51K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

“عروشمہ۔۔۔۔عروشمہ۔۔۔۔”
بہت سی آوازیں اسے سنائی دے رہی تھی۔۔۔
۔
کچھ دیر میں اسے ہسپتال لے جایا گیا۔۔۔
“ایم سوری انکی دیتھ ہوچکی ہے۔۔۔
دیتھ ڈیٹ اینڈ ٹائم نوٹ کرلیں سسٹر”
۔
۔
عروشمہ۔۔۔۔۔
عروشمہ۔۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ گئی تھی اپنی گہری نیند سے۔۔۔
“عروشمہ بیٹا اٹھ جاؤ کالج کے لیے لیٹ ہورہی ہو۔۔۔”
“امی۔۔؟؟”
اس نے نظر دہرائی تو اپنے کمرے میں موجود تھی ہلکی سی وائبریشن پر اس سے میٹرس کو ہلکا سا اٹھایا اور وہ موبائل فون نکالا تھا جو اس نے وہاں چھپا کر رکھا ہوا تھا۔۔۔ یہاں وہاں دیکھتے ہی وہ گھبرا گئی تھی وہی گھر وہی کمرہ باہر سے سب گھر والوں کی ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔
ماتھے سے پسینہ صاف کرکے اس نے موبائل فون پر نام دیکھا تھا
گھبراہٹ سے وہ فون بستر پر گر گیا تھا اور پھر بجنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
اس نے کال پک کرکے جیسے ہی اٹھائی دوسری طرف سے ایک آواز جو اسے صاف سنائی دے رہی تھی اور آنکھیں آنسوؤں سے دھندلا گئیں تھیں
“شہان کالنگ۔۔۔۔”
“ہیلو۔۔۔۔عروشمہ۔۔۔؟؟ آج کا پروگرام پکا ہے نہ۔۔؟؟ میں نے اپنے دوست کا روم لیا ہے۔۔۔ وہیں چلیں گے گپ شپ کریں گے تم تیار رہنا۔۔۔”
۔
“عروشمہ۔۔۔”
آواز جیسے ہی سنائی دی تھی عروشمہ نے جلدی سے موبائل چھپا دیا تھا
“امی۔۔۔”
روتی ہوئی اٹھ کر ماں کے گلے لگنے کی کوشش کی تو ماں واپس کمرے میں آگئی تھی
“عروشمہ بیٹا۔۔۔”
وہ کھڑی رہ گئی تھی وہاں اس کمرے میں اور جب بیڈ پر نظر پڑی تو اپنے آپ کو دیکھ رہی تھی
“میں آجاؤں گی۔۔۔آج۔۔۔”
وہ خود کو دیکھے جارہی تھی۔۔۔اور پھر اس نے خود کو ماں سے نگاہیں ملا کر جھوٹ بولتے ہوئے دیکھا۔۔۔
کمرے سے باہر صحن میں آئی تو والد بھائی اور تینوں بہنوں کو ہنستے مسکراتے ناشتہ کرتے دیکھا۔۔۔
“آپ لوگوں نے میرے بغیر ہی ناشتہ شروع کرلیا۔۔۔؟؟ ابو آپ بھی۔۔۔”
“ارے میری لاڈلی یہ دیکھ لو ابھی تک ہاتھ نہیں لگایا جلدی جلدی آجاؤ۔۔۔”
وہ والد کے پاس بیٹھ گئی تھی ناشتہ کرنا شروع کرنے لگی تھی جب بھائی نے آہستہ سے سر پر ہاتھ مارا۔۔
“پہلے منہ دھو کر آؤ گندی بچی۔۔۔”
“ابووو۔۔۔۔۔دیکھ لیں بھائی کو۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔جلدی جلدی کرلو آج میں کالج چھوڑنے۔۔”
“نہیں ابو میں سوہا کے ساتھ چلی جاؤں گی۔۔۔”
“ابو آپ کی چائے ٹھنڈی ہوگئی ہے۔۔۔ ایم سوری آپ کو روز انتظار کرنا پڑتا ہے کل سے میں بہت جلدی اٹھ جاؤں گی۔۔۔”
فیملی کے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد جب سب اپنے اپنے کام میں مصروف ہوگئے تھے تو نظر بچا کر اوپر والے پورشن میں گئی تھی اپنے چچا کے۔۔۔۔
