400.2K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-e-Dilbrum Episode 13

رات سے صبح اور اب پھر سے شام ہوگئی تھی عبدالعزیز صاحب اسپتال میں ہی تھے عزیر اور عائشہ بھی واپس آگئے تھے۔۔

“عزیر تم جاؤ نا ہاسپٹل”وہ کب سے کبھی ادھر تو کبھی دور چکر کاٹ رہی تھی۔

“یار اپیا جب بابا آرہے ہیں تو میں کیسے جاؤ وہاں؟”

اسکے چوتھی بار اپنی بات دہرانے پر وہ بے بسی سے بولا تو عائشہ نے بغور اسکا چہرہ دیکھا۔

“مجھے پتا ہے آپ کو کس بات کی زیادہ ٹینشن ہے تو بے فکر رہیں یشم بھائی نہیں آرہے ہیں وہ”

“کیا فضول بول رہی ہو اور میں کیوں ٹینشن لینے لگی اور یہ بھائی کون ہے تمہارے صرف دو بھائی ہیں زین اور عزیر ہر ایک کو اپنا بھائی نا بنایا کرو”غصے سے کہتی وہ وہاں سے واک آؤٹ کر گئی تو عزیر نے بیچارگی سے اسے دیکھا۔

“چھوڑو انہیں ان کا دماغ آج کل خراب ہے ان کا”

“واقعی ہے وہاج بھائی کی باری پر راضی تھیں جبکہ ان کے بارے میں سب پتا تھا مگر یشم بھائی کے لئے نہیں مان رہی ہیں حیرت ہوتی ہے مجھے “سر جھٹک کر کہتا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر کی جانب بڑھا تو عائشہ نے اسے روکا۔

“تم کہاں جارہے ہو بھئی ؟”

“ارے امی لوگ آنے والے ہیں تو باہر کھڑا ہو رہا ہوں “

اسے جواب دیتا وہ باہر نکل گیا تو اسکے جاتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھتی اندر بنفشے کے پاس آئی تھی جو بستر پر اوندھے منہ پڑی تھی۔

“آپ کو کیا ہوگیا ہے اپیا ایسے کیوں کر رہی ہیں آپ ؟”

“میں کیا کر رہی ہوں بتانا پسند کرو گی مجھے “؟اسکی بات پر وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تو عائشہ نے اسے گھورا۔

“یہ بھی اب میں بتاؤ آپ کو کہ آپ کیا کر رہی ہیں؟ آپ ایک ایسے انسان کو سزا دے رہی ہیں جس کی کوئی غلطی ہے بھی نہیں اور جس کی غلطی تھی اور جو ہمیشہ سے غلط تھا اس کے ساتھ ساری زندگی گزارنے کے لئے راضی تھیں حیرت کی بات نہیں ہے۔

مجھے افسوس ہے اپیا میں تم سے اس سنگدلی کی توقع ہر گز نہیں کر رہی تھی مگر اب کچھ کہنا ہی فضول ہے سمجھایا انہیں جاتا ہے جو سمجھنا چاہیں آپ تو اپنی انا اور اپنی ضد میں مخلص انسان کے ساتھ ایسا کر رہی ہیں اور یقین کریں اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ کے ایسا کرنے سے سب آپ کی تعریف کریں گے تو معاف کیجئے گا آپ ایک نہایت مغرور اور انا پرست لگ رہی ہیں جسے اپنی انا عزیز ہے میری بہن ایسی تو نہیں تھی وہ تو ہر ایک کو معاف کردیتی تھی اپنوں کی خاطر وہ ایک ایسے انسان تک سے شادی کرنے کو تیار تھی جو اسے پسند ہی نہیں تھا مگر اب وہی اپنی انا میں اس انسان کو ٹھکرا رہی جس سے وہ محبت کرتی ہے ابھی بھی وقت ہے اپیا پلیز سوچ لیں کیونکہ بعد میں سوائے پچھتانے کے آپ کے پاس کچھ نہیں رہے گا”اسے رسان سے سمجھاتی وہ عزیر کی آواز پر باہر بڑھ گئی۔

__________

عبدالعزیز صاحب گھر آگئے تھے ان کی آمد کا سن وہ بھی باہر آئی تو نگاہوں نے بےساختہ کسی کو تلاشا تھا۔

خود کو سرزنش کرتی وہ ان کے کمرے میں آئی جہاں وہ آنکھیں بند کئے پڑے تھے ان کی حالت دیکھ اسے برا لگا تھا بہت برا ۔

