Yaariyan by Sidra Sheikh readelle50013 Last Episode
Rate this Novel
Last Episode
“میں تمہیں ڈیزرو نہیں کرتا۔۔۔ میں ایسی لڑکی کو ڈیزرو نہیں کرتا جو کسی اور مرد کو اپنا آپ سونپ چکی ہو۔۔۔ مجھے گھن آرہی ہے عروشمہ۔۔۔ مجھے نفرت ہورہی ہے تم سے اس رشتے سے۔۔
جو کچھ دیر پہلے تک میرے لیے بہت مقدس تھا۔۔”
۔
تم نے اس عروشمہ کو اسکے ماضی کی وجہ سے چھوڑا تھا مگر دیکھو تمہاری دوسری بیوی نے تمہاری آنکھوں کے سامنے سب کیا اور تمہارے نکاح میں رہی۔۔۔
عریشہ کو ہی دیکھ لو عاصم۔۔۔
اب مجھے کوئی ایسا شخص ڈھونڈ کر دیکھاؤ کہ جو اس ایک غلطی کے سوا عروشمہ کے بدکردار ہونے کی گوہی دے سکے۔۔۔
۔
والدہ کی باتیں اسے ایسے چبھ رہی تھی جیسے خنجر ہو۔۔۔
“میں اس سے بہت محبت کرتا تھا امی۔۔اس لڑکی نے میرے مان کو ٹھیس پہنچائی۔۔۔
اس نے مجھے تکلیف دی۔۔۔
اگر کسی مرد کو نکاح سے پہلے یہ چند باتیں پتہ ہوں تو وہ خود کو سمجھا لیتا ہے سنبھال لیتا ہے
مگر شادی کے بعد یہ باتیں اپنی ہی بیوی کے بارے میں پتہ چلیں کسی اور سے تو برداشت نہیں ہوتا۔۔۔”
۔
“تم پھر بھی مرد بن کر سوچ رہے ہو۔۔۔ عورت بیوی بننے کے بعد وہ ہر بات درگزر کرکے سب بھلا کر اپناتی ہے نہ۔۔؟؟ عاصم مان جاؤ تم نے اپنے رشتے میں اس شوہر کو مار کر
ایک مرد بن کر فیصلہ سنایا اور دیکھو آج تم تنہا ہو۔۔۔تمہیں بدکردار بیوی نہیں چاہیے تھی
یہ تمہاری سزا ہے بیٹا۔۔۔ اب تمہیں ایسے ہی رہنا ہے۔۔۔کیونکہ وہ تو اب نہیں واپس آنے والی۔۔۔”
۔
وہ اٹھ کر چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
“یہ محبت نہیں ہوتی عاصم۔۔۔جو تم کررہے تھے وہ محبت ہوتی تو اپنی بیوی کو عزت دیتے۔۔
نہ کہ اسے ذلیل و رسوا کرتے۔۔۔ مرد وہ نہیں ہوتا جو گھر کے معاملات کی پنچائیت لگائے دنیا کے سامنے۔۔۔
مرد وہ ہوتا ہے جو گھر کی چار دیواری میں عزت کو بھی سنبھالے اور رشتوں کو بھی۔۔۔”
۔
والد صاحب بھی کمرے سے چلے گئے تھے۔۔۔وہ بظاہر تو ضدی بنا ہوا تھا مگر اسکا دل جانتا تھا
غصے اور جلدبازی کے فیصلے پر وہ آج کتنا پچھتا رہا تھا۔۔۔
۔
“عروشمہ۔۔۔۔”
۔
والٹ نکال کر اس نے وہی تصویر دیکھی تھی جو آج تک نکالنے کی پھاڑنےکی ہمت نہیں ہو پائی تھی اس سے۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“حماد بیٹا۔۔۔ہم لوگ اس لیے آئے کہ واپس اس محلے میں آنے کی دعوت دے سکیں۔۔”
حماد نے ان لوگوں کو حیرانگی سے دیکھا تھا۔۔۔
“میں کچھ سمجھا نہیں۔۔؟؟ آپ وہی لوگ ہیں نہ جنہوں نے ابو کو طعنے دے دے کر بستر مرگ تک پہنچایا تھا۔۔؟؟”
“ہم کیا کرتے بیٹا۔۔۔ جب تم لوگوں کے گھر سے اپنے رشتے دار اس طرح سے باتیں پھیلا رہے تھے۔۔۔
مگر اب ہمیں سچ پتہ چل گیا ہے۔۔۔ بتاتے ہوئے اچھا تو نہیں لگ رہا ۔۔۔مگر تمہارے چچا کو اس گھر سے جانے کانوٹس بھجوا دیا گیا ہے۔۔۔”
“وہ کیوں۔۔؟؟ ہمارے جو مسئلے تھے وہ ہمارے خاندان کے درمیان تھے آپ لوگ ہماری وجہ سے انہیں گھر سے مت نکلوائے۔۔۔”
