Aseer-e-Dilbrum by Fariha Islam Readelle 50358 Aseer-e-Dilbrum Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Aseer-e-Dilbrum Episode 10
ایک قیامت تھی جو ان لوگوں پر ٹوٹی تھی وہ ہوش و حواس سے بیگانہ اسپتال کے بستر پر تھی وہیں اسکا باپ اسپتال کے دوسرے کمرے میں تھا۔
کوثر بیگم کی حالت رو رو کر خراب ہوگئی تھی عائشہ اور زین سب کو سنبھال رہے تھے اتنا بڑا حادثہ ہوا تھا وہ تو شکر تھا عبدالرحمن صاحب کی وجہ سے کوئی بیا کو کچھ بول نہیں سکا مگر کو داغ اسکے دامن پر لگا تھا وہ کبھی مٹ نہیں سکتا تھا
“یہ کیا ہوگیا زین کیوں ہوا میری بہن نے تو کبھی کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا تو اللّٰہ نے یہ اتنی بڑی آزمائش اس کے لئے کیوں رکھی”زین کے کندھے سے سر ٹکاتے عائشہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور وہ اسے کیا جواب دیتا خود کو سنبھالے وہ تو اپنی بہن کی قسمت پر رو بھی نہیں سکا تھا۔
عزیر گھر گیا تھا پیسے لینے اس وقت ان کے پاس کوئی نہیں گا انہیں ہی ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔
“انہوں نے کیوں کیا ایسا زین انہیں نہیں کرنی تھی شادی تو بتا دیتے کیوں میری بہن کے دامن پر اتنا بڑا داغ لگا دیا”
“کیونکہ وہ ایک کم ظرف انسان ہے اور وہ اپنے مفاد کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہے تم یہ کیوں نہیں سوچتیں شادی کے بعد یہ سب نہیں ہوا تب ہماری بیا زیادہ ٹوٹ جاتی بابا کی کیا حالت ہوتی اب انہیں احساس تو ہوگا”
اسکا ہاتھ تھامے وہ رسان سے اسے سمجھا رہا تھا۔
“زین سب ٹھیک ہو جائے گا ؟”اس نے آس بھری نظروں سے زین کو دیکھا
“انشاء اللہ پریشان نہیں ہو میں کچھ لے کر آتا ہوں تم کھاؤ اور پھر آرام کرنا بہت وقت ہوگیا ہے “اسکے سر پر ہاتھ رکھتے وہ نیچے آیا تھا مگر سامنے آرزو مشارب کو کھڑے دیکھ اس کے قدم ٹھٹھکے۔
وہ کم از کم اسکی موجودگی کی توقع نہیں رکھتا تھا۔
“تمہاری بہن کا سنا چچ بہت افسوس ہوا یہ وہی بہن ہے نا جس کے کردار کی باتیں تم کر رہے تھے”
معصومیت کا ناٹک کرتے وہ زین کے سر تا پیر آگ لگا گئی
“اپنی بکواس بند کرو آرزو تم اس لئے آئی ہو تاکہ میرا مذاق بنا سکو مگر ایک بات بتا دوں میری بہن اس حال میں تم جیسی لڑکی سے لاکھ گنا زیادہ اچھی ہے اور تم اپنا مقابلہ میرے گھر کے کسی فرد سے مت کرنا کیونکہ تم اس قابل بھی نہیں کہ انکا نام اپنے منہ سے لے سکو کجا کہ ان سے اپنا موازنہ کرنا”ایک ایک لفظ چبا کر کہتے وہ آرزو کو سلگا گیا۔
“اپنی طلاق یافتہ بہن پر اتنا غرور ارے ایک بدکردار….”
