Yaariyan by Sidra Sheikh readelle50013 Episode 07
Rate this Novel
Episode 07
“عروشمہ۔۔۔بیٹا مولوی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں جواب دو۔۔۔”
پھوپھو نےعروشمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
عروشمہ ان اپنوں میں وہ دو چہروں کو ڈھونڈ رہی تھی جو اسکی کُل کائنات تھے
اس کے ماں باپ۔۔۔اور وہ دونوں ہی نہیں تھے وہاں اس وقت۔۔۔سب رشتے دار تھے کزنز تھے بہنیں تھیں۔۔۔حماد بھائی بھی دروازے پر کھڑے تھے
پر ماں باپ نہیں تھے۔۔۔
عروشمہ کے لیے وہ دو لفظ بولنا اتنے ہی مشکل ہوئے تھے جیسا سانس لینا۔۔۔
“عروشمہ بیٹا۔۔۔”
“عروشمہ۔۔۔”
“سائرہ باجی۔۔۔امی ابو۔۔۔؟؟”
عروشمہ نے آہستہ آواز میں پوچھا تھا
“وہ یہیں ہیں عروشمہ پلیز یہ لفظ بولو اور جاؤ ہماری زندگیوں سے۔۔۔”
دوسری بہن نے مسکراتے ہوئے بہت ہلکی آواز میں کہا تھا وہ ہنستے ہوئے چہرے کو سب دیکھ رہے تھے پر ان لبوں سے ادا ہوئے الفاظ نے عروشمہ کی وہ خواہش بھی مار دی تھی
“قبول ہے۔۔۔”
۔
“بہت بہت مبارک ہو نگہت ماشاللہ بہت خوبصورت بہو ہے تمہاری۔۔۔”
“رخصتی کا وقت ہوگیا ہے چلیں بھابھی۔۔۔؟؟ بھائی باہر بےصبرے ہورہے ہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔”
ایک شور تھا وہاں خوشیاں تھی اس چھوٹے سے گھر میں کم رشتے داروں میں بھی جشن کا سما تھا
پر اندر دلوں میں ایک ہلچل برپا تھا اس گھر کے لوگوں کی۔۔
وہ جانا نہیں چاہتی تھی اور گھر میں اسے کوئی رکھنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
جب اس کمرے سے پھوپھو اور نوشین باقی لوگوں کے ساتھ اسے باہر لیکر گئی تو اسکی نظریں صرف اس شخص پر تھی جو ہاتھ کی مٹھی بند کئیے دورسری طرف منہ پھیرا وہاں تنہا کھڑا تھا۔۔۔
وہ شخص جسے اس عمر میں اس نے رسوا کردیا تھا
وہ شخص جس نے آنکھ بند کرکے یقین کیا تھا
وہ شخص جو محنت کرتا رہا کہ بیٹیوں کو اچھی تعلیم دلوا سکے اور بیٹی نے اس شخص کا سر شرم سے جھکا دیا۔۔۔۔
وہ شخص۔۔۔ وہ مظلوم باپ۔۔۔۔
۔
“انگلی پکڑ کر تو نے چلنا سیکھایا تھا نہ۔۔
دہلیز اونچی ہے یہ پار کرا دے
بابا میں تیری ملکہ۔۔ ٹکڑا ہوں تیرے دل کا۔۔
اک بار پھر سے دہلیز پار کرا دے۔۔۔۔”
۔
“عروشمہ۔۔۔۔عروشمہ۔۔۔۔ ہم پہنچ گئے ہے پلین لینڈ کرگیا ہے۔۔۔۔”
عاصم کی آواز پر اسکی بند آنکھیں کھلی تھی۔۔۔
“چلیں۔۔۔؟؟”
عاصم نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔اور وہ ہاتھ رکھ کر وہاں سے نیچے اتری تھی پر دھیان وہیں تھا پاکستان میں۔۔۔
جہاں سب کے سامنے تو ماں باپ نے اسے پیار دیا تھا پر وہ پیار سے رخصت نہیں کیا تھا جیسے ماں باپ کرتے ہیں۔۔۔
“فصلیں تو کاٹی جائیں اگتی نہیں ہیں۔۔۔
بیٹیاں جو بیاہی جائیں مُڑتی نہیں ہیں۔۔۔”
۔
اور پھر وہی ہوا تھا پاکستان سے رسمی فون جاتا تو تھا دبئی پر عروشمہ کے لیے نہیں۔۔
بس ایک دیکھاوا دیکھانے کے لیے تاکہ کسی کو کبھی کوئی شک نہ ہو۔۔۔۔
۔
نگہت بیگم نے اپنی محبت سے عروشمہ کی زندگی میں وہ کمی پوری کرنے کی کوشش ضرور کی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عروشمہ بھابھی مجھے جانے دیں پلیز میں جلدی آجاؤں گی۔۔۔”
“نہیں نوشین۔۔۔ عاصم اگر دوپہر میں گھر آگئے تو پہلے تمہارا پوچھیں گے۔۔
اور یہ کونسی دوست کے گھر جانا ہے تمہیں۔۔۔؟؟”
“عروشمہ بھابھی میں آپ میری ہر دوست کو نہیں جانتی۔۔۔”
نوشین نے موبائل پر سے نظر ہٹا کر جواب دیا تھا جس ہر عروشمہ کا ہلکا سا شک ہوا۔۔
“اوکے اگر اس مال کے پاس ہی دوست سے مل رہی ہو تو مجھے بھی ساتھ لے چلو میں نے بھی شاپنگ کرنی ہے۔۔۔”