“ابھی تک تم تیار نہیں ہوئی۔۔؟؟ یہاں شانی نے میرا سر کھا لیا تھا چلو جلدی کرو تم میرے ساتھ گھر سے نکلو گی۔۔۔آگے گلی کے کونے پر شانی ملے گا۔۔۔”
چچا کی بیٹی کی آواز اسکے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔اور پھر وہ آنکھیں بچاتے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو نظر انداز کرکے گلی کے کونے تک پہنچی تھی مکمل پردہ کئیے وہ اس بائیک پر بیٹھ گئی تھی
پیچھے قدموں کی دھول چھوڑ رہی تھی جہاں وہ ہر قدم پر گھر کے ایک فرد کو روؤند کر اس غیر محرم کی بائیک پر بیٹھ گئی تھی
عروشمہ ہاشمی۔۔۔۔
وہ بائیک جیسے ہی نکلی تھی وہ واپس بھاگی تھی گھر۔۔۔۔
“امی۔۔۔امی اسے بچا لیں وہ سب تباہ کردے گی۔۔۔امی۔۔۔
وہ چلا رہی تھی۔۔۔سب کو بلانے کی کوشش کر رہی تھی
عروشمہ واپس آجاؤ۔۔۔
صحن میں کھڑی وہ چلائی تھی۔۔۔۔۔
۔
۔
“عروشمہ۔۔۔اسکی پلس چل رہی ہے ڈاکٹر سسٹر اسے دیکھیں۔۔۔پلیز پلیز۔۔۔”
ڈسپریٹ آوازیں ہسپتال کی لوبی میں سنائی دے رہی تھی اسکے سٹریچر کو اندر لے جایا گیا پھر سے ڈاکٹرز کا عملہ وہاں روم میں اس کو اٹینڈ کرنے آیا۔۔۔
“سوہا۔۔۔اسے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔”
وہ چاروں وہاں بیٹھ چکی تھی
“وہ مر جائے گی۔۔۔وہ مر جائے گی۔۔۔”
سوہا نے زارا کی طرف دیکھا تھا
“کیا اتنا بڑا جرم تھا کسی مرد کی محبت پر یقین کرنا۔۔؟؟ ہم سب لوگوں نے ہماری عمر کی ہر لڑکی ماضی میں محبت تو کرتی ہوگی نہ۔۔؟؟ تو کیا ایسی ہی حالت ہوتی ہے اسکی۔۔؟؟ جیسے عروشمہ کی ہوئی۔۔؟؟ میں نے دنیا دیکھی ہے میں نے جو ظلم عروشمہ کے ساتھ ہوتے دیکھے ہیں میری روح تک کانپ جاتی ہے یہ دیکھو میرے ہاتھ کے رونگٹے۔۔۔”
سوہا نے سر پکڑ لیا تھا آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
“محبت جرم نہیں ہے سوہا نہ ہی محبت کرنا۔۔۔ محرم کی محبت میں عزت ہے یہ بات سمجھ جانی چاہیے ہم لڑکیوں کو۔۔۔جو مرد باہر ملاقاتوں کے لیے بلاتا ہے وہ مرد صرف مفاد پرست ہوسکتا ہے محبت کرنے والے نام دیتے ہیں۔۔۔ہم لڑکیاں ہی سمجھ نہیں پاتی۔۔۔”
زارا نے سوہا کو سنبھالنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“میں نے۔۔۔حماد بھائی کا نمبر ایاز کو دہ دیا ہے۔۔۔ ہم دوست سب کچھ کریں گے۔۔۔
سب کچھ مگر مجھ سے امید نہ رکھنا کہ میں اسکی آخری رسومات کروں گی۔۔۔
اسکے اپنے خون کو آگے آنا ہی ہوگا۔۔۔”
وہ ایک طرف تو سوہا کو حوصلہ دے رہی تھی دوسری طرف اندر آپریشن ٹھیٹر کودیکھ کراسکی ہمت جواب دیتی جارہی تھی
“وہ نہیں آئے گے۔۔۔کوئی نہیں آئے گا۔۔۔ عروشمہ کی والدہ کی دیتھ پر بھی ان لوگوں نے نہیں بتایا تھا کچھ۔۔۔وہ لوگ اسے مار چکے ہیں۔۔۔”
عندلیب نے آہستہ سے کہا تھا مگر سامنے ایاز کے ساتھ حماد اور پھر نقاب میں ایک لڑکی انکے ساتھ آرہی تھی۔۔۔
“حما۔۔۔حماد بھائی۔۔۔”
