51K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

“تم سب کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔؟؟ سوہا مجھے مجبور نہ کرو کہ میں تمہارا اندر باہر آنا جانا بند کروں۔۔۔”
“اففف ڈیڈ۔۔۔ کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔؟ اس بےغیرت کو سبق سیکھانا ضروری تھا۔۔
آپ جانتے ہیں لڑکی لڑکے کے باہر جانے تک تو بات سمجھ آگئی۔۔۔ پر اس نے جو بھی کیا وہ پری پلینڈ تھا۔۔۔ ایک سوچی سمجھی چال۔۔ وہ اپنے جال میں پھنسا چکا تھا عروشمہ کو
اور ۔۔ اس کمرے میں ہورے۔۔ ہر کام کی ویڈیو بن رہی تھی۔۔
یہ سوچ سوچ کر دماغ پھٹ رہا ہے کہ اس گھٹیا شخص کے گروپ کے لڑکوں نے وہ ویڈیو دیکھ تو نہیں لی ہوگی۔۔ آگے تو وہ ویڈیو نہیں دہ دی ہوگی۔۔”
سوہا کے انکشافات پر اسکی موم پیچھے گر کے بیٹھی تھی صوفہ پر اور والد صاحب انکی آنکھوں میں کچھ سیکنڈ کے لیے وہی ڈر نمایاں ہوا تھا جو اس نے اپنی سب دوستوں کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“سوہا یہ کیا بکواس کررہی ہو۔۔؟ یا اللہ۔۔۔وہ لڑکی جس لڑکے پر اتنا یقین کرکے گھر کی دہلیز پار کرگئی وہ لڑکا اس قدر گھٹیا ہے یہ بتانا چاہ رہی۔۔؟پھر تو تم لڑکیوں سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں ٹھہرا میری نظر میں۔۔۔”
سائم صاحب اپنے سر پر ہاتھ پھیرے پیچھے ہوگئے تھے وہ اس وقت انکے سٹڈی روم میں تھے
گارڈ نے گھر پہنچتے ہی سب کچھ بتا دیا تھا انہیں اور پھر انہوں نے سوہا کو بُلایا تھا اپنے پاس۔۔۔
“سائم ریلیکس۔۔۔ آپ نے ہی کہا تھا اس مسئلے کو آہستگی سے حل کرنا ہوگا۔۔
اب آپ اس طرح ری ایکٹ کررہے ہیں۔۔”
“تو کیا کروں۔۔۔؟؟ ہاشم صاحب کی بیٹی کا اتنی اندھی ہوگئی تھی۔۔؟؟ باپ کو اتنا بڑا دھوکا دہ دیا کس گھٹیا شخص کے لیے۔۔؟؟ بھائی کا سر جھکا دیا کس کے لیے۔۔؟
دو دن کی محبت کے لیے۔۔؟ تم آج کی نسلیں سمجھتی ہو بس غلطی کی معافی تلافی ہوگئی
ہم خودکشی کی دھمکی دیں گے تو ماں باپ مان جائیں گے۔۔۔
اور ماں باپ مان بھی جاتے ہیں۔۔ پر یہ اولادیں کیا کررہی ہیں۔۔؟؟
کیا ملتا ہے تمہیں۔۔۔؟؟
اور ایک بات۔۔۔ سوہا ۔۔۔یہ سب میں کسی عروشمہ یا اسکے ماں باپ کے لیے نہیں کررہا۔۔
یہ سب میں اس لیے کررہا ہوں کہ کل کو تمہاری عزت پر حرف نہ آئے ہماری فیملی کو پتہ چلا تو کیا ریپوٹیشن رہ جائے گی میری اور میری وائف کی۔۔؟؟
تم لڑکیاں تو اس قابل نہیں رہیں کہ تم لوگوں کو اہمیت دی جائے۔۔۔
میرے سامنے بھی نہ آئے وہ لڑکی۔۔۔کیونکہ ایسی بیٹیاں جو ماں باپ کی عزتوں پر خاک ڈال جائیں وہ کسی کی عزت کی حقدار نہیں ہوتیں۔۔۔”
۔
سائم صاحب تو اپنی اکلوتی لاڈلی بیٹی پربرس پڑے تھے۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔؟؟؟”
“شٹ اپ۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔ میں کرلوں گا ہینڈل۔۔گھر سے باہر گئی تو پھر دیکھ لینا۔۔”
سوہا کی آنکھیں بھر آئیں تھیں اور جب اس نے اپنی موم کو دیکھا تو انہیوں نے بھی دوسری طرف منہ کرلیا تھا۔۔۔صاف ظاہر تھا اس واقعہ کے بعد بہت کچھ کھودیا تھا ان لڑکیوں نے۔۔۔