عروشمہ بیڈ سے اٹھی تھی اور کپبرڈ سے اپنا ڈریس نکال لائی تھی
“سیریسلی۔۔؟؟ عروشمہ بھابھی۔۔۔ آپ آج اتنی ضد کیوں کررہی ہیں۔۔؟؟
بس آپ نے امی سے کوئی بہانہ لگانا ہےاور،،”
“ایک بہانہ کس دلدل میں پہنچا دیتا تم نہیں جانتی۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی
“کیا کہا آپ نے۔۔؟؟ کونسی دلدل۔۔۔؟؟”
“مجھے پانچ منٹ دو میں بس تیار ہوکر آئی۔۔۔”
“پر بھابھی۔۔۔”
“عروشمہ جیسے ہی باتھروم میں گئی تھی نوشین نے کال ملائی تھی اپنی اسی دوست کو
“اب کیا کروں بھابھی بھی ساتھ آرہی ہیں۔۔ انکار کیا تو شک ہوگا زوہیب۔۔”
“ہاہاہا بھابھی کو بھی ساتھ لے آؤ۔۔ انہیں بتا دیں گے ساتھ۔۔۔وہ بھی ہمارا ساتھ دیں گی ڈونٹ ورری۔۔۔”
۔
“پکا نہ۔۔؟؟ اگر وہ ناراض ہوگئی یا بھائی کو بتا دیا تو۔۔؟؟”
“نہیں بتائیں گی ۔۔۔ تم ایک بار لے کر تو آؤ۔۔۔ ایسے معاملات میں بھابھی ساتھ دیتی ہے نند کا کیونکہ اپنا گھر بھی تو سیدھا رکھنا ہوتا ہے نہ۔۔۔؟؟ ہاہاہا لیکر آؤ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سلام۔۔۔عروشمہ۔۔۔بھابھی۔۔۔”
“یہ کون ہے۔۔؟؟”
عروشمہ نے سلام کا جواب بھی نہیں دیا تھا اور غصے سے نوشین کو دیکھا تھا
“بھابھی۔۔۔وہ میں۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند۔۔۔”
“ایک اور لفظ نہیں نوشین۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا تمہاری دوست نہیں کوئی بوائے فرینڈ ہوگا۔۔۔ابھی گھر چلو۔۔۔”
“ہیے مس ریلیکس۔۔۔”
اس شخص نے عروشمہ اور نوشین کا راستہ روک لیا تھا۔۔۔اور اسی وقت وہاں سے اپنے بزنس پارٹنر کے ساتھ عاصم کا گزر ہوا تھا۔۔وہ وہاں کچھ دیر کو کھڑا ہوا تھا اور پھر اپنی بیوی اور بہن کے پاس غصے سے بڑھا تھا۔۔
“عاصم۔۔۔۔”
“گھر چلو۔۔۔۔”
“بھائی۔۔بات۔۔۔”
پر عاصم اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑے اسے باہر لے گیا تھا وہاں سے نوشین کو گھورتے ہوئے
“عاصم ہاتھ چھوڑیں تکلیف ہورہی ہے مجھے۔۔۔”
“اور جو تم نے تکلیف دی ہے مجھے اس کا کیا۔۔؟؟ نوشین کو لیکر تم پر سب نے یقین کیا اور تم کیا کررہی ہو۔۔؟؟ اسکی ملاقاتیں کروا رہی ہو۔۔؟؟”
“عاصم۔۔؟ آپ ایسا۔۔۔”
“گھر چل کر بات کریں گے۔۔۔”
نوشین کے گاڑی میں بیٹھتے ہی عاصم نے نے بحث کو فل سٹاپ لگا دیا تھا اور فل سپیڈ میں گاڑی گھما دی تھی گھر کی طرف۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عاصم بھائی وہ میری پسند ہے۔۔ میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں”
“پسند ہے تو اسے عزت کے دائرے میں رکھو محبت ہے تو نکاح کے دائرے میں لاؤ۔۔
پر یہ کیا کہ تم باہر ملاقاتیں کررہی ہو کسی نامحرم سے،،،؟ کیا جواز بنتا ہے۔۔؟”
عاصم نے چھوٹی بہن کو غصے سے کہا تھا
“ملاقاتیں کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔۔ پہلے کبھی ایسا ہوا۔۔؟
کبھی میری کوئی شکایت ملی آپ کو۔۔؟؟ اس بار ایسا ہوا ہے تو بات سمجھیں وہ مجھے پسند ہے۔
اس لیے میں ملنے گئی ہوں اس سے۔۔۔”
“اچھا وہ پسند کرتا ہے تمہیں۔۔؟؟”
عاصم نے بہت آہستہ آواز میں پوچھا تھا
“جی بلکل وہ مجھے پسند کرتا ہے اپنی محبت کا اظہار کرچکا ہے وہ اور۔۔۔”
“اگر وہ لڑکا تمہیں پسند کرتا نہ تو تمہیں ملنے نہ بُلاتا بلکہ اپنے ماں باپ کو گھر بھیجتا ہمارے
نوشین۔۔۔ ایک ملاقات ایک ملاقات کبھی کسی کلاس فیلو سے کلاس میٹ سے ہوجائے نہ جانے انجانے میں بات پسند کی سمجھ بھی آتی ہے۔۔
جن محبتوں میں ملاقاتیں ہوں نہ وہاں بات نکاح تک نہیں آتی بلکہ گھر کی عزت تک آتی ہے۔۔۔”
عاصم کی بات پر بہن تو نہیں لرزی تھی۔۔پر پیچھے کھڑی وہ بیوی ضرور لرز گئی تھی