ان کا بی پی خطرناک حد تک کو ہوگیا تھا

وہ اس سے شرمندہ تھے ان کے ایک غلط فیصلے نے آج کیا کردیا تھا وہ انہیں قصوروار نہیں مانتی تھی مگر وہ مانتے تھے خود کو کہ اپنے بھائی کی محبت میں وہ اتنے اندھے ہوگئے کہ اپنی بیٹی کی خوشیوں کو بھی قربان کردیا۔

وہ انہیں تنگ نہیں کرنا چاہتی تھی جبھی واپس باہر آگئی۔

رات کے گیارہ بج گئے تھے موسم تبدیل ہونے لگا تھا پلر سے ٹیک لگائے وہ وہیں صحن میں بیٹھ گئی۔

کتنی سادہ تھی اسکی زندگی اور پھر اچانک اس کی زندگی میں وہ شخص آیا اور پھر سب تبدیل ہوتا چلا گیا ان چند مہینوں میں اسکی زندگی کتنی تبدیل ہوگئی تھی وہ سوچتی تو اسے حیرت ہوتی تھی۔

“ایسے کیوں بیٹھی ہیں بیا؟”اپنے پاس اس ستمگر کی آواز سن وہ پوری طرح ٹھٹھکی۔

“آپ۔۔۔۔؟”

“ہاں نا آپ یاد کر رہی تھیں تو آگیا میں آپ کے پاس مت پریشان ہوا کریں بیا مجھے تکلیف ہوتی ہے”اسکا ہاتھ تھامے وہ نرمی سے بولا تو اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔

اس سے پہلے وہ اس سے کچھ کہتی خواب ٹوٹا تھا وہ کہیں نہیں تھا۔

ہونقوں کی طرح ادھر ادھر دیکھتے اس نے یشم کو تلاشنا چاہا مگر وہ ہوتا تو اسے ملتا۔

اپنے بھیگے گالوں کو بے دردی سے صاف کرتے چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔۔۔

________

باہر سے آتی آوازوں پر اس کی آنکھ کھلی تو ناجانے کتنی دیر وہ یوں ہی غائب دماغی سے چھت کر گھورتی رہی۔

جب کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو وہ اٹھ کر فریش ہوئی اور باہر آئی تو سامنے اسے صحن میں بیٹھے دیکھ اسکے قدم رکے تھے۔

اسے اپنی نظروں کا دھوکا سمجھ اس نے سر جھٹکا تھا مگر نگاہیں اٹھانے پر اسے پھر سامنے دیکھ اسکا دل کیا اپنا سر دیوار پر مار لے کیوں وہ شخص اسے ہر جگہ نظر آتا تھا۔۔

“آجاؤ بیا ناشتہ کرلو بیٹا”اسے یوں کھڑے دیکھ کوثر بیگم نے پکارا تو ان کی پکار پر ہوش میں آتے اس نے سامنے دیکھا۔

وہ تھا وہ واقعی تھا یہ سوچ آتے ہی اس پر گھڑو پانی گرا تھا۔

وہ کب سے پاگلوں کی طرح اسے گھور رہی تھی اتنا وہم سمجھ کر۔۔

خود کو لعنت ملامت کرتی وہ آہستہ سے چلتی صحن میں آئی تو یشم نے اشارے سے اسے بیٹھنے کا کہا۔

“بات کیوں نہیں مان جاتے آپ میری؟”

“بیٹھ جائیں پھر بات کرتے ہیں ویسے بھی آپ کو شاید پتا نہیں مگر ضد کا بہت پکا ہوں میں آپ سے بھی زیادہ”کرسی کھسکاتے اسکے لئے بیٹھنے کی جگہ بناتا وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے کرسی سے ٹیک لگا گیا۔

اس وقت اپنے گھر میں اسکی موجودگی اور ہر والوں کی اتنی آزادی اسے چبھ رہی تھی۔

“مجھ سے شادی نا کرنے سے آپ کی فیکٹری کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے میں یہ جاننے آیا ہوں۔۔”

“میری کوئی فیکٹری نہیں ہے تو نقصان کیسا؟..”

اپنا دوپٹے کا پلو گود میں رکھتے اس نے ناسمجھی سے اس شاطر انسان کو گھورا.