اس سے پہلے وہ مزید آگ اگلتی زین کا ہاتھ اٹھا اور اسکے منہ پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا۔
“بس۔۔۔۔۔ ایک لفظ مزید نہیں ورنہ اس زبان کو گدی سے کھینچ کر الگ کردوں گا اور پھر بھی سکون نہیں ملا تو تمہارے ٹکڑے کر دوں گا میں آرزو مشارب “اسکا منہ دبوچے وہ اسکے منہ پر غرایا تو آرزو کو اپنی ریڈھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہوئی خود سے اسکے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔
یہ کیسا روپ تھا اسکا۔۔
اسے جھٹکے سے پیچھے دھکیلتے وہ اندر بڑھ گیا۔
جب کہ وہ اس سے آگے کچھ بول ہی نہیں سکی۔۔
_____________
آنکھیں موندے وہ کب سے ایک ہی زاویے میں لیٹا تھا آج تو سیگریٹ بھی ختم ہوگئی تھی مگر اسکی بے سکونی عروج پر تھی رات کے پانچ بج گئے تھے مگر نیند تھی کہ اسکی آنکھوں سے کوسوں دور۔۔۔
بے چینی حد سے بڑھی تو وہ بے اختیار اٹھ بیٹھا دل کو کسی پل چین نہیں تھا دل ڈوبا جارہا تھا دل پر ہاتھ رکھتے وہ اپنی جگہ سے اٹھتا بالکونی میں آگیا۔
تاحد نگاہ اندھیرے کا راج تھا ٹھنڈی ہوا بھی اسکے دل کو سکون نہیں پہنچا سکی۔
دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے موبائل میں چھپا وہ فولڈر نکالا تھا۔
فولڈر کھولتے ہی بنفشے کی کئی تصویریں اسکرین پر روشن ہوئی تو اسکی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر اسکرین کو بھگو گیا
ہونٹوں کو سختی سے بھینچتے اسنے آنکھوں کو بند کر کے کھولا۔
تکلیف اتنی تھی کہ برادشت کرنا مشکل تھا۔
“میں بزدل ہوں بنفشے مجھے معاف کردو اسکی تصویر کو سینے سے لگاتا وہ آنکھیں موند گیا۔
وہ ناجانے کتنی دیر یونہی بیٹھا رہتا گر جو اذان کی آواز اسکے کانوں سے نہیں ٹکراتی۔۔
اذان کی آواز پر موبائل رکھتا وہ اٹھا وضو کر مسجد کا رخ کیا۔
ناجانے کتنی دیر وہ سجدے میں جھکا روتا رہا۔
“میں شکوہ نہیں کرتا میرے اللّٰہ میں تیری رضا میں خوش ہوں بس اسے خوش رکھنا میں تجھ سے نہیں مانگتا اسے کیونکہ میں جانتا ہوں تو نے اسکا نصیب اس شخص کے ساتھ جوڑا ہے جس سے کل اسکا نکاح ہوا ہے میں اس پر کوئی اختیار نہیں رکھتا لیکن پھر بھی میں تیرے آگے اسکا خوشیوں کی دعا کر رہا ہوں مجھے وہ بہت عزیز ہے اسے دنیا کی خوشیاں دینا یا رب کوئی غم اسے چھو بھی نا سکے اور۔۔۔ وہ لمحے کو تھما تھا۔
“میں نہیں بول سکوں گا تو سمجھ لے میری فریاد “سسک سسک کر روتے وہ سجدے سے اٹھا تو آنکھیں لال سرخ تھیں آنکھوں کو صاف کرتے وہ مسجد سے باہر آیا تو صبح کا اجالا چاروں سو پھیل چکا تھا۔
آہستہ سے چلتے وہ گھر کے اندر آیا تو موبائل کی آواز پر وہ چونکا۔
وہ موبائل گھر ہی چھوڑ کر گیا تھا جو اب مسلسل بج رہا تھا
وہ تیزی سے اوپر کمرے میں آیا تو موبائل کی اسکرین اندھیری ہو چکی تھی۔
موبائل اٹھا کر اس نے کال کرنے والے کا نام دیکھا تو بری طرح چونکا۔
اس سے پہلے کہ وہ کال بیک کرتا موبائل ایک بار پھر سے بجا تو بنا لمحے کی دیری کئے اس نے کال ریسیو کی تھی۔
“خیریت ہے اتنی صبح کیوں کال کر رہے؟”چھوٹتے ہی اس نے سب سے سوال کیا تو دوسری طرف سے اسے جو کچھ سننے کو ملا اس نے یشم یوسفزئی کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔
“کیا بکواس ہے ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟”
“معلوم کرو اسکا ہمت کیسے ہوئی اسکی “غصے سے فون بند کرتا وہ کپڑے چینج کر فوراً وہاں سے نکلا تھا۔