وہ چاروں اٹھ گئیں تھی جب حماد اور وہ لڑکی جو کہ عروشمہ کی بڑی بہن تھی وہاں شیشے کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی تھی
حماد کچھ دیر بعد بہن کے ساتھ بینچ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔پر سکون تھے دونوں بہن بھائی۔۔۔
“میں اسے بہت پہلے مار چکا تھا۔۔۔میں نے نہیں آنا تھا۔۔۔بہت پہلے مار دیا تھا اسے ہم سب نے۔۔۔”
حماد نے آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھا کر سامنے کمرے کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا تھا
سب کو جاننا تھا اگر نہیں آنا تھا تو کیوں آئے۔۔ اگر مار چکے تھے تو اسکے مرنے پر کیوں آئے
ہمت نہیں تھی کسی کی یہ سوال بھی پوچھنے کی
“ابو خواب میں آکر ڈانٹ رہے تھے بار بار کہتے رہے اسکا پتہ کرو خبر لو۔۔۔ کچھ دن پہلے پھر وہی خواب آیا۔۔۔میں نے بھی غصے سے کہا آپ کے بھی تو پاس سے وداع ہوئی تھی آپ نے پوچھا حال۔۔۔
کہنے لگے وہ میرا اور میری بیٹی کا مسئلہ ہے۔۔۔ تم بھائی ہو۔۔۔”
حماد نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔
ایاز نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا مگر وہ خاموش نہیں ہوا تھا
“ابو نے عروشمہ کو بہت پیار کیا اتنا لاڈ کرتے تھے کہ صبح کا ناشتہ نہیں کرتے تھے۔۔۔
آخری لمحات میں۔۔۔ انکی وصیت تھی عروشمہ کو انکا منہ نہ دیکھایا جائے۔۔۔ سب کو یہی لگتا تھا ابو کی نفرت بہت زیادہ ہے اپنی بیٹی سے۔۔۔
مگر میں جانتا تھا ابو جانے کے بعد بھی اسے اپنی جدائی کا دکھ نہیں دینا چاہتے ان سے برداشت نہیں ہوگا۔۔۔ ابو چلے گئے۔۔۔پھر امی چلی گئی۔۔۔ میں دعا کرتا تھا عروشمہ میرے سامنے آئے اور میں اسے مار دوں۔۔۔۔
ہمارا گھر اجڑ گیا گھر کی بیٹی کی ایک غلطی کی وجہ سے۔۔۔ میں دیکھنا نہیں چاہتا تھا
مگر پھر۔۔۔ ابو نے کہنا شروع کردیا جاؤ پتہ کرو۔۔۔کہتے ہیں بھائی بھائی نہیں باپ کی جگہ ہوتا ہے بہنوں کے۔۔۔ کہتے ہیں ذمہ داری نبھاؤں تو بیٹی سمجھ کر۔۔۔”
روتے ہوئے چہرہ چھپا لیا تھا اس نے سائرہ کی بھی وہی حالت تھی۔۔۔۔
“میں آتا نہ تو کیا کرتا۔۔۔؟؟ میں نے ماں باپ کو کھو دیا ہے۔۔۔ میں نہیں چاہتا میری بہن کو منوں مٹی تلے دیکھوں۔۔۔ میں چلا آیا۔۔۔
ابھی سوچ رہا ہوں اگر امی ابو کے ہوتے اسکے ساتھ یہ سب ہوتا تو وہ تو پھر سے مرجاتے نہ۔۔؟؟ ہاتھوں کا چھالا بنا کر رکھا ہوا تھا۔۔۔ میرے ابو نے ہم بہن بھائیوں کو بہت محنت سے پالا۔۔۔ میری امی نے بہت خواب دیکھے تھے ہم سب کےلیے۔۔۔اب وہ زندہ نہیں ہے اپنے بچوں کو دیکھنے کے لیے۔۔۔
باقی تین بہنوں کا خیال نہ ہوتا تو میں بھی ان دونوں کے پاس چلا جاتا۔۔۔ کیونکہ میں انکی زندگی میں ان دونوں کو بتا نہیں سکا کہ وہ تو بیٹیوں سے پیار کرتے رہے مگر میں ان اپنی بہنوں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہوں۔۔۔میں انکے بغیر جی رہا ہوں مگر مرگیا ہے میرے دل کا ایک حصہ انکے ساتھ۔۔۔”
