لائیں ۔
“امی عائشہ کہاں ہے؟”
“ارے وہ اپنی دوست کے گھر گئی ہے کہہ رہی تھی امی لینے آجانا جب سے عزیر گیا ہے مسئلہ ہوگیا ہے “
عزیر اپنی جاب کے سلسلے میں لاہور گیا تھا۔
“اچھا پھر آپ ایک کام کریں اسے لے کر آجائیں پھر ہم تینوں مل کر چائے پیئے گے میں پکوڑے بنا لیتی ہوں”
“ارے ایسے کیسے اتنے دنوں کے بعد آئی ہو اور کام کرو گی”
“بھئی امی یہ گھر میرا بھی ہے نا میں سب بنا لوں گی پلیز “ان سے لاڈ کرتے اس نے کہا تو اس کے انداز پر وہ بےساختہ ہنس دیں۔۔
“اچھا بابا ٹھیک ہے جو دل کرے بناؤ میں زرا اسے لے کر آجاؤ”اسے کہتے وہ اٹھیں اور پھر انہیں بھیج وہ کچن میں آگئی۔
سارا کام جلدی جلدی سے کر اس نے پکوڑے بنائے۔
وہ ابھی کام سے فارغ ہی ہوئی تھی کہ دروازے پر کھٹکا سا ہوا۔
“ارے امی آگئیں”خود سے کہتے وہ باہر آئی تو سامنے دیکھ اسکے قدم ساکت ہوئے تھے۔
“ارے واہ میری جان کیا بات ہے میرے استقبال کے لئے خود آئی ہو”آگے قدم بڑھاتا وہ خباثت سے مسکرایا وہیں اسکے بڑھتے قدم دیکھ اسنے پیچھے کی طرف قدم بڑھائے تھے۔
“د۔ور رہیں خخ۔۔خبردار جو۔۔ میرے قریب آئے”مسلسل پیچھے کی طرف قدم بڑھاتے وہ اسے وارن کر رہی تھی جو اسکا ڈرا سہما روپ دیکھ قہقہ لگا اٹھا۔
“تجھے لگتا ہے تیری اس دھمکی سے ڈروں گا ؟”اسکی طرف بڑھتے وہ غصے سے چیخا تو بنفشے کو لگا اسکا دل بند ہو جائے گا۔
“آج تو اور میں یہاں ہیں اور دیکھ اگر کسی نے دیکھا تو وہ کیا سوچے گا شوہر کو چھوڑ سابق شوہر سے تعلقات۔۔۔”
“بس منہ بند رکھو اپنا میرا تمہارے جیسے انسان سے کوئی تعلق نہیں ہے آئی سمجھ نفرت کرتی ہوں میں تم سے مر جاؤ تم وہاج مر جاؤ “
غصے سے روتے چیختے کہا تو اسکی ذہنی حالت کے وہاج نے دل کھول کر قہقہ لگایا۔
“آج جو کہنا ہے کہہ لے تجھے تو آج اپنا بنا کر ہی رہوں گا”یہ کہتا وہ اسکی جانب بڑھا اور اسکے آگے بڑھنے پر وہ تیزی سے اندر بھاگی تھی۔
اسے اندر بھاگتے دیکھ وہ خود بھی اسکے پیچھے آیا تھا کہ اچانک کسی نے پیچھے سے اسکا گریبان پکڑ اسے زمین پر دھکیلا تھا۔
گرنے کی آواز پر بنفشے کے اندر بڑھتے قدم رکے تھے اس نے جھٹکے سے مڑ کر دیکھا تو اسکی آنکھیں پھٹی تھیں۔
بیچ صحن میں وہاج زمین پڑا تھا اور اسکا گریبان یشم کے ہاتھ میں تھا
“یشم۔۔۔”اسے دیکھ بنفشے کا دل دھڑکا تھا
“ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی”اسکا گریبان پکڑے وہ وہاج کے منہ پر غرایا تھا۔
اور پھر ایک کے بعد ایک کئی مکے اسکے منہ پر رسید کئے تھے۔۔
“ہمت کیسے ہوئی گھر میں قدم رکھنے کی میری بیوی کے اوپر گندی نظر ڈالنے کی”وہ بے دردی سے اسے مار رہا تھا۔
اور اسکا یہ روپ بنفشے کے لئے بالکل نیا تھا منہ پر ہاتھ رکھے وہ پیچھے ہوتی دیوار سے لگی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
“جانتا ہے کون ہے وہ میری بیوی ہے میری۔۔۔”اسکی کمر میں ٹھوکر مارتا وہ پاگل ہوگیا تھا۔
“یشم۔۔۔مت کر چھوڑ اسے مر جائے گا وہ”واثق بھاگتا گھر کے اندر داخل ہوا تھا اور اسے وہاج سے دور کیا تھا جس کا بس چل رہا تھا اسکا قتل کر دے۔۔
“میں اسکی جان لے لوں گا اس کی ہمت کیسے ہوئی میری بیوی پر گندی نظر ڈالنے کی میں اسکی آنکھیں نکال دوں گا۔۔”
گھر میں داخل ہوتے عائشہ اور کوثر بیگم کو دھچکا لگا تھا یہ سب دیکھ کر ۔
واثق نے بہت مشکل سے اسے سنبھالا تھا اور پھر پولیس آئی تھی اور وہاج کو اپنے ساتھ لے گئی۔
یہ سب اتنا جلدی ہوا تھا کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا وہ بس ساکت دیوار کے سہارے کھڑی تھی۔
یشم نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جو دیوار سے لگی تو رہی تھی۔
آہستہ سے قدم بڑھاتا وہ اسکے روبرو آیا تو بنا کسی کا لحاظ کئے وہ اسکے سینے سے لگی تھی۔
“یش۔۔۔۔وہ”
“شش کچھ نہیں ہوا میں آگیا ہوں نا کچھ نہیں ہوا چپ ہو جائیں”اسکی کمر سہلاتے وہ اسے چپ کروا رہا تھا کو چپ ہونے کے بجائے اسکا سہارا ملنے پر مزید روانی سے رو رہی تھی۔
“وہ اچھا نہیں ہے یشم وہ میرے ساتھ”اسکے سینے سے لگے وہ سسک رہی تھی اور اسے یوں دیکھ کوثر بیگم اور عائشہ کی آنکھیں بھی نم تھیں۔۔۔
“بیا ایسے مت کریں بیا ورنہ جتنے آنسو اور نکلیں گے ان آنکھوں سے اس سے کئی زیادہ بری سزا میں آپ کو دونگا اسکا چہرہ صاف کرتے وہ سرگوشی میں بولا تو اس نے بھیگی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“میں جارہا ہوں رات کو آؤ گا لینے اب نہیں رونا”
“امی بیا کو سنبھالیں”اسے کہتا وہ کوثر بیگم کی طرف متوجہ ہوا اور پھر اسکا گال تھپھتاتے وہ وہاں رکا نہیں تھا۔
اس کے جاتے ہی بنفشے کوثر بیگم کے گلے لگتی ایک بار پھر سسکی تھی۔۔