“نہیں حماد۔۔۔انکی بیٹی نے اب محلے کے لڑکے پر الزام لگایا اسکی کچھ تصاویر وائرل ہونے پر۔۔۔ ہر بار ان لوگوں کو سچ مان کر ایکشن تو نہیں لیا جا سکتا۔۔۔”
اس بار انکی بات سن کر سائرہ باہر آئی تھی چہرے کو کور کئیے۔۔۔
“جب انہوں نے ایک لڑکی پر الزام لگایا تو وہ لڑکی غلط۔۔۔ مگر جب محلے کے لڑکے پر الزام لگایا تو وہ لوگ غلط۔۔؟؟ آپ لوگوں کا معاشرہ کیسا معاشرہ جہاں انصاف مجرم دیکھ کر نہیں اسکے سٹیٹس کو دیکھ کر ملتا ہے۔۔؟؟”
“بیٹا تم اندر جاؤ۔۔۔”
بہن جیسے ہی اندر گئی تھی حماد نے ان چار مردوں کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“انسانوں سے معاشرہ بنتا ہے معاشرے سے انسان نہیں۔۔۔اس وقت بہت اچھا فیصلہ کیا تھا ہم لوگوں نے وہ منفی محلہ چھوڑ دیا۔۔۔ چچی نے دوسرے گھر میں بھی تماشہ لگایا۔۔۔
اور افسوس کی بات ہے وہ محلہ بھی ویسا ہی نکلا منفی۔۔۔ہم نے وہ بھی چھوڑ دیا۔۔۔
اب یہ دیکھیں ہم یہاں سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔ دونوں بہنوں کے رشتے تہہ کردئیے ہیں۔۔۔ یہاں اس محلے میں بےحیائی اپنے عروج پر نہیں ہے۔۔۔ یہاں لوگ بنا کسی ثبوت کے طعنے نہیں دیتے
اگر کسی کی بدکرداری کا ثبوت ہو بھی تب بھی اسکے گھر اسے ذلیل نہیں کرنے جاتے۔۔۔
اسے معاشرہ کہتے ہیں۔۔۔ جو معاشرہ ہی ہو تماشائی نہیں۔۔۔”
وہ سب لوگ خاموش ہوگئے تھے۔۔۔
“حماد بیٹا،،،”
“معاشرے نے ہمارے نہیں نکالا ہم اسے چھوڑ آئے تھے۔۔۔ بہت خوش ہیں۔۔۔
جہاں جس معاشرے میں زمینی خدا زیادہ ہوجائیں وہاں انسان قیام نہیں کرسکتے۔۔۔
پہلے ہوتا تھا لوگ اپنے کام سے مطلب رکھتے تھے مگر اب لوگوں کا مطلب بھی دوسروں کی زندگیوں سے ہوتا ہے۔۔۔فلاں کی بیٹی فلاں کا بیٹا۔۔۔الزام تراشی کرنے کے بعد خدا بن کر فیصلہ سنا دیتے ہیں۔۔۔”
“بیٹا ہم شرمندہ ہیں ہم سے زیادٹی ہوئی۔۔۔ وقت رہتے ہم اپنے گھر کی عورتوں کی زبان نہ بند کروا سکے۔۔۔”
حماد نے سرد آہ بھری تھی پیچھے جھک کر وہ بیٹھ گیا تھا۔۔۔کتنے سال بعد ان لوگوں کے منہ سے یہ الفاظ اسکے زخموں پر جیسے مرہم لگا رہے تھے۔۔۔
“معافی مانگنے سے شرمندہ ہونے سے اجڑا ہوا گھر واپس آباد نہیں ہوسکتا۔۔۔ الزامات کے اس طوفان نے سب اڑا کر اپنے ساتھ لے جانے کی کی۔۔۔نہ امی رہی اور نہ ہی ابو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“السلام وعلیکم آنٹی سوہا گھر پر ہے۔۔؟؟”
ملازمہ زارا کو اندر لیونگ روم میں لے آئی تھی جہاں سوہا کے سسرال والے موجود تھے سوائے اسکے۔۔۔
“وعلیکم سلام زارا بیٹا۔۔۔اندر آؤ۔۔۔ کیسی ہو بیٹا۔۔۔؟؟”
“میں ٹھیک ٹھاک آپ کیسی ہیں۔۔؟؟ اور زید بھائی آپ کیسے ہیں۔۔؟؟”
سوہا کے ہسبنڈ نے مسکرا کر سلام کا جواب دیا تھا۔۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھ کر باتیں کرنے کے بعد وہ اوپر سوہا کے کمرے میں چلی گئی تھی جہاں قہقوں کی آوازیں باہر تک آرہی تھی۔۔۔
“پارسا کی بچی۔۔۔ماما نے پکڑ لیا نہ تو خوب پٹائی ہوگی۔۔۔”