اور جو انہیں مل رہا تھا وہ ذہنی اذیت تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نگہت۔۔۔میں جو کہنا چاہتا ہوں۔۔۔وہ۔۔۔”
“آپ پھر رشتے سے انکار کرنا چاہتے ہیں۔۔۔؟”
نگہت بیگم نے افسردگی سے پوچھا
“نہیں نگہت بات یہ ہے۔۔۔”
“ہاشم بھائی ہمیں جہیز میں کچھ نہیں چاہیے مجھے عروشمہ ہمیشہ سے ہی پسند رہی عاصم کے لیے تو میں ہمیشہ سے عروشمہ ہی چاہتی رہی ۔۔۔
آپ نکاح کروا دیں۔۔۔”
انہوں نے خوشی خوشی کہا تھا پر ہاشم صاحب کے اگلے الفاظ پر انکی بھی سانسیں تھم گئیں تھی
“عروشمہ پریگننٹ ہے۔۔۔”
“کیا۔۔؟؟ عروشمہ کی شادی آپ نے کردی تھی۔۔؟؟ نکاح کیا تھا۔۔؟ کس کے ساتھ۔۔؟”
اس کمرے کی چار دیواری میں وہ تھے انکی بیوی تھی انکی چھوٹی بہن اور انکی دو بچیاں موجود تھیں۔۔۔
“تم وہ بار دہرانے کو کہہ رہی ہو جسے زندگی میں ایک بار دہرایا تو سو بار زخمی ہوئی میری زبان۔۔۔
عروشمہ۔۔۔ میری بیٹی۔۔میری باپردہ بیٹی۔۔۔ بِن بیاہی ماں بن چکی ہے۔۔۔”
“یا خدایا۔۔۔۔”
وہ بھی ایک جھٹکے سے اسی جگہ بیٹھ گئیں تھیں جہاں انکی بھابھی سر جھکائے بیٹھی تھی
“نگہت۔۔۔آج تک تم میری بیٹی کا رشتہ مانگی آئی ہو۔۔۔ آج میں ہاتھ پھیلائے تم سے بھیک مانگ رہا ہو۔۔۔
اس سچ کو سننے کے بعد بھی۔۔۔ میری بیٹی کو اپنا لو۔۔۔عاصم اور عروشمہ۔۔۔”
“بس ہاشم بھائی۔۔۔۔ عروشمہ جیسی بدذات کے ساتھ میرے بیٹے کا نام بھی مت لیجئے گا۔۔۔
نہیں۔۔کبھی نہیں۔۔اس نسل کی بہو۔۔؟؟ اس بےحیائی کو تو میں کبھی دشمن کی بیٹی کے لیے تسلیم نہ کروں۔۔۔ وہ تو پھر میرا بیٹا ہے۔۔۔
ان پردوں میں۔۔۔ بیٹیوں کے ان نقابوں میں یہ بےشرمی چھپائی ہوئی تھی آپ نے۔۔۔؟؟”
وہ چیخ اٹھی تھی۔۔ اور کسی نے سوچا بھی نہیں تھا نرم شگفتہ لہجہ رکھنے والی پھپھو اس طرح بھی چلا سکتیں ہیں۔۔۔جیسے اب وہ غصہ کررہی تھیں۔۔۔
“نگہت باجی۔۔۔”
“بس۔۔۔ بھابھی۔۔۔ میرا بھائی تو گھر سے باہر محنت مزدوری کرتا رہا بیٹیاں تو آپ کے سپرد ہوتی تھیں نہ۔۔؟؟ کیوں نہ رکھ سکی آپ میرے بھائی کی عزت سنبھال کر۔۔؟؟”
بھائی کی آنکھوں میں آنسوؤں کا دریا دیکھےوہ اپنی بھابھی پر برس پڑی تھیں۔۔۔
“ان بچیوں کے لیے میرا بھائی لڑتا رہا ۔۔؟؟ مرتا رہا محنت مزدوری کرتا رہا کہ میری بچیوں کو اچھی خوراک مل جائے اچھی تعلیم مل جائے
یہ صلہ دیا تم لوگوں نے۔۔؟؟”
اپنی دونوں بھتیجیوں کی طرف دیکھ کرپوچھا تھا انہوں نے۔۔۔
“ہاشم بھائی۔۔۔عروشمہ میری ہی نہیں عاصم کی بھی پسند تھی۔۔۔ پر آپ کی بیٹی اب اس قابل نہیں کہ ہم شریف لوگ اسے اپنے گھر کی عزت بنا سکے۔۔۔
جو باپ کی عزت کو رؤند گئی وہ شوہر کی عزت کو بھی بیچ کھائے گی۔۔۔
معاد کردیجئے۔۔۔”
ہاتھ جوڑ کر بھائی کے آگے وہ وہاں سے چلی گئی تھیں۔۔۔
۔
“یہ سب اس “گ۔۔ی” کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔ میں عروشمہ کو آج خود ہی ختم کردوں گی۔۔۔”
عروشمہ کی امی برداشت نہیں کرپائی تھی اپنے شوہر کی اتنی تذلیل جو وہاں بیٹھے ہاتھوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
وہ اپنی بیٹی کے کمرے میں گئی۔۔۔ بالوں سے پکڑ کر بستر سے نیچے گرایا تھا
