51K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

“السلام علیکم۔۔۔۔”
“وعلیکم سلام زارا جی آپ اور اتنی نفاست۔۔۔”
“سب سے پہلے سلام میں نے کبھی سوچا نہیں تھا یہ دن بھی دیکھنے کو ملے گا۔۔۔”
عندلیب اور عریشہ نے ہنستے ہوئے زارا کو ویلکم کیا تھا وہ تینوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر اشکبار ہوئیں تھیں۔۔
“آہمم۔۔۔”
پیچھے سوہا کھڑی ہوئی
“اوو مائی گاڈ سوہا اور حجاب۔۔۔؟ واااوو۔۔۔۔”
سوہا کو امید نہیں تھی کہ وہ اس زندگی میں ایک ساتھ اپنی تمام دوستوں سے مل بھی پائے گی۔۔مگر ایک فون کال نے سب بدل دیا تھا
“خوب جی بھر کے ملنے کے بعد وہ چاروں بیٹھنے لگی تھی جب زارا نے آگے بڑھ کر سوہا کو اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔
“میں جانتی ہوں پاپا کی پرنسز نے کبھی خود سے نہیں ملنا۔۔۔”
“ارے اب پاپا کی نہیں اپنے ہسبنڈ کی پرنسز بن گئی ہے۔۔۔ کیوں سوہا جی۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔کم آن گرلز۔۔۔بیٹھ جاؤ سب ہمیں دیکھ رہے،،،،”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دیکھیں میم میرا یہ جاب کرنا بہت ضروری ہے گریجویشن کے بعد میں نے تعلیم چھوڑ دی تھی کچھ مجبوریوں کی وجہ سے۔۔۔”
“دیکھیں مس سوہا آپ کے پاس کوئی بھی جاب ایکسپرینس نہیں ہے آپ اس لیول کے بچوں کو کیسے ٹیچ کرسکتی ہیں۔۔؟؟”
“اگر آپ کو لگتا ہے میں اس کلاس کے بچوں کو نہیں پڑھا سکتی تو آپ چھوٹی کلاس کے بچے”
“وہاں کوئی ویکینسی نہیں ہے ایم سو سوری۔۔۔”
۔
وہ اس کاغذ کو اٹھا کر وہاں سے واپس اورفینیج میں چلی گئی تھی مایوس خالی ہاتھ۔۔۔
یہ تیسرا انٹرویو تھا۔۔۔پچھلے ایک مہینے سے وہ خود کو اپنے حالات کو رو رو کر تھک گئی تھی۔۔۔۔
۔
“بیٹا جاب کرنا اتنا ہی ضروری ہے تو تم میڈم سے بات کرکے اس اورفینیج کے یتیم بچوں کو پڑھا سکتی ہو۔۔۔ساتھ جو مفت تعلیمی ادارہ ہے بڑا سا وہ اسی اورفینیج کا ہے۔۔۔”
“کیا سچ میں۔۔۔میرا یہ نوکری کرنا بہت ضروری ہے۔۔۔میں اسکے دنیا میں آنے سے پہلے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
“ہاں شام کو بڑی میڈم آئیں گی میں تمہیں خود انکے پاس لیکر جاؤں گی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہاہاہا ڈے کئیر اونر۔۔؟؟ جتنی آخر شادی کی تمہیں آئی ہوئی تھی مجھے تو لگا تھا ابھی تک پانچ چھ بچے ہوگئے ہوں گے عندلیب۔۔۔”
زارا کی اونچی آواز سے جہاں عندلیب کا چہرہ لال ہورہا تھا وہیں وہ تینوں پاگلوں کی طرح ہنس رہی تھی۔۔۔ سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا ان کا ٹیبل۔۔۔