“ماما یہ چیٹنگ ہے پٹائی کی ڈیل نہیں ہوئی تھی۔۔۔”
چھوٹی بچی کمر پر ہاتھ رکھے وہاں کھڑی ہوگئی تھی
“ہاہاہا اچھا جی تو کیا ڈیل ہوئی تھی۔۔؟؟”
وہ دونوں بھاگتے بھاگتے روکے تھے۔۔۔کمرہ پوری طرح کباڑ بن چکا تھا۔۔۔
“ڈیل یہ ہوئی تھی آپ مجھے پکڑیں گی۔۔۔پٹائی نہیں کریں گی۔۔۔”
“اوووکے۔۔۔۔ تو میں نے پکڑ لیا۔۔۔۔”
سوہا نے اپنی گود میں اٹھا کر ہوا میں اچھالا تھا پارسا کو جس کی ہنسی وہاں گونج اٹھی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہا ماما۔۔۔۔”
“آہم۔۔۔”
ان دونوں کی نظر دروازے پر گئی تھی جہاں زارا کھڑی تھی۔۔۔
چہرے پر مسکان تھی اور آنکھوں میں غصہ۔۔۔
“کیا میری آنکھیں مجھے دھوکا دے رہی ہیں۔۔؟؟ پارسا بیٹا یہ دروازے پر آپ کی زارا خالہ ہی ہیں نہ۔۔؟؟”
“ہاہاہا یس ماما۔۔۔۔ زارا خالہ۔۔۔”
پارسا بھاگتے ہوئے زارا کی طرف گئی تھی۔۔
“کیسی ہو بیٹا۔۔۔؟؟”
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔ آپ کیسی ہیں۔۔؟؟ اور عروشمہ خالہ۔۔؟؟”
زارا کی آنکھیں بھر آئی تھی اسے نے بہت مظبوطی سے اپنے گلے سے لگایا تھا پارسا کو۔۔۔
“پارسا بیٹا آپ بابا کے پاس جائیں دادو سے کہیے گا خالہ کے لیے جوس اوپر بھجوا دیں۔۔۔”
زارا کو اتنا جذباتی دیکھ کر جلدی سے سوہا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اندر روم میں کھینچ لیا تھا
“کیا ہوا ہے زارا۔۔؟؟ سب ٹھیک ہے عروشمہ ٹھیک ہے۔۔؟؟”
“وہی تو ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ بیمار پڑ گئی ہے تھک گئی ہے اپنی بیٹی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے”
“اووہ۔۔۔ وہ باز کیوں نہیں آرہی۔۔؟ میں نے اسے کہا تھا بھول جائے ماضی کو۔۔۔”
“وہ جب مستقبل کی لالچ میں ماضی کو پیچھے چھوڑ گئی تھی تب اسکے پاس جینے کے لیے بہت وجوہات تھی۔۔۔اب نہیں رہی۔۔۔ اب تو اللہ کی طرف سے سب واضح ہوگیا ہے سوہا۔۔۔
اس نے اس بچی کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔وہ بار بار یہی دہرا رہی ہے۔۔۔”
زارا آنسو پونچھ کر بیٹھ گئی تھی بیڈ پر۔۔۔
“وہ جو بچہ تھا عبید۔۔؟ اسکے آنے سے عروشمہ بھول تو گئی تھی۔۔۔”
“وہ بھی چلا گیا ہے۔۔۔۔ اس بات کو بھی ایک ماہ ہوچکا ہے سوہا۔۔۔”
سوہا خاموش ہوکر روم میں چکر لگانا شروع ہوگئی تھی
“سوہا۔۔۔تمہیں ترس نہیں آرہا۔۔؟؟ کیوں کررہی ہو اپنی ہی بہن جیسی دوست کے ساتھ یہ سب۔۔؟؟ بتا کیوں نہیں دیتی کہ۔۔۔۔”
زارا کی بات ختم ہونے تک سانس ساکن کئیے سوہا نے مڑ کر اسے دیکھا تھا شاکڈ نظروں سے۔۔
“کہ۔۔۔؟؟”
“کہ پارسا اسکی بیٹی ہے سوہا۔۔۔۔”
“مذاق تھا یہ۔۔۔؟؟ نہیں ہے وہ اسکی بیٹی۔۔ میری بیٹی ہے۔۔۔”
“اور اسکا خون ہے وہ ۔۔۔”
وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے
“وہ خون جسے وہ ناجائز کہہ کر پھینک چکی تھی اس گرتی بارش میں۔۔۔؟؟