“حماد بھائی۔۔۔”
حماد کو اس قدر ٹوٹا ہوا سائرہ نے ماں باپ کی وفات پر بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔
آج اس نے آپریشن ٹھیٹر کو دیکھ کر اپنی بہن کو بد دعا نہیں دعا دی تھی اسکی زندگی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ بےغیرت انکاؤنٹر میں مارا گیا ہے ۔۔۔اسکے پاس جس کی لائسنس گن تھی اسے بھی پکڑ لیا گیا ہے۔۔۔ اور۔۔۔آپ کے کزن حامد کا نام بھی آیا ہے اور وہ اس وقت پولیس کی حراست میں ہے۔۔۔”
ایاز نے سب کو انفارم کیا تھا اور اسی وقت ڈاکٹر بھی باہر آگئی تھی
“ایم سوری۔۔۔۔”
“پلیز نووو۔۔۔۔”
سائرہ نے آگے بڑھ کر کہا تھا چلائی تھی
“ہم انکے بچے کو نہیں بچا پائے ۔۔۔مس عروشمہ اب سٹیبل ہیں دونوں گولیاں نکلا لی گئی ہیں۔۔۔”
۔
وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“آپ سب لوگ سب گھر جائیں میں اور حماد ہیں یہیں۔۔۔”
ایاز نے سب کو مخاطب کیا تھا۔۔۔زارا حیرانگی سے اپنے ہسبنڈ کو دیکھ رہی تھی جو کل تک اسکی فرینڈز سے عروشمہ سے اتنی نفرت دیکھا رہا تھا آج وہ قدم کے ساتھ قدم ملا کر کھڑا تھا اسکے۔۔۔
“سوہاتم عندلیب اور عریشہ کو گھر ڈرازپ کردینا۔۔۔میں ایاز کے ساتھ یہیں ہوں۔۔۔”
“نہیں تم جاؤ ایاز بھائی،، ہادی بھی گھر میں آپ دونوں جائیں اور۔۔۔۔”
۔
وہ سب میں بحث ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔کوئی بھی اس سے ملے بغیر نہیں جانا چاہتا تھا۔۔۔
مگر سوہا نے سب کو بھیج دیا تھا وہ سائرہ اور حماد وہیں موجود تھے۔۔۔۔
خاموشی کے ساتھ وہ تینوں کے ساتھ بیٹھ گئے تھے۔۔۔
“حماد بھائی۔۔۔وہ بدکردار نہیں تھی۔۔۔اسکے ساتھ جو ہوا۔۔۔وہ بہت غلط ہوا۔۔۔”
حماد نے آہستہ سے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر سوہا کو دیکھا تھا اور پھر اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر مخاطب کیا تھا
“میں جانتا ہوں میری بہن بدکردار نہیں۔۔۔ مگر اس نے بدکرداری کے داغ سے خود کو نواز دیا تھا جب وہ کسی نامحرم کسی نامرد سے باہر ملنے گئی تھی۔۔۔
اگر وہ لڑکی گھر کی چوکھٹ تک آتا تو اسے اسی وقت جان سے مار دیتا۔۔۔اور اسے بھی پتہ تھا اسکا انجام کیا ہوگا وہ گھر تک نہیں آیا۔۔۔ گھر کی عزت چل کر گئی تھی باہر۔۔۔
میں بھی مرد ہوں کیا میں نہیں جانتا باہر کی دنیا کے مردوں کو۔۔؟؟ ہم جانتے ہیں تب ہی بہن بیٹیوں کو ایک حدود میں بند کردیتے ہیں۔۔۔
اور جن بہنوں کو نہیں کیا جاتا نہ انہیں باہر کے مرد نیا روپ دیکھا دیتے ہیں ہماری مرد ذات کا۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عروشمہ۔۔۔سنبھالو خود کو۔۔۔عروشمہ۔۔۔”
وہ ہاتھ پاؤں ماری جارہی تھی دونوں نرس اور سوہا سے سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا اسے۔۔۔