“شرم تو نہیں آتی کمینی اتنی بھی آخر نہیں آئی ہوئی تھی”
“ہاہاہاہاہاہا اچھا بلش کیوں کررہی۔۔۔۔؟ شادی کرو کر فارغ ہو۔۔۔ بچے ہوں گے نہ لگ پتہ جائے گا صبح شام آگے پیچھے گھومتی رہ جاؤ گی۔۔۔۔”
سوہا نے اور ٹیز کرتے ہوئے کہا تھا
“اس لحاظ سے عریشہ اور میں سکھی ہیں۔۔۔ سکون والی زندگی ہے۔۔۔
اور تم تینوں ہی شادی کے نام سے بھاگتی تھی۔۔۔”
اسکی آواز اسکے سوال پر سب کے چہرے کی ہنسی چلی گئی تھی۔۔۔
“عروشمہ۔۔۔پتہ تو چل گیا ہوگا آپ سب کو۔۔۔؟؟”
سوہا نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“ہممم۔۔۔اب وقت آگیا ہے ہماری یاریاں پھر سے مظبوط کرنے کا۔۔۔”
زارا نے اپنا ایک ہاتھ سوہا کی طرف بڑھایا تھا اور دوسرا ہاتھ عندلیب کی طرف عندلیب نے اپنا ایک ہاتھ زارا کی ہتھیلی پر رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ سے عریشہ کے ہاتھ کو تھاما تھاوہ ایک سرکل بن گیا تھا ان کی یاریوں کا۔۔۔
“مگر اس کھانے کا بل میں نہیں دینے والی۔۔۔”
زارا نے منہ بنا کر کہا تھا۔۔
“سیریسلی زارا۔۔۔؟؟ ٹاپ کی وکیل بن گئی ہو۔۔۔”
“نہیں ابھی دو سال ہیں۔۔۔پیسے میں نہیں دے رہی میں نے اس مہینے کی کمیٹی بھی دینی ہے ابھی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ اس بار تو مجھ سے بھی نہ امید رکھی جائے۔۔۔۔ ہاف ہاف کرلیتے ہیں۔۔؟؟”
“سوہا۔۔۔کچھ شرم کرو ہم سب میں تم سب سے زیادہ رچی رچ ہو۔۔۔”
“ہاہاہاہا شادی کے سائیڈ افیکٹس میں نے بچت کرنا سیکھ لی ہے۔۔۔۔”
اس نے جیسے ہی آنکھ ماری تھی وہ ٹیبل اپنے قہقوں کی وجہ سے سب کی توجہ حاصل کرچکا تھا
“چلو ہاف ہاف نکالو چڑیلو۔۔۔ اگر پیسے نہیں دینے تھے تو کم ٹھوس لیتی۔۔۔ ہم دونوں کی سیونگ کا خیال کرلیا ہوتا۔۔۔۔چل عریشہ۔۔۔نکال ایک ہزار۔۔۔”
“پانچ سو کرلے یار میں تم سب میں سب سے زیادہ غریب ہوں۔۔۔”
“اچھا شوخی کہیں کی بنک مینیجر ہوکر غریب۔۔۔؟؟ باہر مہرون گاڑی تیری ہی ہے نہ۔۔۔؟؟”
زارا کے تکے پر اس نے آنکھیں نکالی تھی۔۔۔
“تم نہ میرا پانچ سو کو چھوڑنا منحوس۔۔۔”
“ہاں ہاں۔۔۔ سکول میں تو نے ایسا ہی میسنیوں والا چہرہ بنا کر کم لوٹا تھا ہمیں۔۔۔؟؟”
انکی لڑائی پھر سے شروع ہوگئی تھی۔۔۔ سوہا کی آنکھوں میں آنسو بھی تھے اور خوشی بھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہم اسکے اپنے ہیں جاننے والے آپ اسے بلا دیں۔۔۔”
“دیکھیں اس وقت آپ نہیں مل سکتی اجازت نہیں ہے میم۔۔۔”