کمال ہے پہلے ماں باپ گناہ کریں پھر بچوں کو جانور سمجھ کر پھینک دیں اور جب اللہ کی طرف سے سزا ملے تو پچھتاوا جان کر وہی اولاد ڈھونڈنے لگ جائیں۔۔؟؟”
اتنی نفرت بھری تلخ باتوں نے زارا کو خاموش کردیا تھا
“سوہا بہت بڑی بڑی باتیں کردی ہے تم نے وہ خود اس عمر میں نہیں تھی کہ کچھ سوچ کر گناہ کرتی۔۔۔تم جانتی ہو۔۔۔اس معاشرے نے اسکی چچی کے الزام سن کر انکا جینا حرام کردیا تھا
بن نکاح کے اولاد کا پتہ چلتا تو مار دیتے اس سمیت اسکے پورے خاندان کو۔۔۔”
زارا چلاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
“میں کبھی پارسا نہیں دوں گی کسی کو بھی وہ میری بیٹی ہے۔۔۔میری اولاد ہے۔۔۔
خون کا رشتہ نہ سہی دل کا ہے احساس کا ہے۔۔۔۔جذبات کا ہے پیار کا ہے۔۔۔
وہ میری بیٹی ہے۔۔۔۔۔۔میری پارسا۔۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کا بہت بہت شکریہ رضیہ آنٹی آپ نے میرا نام نہیں لیا وہاں۔۔۔
آپ کو سائرہ باجی سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوگی۔۔۔وہ اتنی اچھی ہیں۔۔۔میری طرح نہیں ہیں۔۔۔”
“بس عروشمہ بیٹا۔۔۔بس بار بار اپنے کردار کو کسی دوسرے کے سامنے رکھنا چھوڑ دو۔۔۔
تم نے کوئی گناہ کیا بھی ہے تو وہ تمہارے رب کا اور تمہارا معاملہ ہے بار بار بےلباس ہونا چھوڑ دو۔۔۔ اس معاشرے میں جتنا جھکو گی لوگ اتنا ہی نیچے گرائیں گے۔۔۔
یہاں خود کی غلطیاں بتانا شروع کرو گی تو لوگ وہ بھی گنوانا شروع کردیں گے جو تم نے کبھی کیا نہیں۔۔۔
یہ دستور ہے یہاں رہنا ہے تو لوگوں کی چال اپنانی ہوگی۔۔۔”
انہوں نے شفقت کا ہاتھ سر پر رکھا تھا عروشمہ کے۔۔۔
“اور کب ہورہا ہے نکاح پھر۔۔؟؟”
“اسی ہفتے ہورہا ہے۔۔۔ ہارون پھر اپنے ساتھ لے جائے گا سائرہ کو باہر۔۔۔”
“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔ آنٹی ایک بات کہنی تھی۔۔ ہارون بھائی کبھی باجی کا ہاتھ تو نہیں چھوڑیں گے۔۔؟؟ کسی کے کہنے پر انکا یقین تو نہیں ڈگمگا جائے گا۔۔؟؟
“وہ تم سے مل چکا ہے چھوٹی بہن مانتا ہے تمہیں۔۔۔ بیٹا ٹرسٹی سٹاف میں رہ چکا ہے سب جانتا ہے وہ۔۔۔کبھی تمہارا یقین نہیں توڑے گا بےفکر رہو۔۔۔”
“اب بےفکر ہوں۔۔۔”
عروشمہ اٹھ کر انکے گلے لگی تھی۔۔۔
“تم نکاح میں شرکت کرو گی تو ہم سب کو اچھا لگے گا۔۔۔۔”
“نہیں آنٹی۔۔۔ محشر میں ملاقات کروں گی اپنے گھر والوں سے۔۔۔ اس زندگی میں بہت اذیت دہ دی سب کو۔۔۔اب ہمت نہیں انہیں منہ دیکھانے کی۔۔۔”
وہ آنسو صاف کرکے پیچھے ہوئی تھی
“آپ روتی بھی ہیں مس عروشمہ۔۔۔”
عبید کی معصومانہ آواز نے اسے حیران و پریشان کردیا تھا
“عبید۔۔۔؟؟؟”
“میں نے آپ کو بہت مس کیا۔۔۔”
وہ ٹانگوں کے ساتھ لگے بتا رہا تھا جب روم میں عبید کے مامو عماد بھی داخل ہوئے تھے
“عبید بہت ضد کررہا تھا آپ سے ملنے کی۔۔۔”
۔
“عروشمہ نے ایک نظر عبید کے مامو کو دیکھا تھا اور پھر جھک کر عبید کو اپنے سے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کو پتہ ہے آج سائرہ باجی کی شادی ہوگئی ہے۔۔۔عروج کی بات پکی کر دی ہے حماد بھائی نے۔۔۔