اسکے ہاتھوں کے رونگتے کھڑے ہوگئے ان اس شخص کی کہی سچی بات پر
“موم ڈیڈ آپ سمجھائیں۔۔۔”
حماد صاحب نے اپنی بیٹی کو طیش سے دیکھا تھا جبکہ نگہت بیگم نے بڑھ کر عاصم کو مخاطب کیا تھا
“عاصم وہ لڑکا اگر شادی کرنا چاہتا ہے ہماری نوشین سے تو کیا بُرائی ہے۔۔؟؟”
“امی بات شادی کرنے میں نہیں ہے۔۔ ہم کل ہی شادی کروا دیں اس کہیں بلائے اسے۔۔۔”
“وہ کیسے آئے گا۔۔؟؟ اس نے وقت مانگا ہے۔۔ ابھی وہ ڈگری حاصل کررہا ہے۔۔
کیرئیر بنانا چاہتا ہے وہ۔۔ ابھی وہ کیوں رشتہ بھیجے گا بھلا۔۔ اور کس لیے۔۔؟؟”
۔
“تم لڑکیاں بھی عجیب ہو۔۔ تم میری چھوٹی بہن ہو۔۔۔تم نے غور نہیں کیا۔۔۔؟؟
وہ مرد ہوکر پہلے اپنےبارے میں سوچ رہا ہے اپنی تعلیم اپنے سٹیٹس کے بارے میں سوچ رہا ہے۔۔۔
پر تم جسے اس نے اپنی عزت بنانا ہے بیاہ کرنا ہے اس نے ایک بار منع نہیں کیا تمہیں کسی بھی جگہ بُلاتے ہوئے۔۔؟ ایک بار نہیں کہا کہ نوشین اگر میں اپنے بارے میں سوچ رہا ہوں تو تم میری عزت ہو۔۔۔مجھے ایسے چھپ چھپا کر ملنے مت آیا کرو۔۔۔
کبھی کہا اس نے نوشین۔۔۔؟؟”
بہن کی نظریں ایک دم سے جھک گئیں تھیں۔۔۔
“بھائی ۔۔۔”
“ایک منٹ ۔۔شادی سے پہلے ملاقاتیں تو کررہی ہو کل کو اس سے شادی نہ ہوئی تو اپنے شوہر کو کیا جواب دو گی اگر اسے پتہ چل گیا تو۔۔۔؟
اپنے رب کو کیا جواب دو گی۔۔؟؟ ہمیں کیا جواب دیتی تم۔۔؟؟
بیٹی ہی نہیں بہن بھی ہو تم۔۔۔ آج ملنے جارہی ہو تو یہ سوچ کر جانا کہ اسکا تمہیں جواب نہ دینا پڑ جائے۔۔۔
کیونکہ میں بتا دوں جس دن تم رشتوں کے کٹہرے میں آگئی تو اس جگہ تم اکیلی کھڑی ہوگی۔۔۔
وہ جو باہر ملنے کو بلاتے ہیں۔۔۔ وہ ایسی لڑکیوں کو گھر کی دہلیز کے باہر رکھتے ہیں۔۔۔
لاکھوں میں سے کوئی ایک شخص مخلص ہوتا ہے بیٹا۔۔۔
اور وہ شخص بھی ایک ملاقات کے بعد کہہ دیتا ہے کہ تم میری عزت ہو میرے بلانے پر بھی نہ آنا۔۔۔”
“بھائی۔۔۔فار گاڈ سیک۔۔۔پبلک میٹنگ تھی وہ۔۔۔ عروشمہ بھابھی آپ ہی سمجھائیں آپ بھی تو یونیورسٹی لائف میں یہ سب دیکھ چکی ہوں گی کر چکی ہوں۔۔۔”
“اننف نوشین۔۔۔”
عاصم کے چہرے پر غصے کی شدت اتنی تھی کہ وہاں سب حیران رہ گئے تھے
“عروشمہ میری عزت ہے۔۔۔ تم جانتی ہو عروشمہ مجھے کیوں پسند تھی۔۔؟ کیونکہ اسکی نظروں میں ہمیشہ شرم و حیا دیکھی میں نے۔۔۔
وہ لڑکی شادی سے پہلے ایک نظر تک نہیں ملاتی تھی مجھ سے۔۔۔ حتی کہ کزن تھا میں۔۔۔
اور میں۔۔۔نظر اٹھا نہیں پاتا تھا اسے دیکھ کر۔۔۔
مجھے پتہ تھا میری شریک حیات عروشمہ ہی ہوگی۔۔۔ کیونکہ میں پرکھ چکا تھا اسکے کردار کو۔۔۔”
۔
عاصم وہاں سے چلاگیا تھا۔۔۔اور کچھ سیکنڈ لگے تھے عروشمہ کو واپس سانس لینے میں۔۔۔
شرمندہ نظریں اٹھائیں تو اسکے آنسو چھلک گئے تھے نگہت بیگم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سنبھالا تھا ۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پارسا۔۔۔۔پارسا۔۔۔۔”
“کبھی پارسا کے ڈیڈی کو بھی ایسے پیار سے پُکار لیا کرو بیگم۔۔۔”
“بیگم سیریسلی زید۔۔؟؟ پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔”
“پارسا۔۔۔۔”
سوہا نے زید کو پیچھے کردیا تھا جب پارسا کو اپنی خالہ ساس کے پاس دیکھا تھا ہنستے ہوئے
“خالہ آپ نے تکلیف کی میری آنکھ کھل گئی تھی۔۔۔”
“تم نے یونیورسٹی بھی تو جانا تھا بیٹا۔۔۔میں نے دودھ پیلا دیا ہے ہماری پارسا کو اب بھوک نہیں لگ رہی۔۔۔ ہی نہ پری۔۔؟؟”
پارسا کی بیلی میں جیسے ہی گدگدی کی تھی وہاں اسکے قہقوں کی آواز گونجی تھی
“کم میں ڈراپ کردیتا ہوں۔۔۔”