___________
پوری رات اسپتال میں گزری تھی فجر کے وقت اسے ہوش آیا تو چیک اپ کے بعد اسے ڈسچارج کر دیا گیا۔
وہ ایسی حالت میں نہیں تھی کہ اس سے بات کی جاتی۔
عبدالعزیز صاحب کی حالت بھی سنبھل چکی تھی تبھی وہ لوگ واپس گھر آگئے تھے۔
وہ اندر کمرے میں اپنی قسمت پر ماتم کناں تھی۔
“بیا کچھ کھا لو پلیز دیکھو ایسے مت کرو”ٹیبل پر کھانا رکھتے آسیہ اسکے پاس آکر بیٹھی جو منہ موڑے لیٹی تھی۔
“بیا پلیز دیکھو سب پریشان ہیں میری جان ایسے مت کرو”اسکا ہاتھ تھامے وہ نرمی سے بولی اسکے دل کی حالت اچھے سے سمجھتی تھی۔
“مجھے اکیلا چھوڑ دو آسیہ مجھے نہیں بات کرنی کسی سے مجھے کچھ نہیں کھانا”غصے سے کہتے وہ رخ موڑ گئی تو آسیہ کا اسے دل دکھ سے بھر گیا۔
کیا پہلے کم تکلیفیں تھیں اسکی زندگی میں جو ان تکلیفوں میں اس اذیت کا اضافہ ہوگیا تھا۔
“ایسے مت کرو خدا کے لئے مجھ سے بات کرو بیا”اسکا ہاتھ تھامے وہ عاجزی سے بولی تو بنفشے نے ایک زخمی نظر اس پر ڈالی
“کیا بات کروں آسیہ کیا بات کروں دیکھو جس محبت کو اپنے دل کے نہاں خانوں میں قید کر دیا تھا وہ ہی میری رسوائی کا باعث بن گئی۔۔۔ کیا کروں گی میں وہ کیا سوچیں گے میرے بارے میں سب کیا سوچ رہے ہونگے میں تو اچھی بیٹی بن گئی تھی نا میں تو زبان پر ایک بار بھی اسکا نام نہیں لائی تو پھر کیوں اسی کے نام سے مجھے رسوا کردیا گیا برباد کردیا گیا کہ میں خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔ آخر کیوں اتنی بڑی آزمائش میرے حصے میں ڈال دی گئی میں تو محبت پر صبر کر گئی تھی اسے میرا امتحان کیوں بنا دیا کیوں مجھے رسوا کیا گیا کیونکہ میرے دامن کو داغدار کردیا میں تو سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہی آسیہ۔۔۔۔ مجھے محبت کرنے کی اتنی بڑی سزا کیوں ملی آسیہ کیوں مجھے توڑ دیا گیا آسیہ “
“ایسا نہیں ہے تم اسے اپنے حق میں بہتر کیوں نہیں سمجھتیں دیکھو تمہاری اس شخص سے جان چھوٹ گئی۔۔”
“ایسے کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑے بس میری عزت کا جنازہ نکل گیا”اسکے گلے لگ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔
“ایسا نہیں ہے تم دیکھنا اللّٰہ نے اس سے اچھا دینا ہے تمہیں”اسکی کمر سہلاتے وہ مسلسل اسے تسلی دے رہیں تھی تبھی اچانک باہر سے آتے شور نے ان دونوں کی توجہ کھینچی تھی۔
_____________
گاڑی اسکے گیٹ پر رکی تو یشم نے گہری سانس بھری۔
خود کو سنبھالتے وہ گاڑی سے اترا تو اسکے ساتھ اسکا گارڈ بھی اسکے پیچھے آیا مگر ہاتھ کے اشارے سے اسے روکتے وہ اسکے گیٹ کر آیا اور بیل پر ہاتھ رکھا۔
زندگی کا سب سے مشکل کام تھا جو کرنے آیا تھا۔
دروازہ کھلا تو سامنے زین کھڑا تھا یشم کو دیکھ وہ بے اختیار چونکا۔
“آپ یہاں ؟ یہاں کیا کر رہے ہیں آپ ؟”ناچاہتے ہوئے بھی اسکا لہجہ تلخ ہوا۔
“مجھے آپ کے والد سے بات کرنی ہے۔۔”
“آنے دو انہیں زین۔۔”کوثر بیگم کی آواز پر اس نے ناچاہتے ہوئے بھی یشم کو اندر آنے کا راستہ دیا تو وہ زین کے پیچھے ہی گھر میں داخل ہوا۔
سامنے ہی عبدالعزیز صاحب بیٹھے تھے۔
وہ آہستہ سے چلتا ان کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا۔
“مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔”
“اب بچا ہی کیا ہے ہمارے پاس بچے ؟”
“بہت کچھ بچا ہے انکل ۔۔ خدا گواہ ہے میرے اور بنفشے کے بیچ ایسا کچھ نہیں تھا وہ بے قصور ہے میں جانتا بھی نہیں تھا میرا نام لے کر اس کے ساتھ یہ سب ہوگا اگر معلوم ہوتا تو اس شخص کو میں زمین میں گاڑ دیتا “ناچاہتے ہوئے بھی اسکا لہجہ تلخ ہوا تھا۔