آپ کو پتہ ہے آج میں اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کرنے جارہی ہوں۔۔۔
ابو۔۔۔امی۔۔۔میں نے بہت کوشش کی یقین جانے مر کر بھی نہیں مر سکی میں۔۔۔ اگر میری لمبی زندگی میں لیے سزا ہے تو یہی سہی۔۔۔اپنے لیے جی کر دیکھ لیا۔۔۔
اب کسی اور کے لے جینا چاہتی ہوں۔۔۔
میں آخری بار آئی ہوں اسکے بعد اس دن ملیں گے۔۔۔جو سزاؤں جزاؤں کا دن ہوگا۔۔۔
مجھے زمینی خداؤں نے جتنی سزا دہ دی ہے اس زندگی میں مجھے نہیں لگتا میرا رب مجھے اور سزا دے گا۔۔۔ میں نے ناسمجھی میں نادانی میں جو گناہ کیا اس نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔۔۔
یاد نہیں پڑتا اس ایک گناہ کے سوا کچھ اور کیا بھی ہوگا۔۔۔”
وہ اٹھ گئی تھی۔۔۔
“امی۔۔۔وہ دن۔۔۔جس دن یہ گناہ سرزرد ہوا۔۔۔ اس دن کو ہمیشہ اپنے خواب میں دیکھتی ہوں۔۔۔
خود کو روکتی ہوں میں اس گلی کے آخر تک عروشمہ عروشمہ کی آوازیں دیتی ہوں۔۔۔ پر نہیں رکتی میں۔۔۔
امی کبھی کبھی بہت دل کرتا ہے کہ موت آجائے اور میں آپ دونوں سے مل لوں۔۔۔
یقین جانے زندگی بہت اذیت ناک ہے امی۔۔۔
وہ گھر۔۔۔ بہت محفوظ تھا ہم بیٹیوں کے لیے۔۔۔ اور آزادی کی یہ زندگی بہت گندی۔۔۔”
“آپ۔۔۔۔ آپ دونوں بہت اچھے تھے۔۔۔ میرے پرفیکٹ ماں باپ۔۔۔ زندگی کتنی خوبصورت ہوتی اگر وہ بدنما غلطی نہ ہوتی مجھ سے۔۔۔
دیکھیں نہ سب کچھ ہے وہ گناہ بھی گناہ کرنے والی بھی۔۔ مگر آپ سب نہیں رہے۔۔۔”
۔
پھولوں کی پتیاں ان دونوں کی قبر پر ڈالے وہ فاتحہ پڑھ کر باہر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“مس عروشمہ۔۔۔۔۔۔۔جلدی چلیں سب انتظار کررہے۔۔۔۔”
عروشمہ جیسے ہی قبرستان سے باہر آئی تھی عبید ہاتھ پکڑکر گاڑی تک لے گیا تھا جہاں
عماد گاڑی کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔۔۔
“مولوی صاحب انتظار کررہے ہیں۔۔۔اب چلنا چاہیے۔۔۔”
ہاں میں سر ہلائے وہ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
“کوئی تھک چکا ہے سفر سے۔۔۔۔
کوئی ہار چکا ہے خود سے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دو سال بعد۔۔۔۔”
۔
۔
“عاصم بیٹا۔۔۔میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں میری بیٹی کو اپنا لو۔۔۔”
“نگہت تم ہی سمجھاؤ نہ عاصم تمہارے مامو کی حالت پر ترس کھاؤ۔۔۔”
عاصم افتخار صاحب کا ہاتھ چھوڑ کر اٹھ گیا تھا ۔۔۔
“مامو۔۔۔ ہم یہاں آپ کی طبیعت کا پتہ کرنے آئے ہیں۔۔۔ ممانی افسوس ہورہا ہے جتنا وقت دوسروں کی بیٹیوں کی زندگیاں تباہ کرنے میں لگا دیا آپ نے ان دنوں میں اپنی بیٹیوں کی شادی کرکے یہ بوجھ بھی ہلکا کرلیتی۔۔۔”
“عاصم۔۔۔۔”
“افتخار بھائی۔۔۔۔ ایک احسان کردیجئے۔۔۔ آپ یہ بتا دیجئے حماد کہاں رہتا ہے۔۔۔؟؟
عروشمہ کہاں ہے۔۔؟؟ ہم ایک بار اس سے ملنا چاہتے ہیں معافی مانگنا چاہتے ہیں۔۔۔”
“کتنی شرم کی بات ہےنگہت ایک بھائی کی بیٹی کی فکر نہیں ہے اور دوسرے بھائی کی اولاد کے لیے مری جارہی ہو۔۔۔”