“اوووو اچھا۔۔۔ مجھے لگا آپ کے پاس انا ،غصہ اور نفرت کی فیکٹری ہیں اور مجھ سے شادی کر کے ان کو بڑا نقصان ہوجائے گا۔۔”

“مجھے لفظوں کے جال میں نا الجھائیں کیونکہ میں اپنا فیصلہ نہیں بدلنے والی۔” دوٹوک انداز میں کہتے اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگانی چاہی تھی مگر تبھی اسکا ہاتھ یشم یوسفزئی کی گرفت میں آیا تھا۔

“بیوی تو تم یشم یوسفزئی کی ہی بنو گی بنفشے عبدالعزیز اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں اس انکار کو دل کے اوپر لوہے سے لکھ کر انا میں آجاؤ گا تو یہ بھول ہے یشم یوسفزئی کا اور اس انا کا کوئی تعلق نہیں اور محبت کے معاملے میں تو بلکل بھی نہیں تو تم بھی اس تعلق کو یہی ختم کردو اور میرے ساتھ چلو میرے نگر برف کی وادی میں جہاں تمہاری نفرت ختم ہوجائے گی اور میری محبت تمہارے دل میں برف ہوئی محبت کو اپنی محبت کی آنچ سے پگھلا دے گی ۔”

اسکی لہجے کی تپش سے گھبراتے اس نے جلدی سے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کیا اور اٹھ کر کھڑی ہوئی۔

“چلیں جائیں آپ یہاں سے پلیز یشم۔۔۔”دھڑکتے دل سے کہتے وہ وہاں مزید نہیں رکی تھی۔

______________

“زین تو نے سنا کیا ہوا ہے ؟”علی تیزی سے اسکے پاس آیا تو لیپ ٹاپ پر کام کرتے اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

“کیا ہوا مجھے کیا پتا میں تو یہاں ہوں کب سے؟”

“آرزو مشارب کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اسکی کار بری طرح تباہ ہوگئی ہے اتنی بری طرح کے اس جگ بچنے کے کوئی چانسس نہیں”علی کی بات پر ہاتھ میں پکڑا پین اسکے ہاتھ سے چھوٹ زمین بوس ہوا تھا۔

ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ اسکے سامنے تھی تو ایسا کیسے ہوسکتا تھا۔

“زین زین۔۔۔۔”اسے سوچوں میں گھرے دیکھ علی نے اسکا کندھا ہلایا تو وہ بے ساختہ چونکا۔

“کیا ہوا؟”

“کچھ نہیں تو نے اتنی اچانک اتنی بری خبر دی تو”اسے سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دے

“زین سننے میں آیا ہے کہ آرزو تجھ سے ملنے آئی تھی کیا بات ہوئی تھی تم دونوں کی۔۔۔؟” علی نے انداز پر وہ چونکا وہ جانتا تھا یہ سوال اس سے کیا جائے گا۔

“اپنی غلطی کی معافی مانگنے آئی تھی میں نے معاف نہیں کیا اور اس سے زیادہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔”سپاٹ لہجے میں کہتے وہ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوگیا تو علی نے تاسف سے اسے دیکھا۔

جو بظاہر انجان بن گیا تھا مگر اسکے دل میں پکڑ دھکڑ مچ گئی تھی کیا زندگی اتنی جلدی ختم ہوجاتی ہے لمحوں میں ایک انسان اس دنیا سے غائب ہوجاتا ہے”

گہرا سانس بھرتے اسنے بالوں میں ہاتھ چلایا اور خود کو پرسکون کیا۔

__________

“بابا اب کیسی طبعیت ہے آپ کی؟” ان کے پاس بیٹھے ان کا ہاتھ تھامے وہ ان سے خیرت پوچھ رہی تھی۔

“میں ٹھیک ہوں اور ٹھیک ہوجاؤ گا جب میری بیٹی مجھے معاف کردے گی “

ان کی بات پر وہ تڑپی۔

“ایسا تو نہیں کہیں بابا میں آپ سے ناراض نہیں ہوں آپ ایسے باتیں کیوں کر رہے ہیں “؟

“اگر مجھ سے ناراض نا ہوتی تو کیا یشم کا رشتہ ٹھکراتی؟” ان کی بات پر لمحے کو چپ ہوئی تھی۔