“اوکے میں سائم چوہدری کو کال ملاتی ہوں وہ میرے والد ہیں اور۔۔۔”
“آپ سائم صاحب کی بیٹی ہیں۔۔۔؟؟”
کئیر ٹیکر جلدی سے ان چاروں کو ویٹنگ روم لے گئے تھے آفس سے۔۔۔
۔
“آپ یہیں بیٹھے میں عروشمہ بیٹی کو لیکر آتی ہوں۔۔۔”
عروشمہ سر جھکائے جیسے ہی اندر آئی تھی ان چار چہروں کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی تھی۔۔۔۔
پہلے سوہا آگے بڑھی تھی اور پھر وہ تینوں بھی۔۔۔۔
عروشمہ کی حالت دیکھ کر وہ سب بےتحاشہ رہ دی تھی۔۔۔ انکے رونے کی آوازیں اس روم میں گونج رہی تھی جیسے وہ چاروں انتظار میں تھے اور اپنے آنسو ضبط کئیے بیٹھی تھی۔۔۔
“عروشمہ۔۔۔”
“آج صبح ڈائیورس پیپرز ملے تو اس وقت میں اللہ سے دعا کررہی تھی کوئی تو ایسے ماضی کا اپنا پاس ہو جس کے گلے لگ کر رو سکوں۔۔۔”
عروشمہ کی بات نے ان سب کو اور رولا دیا تھا۔۔۔
“اووہ عروشمہ۔۔۔ایم سووو سوری۔۔۔۔ مجھے بیک اپ رکھنا چاہیے تھا خیر خبر رکھنی چاہیے تھی۔۔۔”
سوہا کا خود کا چہرہ بھیگ چکا تھا مگر وہ عروشمہ کے آنسو صاف کر رہی تھی
“یہ سب کیوں ہوا عروشمہ۔۔؟؟ “
“اپنوں نے اچھا بدلا لیا مجھ سے۔۔۔انہوں نے یقن دلادیا تھا کہ خون سفید ہوگیا ہے۔۔۔
مجھے میرے گناہ سے زیادہ میرے اپنوں نے برباد کیا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔؟؟”
“مولوی صاحب کی بات پر حامد وہاں سے اٹھ گیا تھا
“مجھے قبول نہیں ہے۔۔۔ ایم سوری ابو۔۔۔ مگر میں ایسی فیملی میں شادی نہیں کرسکتا “
“حامد۔۔۔ یہ کیا بکواس کررہے ہو۔۔۔”
افتخار صاحب نے اپنے بیٹے کو گریبان سے پکڑ لیا تھا
“ٹھیک تو کہہ رہا ہے میرا بیٹا۔۔۔حامد تم نے آج میری بات کا مان رکھ لیا بیٹا۔۔۔”
عروشمہ کی چچی اپنے بیٹے کے صدقے واری جانے لگی تھی
“دیکھیں بھابھی۔۔۔ وہ جا چکی ہے ہم اسے مار چکے ہیں،،، اب آج یہ نکاح نہ کرکے آپ ہم سب کو مار دیں گی جو معاشرے میں ہماری عزت ہے وہ بھی خاک میں مل جائے گی۔۔۔”
عروشمہ کی والدہ ہاتھ جوڑے چچی کے سامنے کھڑی ہوگئی تھی پر وہ تو کسی معافی کسی کو خاطر خواہ نہیں لارہی تھی
“حامد۔۔۔دیکھ بھائی میں اپنی ہر بہن کے کردار کی قسم کھا کر گواہی دے سکتا ہو۔۔۔ وہ جو چلی گئی اسکی وجہ سے ہم سب کو سزا”
“ہم کیسے مان لیں کے سب ٹھیک ہیں۔۔ کون جانے کتنے بچے ضائع۔۔۔”
حامد کے منہ پر مکا مار دیا تھا اور مارنا شروع کردیا تھا عروشمہ کے بڑے بھائی نے۔۔۔
“آپ لوگ جائیں یہاں سے۔۔۔ اس گھر میں کوئی نکاح نہیں ہوگا یہ لوگ یہاں کوٹھے ڈال کر دیں گے اپنی بیٹوں کو میرا بیٹا کسی سے شادی نہیں کرے گا”