“ممانی کی آواز سن کر وہ سب بھی اٹھ گئے تھے۔۔۔”
“بھابھی شرم تو آپ کو آنی چاہیے۔۔۔ کیا رہ گیا ہے اب جو آپ کی اکڑ ختم نہیں ہورہی۔۔؟؟
آپ ہاشم بھائی کا گھر تو ختم کرچکی ہیں اپنے آپ پر تو رحم کرلیں۔۔۔
چلو عاصم۔۔۔۔”
عاصم کا ہاتھ مامو نے پکڑ لیا تھا۔۔۔
“عروشمہ اسلام آباد جاچکی ہے۔۔۔اس کا ایڈریس یہ ہے۔۔۔”
افتخار صاحب نے سائیڈ ٹیبل کے دراز کو کھول کر ایک کاغذ کو نکال کر عاصم کو دہ دیا تھا۔۔۔
“میری طرف سے بھی معافی مانگ لینا۔۔۔۔میری بیوی میری اولاد نے سب کچھ برباد کردیا۔۔۔ اب سمجھ آتی ہے کیوں کہا جاتا تھا کہ ایک عورت چاہے تو گھر کو جنت بنا دیتی ہے اور اگر چاہے تو دوزخ۔۔۔۔ میری بیوی نے گھر دوزخ بنا دیا اور میری اولاد کو بدکردار۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عاصم بھائی۔۔۔اس بار کچھ بھی غلط بات نہ کیجئے گا۔۔۔ دو سال بعد عروشمہ بھابھی کا پتہ چلا ہے۔۔۔”
بیک سیٹ پر بیٹھی نوشین نے ایکسائیٹڈ ہوکر کہا تھا
“بھابھی۔۔؟؟ نوشین بیٹی بھائی ڈائیورس دے چکا ہے۔۔۔اب صرف کزن ہے وہ تمہاری۔۔۔”
نگہت بیگم نے آہستہ آواز میں کہا تھا۔۔۔
ٹھیک وہی سب تھا ویسے ہی وہ سب فیملی ممبرز گاڑی میں جا رہے تھے اسی جگہ جس کا ایڈریس دیا تھا۔۔۔
“امی۔۔۔ میں اپنی غلطیوں سے سیکھ چکا ہوں میں عروشمہ سے معافی مانگوں گا۔۔ میں اسے منانے کی کوشش کروں گا۔۔آپ دیکھئے گا وہ مان جائے گی۔۔۔”
۔
سب خوش تھے عاصم کی باتوں سے سوائے نگہت بیگم کے۔۔۔
۔
۔
“عروشمہ میڈم وہ ہیں آپ آئیں۔۔۔”
ملازم انہیں جیسے ہی اندر لیکر گیا تھا نگہت بیگم نوشین اور اپنے ہسبنڈ کو ہاتھ پکڑ کر روک چکی تھی
“عاصم بیٹا۔۔۔اب تمہارا رستہ ہے تمہیں چل کر جانا ہے۔۔۔ؔ
عاصم جیسے جیسے لان میں جارہا تھا ملازم کے پیچھے پیچھے عروشمہ اسے واضح دیکھائی دینے لگ گئی تھی۔۔۔
ہاتھ میں نیوز پکڑے آنکھوں میں گلاسز لگائے وہ مگن تھی۔۔۔ چہرہ پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔
پر عاصم پر نظر پڑتے ہیں اسکی وہ مسکان چلی گئی تھی۔۔۔
“عروشمہ۔۔۔ ہائے۔۔۔”
ہاتھوں کا پسینہ صاف کرتے ہوئے وہ آگے بڑھا تھا۔۔۔
“السلام وعلیکم۔۔۔ عاصم۔۔۔؟؟ آپ یہاں۔۔۔؟؟”
“مامو سے پتہ ملا تمہارا۔۔۔ کیسی ہو۔۔؟؟”
“میڈم صاحب کے لیے کچھ لاؤں۔۔۔؟””
“جی۔۔۔ جوس لے آئیں۔۔۔پلیز بیٹھیں۔۔۔”
سامنے کرسی کی طرف اشارہ کیا تھا عروشمہ نے۔۔۔
آج عاصم حیران تھا عروشمہ کا کانفیڈینس دیکھ کر آج وہ گھبرا رہا تھا اور وہ لڑکی پرسکون کھڑی تھی۔۔۔
“عروشمہ۔۔۔میں تم سے معافی۔۔۔معافی مانگنے آیا ہوں۔۔۔میں نے جو فیصلہ کیا۔۔۔
طلا۔۔۔طلاق دی۔۔۔ وہ غصے میں۔۔۔ہم مولوی صاحب سے رابطہ۔۔۔”
“عروشمہ۔۔۔پورے گھر میں ڈھونڈ چکا ہوں۔۔۔یہاں بیٹھی ہو۔۔۔ آفس سے کال آگئی مجھے جانا ہوگا۔۔۔۔”
اندر سے جیسے ہیں آواز آئی تھی کچھ قدموں میں وہ شخص عروشمہ کے سامنے تھا۔۔۔ اسکے ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد اسکی نظریں عاصم پر گئی تھیں۔۔۔