“نہیں میں چلی جاؤں گی۔۔۔مجھے ڈرائیو کرنا آتی ہے۔۔”
پارسا کو گود میں اٹھائے وہ واپس کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔
“موم یہ آپ کی بھانجی کبھی میری طرف دیکھے گی بھی یا نہیں۔۔۔؟؟ تین سال ہوگئے ہماری شادی کو شوہر کا درجہ دینا تو دور کی بات ہے یہ دیکھنا بھی گنوارا نہیں کرتی۔۔۔”
“بیٹا سوہا کو وقت دو وہ تمہیں موقع ضرور دے گی۔۔۔ اور ویسے بھی جو اسکے ماں باپ نے اسکے ساتھ کیا وہ بھی غصہ ہے۔۔۔”
“پر اس میں میری کیا غلطی ہے۔۔؟؟ میں تو ہر قدم اسکے ساتھ کھڑا رہا ہوں نہ۔۔؟؟
پارسا کی موجودگی ہماری زندگی میں اس بات کا ثبوت ہے۔۔۔”
زید اپنے روم میں جانے کے بجائے سوہا کے کمرے میں گیا تھا اور دروازہ بند کردیا تھا
“یہ کیا بدتمیزی ہے زید۔۔۔ مجھے چینج کرکے یونی جانا ہے باہر جاؤ۔۔۔”
“تم کبھی مجھے اور اس رشتے کو اپناؤ گی بھی یا نہیں سوہا۔۔؟؟”
“اپنانا کس لیے ہے۔۔؟؟ تمہیں کیا چاہیے۔۔؟ تم چاہتے تھے مجھ سے شادی ہو تمہارا بھی مطلب پورا ہوگیا۔۔۔اور جو پیپرز پر مجھے سائن چاہیے تھے پارسا کے آڈوپشن کے لیے وہ بھی پورا ہوگیا سو۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔یا تم بھی باقی مردوں کی طرح شادی ہی فزیکلی ریلیشن شپ کے لیے کرنا چاہتے تھے۔۔؟؟”
“فزیکل ریلیشن شپ۔۔؟؟ وہ میرا حق ہے سوہا۔۔۔پر میں نے ابھی مطالبہ اس حق کا نہیں کیا۔۔۔تم ابھی بھی مجھے ان مردوں میں شمار کررہی ہو جو جسم کی خواہش رکھتے ہیں۔۔۔
میں ایس رشتہ نہیں مانگ رہا ۔۔۔”
سوہا باتھروم سے واپس آگئی تھی اور اپنا پرس اور پارسا کو گود میں اٹھائے باہر جانے لگی تھی جب زید نے اسکا بازو پکڑ لیا تھا
“میں محرم ہوں تمہارا کبھی دھوکا نہیں دوں گا تمہیں تین سال میں اتنا تو سمجھ گئی ہوگی مجھے۔۔۔
تمہاری دوست کے ساتھ جو ہوا وہ غلط تھا۔۔پر اس ایک گھٹیا مرد کی وجہ سے تم ہر ایک کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتی یہ بھی غلط ہے۔۔۔
میں تم سے پر طرح کا تعلق چاہتا ہوں۔۔۔ سب کے سامنے دوست ہمراز ایک دوسرے کے خیرا خواہ۔۔۔اور بند کمروں میں میاں بیوی۔۔۔
اگر تم مجھے ایک مکمل رشتہ نہیں دے سکتی تو مجھے بتا دو میں دوسری شادی کرلوں تاکہ تمہیں بھی کوئی ایشو نہ ہو اور میری زندگی بھی انتظار میں نہ گزرے۔۔۔”
زید روم سے چلا گیا تھا اسکے بعد۔،،،
“تمہیں کرنی ہے تو کرلو دوسری شادی۔۔۔ مگر مجھے ڈائیورس دینے کے بعد کسی اور کو اس گھر میں لانا۔۔۔”
سوہا کی غصے سے بھری ہوئی آواز اس تک ہی نہیں گھر میں موجود ہر ایک شخص کو سنائی دی تھی جو ہنس رہے تھے اسکی جیلسی پر۔۔۔
پہلی بار سوہا نے اس رشتے پر ایسے ری ایکٹ کیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عاصم۔۔۔مجھے بتا دیں میں کس کی قسم کھا کر کہوں کے اس لڑکے کا پتہ مجھے وہاں جا کر چلا تھا۔۔؟ میں نوشین کے ساتھ گئی ہی اس لیے تھی کیونکہ مجھے بھی شک ہوا تھا۔۔”
۔
“تم مجھے فون کردیتی وہاں سے واپس آجاتی۔۔۔”
عاصم شرٹ کی آستین چڑھائے کمرے میں کسی شیر کی طرح گھوم رہا تھا جس پر عروشمہ بہت زیادہ ڈر رہی تھی
“میں۔۔میں واپس ہی آرہی تھی کہ آپ آگئے۔۔۔”
“اففف رونا بند کرو عروشمہ۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے بیڈ پر عروشمہ کے پاس آکر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“آپ۔۔۔مجھ پر شک کررہے ہیں۔۔میں۔۔اسکی ملاقات کسی نا محرم سے نہیں کروانے گئی تھی عاصم۔۔۔”
“جانتا ہوں میری جان۔۔۔ مجھے تم پر پورا یقین ہے۔۔پر مجھے باہر کے مردوں پر یقین نہیں ہے۔۔