“بنفشے بے گناہ ہے ہم جانتے ہیں مگر آپ کے آفس کی تصویریں کیسے وہاج کے پاس آئیں اس بات کا کوئی جواب ہے آپ کے پاس ؟”عزیر کی بات پر یشم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“فلحال تو نہیں مگر یقین رکھیے جس دن پتا چلا اس دن وہ شخص سلامت نہیں رہے گا میں نے کبھی نہیں چاہا میری ذات سے کسی کو تکلیف ہو مگر کو کچھ بنفشے کے ساتھ ہوا مجھے دکھ ہے “
“جو ہونا تھا ہوگیا بچے ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ میری بچی کی جان اس بے غیرت انسان بچ گئی۔
“بالکل مگر میں اپنی طرف سے اس بات کو کرنے آیا تھا کہ بنفشے کے کردار کی گواہی میں دیتا ھوں وہ بے قصور ہیں”اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے سب کہے وہ یہاں تک آ تو گیا تھا مگر اب لفظوں کا چناؤ اسکے لئے مشکل تھا بے حد مشکل۔۔۔
“دیکھو تو زرا ہم کل سے اپنے بیٹے کو برا سمجھ رہے تھے اور یہاں تو حقیقت ہی آشکار ہوگئی ہے ہم پر”سلمہ بیگم کی کاٹ دار پر آواز پر سب نے پلٹ کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں وہ اور عبدالرحمن صاحب موجود تھے۔
“یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ تائی اماں “سب سے پہلے زین ان کے سامنے آیا تو ان کے ماتھے پر تیوری چڑھی.
“بس زین تو بیچ میں مت آ اگر بنفشے اتنی پاک دامن ہے تو یہ لڑکا یہاں کیا کر رہا ہے “
“یہ کیا بول رہی ہیں آپ بھابی بنا اصل بات جانے”
“ارے بس کردو بنا بات جانے اس لڑکے کی موجودگی نے ہمیں ہمارے سارے جواب دے دئیے ہیں شکر ہے میرا بیٹا بچ گیا اس۔۔”
“بسسسس۔۔۔۔۔۔۔”اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتی اپنا ضبط کھوتے وہ چلایا تھا۔
اسکی آواز اتنی تیز تھی کہ اندر موجود وہ دونوں اس آواز پر بری طرح چونکی۔
“آسیہ یہ یشم کی آواز وہ یہاں” اپنی بات مکمل کئے بغیر ہی وہ باہر کی جانب بھاگی تھی۔
“بس بہت ہوگیا ہے شرم نہیں آتی آپ کو کسی کے کردار پر بات کرتے ہوئے اور اپنے بیٹے کی بات تو کرنا بھی نہیں میرے سامنے جاننا چاہتی ہیں آپ کا بیٹا اس وقت کہاں ہے؟ لے کر چلوں میں آپ کو اس جگہ جہاں آپ کا بیٹا موجود ہے یقین جانئے اس جگہ کو دیکھ کر آپ کبھی اپنا سر نہیں اٹھا سکیں گے۔۔”
“فضول بکواس مت کرو”اسکے سچ بولنے پر وہ دونوں ہی بھڑکے تھے۔
” دوسروں کے بارے میں کچھ بولنے سے پہلے اتنا ضرور جان لیا کریں کہ آپ کی اپنی اولاد کے کرتوت کیا ہیں اور رہی بنفشے کی بات تو ان کے کردار کی گواہی ان لوگوں کو آپ کو دینے کی ضرورت نہیں ہے”ایک ایک لفظ پر زور دیتا وہ ان لوگوں کی بولتی بند کر گیا۔
“آئندہ اپنی زبان سے ان کے لئے کچھ مت بولئے گا ورنہ انجام کے زمہ دار آپ لوگ خود ہونگے” انہیں وارن کرتا وہ رخ پھیر گیا تو اتنی ذلت پر وہ لوگ بھی وہاں نہیں رکے تھے۔
“معذرت آپ کے گھر کے معاملے میں بولا مگر یہ ضروری تھا”عبدالعزیز صاحب سے کہتے اس کی نظر بے ساختہ سامنے پڑی تھی جہاں وہ لٹی ہوئی حالت میں اسکے سامنے تھی۔
نظروں کا تصادم ہوا تو وہ فوراً سے اندر ہوئی تھی۔
“انکل میں جانتا ہوں یہ صحیح وقت نہیں مگر۔۔۔”اس نے لمحے کا توقف کیا۔
میں بنفشے سے شادی کرنا چاہتا ہوں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا” اپنی بات سے وہ وہاں لوگوں کے سروں پر پہاڑ گرا گیا تھا۔
