Aseer-e-Dilbrum by Fariha Islam Readelle 50358 Aseer-e-Dilbrum Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Aseer-e-Dilbrum Episode 5
یشم کی ٹیبل پر فائل رکھتے وہ اسکی کافی لینے نیچے آئی تو اسکے سامنے اچانک سے کوئی آیا تھا۔
“آئی ایم سوری میں نے دیکھا نہیں”معذرت خواہ انداز میں کہتے اسنے سامنے دیکھا تو وہاں آرزو کو دیکھ اسے حیرت ہوئی۔
کل جتنی بے عزتی یشم نے اسکی کی تھی اس کے بعد بھی وہ یہاں تھی۔
“کوئی بات نہیں یہ لو یہ گارڈ کو ملا ہے کہہ رہا تھا تمہارے منگیتر کا گرا تھا”
زین کا بریسلٹ اسے تھماتے اس نے جان بوجھ کر منگیتر کا لفظ استعمال کیا تو اس نے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا
“وہ بھائی ہے میرا گارڑ کو غلط فہمی ہوئی ہے”جلدی سے کہتے اس نے آرزو کی غلطی فہمی دور کرنا چاہی تو وہ سمجھ کر سر ہلا گئی۔
“اوو اچھا کوئی بات نہیں.”ایک ادا سے کہتے وہ آگے بڑھ گئی تو اسکے عجیب سے انداز کر وہ سر جھٹکتی کچن کی جانب بڑھ گئی۔
آرزو آگے بڑھ کر رکی اور اس نے پیچھے مڑ کر اسے اندر جاتے دیکھا۔
“بہن یہاں اور بھائی یونی میں واہ کیا بات ہے آرزو قسمت تجھے خود موقعے دے رہے ہے اس انسان سے بدلہ لینے کے لئے چلو آرزو مشارب لگ جاؤ کام پر۔” خود سے کہتے وہ ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
وہ زرا سی لڑائی پر کسی کی زندگی برباد کرنے کا پورا انتظام کر چکی تھی۔
_______________
سارا کام مکمل کرتے وہ اپنی سیٹ پر آکر بیٹھی تو نظریں غیر ارادی طور پر گلاس وال کی جانب اٹھیں جس کی دوسری جانب وہ موجود تھا۔
بلیک شرٹ پہنے وہ لیپ ٹاپ پر نگاہیں مرکوز کئے ہوئے تھا۔
وہ نہیں جانتی تھی کیوں مگر وہ بے اختیار اسے دیکھے گئی۔
کھڑی ستواں ناک ہلکی بڑھی شیو سلیقے سے بنے بال۔۔
اسے یہاں کام کرتے ایک ہفتہ ہوا تھا اور یہ انسان اسے ہمیشہ سے ہی اپنے عمل سے متاثر کرتا آیا تھا۔
وہ خاص تھا بہت خاص۔۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی کہ اچانک اسے اپنی بے اختیاری کا احساس ہوا۔
نظروں کا زاویہ تبدیل کرتے اس نے اپنی توجہ کام پر مبذول کی وہ ایسا کیسے کر سکتی تھی خود کو ملامت کرتے وہ اٹھ کر نیچے روم میں آگئی۔
“بنفشے باہر سر کا پارسل آیا ہے ہمیشہ عارفہ ریسو کرتی تھی اب تم کرلو۔۔” اسکی ایک کولیگ نے اسے کہا تو اسے عجیب سی الجھن ہوئی۔
“باہر جانا ہے؟”
“ارے باہر مطلب ریسپشن پر”اسکے تاثرات پر ہنستی وہ باہر گئی تو ہمیشہ کی طرح اپنی بیوقوفی پر سر پیٹتی اور نیچے آئی اور یشم کا پارسل ریسو کیا۔
“افف اللّٰہ یہ کتنا بھاری ہے” پارسل دونوں ہاتھوں کی مدد سے پکڑے وہ لفٹ میں داخل ہونے لگی پر خرابی کا بورڈ دیکھ اس نے گہری سانس بھری۔
“بیا آج دن ہی خراب ہے چل بیٹا اوپر”سیڑھیاں چڑھتے وہ وہ ہانپتی کانپتی یشم کے روم تک آئی اور دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوئی دروازے کی دہلیز سے اسکا پیر بری طرح ٹکرایا اس سے پہلے کے وہ منہ پر بل گرتی دو مہربان ہاتھوں نے اسے گرنے سے بچایا۔
بے اختیار اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے وہ تھا۔
“دھیان سے بنفشے۔۔۔” اس کے ہاتھ سے پارسل لیتے وہ فوراً سے اس سے دور ہوا۔
“آپ ٹھیک ہیں لگی تو نہیں پلیز بیٹھیں”اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتا وہ جلدی سے پانی اسکے لئے لے کر آیا اور اسکی طرف بڑھایا جس کا سر شرمندگی سے جھکا ہی جارہا تھا۔
ہر بار اسی شخص کے سامنے کیوں ایسا ہوتا تھا۔
“بنفشے پانی پیئے اٹس اوکے کچھ نہیں ہوا”
نرمی سے کہتے وہ زمین پر بیٹھا تو اس نے بے ساختہ چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