“بابا آپ میری خوشی چاہتے ہیں میں جانتی ہوں مگر کیا آپ کو لگتا ہے میں اس انسان کے ساتھ خوش رہوں گی وہ ایک مکمل انسان ہیں اور میں ۔۔۔ میرے دامن پر ایک داغ ہے طلاق یافتہ کا داغ جسے کوئی نہیں مٹا سکتا میں ان سے شادی کر بھی لیتی ہوں تو تب بھی یہ داغ نہیں مٹے گا میں تب بھی ان کی دوسری بیوی کہلاؤ گی اور جب جب میں یہ لفظ سنوں گی مجھے اپنی ذات کمتر لگے گی میں ان کی آنکھوں میں اپنے لئے ترس و ہمدردی نہیں دیکھنا چاہتی”

“اگر تم اسکی آنکھوں میں دیکھ لیتیں تو آج تک یہ بات نا کہتیں بچے تم آج مجھے بھلے خود غرض سمجھ لینا مگر میں چاہتا ہوں تم یشم یوسفزئی سے شادی کرو وہ شام میں آئے گا میں اسے ہاں کرنے لگا ہوں اور میں چاہتا ہوں ایک آخری بار تم اپنے باپ کا مان رکھ لو اتنے وقت تک میں نے فیصلہ تم پر چھوڑا تھا مگر اب جب مجھے لگتا ہے میری زندگی کب میرا ساتھ چھوڑ۔۔۔”

“بابا پلیز “ان کی بات پر اسکا دل دہل اٹھا۔

“یہ حقیقت ہے سب کو اس دنیا سے جانا ہے جلد یا بدیر موت کا ذائقہ سب نے چکھنا ہے میں بس ایک آخری بار میری التجا سن لو اس سے شادی کر لو”اس کے آگے ہاتھ جوڑے وہ اسے بے بس کرگئے.

ان کے جوڑیں ہاتھوں کو تھام ان پر سر رکھتے وہ سسک اٹھی۔

“ایسے نا کہیں بابا آپ حکم کرتے اچھے لگتے ہیں التجا کرتے نہیں اور میرے ساتھ جو ہوا وہ میرا نصیب تھا اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں میرے ساتھ یہ ہونا تھا یہ میرے اللّٰہ کا فیصلہ ہے اس نے ایک آزمائش میں ڈالا تھا اور وہ اب ختم ہوئی خود کو نا تھکائیں آپ جیسا کہیں گے میں ویسا ہی کرونگی بس کچھ فضول نا سوچیں”وہ ہار گئی تھی وہ مان گئی ایک بار پھر ایک بیٹی نے اپنے باپ کا مان رکھا تھا۔۔۔

_____________

گاڑی پارک کرتا وہ اوپر آیا تو کچھ غیر معمولی محسوس کر اس کے قدم ٹھٹکے۔

اپنے اپارٹمنٹ کی لائٹس آن دیکھ اسے تعجب ہوا۔

اور پھر جیسے ہی اس نے اندر قدم رکھا سامنے موجود ہستی کو دیکھ وہ ساکت ہوا تھا۔

“یشم۔۔۔۔”ان کی آواز میں اسکے لئے صرف اور صرف محبت تھی۔

“مام۔۔۔۔”اسکے لب سرگوشی کے سے انداز میں ہلے تھے اور پھر آگے بڑھ کر اسنے بے اختیار انہیں بازوؤں کے گھیرے میں لیا تھا۔

“آپ کب آئیں بتایا کیوں نہیں آپ آرہی ہیں ؟”ان کے سر پر بوسہ لیتے وہ نم آنکھوں سے مسکرایا۔

“بھئی آپ نے تو ہمیں بتانا گوارا نہیں کیا تو سوچا اپنی بہو سے ہم باذات خود ملاقات کرلیں اور نکاح کی تاریخ بھی فکس کر کے آجائیں۔۔”

“وہ جو بہت توجہ سے ان کی بات سن رہا تھا نکاح اور بہو پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔

“نکاح؟؟ کیا مطلب ؟”

مبارک ہو شہزادے بنفشے عبدالعزیز نے آپ کا پروپوزل بالآخر قبول کر لیا ہے اور ہم کل جارہے ہیں نکاح کی ڈیٹ رکھنے “اسکے سر پر بوسہ دیتے وہ محبت سے بولی تو وہ کئی لمحے وہ کچھ بول ہی نہیں سکا۔

آج کے دن اپنی ماں کو دیکھنا اور پھر بنفشے کا راضی ہونا۔۔۔۔”

“تھینک یو سو مچ نام”ان کے گلے لگتے وہ ناجانے کس بات کو شکریہ ادا کر رہا تھا مگر ان کے لئے یہی بہت تھا کہ وہ آگے بڑھ رہا تھا اس نے اپنا بھی سوچا۔