“یہ۔۔۔یہ کون ہیں۔۔؟؟”
“یہ۔۔۔ میرے کزن ہیں پھوپھو کے بیٹے۔۔۔ عاصم۔۔۔ اور عاصم یہ میرے ہسبنڈ عماد بختاور۔۔۔”
“اوو ہیلو مسٹر عاصم۔۔۔ کیسے ہیں آپ۔۔؟؟ ایم سو سوری مجھے دیر نہ ہورہی ہوتی تو ضرور بیٹھتا۔۔۔ اچھا جان میں جلدی آجاؤں گا۔۔۔”
ایک بار پھر سے عماد عروشمہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہاں سے چلا گیا تھا
“عروشمہ۔۔۔۔”
“ایک منٹ عاصم۔۔۔ مولوی صاحب سے بات اس وقت ہوتی جب یہ ایک بار کہا ہوتا آپ نے۔۔۔ اسکے بعد بھی ہم پوری طرح الگ ہوگئے تھے۔۔۔ جن کاغذات پر آپ نے سائن کرکے مجھے بھیجے تھے۔۔۔ پلیز بیٹھے۔۔۔”
عاصم اتنا شاکڈ تھا کہ ایک بار کہنے پر ہی بیٹھ گیا تھا
“عاصم۔۔۔۔”
“یہ سب نہ ہوتا اگر تم ایک بار شادی سے پہلے مجھے بتا دیتی عروشمہ۔۔۔
میں ان مردوں میں سے ہوں۔۔۔ جو پہلے جاننے کے بعد بھی تمہیں اپنا لیتا۔۔۔”
“عاصم۔۔۔ مجھے بھی یہی لگتا تھا۔۔۔ کہ سارے مرد آپ جیسے ہوں گے۔۔۔ جن کے لیے ضروری ہوتا ہے بیوی شادی سے پہلے اپنے ماضی کو صاف لفظوں میں بتائے۔۔۔
مگر عماد نے میرا وہ نظریہ بھی بدل دیا۔۔۔ میرا ماضی۔۔۔کچھ ماہ پہلے پتہ چلا انہیں۔۔۔
یقین جانے میرے ماضی پر انہیں مجھ سے نفرت نہیں ہوئی۔۔۔ پر اس ماضی کو لیکر میری سزاؤں کو دیکھ کر انہیں مجھ سے بےپناہ محبت ضرور ہوگئی۔۔۔”
عاصم نے سر جھکا لیا تھا جب عروشمہ نے سر اٹھا کر دیکھا تھا
“ماضی ہونا کوئی بُری بات نہیں ہے عاصم۔۔۔ مگر جب کوئی ایک غلطی پر معافی مانگ لے تو اسے اپنا لینا چاہیے۔۔۔ دنیا کے سہارے چھوڑ دینے سے کچھ نہیں ہوا۔۔۔
کیونکہ وہ دنیا کا گناہ گار نہیں ہوتا اپنے رب کا ہوتا ہے۔۔۔
مجھے کوئی فخر نہیں تھا ماضی پر۔۔۔ جتنا میں ماضی کو کوستی آئی ہوں شاید ہی کسی نے کوسا ہو۔۔۔
میں نے آپ پر ہمارے رشتے پر بہت امیدیں لگا لی تھی عاصم۔۔۔ وہ تین سال نہیں تھے میری زندگی تھی۔۔۔اتنا کچھ کردیا تھا کہ کبھی آپ کو میرے ماضی کا پتہ چلے تو آپ مجھے ٹھکرا نہ پاؤ۔۔۔۔
مگر آپ بھی روائتی مردوں میں سے نکلے جن کے لیے بیوی مر بھی جائے اپنا آپ بھی مار لے مگر انکی آنا ویسی ہی رہتی ہے جیسے وہ بیوی کچھ پل کی ساتھی رہی ہو۔۔۔”
ماضی جیسے ہی جوس لیکر آیا تھا عروشمہ بات کرتے کرتے خاموش ہوگئی تھی
“ماما۔۔۔۔ماما۔۔۔۔۔ دیکھیں میری پینٹنگ۔۔۔ آپ میں بابا اور ہماری آنے والی پری۔۔۔”
عبید اندر سے بھاگتے ہوئے آیا تھا اور وہ پینٹنگ دیکھائی تھی۔۔۔
“یہ کون ہے۔۔۔؟؟”
عاصم نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“عبید۔۔۔ ہمارا بیٹا ہے۔۔۔بچے اب دادو کو بھی دیکھا دو جلدی سے۔۔۔”
“اتنی عمر اور وہ ہمارا بیٹا کیسے یہی سوچ رہے ہیں۔۔؟؟ عبید عماد کا بھانجا ہے۔۔۔ ہم نے ہمارے نکاح کے بعد آڈوپٹ کرلیا تھا۔۔۔”
اسکے چہرے پر بہت خوشی چھلک رہی تھی کہ عاصم کو جلن ہونا شروع ہوگئی تھی
“اور پری۔۔۔؟؟”
“ایم تھری منتھ پریگننٹ۔۔۔”