جس کے بارے میں اس نے اتنا کچھ سن رکھا تھا مگر وہ کیسے یقین کرتی جو کچھ اس نے سنا وہ سچ تھا۔
“آئی ایم سوری میری وجہ سے آپ کا پارسل گر جاتا”شرمندگی سے کہتے وہ سر جھکا گئی تو یشم نے افسوس سے اسکا جھکا سر دیکھا اسے یوں شرمندہ دیکھ اسکے دل کو کچھ ہوا تھا۔
“بنفشے آئی سیڈ اٹس اوکے یہ میرے ساتھ بھی ہوسکتا تھا آپ سوری مت کریں پارسل سے زیادہ آپ کو اپنی حفاظت کرنی تھی دیکھیں لگ گئی آپ کے پیر پر”اسکے انگوٹھے سے رستا خون دیکھ اس نے اپنا رومال اسکے پیروں پر رکھا مگر ایسے کہ اسکا ہاتھ زرا بھی بنفشے کے پاؤں سے ٹچ نا ہو سکے۔
اسکا انداز دیکھ بنفشے کو بے اختیار وہاج یاد آیا جب اسکی بہن کی شادی تھی۔
وہ سیڑھیاں اترتے نیچے آرہی تھی کہ اسکا پیر فراک میں الجھا تھا اور وہ بری طرح زمین پر گری اس سے پہلے وہ اٹھتی کسی کے قہقے کی آواز نے اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہاں وہاج کو کھڑا پایا جو مدد کرنے کے بجائے مسلسل ہنسے جارہا تھا
“ابے بھئی تجھ سے دیکھ کر نہیں چلا جاتا کیا “اسے بیٹھے دیکھ وہ پھر ہنسا مگر اس بار اسکی ہنسی کو بریک سامنے چیز کو دیکھ کر لگا۔
“یہ میری گھڑی تیرے پاس کیا کر رہی ہے بنفشے اور یہ گر گئی ” اپنی گھڑی دیکھ اسے ہارٹ اٹیک آیا تھا۔
“تائی امی نے کہا تھا تو۔۔۔”درد کی شدت اتنی تھی کہ اس سے بولا ہی نہیں گیا۔
“ابے تجھ سے کوئی کام نہیں ہوتا امی کو پتا نہیں کیا شوق چڑھا ہے تجھ سے کام کروانے کا پتا ہے کتنی مہنگی گھڑی تھی اب تو بنوا کر دے گی کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی ہوگی ایسی گھڑی اور لے کر خراب کر دی۔۔”جھپٹنے کے انداز میں گھڑی اٹھاتا وہ تیزی سے باہر نکل گیا تو اسکی آنکھوں سے کب کے رکے آنسو رواں ہوئے۔
وہ شخص اسکا ہمسفر بننے والا تھا مگر اس نے ایک بار بھی یہ نہیں دیکھا کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔
آنسو خود بخود اسکا گال بھگو رہے تھے اسکے گرتے آنسو دیکھ یشم بے اختیار چونکا۔
“بنفشے کیا ہوا ہے درد ہورہا ہے ڈیم مجھے بتاؤ آپ میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں۔”وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا مگر بنفشے نے اسے فوراً تو روک لیا۔
“میں ٹھیک ہوں سر آپ پریشان نہیں ہوں پلیز”
“تو رو کیوں رہی ہیں اگر آپ میرے سامنے انکمفرٹیبل ہیں تو میں کسی کو بلاتا ہوں اوکے”وہ ناجانے کیا سمجھ رہا تھا کہ بنا اسکے جواب کا انتظار کئے فوراً سے آفس سے نکل گیا اور پھر تھوڑی دیر بعد اسکی کولیگ اندر آئی جس کے ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس تھا۔
“افف بنفشے کیا کرتی ہوں میں تو ڈر گئی تھی جب سر نے کہا تمہیں لگی ہے”
اسکے پیر کو دیکھتے اس نے کہا۔
“اتنی نہیں لگی بس اچانک سے سب ہوا تو۔۔٫”
“اٹس اوکے کچھ نہیں ہے میں نے صاف کردیا ہے پریشان نہیں ہو۔۔”
“ہمم”
“ویسے پتا ہے یشم سر کتنے بھی سخت کیوں نا ہوں مگر ہمیشہ سے عورتوں کی عزت کرنے والے ہیں۔ سوائے آرزو میڈم کے”سنجیدگی سے اسے بتاتے وہ ایک دم سے شرارت سے بولی تو بنفشے نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“ایسا کیوں ؟”
“بھئی وہ الگ ہی لیول کی ہیں اپنی بے عزتی خود کرواتی ہیں ایسے مزاج کی لڑکیوں سے سخت چڑ ہے انہیں نکال چکے ہیں کئی لڑکیوں کو اور بھئی جب انہیں اپنی عزت کا خیال نہیں تو ان کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے”وہ آفس کی پوری ہسٹری سے واقف تھی جبھی اسکی زبان تیزی سے چل رہی تھی۔