“چچی اللہ سے ڈریں آپ۔۔۔ اللہ کی لاٹھی بڑی بےآواز ہے ہمارا تماشہ تو چار لوگوں میں لگے گا۔۔۔ اگر قدرت نے آپ کی پکڑ کرلی تو دنیا تماشہ دیکھے گی آپ کا۔۔۔”سائرہ پردے سے باہر آگئی تھی
“سارا اندر جاؤ۔۔۔”
“نہیں امی۔۔۔ بس یہ خون کے رشتے ہیں یہ خاندان ہوتا ہے۔۔۔؟؟ اتنا گندا خاندان۔۔۔؟؟ نہیں کرنی مجھے شادی انکے بیٹے سے۔۔۔ کوٹھا بنا کر اس میں رو پوش ہونا منظور ہے ان جیسے لوگوں کے گھر جانا نہیں۔۔۔”
وہ اپنے بھائی کو اپنے ماں کو اپنی بہنوں کو وہاں سے باہر لے گئی تھی۔۔۔
۔
“حامد میرے بیٹے۔۔۔”
“اپنے بیٹے کو لیکر نکل جاؤ میرے گھر سے۔۔۔”
افتخار۔۔۔”
“میں نے نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔ کمظرف عورت میں تمہیں طلاق دیتا ہوں نکل جاؤ۔۔۔
جاؤ اس بےغیرت کو لیکر۔۔۔۔ میں نے حامد تجھ سے کیا مانگا تھا۔۔۔؟؟
سارا زندگی تمہیں پالتا رہا میں نے مانگا کیا تھا۔۔۔؟؟ اپنے بھائی کی ایک بیٹی کو بیاہ کر لیکر آنا چاہتا تھا۔۔۔ تم لوگوں نے سب کے سامنے تماشا لگا دیا میرا میرے بھائی کی فیملی کا۔۔۔”
وہ سر پر ہاتھ رکھے وہاں بیٹھ گئے تھے،،،،،
“ابو۔۔۔”
نکل اپنی ماں کو یہاں سے لے جا ورنہ میں کچھ غلط کردوں گا دفعہ ہوجا یہاں سے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
حماد بہنوں کو ماں کو گھر چھوڑ کر باہر نکل آیا تھا۔۔۔اور سیدھا قبرستان گیا تھا
“آپ کہتے تھے۔۔۔ بہنوں کا بڑا بھائی بن کر نہیں باپ بن کر پالنا ہے۔۔۔
ابو۔۔۔ بھائی کبھی باپ نہیں بن سکتے باپ باپ ہوتا ہے۔۔۔ میں اپنی ذمہ داری سے بری ہونے آیا ہوں۔۔۔
ایک مرد میں جتنا ظرف ہوتا ہے نہ سب آزما کر دیکھ لیا ابو۔۔۔
میں بھی آپ جیسا بزدل نکلا۔۔۔ میں اب معاشرے کے طعنے برداشت نہیں کرسکتا،،،”
حماد وہاں سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔چلتی سڑک پر تیز گاڑیوں کے درمیاں۔۔۔
جب اسکا موبائل بجنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔وہ اپنی آنکھیں بند کرنے سے پہلے ایک بار اپنی ماں کی آواز سننا چاہتا تھا بس ایک بار۔۔۔چہرہ صاف کرکے جب اس نے فون اٹھایا تو اسکا چہرہ پھر سے بھر گیا تھا
“حماد۔۔۔۔حماد بھائی۔۔۔امی۔۔۔۔ امی آنکھیں نہیں کھول رہی۔۔۔یہ ڈاکٹر کیا بکواس کررہی ہیں آپ ہی سن لیں۔۔۔ یہ کہہ رہی ہیں امی نہیں رہی۔۔۔”
چھوٹی بہن چیخ رہی تھی فون پر چلا رہی تھی سب پر۔۔۔