ہمارا ماحول بہت آزاد ہے پر اسکا مطلب یہ نہیں کہ لڑکیوں کو اتنی آزادی دی جائے کہ وہ باہر ایسے گھومتی پھیریں۔۔۔”
“عاصم۔۔۔”
“مجھے اب یہ مت کہنا کہ اس لڑکے سے مل لوں میں۔۔کیونکہ میں نہیں ملوں گا۔۔۔
میرے لیے ابھی نوشین کے آنسو برداشت کے قابل ہوں گے۔۔۔پر جب کل کو وہ لڑکا ملنے نہ آیا یا شادی سے ہی انکار کردیا وقت کا بہانہ لگا کر تو میں کیا کروں گا۔۔؟؟”
“میں۔۔میں نے آپ کو ملنے کا نہیں کہنا تھا عاصم۔۔۔آپ جو بھی کریں میں اس میں مداخلت نہیں کروں گی۔۔۔ مجھے بھی نوشین کی خوشی چاہیے عاصم۔۔۔”
“میں محبت کے خلاف نہیں ہوں عروشمہ۔۔۔ محبت کا ڈھنگ رچا کر عزتیں پامال کرنے والے لوگوں کے خلاف ہوں۔۔۔ مجھے نامحرم کے رشتے کبھی ایک نظر نہیں بھائے۔۔
اسی لیے تو نظر جھکا کر چلتا رہا کیونکہ میں اپنی بیوی ایسی ہی چاہتا تھا۔۔۔
اور دیکھو اللہ نے میری دعا سن لی۔۔۔”
عروش کے ماتھے پر بوسہ دیا تو عروشمہ کو اپنا ماضی عاصم کی نگاہوں میں گھومتا ہوا نظر آیا
آنکھیں بند کرکے اپنا سر عاصم کے کندھے پر رکھ لیا تھا اس نے ۔۔۔
ان تین سالوں میں اسے وہ زندگی اپنے سسرال میں ملی تھی جو ہر ایک لڑکی کی خواہش ہوتی ہے۔۔۔
عزت دینے والے ساس سسر
محبت کرنے والا شوہر۔۔۔ ہر ایک چیز پرفیکٹ تھی ہر دن خوشنما خواب تھا
عیش عشرت اپنی جگہ جو اسے ان تین لوگوں سے پیار مل رہا تھا وہ پیار عروشمہ کو ماضی بھلانے پر مجبور کررہا تھا۔۔۔
پر اسے پتہ نہیں تھا کہ اس نے جو گناہ اس نے ماضی میں کیا وہ کیسے اسکا مستقبل خراب کردے گا۔۔۔
ایک سیلاب ماضی کا بھی آئے گا جو سب بہا لے جائے گا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ ہر روز آپ کی شرٹ کا بٹن ہی کیوں ٹوٹ جاتا ہے عاصم۔۔۔؟؟ نیکسٹ ٹآئم میں شاپنگ کروں گی۔۔پتہ نہیں کہاں سے خرید لاتے ہیں آپ یہ شرٹس۔۔۔”
بٹن لگاتے ہوئے اس نے بہت معصومیت سے پوچھا تھا جس پر عاصم نے کوئی جواب نہ دیا بس اپنی ہنسی چھپا رہا تھا
“شاید میری شرٹ کے بٹن بھی چاہتے ہیں تمہیں اپنے کلوز لانے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔۔۔
ورنہ صبح ہوتے ہی تم کچن اور پھر گھر کے دوسرے کاموں میں لگ جاتی ہو۔۔۔”
“اچھا جی۔۔؟؟
صبح سے ابھی تک تو بیڈروم میں ہی ہوں میں آپ کے ساتھ۔۔۔ ایسے نہ کیا کریں۔۔۔”
عروشمہ سوئی دھاگا واپس رکھنے جارہی تھی جب عاصم نے بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“کیسے نہ کیا کروں۔۔۔؟؟ بیگم شرماتے ہوئے کچھ زیادہ خوبصورت نہیں لگتی۔۔؟؟”
“نہیں بلکل نہیں۔۔اب جائیں لیٹ ناشتہ کرکے جانے دوں گی آج آپ کو۔۔۔”
“نہیں آج لیٹ ہوجاؤں گا۔۔۔اچھا سنو۔۔۔ میں پاکستان جا رہا ہوں ایک ضروری میٹنگ کے لیے۔۔۔ تم ساتھ چلو گی۔۔؟؟ ایک بار بھی نہیں گئی۔۔۔؟”
عروشمہ کے ہاتھ سے وہ باکس نیچے گر گیا تھا
“نی۔نہیں۔۔ اور کیا آپ کی جگہ کوئی اور نہیں جا سکتا عاصم۔۔؟؟ کتنے دن کے لیے جارہے ہیں۔۔؟؟”
ایک ڈر بیٹھ گیا تھا دل میں اور آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔
سامنے کھڑا شخص کُل کائنات بن چکا تھا عروشمہ کی۔۔۔ سب کچھ کھو دیا تھا اس نے۔۔۔
یہ شخص یہ فیملی کھو دینا وہ آفورڈ نہیں کرسکتی تھی۔۔۔
۔
“عروشمہ۔۔۔رو کیوں رہی ہو ساتھ چلو نہ میرے۔۔۔پلیز۔۔۔ ایک دو دن مجھے لگ جائیں گے۔۔
اگر تم چلو گی تو ایک ہفتہ رہ لیں گے۔۔۔”
“نہیں۔۔۔”
بےساختہ بولی تھی وہ اور اٹھ گئی تھی وہاں سے
“عروشمہ۔۔۔”
“ناشتہ کرنے کے لیے باہر آجائیے گا آپ۔۔۔”
وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے۔۔۔آخر۔۔۔۔واپس آکر بات کروں گا ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مامو کیا بات ہے آپ عروشمہ کے بارے میں زیادہ نہیں پوچھ رہے کیا ناراض ہیں بیٹی سے۔۔۔؟؟ہاہاہا ۔۔وہ وہاں جا کر بھول گئی ہے آپ سب کو وہ بھی بہت کم یاد کرتی ہے۔۔”
عاصم نے کھانا کھاتے ہوئے مذاق میں بات کہی تھی باقی سب نے کھانا جیسے چھوڑ دیا تھا اس وقت۔۔۔
“نہیں۔۔۔ نہیں بیٹا۔۔۔ ہاشم کو عروشمہ بہت یاد آتی ہے اس لیے تو ہم سب ہاشم کے سامنے زیادہ پوچھ نہیں رہے بہت مشکل سے عادت ڈالی ہے اسکے بغیر رہنے کی۔۔”
ممانی کی بات سن کر عاصم مطمئن تو ہوگیا تھا پر وہاں کے ماحول میں کچھ تو الگ بات تھی
سب کا رویہ کچھ تو الگ تھا۔۔۔ جب بھی عروشمہ کا نام آتا تھا
عاصم نے ان تین سالوں میں یہ بات نوٹ کی تھی۔۔۔
“عاصم بیٹا ابھی کچھ دن رہو گے یا چلے جاؤ گے۔۔؟؟”
“نہیں مامو میری میٹنگ تو آج ہی ختم ہوگئی تھی اور ڈیل بھی ہمیں مل گئی ہے۔۔
میں بس افتخار مامو کو ملنے جاؤں گا۔۔۔”
“بیٹا تمہارا وہاں جانا ضروری ہے۔۔؟ میرا مطلب ہے کہ۔۔۔ تم جانتے ہو تمہاری ممانی عروشمہ کو یا ہمیں اتنا پسند نہیں کرتی کہیں کچھ الٹا سیدھا۔۔۔”
“ہاہاہاہ۔۔۔۔ تین سال پہلے شاید میں انکی الٹی سیدھی باتیں سن کر سچ مان بھی لیتا۔۔
پر اب وہ میری بیوی ہے ۔۔۔ میں اس سے اتنا خوش ہوں ہماری شادی شدہ زندگی اتنی خوشحال جا رہی ہے کہ کہیں کسی غلط فہمی کی کوئی جگہ نہیں۔۔۔ میں نے اسے دیکھا ہے پرکھا ہے اور ہمیشہ ایماندار پایا ہمارے رشتے کو لیکر۔۔۔”
عاصم تو جوں بتانا شروع ہوا تھا عروشمہ کی تعریفیں وہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔
عروشمہ کے گھر والے آبدیدہ ہوگئے تھے۔۔۔ ابھی بھی عروشمہ کی یاد آنے پر وہ اسے کوستے تھے
وہ عروشمہ کی زندگی کی ہر خوشی ساتھ منانا چاہتے تھے پر انکی بیٹی نے سب برباد کردیا۔۔۔
۔
“اچھا ممانی اب میں سونے چلتا ہوں آپ کی بیٹی کو فون بھی کرنا ہے ورنہ ناراض ہوگئی تو بہت مشکل سے مانتی ہے۔۔۔”
عاصم تو گیسٹ روم میں چلا گیا تھا۔۔۔
پیچھے ڈھیڑ ساری یادیں چھوڑ گیا تھا اس بیٹی کی جس کا نام تین سال بعد لیا گیا تھا اس گھر میں۔۔
“ہاشم۔۔۔ابھی اپنے بھائیوں کو فون کریں اور انہیں کہیں کہ اگر کسی نے کوئی بھی ایسی بات کہی تو۔۔۔”
“تو کیا بیگم۔۔۔؟؟ لوگ کہتے ہیں ان کا منہ نہیں پکڑ سکتے۔۔۔ اب میں فکر مند نہیں ہوں۔۔۔
اسکی بدکرداری کے سارے ثبوت اس بدنصیب باپ نے خود مٹائے ہیں۔۔۔
ہاں دماغ کی تسلی کے لیے فون ضرور کردوں گا۔۔۔یہ بھی کرلوں گا۔۔۔
میرے لیے یہ مرنے کا مقام ہے اپنے چھوٹے بھائیوں کو فون کرنا۔۔۔
جب بیٹی نے جگ ہنسائی کروائی دی تو اب کیا پردہ رہ گیا۔۔؟؟”
۔
کھانے کی میز صاف کرتے کرتے چھوٹی بہن نے والدہ کو اداس نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔
آج اسکے دل سے ایک بار پھر بڑی بہن کے بددعا نکلی تھی۔۔۔
وہ بد دعا کہ جس طرح اس نے ماں باپ کی بہن بھائیوں کی زندگیوں برباد کرڈالی اللہ اسے بھی غارت کرے اسے بھی سزا دے جیسے وہ سب ہیں۔۔۔
پر وہ لوگ نہیں جانتے تھے قبولیت کا بھی ایک وقت ہوتا ہے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں تمہیں طلاق۔۔۔”
“خدا کا واسطہ ہے عاصم۔۔۔ ایسا ظلم مت کریں۔۔۔مجھ پر ایک اور قیامت مت گرائیں اس بار زندہ نہیں رہ پاؤں گی مر جاؤں گی۔۔۔”
وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے عاصم کے پاؤں پہ گر گئی تھی جو پتھر بنا کھڑا تھا اپنی جگہ۔۔
“ظلم تو تم نے اپنے ساتھ کیا ہے۔۔۔ کسی انجان کو تم نے تحفے میں وہ عزت دہ دی جو میری تھی۔۔۔
ظلم تم نے اس بچے کے ساتھ کیا ہے۔۔۔ جسے لاوارث چھوڑ دیا کسی ایدھی کے جھولے میں۔۔۔