“اووہ۔۔۔۔تم خوش ہو۔۔۔؟؟ہر خوشی سے سرشار ہو عروشمہ۔۔۔ مجھے کس چیز کی سزا مل رہی ہے۔۔۔؟؟”
عاصم کی آنکھیں بھر آئیں تھی جب اس نے عروشمہ کو دیکھا تھا
“اس زندگی سے مجھے بھی کوئی لگاؤ نہیں تھا عاصم۔۔۔میں نے جب سے انسانوں کے آگے جھکنا چھوڑ دیا اور اپنے رب کے آگے سجدہ ریز ہوگئی۔۔۔ اللہ نے مجھے نواز دیا۔۔۔
عاصم میں بھی اسی سوال کا جواب ڈھونڈتی ہوں۔۔۔کبھی نماز فجر میں تو کبھی تہجد میں۔۔۔
مجھے ایک ہی اواز سنائی دیتی ہے۔۔۔ اللہ بڑا رحمان ہے اللہ بڑا رحیم ہے۔۔۔”
۔
عاصم اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“غلطی اور گناہ ہم سب سے ہوتے ہیں۔۔۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو ٹھوکر کھا کر بھی نہیں سدھرتے گناہ پر گناہ کرتے ہیں اسکی لذت میں ہی جیتے ہیں بنا کسی خوف کے ایسے لوگ ہی گمراہ لوگ ہیں۔۔۔
اور کچھ لوگ ہوتے ہیں جو نا سمجھی میں گناہ کر بیٹھتے ہیں۔۔۔ اور جب ہوش آتا ہے تو اپنا رب یاد آجاتا ہے انہیں۔۔۔ گناہ کرکے پچھتانے اور رونے سے گناہ کم نہیں ہوجاتا اور نہ ہی سزا کم ہوتی ہے۔۔۔
مگر بندہ کے دل سے اتنا بوجھ تو کم ہوجاتا ہے اپنے پروردگار کے آگے رونے سے اپنے گناہ کی معافی مانگنے سے۔۔۔
اللہ کی پاک ذات معاف کرنے والی ہے۔۔۔۔
بس اس سے مانگیں جو دینے والا ہے۔۔۔۔”
۔
“آج پھر ڈائری۔۔۔؟؟ آج پھر پہلو میں سونے کا موقع نہیں ملے گا اس بیچارے شوہر کو۔۔۔؟؟”
عماد نے اسے جیسے ہی اپنے حصار میں لیا تھا عروشمہ کے آنسو اسے اپنے ہاتھوں میں گرتے محسوس ہوئے تھے
“عروشمہ۔۔۔”
“بہت کم لڑکیاں ہوتی ہیں جنہوں ان غلطیوں کے بعد بھی آپ جیسا لائف پارٹنر ملتا ہے عماد۔۔۔
اپنی قسمت پر رشک بھی آتا ہے۔۔۔
مگر۔۔۔ میں کوستی ہوں اس ایک غلطی کو۔۔۔”
روتے روتے اسے سانس لینے میں جیسے ہی دشواری ہوئی تھی عماد نے بیڈ پر بٹھا کر پانی کا گلاس دیا تھا اسے۔۔۔
“عروشمہ۔۔۔یہ اللہ کی خاص عنایت ہے تم پر کہ تمہارے اس چہرے کو دیکھ کر میرے دل میں اور عزت بڑھ جاتی ہے تمہارے لیے۔۔۔ تم بھول جاؤ جو گزر گیا۔۔۔”
“جب بھولنے کی کوشش کرتی ہوں جسم کانپ جاتا ہے یہ سوچ کر کہ جو زندگی مجھے ملی ہے جن امتحانات سے میں گزر کر آئی ہوں اس جگہ سے کوئی اور نہ گزرے۔۔۔”
“عروشمہ۔۔۔نیکی بدی دونوں راستے ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔۔۔ اب یہ ہم پر ہے ہم کونسا چُنتے ہیں۔۔۔”
۔
“میں ایک بات سمجھ گئی ہوں عماد جو اللہ کی بنائی گئی حدود کو توڑتا ہے۔۔۔ وہ خود بھی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔
بس ایک غلطی۔۔۔ ایک لڑکی کی نادانی میں چار دن کی محبت میں کی گئی ایک غلطی اسکی ساتھ نسلیں تباہ کردیتی ہے۔۔۔”
۔
۔
اسکی باتیں ختم نہ ہوئی تھی اپنے مجازی خدا کے پہلو میں بیٹھے وہ ہر روز کی طرح جی بھر کر روئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شُد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