حماد اور سائرہ ابھی بھی باہر تھے اندر نہیں آئے تھے۔۔۔
“عروشمہ۔۔۔۔”
عاصم کو دروازے پر دیکھ کر۔۔۔عروشمہ نے چیزیں پھینکنا بند کردیا تھا
“عاصم۔۔۔۔”
اس نے روتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔ وہ صبح سے پاگل ہورہی تھی جب سے اسے اسکے بچے کا پتہ چلا تھا۔۔۔
عاصم نے اپنا چہرہ صاف کرکے عروشمہ کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔
“ہم باہر ہیں۔۔۔”
سوہا دونوں نرس کو باہر جانے کا اشارہ کرچکی تھی اور جب وہ خود دروازے تک پہنچی تھی عاصم کے کہے الفاظ نے سوہا کے قدموں تلے زمین کھینچ لی تھی
“عروشمہ۔۔۔میں تمہیں ایک اور موقع دینا چاہتا تھا ہمارے رشتے کو ایک اور موقع دینا چاہتا تھا۔۔۔
مگر تم نے مجھے بتا دیا کہ تم اس قابل نہیں ہو۔۔۔ تم جان بوجھ کر اپنے اس عاشق سے ملنے گئی تھی۔۔۔ اور میرے بچے کو بھی مار دیا۔۔۔اپنے بچے کو تو تم پھینک چکی تھی اب میرے بچے کو بھی مار دیا۔۔۔
عروشمہ کوئی کاغذ نہیں آج ابھی میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔ پھر کبھی تمہاری شکل نہیں دیکھوں گا۔۔۔تم کسی محبت کسی عزت کسی رشتے کے قابل نہیں ہو۔۔۔۔”
عاصم پیچھے جھٹک کر اسکا ہاتھ چلا گیا تھا جو وہیں اس جگہ کو اس چہرے کو تکتی رہ گئی تھی۔۔۔۔
“میں کیوں ہوں زندہ۔۔۔کوئی حق نہیں میرا جینے کا۔۔۔”
وہ اٹھ کر زمین پر پڑے کانچ کے اس ٹکرے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
“نوو عروشمہ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔”
سوہا نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لئیے تھے۔۔۔
“مجھے نہیں جینا سوہا۔۔۔میری بس ہوگئی ہے۔۔۔ اللہ کی قسم میری بس ہوگئی ہے۔۔۔ میں آنکھیں بند کرنا چاہتی ہوں۔۔۔یا اللہ اب میں اس درد سے نجات چاہتی ہوں۔۔۔ اس گناہ نے جو مجھ سے نادانی میں سرزرد ہوا مجھے اللہ تیرے بندوں خدا بن کر جتنی سزا دینی تھی دہ دی اب میری بس ہوگئی ہے۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی تھی مگر سوہا نے اسکے ہاتھ نہیں چھوڑے تھے اسکی گرفت زرا سی بھی کم ہوتی اسے پتہ تھا عروشمہ نے وہ کانچ سے خود کو زخمی کرلینا تھا
“تمہارے گناہوں کا معاملہ تمہارا اور تمہارے رب کا ہے عروشمہ خود کشی کرو گی تو قیامت تک عذاب ملے گا تمہیں بخشش نہیں ہوگی اللہ کی ناراضگی نہ لینا۔۔۔ اپنے رب کو ناراض مت کرنا۔۔۔ تم دنیا سے معاشرے کے لوگوں سے ہار نہیں مانوں گی۔۔۔
تم جی کر دیکھاؤ گی ایک اچھی زندگی۔۔۔”
“میرے پاس کچھ نہیں رہا سوہا۔۔۔ہاتھ خالی ہیں میں خالی ہوں ۔۔کوئی نہیں ہے۔۔۔” سوہا نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا تھا
“اللہ ہے نہ شارگ سے بھی زیادہ قریب اللہ ہے عروشمہ۔۔۔۔ تمہیں جینا ہے۔۔۔
معاشرے کو جی کر دیکھانا ہے۔۔۔۔”
۔
۔