ظلم میرے ساتھ کیا ہے تم نے عروشمہ۔۔۔ میں نے شادی شدہ زندگی میں کیا مانگا تھا تم سے۔۔؟؟ مجھے پاکدامن بیوی چاہیے تھی۔۔۔
تم۔۔۔ تم تو کسی۔۔۔”
عاصم سے وہ لفظ ادا نہیں ہوپارہے تھے جو وہ کرچکی تھی نادانی میں۔۔۔
“مجھ سے ہوگیا گناہ۔۔۔ میں ہر سانس لیتی گھڑی میں کوستی ہوں اس لمحے کو عاصم۔۔
میرا خدا جانتا ہے۔۔۔ میں عزت کو گنوا کر یہ کانٹوں بھری خار بھرا لبادہ اوڑھے بیٹھی ہوں
یہ مجھے ڈھانپنے والی چادر نہیں ہے یہ میرے ماضی کے گناہوں کو لپیٹے میرے عیبوں کو چھپائے ہوئے ہے یہ خار دار چادر۔۔۔”
۔
“میں کیوں تمہیں سمجھ نہ سکا۔۔؟؟ کیوں سچائی چھپائی گئی مجھ سے۔۔؟؟
میں تمہیں ڈیزرو نہیں کرتا۔۔۔ میں ایسی لڑکی کو ڈیزرو نہیں کرتا جو کسی اور مرد کو اپنا آپ سونپ چکی ہو۔۔۔ مجھے گھن آرہی ہے عروشمہ۔۔۔ مجھے نفرت ہورہی ہے تم سے اس رشتے سے۔۔
جو کچھ دیر پہلے تک میرے لیے بہت مقدس تھا۔۔۔”
عاصم کے گرتے ہوئے آنسو وہ چھپا نہیں پارہا تھا
“عاصم ایک موقع بس ایک موقع۔۔۔ میں جی نہیں پاؤں گی آپ کے بغیر۔۔۔”
“اور میں تمہارے ساتھ جی نہیں سکتا عروشمہ۔۔۔ تم نے مجھے میری نظروں سے گرا دیا۔۔۔
میرا قصور کیا تھا۔۔۔؟؟ تم پر یقین کیا تمہیں عزت دی۔۔؟؟
میرا قصور کیا تھا عروشمہ۔۔۔؟؟”
وہ جو باپ نے باتیں وہ جو سوال باپ نے پوچھیں تھے آج شوہر نے بھی وہی سوال پوچھ لیا تھا
وہ لڑکی آج ایک نئی موت مر گئی تھی وہ بیوی جو کل تک منظورِ نظر تھی آج وہ باعثِ شرمندی بن گئی تھی اپنے مجازی خدا کے لیے
“مجھے معاف کردیں۔۔۔”
“نہیں کرسکتا۔۔۔ میں یہ سچ بھلا نہیں سکتاکہ تمہارے اس جسم۔۔۔ اس وجاد کو مجھ سے پہلے کوئی چھو چکا ہے۔۔۔
میں نہیں بھلا سکتا۔۔۔ ایک بار نہیں سوچا تم نے۔۔؟؟ کل کو تماری شادی ہوگی جو شوہر ہوگا اسکے سامنے ایسے بےپردہ ہوگی تو کیا ہوگا۔۔؟
کیسے تم کسی نامحرم سے ملتی رہی۔۔؟؟ اتنا یقین تھا کسی غیر مرد پر کہ تم نے اپنی عزت نچھاوڑ کردی۔۔۔؟؟
عروشمہ۔۔۔تم نے مجھے جیتے جی مار دیا ہے۔۔۔”
اپنے پاؤں زبردستی چھڑا کر عاصم کچھ قدم دور ہوا تھا۔۔۔
“مجھے سمجھ نہیں آتی یہ ہر کوئی سچ جاننے کے بعد یہ کیوں بول دیتا ہے کہ میں نے سوچا نہیں۔۔۔
اگر مجھے میری بھیانک محبت کا اصل چہرہ نظر آگیا ہوتا تو شاید میں سوچ لیتی۔۔۔
میں نے نہیں سوچا تھا۔۔۔ میں نے محبت کی تھی یقین کیا تھا۔۔۔
میں نے کسی کا نہیں سوچا ۔۔میں تو اپنی عزت کا نہیں سوچا میں نے تو خود کو دھوکا دیا کسی نامحرم سے مل کر۔۔۔
میں کیسے سوچتی عاصم۔۔۔؟؟ میری عقلوں پر پردے پڑ گئے تھے۔۔۔
کچھ نہیں سوچا۔۔۔ آج پچھتا رہی ہوں کہ سوچ لیتی۔۔۔
زرا سی دیر رک جاتی اور سوچ لیتی۔۔۔ سکون کا سانس لیتی اور سوچ لیتی عاصم۔۔۔
نہیں سوچا۔۔۔ اب اس نہ سوچنے پر پچھتا رہی ہوں۔۔۔
مجھے طلاق مت دیں۔۔۔ رحم کریں۔۔۔”
“تم اسی ہفتے پاکستان جارہی ہو۔۔۔ ڈائیورس پیپرز بن جائیں گے۔۔۔”
وہ دروازے تک چلا گیا تھا۔۔۔
“خداکا واسطہ ہے عاصم رحم کریں۔۔ میں مر جاؤں گی ۔۔۔آپ میری عادت نہیں زندگی بن گئے تھے۔۔۔ میری ماضی کی سزا اس طرح نہ دیں مجھے۔۔۔
مجھ پر ہاتھ اٹھائیں سزا دیں پر طلاق نہیں عاصم۔۔۔ اس گناہ کے بعد میں نے خود کو نقصان نہیں پہنچایا۔۔۔
پر آپ سے طلاق کے بعد میں خود کو بھی ختم کرلوں گی۔۔۔پلیز۔۔۔ مجھ پر رحم کریں۔۔
مجھے اس شادی کے پاکیزہ رشتے سے باہر نہ نکالیں۔۔۔۔
وہ جو گندگی اس نکاح کے بعد دھل گئی تھی اس واپس میرے منہ پر نہ ماریں۔۔۔”
وہ کبھی زمین ہاتھ مار کر منتیں کررہی تھی تو کبھی سر مار کر گڑگڑا رہی تھی۔۔۔
عاصم نے درازے کے ہینڈل کو زور سے پکڑ لیا تھا۔۔۔