“حماد بھائی امی آپ کی بات سنے گی آپ انہیں سمجھائیں کہ جلدی سے اٹھ جائیں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ماہ بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“یہ کونسی صدی ہے۔۔۔؟؟”
“نوشین۔۔۔”
عاصم نے غصے کہا تھا
“اندر لیونگ روم کی آوازیں باہر ملازموں کو بھی جارہی تھی رات کے ڈھائی بجے یہ عالم تھا گھر کا
“میں پوچھ رہی ہوں کونسی صدی ہے یہ بھائی۔۔۔؟؟”
“نوشین اب تم بھی سچ بول دو ہم دونوں ایک دوسرے سے۔۔۔”
وہ جو لڑکا وہاں کھڑا تھا جس کا گریبان عاصم کی گرفت میں تھا نوشین جوتی اتار کر ہاتھ میں پکڑ چکی تھی
“اتنی جوتے ماروں گی کہ یاد رکھے گا ۔۔۔ ابو میں نہیں جانتی کون ہے یہ گھٹیا شخص۔۔۔”
“جھوٹ مت بولو نوشین میں نے خود تم دونوں کو رنگے ہاتھ پکڑا۔۔۔”
“اس لیے تو پوچھ رہی ہوں یہ کونسی صدی ہے۔۔۔؟؟ آدھی رات کو یہ غیر مرد ہمارے گھر میں ہے آپ میرے بھائی کی بیوی مجھ پر الزام لگا دیں گی تو میں قصوروار ہوں۔۔۔؟؟
ابو آپ اس کا موبائل فون نکالیں اسکی جیب سے۔۔۔
اور جب اسکا موبائل فون نکال تو نوشین نے وہ چھین لیا تھا
“کوڈ پوچھیں اور پولیس کو کال ملائیں۔۔۔”
“نوشین اپنا گناہ چھپانے سے ۔۔۔”
عاصم بھائی حیرت ہے جس بیوی کے لیے بولنا چاہیے تھا اسے تو خاموشی سے الوداع کردیا جس بیوی کے لیے بول رہے ہیں اسکی سچائی تو میں بتاتی ہوں ابو اسے لگائیں دو اور کوڈ پوچھیں۔۔۔”
“9231”
“اسکے موبائل کی لاسٹ کال۔۔۔”
نوشین نے جیسے ہی فون ملایا تھا اریج کا موبائل بجنا شروع ہوگیا تھا
“یہ سب کیا ہے۔۔؟؟ عاصم یہ اسکی کوئی چال ہوگی۔۔۔”
“عاصم بھائی آپ کی بیوی اور اس کو کتنی بار میں باہر دیکھ چکی ہوں۔۔۔ کل انکی فون پر گفتگو سننے کے بعد میں انہیں رنگے ہاتھ پکڑنا چاہتی تھی۔۔۔میرے شور ڈالنے پر یہ تو مجھ پر ہی الزام تراشی کرنا شروع ہوگئی اور آپ سبحان اللہ۔۔۔ آج بھی کس صدی کی سوچ رکھتے ہیں میرے بھائی۔۔؟؟”
نوشین وہ موبائل نیچے مار کر توڑ چکی تھی۔۔۔۔
اور وہ جیسے ہی گئی تھی عاصم نے ایک زور دار تھپڑ مارا تھا اریج کے منہ پر۔۔۔
۔
“عاصم۔۔۔۔”
“تمہیں شرم نہیں آئی بےحیا لڑکی۔۔۔۔”
عاصم دوبارہ سے ہاتھ اٹھانے لگا تھا جب والدہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
“عاصم اب اتنی رات کو تماشہ نہ کرو۔۔۔ جاؤ اپنی بیوی کو معاف کرکے کمرے میں لے جاؤ۔۔”
عاصم نے شاکڈ ہوکر اپنی والدہ کو دیکھا تھا
“ایسے شاکڈ نہ ہو بیٹا۔۔۔یہ تمہاری پسند تھی ہماری نہیں جسے تم ٹھکرا کر نکال باہر کرو گے۔۔۔
اب جاؤ اتنے ارمانوں سے لائی ہوئی بیوی کو کمرے میں لیکر جاؤ۔۔۔۔”
۔