وہ دونوں باہر آئیں تو بنفشے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی مگر دھیان کے دھاگے کئی اور ہی الجھے ہوئے تھے اور سرا پکڑنے سے وہ قاصر تھی۔
____________
“خیریت ہے بھئی سنا ہے یشم دی گریٹ اپنی نئی سیکرٹری سے بڑی نرمی سے بات کرتے ہیں”
وہ کافی بنانے میں مصروف تھا جب واثق اسکے پاس رکھی چئیر پر آکر بیٹھا۔
“آفس کب سے جوائن کر رہا ہے بہت چھٹیاں ہوگئی ہیں”اسکی بات کو نظر انداز کرتے وہ اپنے مطلب کی بات پر آیا تو واثق نے برا سا منہ بنایا۔
“سوال پہلے میں نے کیا تھا”
“جس سوال میں دوسری لڑکیوں کے بارے میں بات ہو وہ ایسے ہی اگنور کرونگا اور آئندہ اسکا نام اپنی زبان پر مت لانا واثق کوئی خرافات دماغ میں لانے کی ضرورت نہیں۔”دوٹوک انداز میں کہتا وہ کافی کا مگ اٹھائے بالکونی میں آگیا تو واثق کو اس کے رویے پر حیرت ہوئی۔
“یشم کچھ ایسا ہے جو تو مجھ سے چھپا رہا ہے”اسکے پاس آتے واثق نے پوچھا مگر وہ ہنوز سامنے دیکھتا رہا۔
“یشم تو میری باتیں اگنور کررہا ہے اس بات سے کیا مطلب اخذ کروں میں؟”
“میں نے کہا نا واثق فضول باتیں میں سننا نہیں چاہتا تو اس سوال کو دہرا کر کیوں اپنا اور میرا وقت برباد کر رہا ہے ؟”
“وقت برباد نہیں کررہا میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں ہمیشہ اپنی سیکٹری سے فاصلہ رکھنے والا آخر ایک نئی لڑکی کے لئے اتنا فکر مند کیوں ؟؟ تو ایسا تو نہیں تھا کبھی بھی..”
“ضروری تو نہیں ہر بار انسان پہلے جیسا ہی رہے اور میں کوئی انوکھا کام نہیں کر رہا اس لئے بکواس کرنے سے بہتر ہے اپنا کام کرو۔۔٫”
“قسم سے مجھے زلیل کرنے میں تو نے پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے مجال ہے کبھی عزت سے بات کرلے اور ویسے بھی بےعزتی کر کے ٹاپک بدلنے کی کوشش نا کر۔۔”
“تیرے ساتھ تیری خرافات میں ساتھ تو میں دینے سے رہا اور ہاں وہ لڑکی ہے اسکی بھی عزت ہے تو آئندہ اسکا ذکر مت کرنا ایسے”دوٹوک انداز میں کہتے وہ اپنی جگہ سے اٹھ گیا تو واثق گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
وہ چاہتا تھا گزرے وقت کو بھول کر وہ آگے بڑھے جب اسے پتا چلا کہ وہ کسی کے لئے اتنا کر رہا تو خوش تھا کہ وہ اپنے خول سے نکل رہا ہے مگر پھر سے وہی رویہ اسکا دل دکھ سے بھر گیا۔۔
____________
“سر آپ کی میٹنگ جو تھی آج وہ کینسل ہوگئی ہے تو ابھی آپ فری ہیں ۔۔”ڈائری میں دیکھتے وہ یشم جو آج کی ڈیٹیلز بتاتی جارہی تھی کہ یشم کا ہاتھ اسکے ماتھے پر آیا اسکے اچانک اس طرح کرنے پر اسکا دل بےاختیار دھڑکا اور اسنے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تو سامنے دیوار سے اسکا سر بچانے کے لئے یشم کا ہاتھ بیچ میں آیا تھا۔
“مس بنفشے میں چاہتا ہوں کچھ دنوں بعد جب آپ یہاں سے جائیں تو صحیح سلامت جائیں نا کے دیواروں سے ٹکر مار مار کر خود کو زخمی کرتے ہوئے”وہ نہایت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا مگر آنکھوں میں شرارت تھی جسے دیکھ وہ خفت سے سر جھکا گئی۔
وہ کوئی بچی تو تھی نہیں مگر ناجانے یہاں ہر بار ایسا کیوں ہوتا تھا کہ وہ لڑکھڑا جاتی تھی اور اسے سنبھالنے کے لئے وہ موجود ہوتا تھا۔
“بنفشے آر یو اوکے؟” اسکا جھکا سر دیکھ اس نے زرا سا جھک کر اس کا چہرہ دیکھنا چاہا مگر اسکے دیکھنے سے پہلے ہی وہ بھاگتی ہوئی وہاں سے چلی گئی بنفشے کے اس طرح جانے پر وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا ۔
اس لڑکی کے آگے جتنا وہ روڈ رہنے کی کوشش کرتا اتنا ہی وہ کچھ ایسا کر بیٹھتی جس سے وہ مجبور ہوجاتا تھا اس کی پرواہ کرنے پر مگر اتنا تو طے تھا کہ وہ بنفشے کو کوئی امید نہیں دے سکتا تھا۔