“زنا جیسے گناہ کو اللہ نے معاف نہیں کیا تو میں کیسے کرسکتا ہوں۔۔۔
میں تمہیں،، طلا۔۔۔”
“ایم پریگننٹ عاصم۔۔۔”
اور وہ ایک آخری امید جو عروشمہ کے پاس تھی جو اس نے کہہ دی تھی
واصم دو قدموں کے فاصلے سے واپس آیا تھا۔۔۔
عروشمہ کو دونوں بازؤں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا تھا۔۔۔
اور بزنس مین کو اپنے مظبوط شوہر کو پہلی بار روتے ہوئے دیکھا تھا عروشمہ نے اپنے باپ اور بھائی کے بعد۔۔۔
اس کمزور لڑکی نے اپنی زندگی کے تین مظبوط مردوں کو رولا دیا تھا۔۔۔
“عروشمہ تمہارے ماضی نے سب برباد کردیا ۔۔۔اس بچے کو آبورٹ کروا دو۔۔۔
مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔
اور تمہیں تو کوئی پریشانی بھی نہیں ہوگی۔۔۔ ایک بچہ پہلے ہی تم پیدا کرکے پھینک چکی ہو۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عاصم بھائی آپ بھابھی پر چلا رہے تھے۔۔؟؟ ایک تو آپ ہفتے بعد آئے ہیں آپ جانتے ہیں انکی کیا حالت تھی وہ ہسپٹلائز تھی اور۔۔۔”
عاصم نے منہ پر انگلی رکھ کر اپنی بہن کو چپ رہنے کا کہا تھا اور واپس اپنے موبائل پر کال ملائی تھی
عاصم کی سرخ آنکھیں دیکھ کر بہن حیران رہ گئی تھی اس وقت۔۔۔
“عاصم بیٹا خیریت سے پہنچ گئے۔۔۔۔”
“آپ نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ مامو۔۔۔ اتنا بڑا دھوکا دیا۔۔ اپنی بدکردار بے حیا بیٹی میرے متھے باندھ دی آپ نے۔۔۔
میں اسے فارغ کررہا ہو آزاد کررہا ہوں۔۔۔ واپس بھیج رہا ہوں۔۔۔ ایسے کردار کی لڑکی میرے گھر نہیں رہ سکتی۔۔۔ مجھے پتہ ہوتا یہ گندی تربیت ہے آپ کی یہ ماحول ہے تو تو کبھی سوچتا بھی نہ۔۔۔ افتخار مامو کی بیٹیاں لاکھ درجے اچھی ہیں۔۔۔میں طلاق۔۔۔”
“عاصم۔۔۔۔۔”
نگہت بیگم نے موبائل چھین کر دیوار پر مار دیا تھا اور ایک زور دار تھپڑ اپنے بیٹے کو مارا تھا۔۔۔
“عاصم۔۔۔۔”
“امی میں اسے طل۔۔۔”
ایک اور تھپڑ عاصم کو مارا تھا والدہ نے۔۔۔۔
۔
عاصم غصے سے گھر سے چلا گیا تھا۔۔۔ جانے سے پہلے ایک جملہ بول کر گیا تھا جو ہر کسی کے دل کو چیڑ گیا تھا اسکے ایک جملے میں اتنا درد تھا۔۔۔
“میں نے تم سے ہمیشہ محبت کی تھی عروشمہ۔۔۔ میں تمہیں محرم بنانے کے لیے کیا جتن کرتا رہا دعائیں مانگتا رہا منتیں مانگتا رہا۔۔۔ تم خود کو اپنے وجود کو کسی نامحرم پر لٹاتی رہی۔۔۔
میں معاف نہیں کروں گا تمہیں کبھی بھی۔۔۔”
۔
یہاں چھپتے چھپاتے عروشمہ بھی اس گھر سے نکل گئی تھی نہ منزل کا پتہ تھا نہ کوئی ٹھکانہ تھا اس کا۔۔۔۔
۔
اور وہاں پاکستان میں ایک قیامت گر چکی تھی۔۔۔
یہاں شوہر نے بے سہارا کردیا۔۔اور وہاں یتیمی نے ڈھیڑۓے ڈال دئیے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاشم۔۔۔ حماد آرہا ہے ہاشم۔۔۔ کس کا فون تھا۔۔۔ سانس لیں۔۔۔”
“ابو پلیز۔۔۔آنکھیں بند نہ کریں آپ۔۔۔”
“شہناز۔۔۔۔ میرے جنازے پر۔۔۔اسے آنے مت دینا۔۔۔ میرا منہ اسے دیکھنے نہ دینا۔۔۔ اسے کہنا وہ میری لاڈلی بیٹی تھی۔۔۔”
“ہاشم۔۔۔خدا کے لیے اس بدزات کے پیچھے ہم سب کو سزا نہ دیں آپ کو اللہ کا واسطہ ہے۔۔”
“میں تھک گیا ہوں بدنامی اب برداشت سے باہر ہوگئی ہے۔۔۔تم۔۔۔ باقی بچیوں کی تربیت اچھی کرنا۔۔۔ کیونکہ اب کوئی بچی کوئی داغ لگا دے گی تو یہاں مرد کوئی نہیں بچا اب جو سن سکے سب تم پر آئے گا۔۔۔ اور تم سے برداشت نہیں ہوگا۔۔۔تم۔۔۔ شیر کی نظر رکھنا۔۔۔”
۔
“ہاشم۔۔۔۔”
“ابو۔۔۔”
حماد ایمبولینس کو لیکر آیا تو چلاتے ہوئے باپ کے پاس آیا تھا کمرے میں صرف وہ آوازیں سنائی دے رہی تھیں جو باپ کے بےجان جسم کو پکڑے رو رہی تھیں۔۔۔۔
۔