“ہماری نیندیں حرام کرکے تم سکون کی نیند سو رہی ہو۔۔؟؟ آج تمہارا باپ زندہ لاش بنا ہوا ۔۔۔تم عزتیں لٹوانے کے بعد گھر واپس ہی کیوں آئی۔۔؟؟”
عروشمہ کو زور دار تھپڑ مار کر پوچھا تھا انہوں نے۔۔۔
“تمہاری پھپھو نے تمہارا سچچ جاننے کے بعد اس رشتے سے انکار کردیا۔۔۔ ٹھکرادیا تمہیں۔۔۔
جو تم کرتی آئی تھی عاصم کو ٹھکرا کر۔۔۔ تمہیں بھی آج ٹھوکر پڑ گئی پر وہ تمہیں نہیں ہمیں پڑی ہے۔۔۔
میں اینڈ تک پُر امید تھی کہ وہ لوگ تمہیں اپنا لیں گے۔۔۔”
کتنے تھپڑ غصے میں مار چکی تھیں وہ عروشمہ کو۔۔۔ اور وہ گھٹنوں میں منہ چھپائے روئے جا رہی تھی
“کسی کو نظر نہیں آرہا کہ غلطی کس کی ہے گناہ کس کا ہے۔۔۔ یہاں جس کو پتہ چل رہا وہ گندی اولاد کو نہیں دیکھتا۔۔۔ ماں کو گندہ کہتا ہے۔۔۔ میں ہی گندی ہوں۔۔۔ جو تم پر اندھا یقین کیا میں نے۔۔۔
تعلیم تعلیم۔۔۔تعلیم۔۔۔ پڑھ لکھ کر جو جھنڈے تم نے لگانے تھے جو عزت بخشنی تھی۔۔۔
اپنی بےحیائی سے تم نے اتنی ہی بدنامی دہ دی ہمیں
اب ہر روز یہ تماشہ لگے گا۔۔۔ تمہارے باپ میں ہمت نہیں ہے دوکان میں جانے کی۔۔۔
وہ مظبوط وہ واحد سرپرست تمہارا۔۔۔ اب ڈر کے گھر کی چار دیواری میں محصور ہوکر رہ گیا تھا۔۔۔
تم نے باپ کو جیتے جی مار دیا ہے آوارہ لڑکی۔۔۔”
۔
ممتا رو رہی تھی پر اندر ایک غصے کی شدت تھی جو کم نہ ہوپارہی تھی انکی۔۔۔
۔
اسی وقت سوہا کو جلدی جلدی میں کال ملا دی تھی عروشمہ کی بہن نے۔۔۔
۔
“آپ کسی طرح عروشمہ کو اپنے ساتھ لے جائیں یہاں رہی تو وہ گھٹ گھٹ کر مرجائے گی۔۔۔ نہیں تو اسکی وجہ سے میرے ماں باپ مرجائیں گے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں وہیں جا رہا ہوں۔۔پولیس کے ساتھ آپ چلنا چاہیں گے۔۔؟؟”
سوہا اندر چلی گئی تھی جلدی سے اپنے ڈیڈ کو عروشمہ کے والد کے پاس چھوڑ کر۔۔۔
“مجھے کہیں نہیں جانا۔۔ کسی کو کوئی سزا نہیں دلوانی۔۔۔ بات ابھی چار دیواری میں ہے
پھر پولیس سٹیشن جائے گی میڈیا میں جائے گی۔۔۔ میں برداشت نہیں کرپاؤں گا۔۔۔”
وہ اندر جانے کے لیے مُڑے تھے جب سائم صاحب نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“میرے خیال سے آپ کو اور حماد کو ساتھ چلنا چاہیے۔۔۔ پولیس کے کچھ لوگ ہیں۔۔
بات راز میں رہے گی۔۔۔ اس علاقے سے دور ہے ان کا گھر۔۔
اگر آج ان لوگوں کو سزا نہ ملی تھی کل اور لڑکیوں کی عزتیں ایسے ہی برباد کرتا رہے گا وہ۔۔”
۔
“بس کرجائیں آنٹی۔۔۔ آپ اسے مار جان سے مار دیں گی کیا۔۔۔ چھوڑ دیجئے۔۔۔”
سوہا نے انہیں عروشمہ سے دور کردیا تھا۔۔۔
“ایسی نہیں کرتی۔۔۔ بس ماں باپ کو کھا جاتیں ہیں انکی عزتیں کھا جانے کے بعد۔۔۔
ہمیں تو مار دیا اس نے۔۔۔ اپنے باپ کو بھی نہیں چھوڑا۔۔۔”
وہ چہرہ صاف کرکے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“عرشمہ۔۔ اٹھ جاؤ۔۔۔”
پر عروشمہ سے اٹھا نہیں جارہا تھا۔۔۔
“تم میرے ساتھ میرے گھر چل رہی ہو۔۔۔”
“نہیں میں ان سب پر تو بوجھ بنی ہوئی ہوں تم پر بوجھ نہیں بننا چاہتی۔۔”
پر سوہا نے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھا لیا تھا۔۔۔ اور دروازے تک لے جاتے ہوئے اسکی نظر پیچھے فرش پر پڑی تھی۔۔۔
“عروشمہ۔۔۔ یہ خون۔۔ تمہیں کہاں چوٹ لگی ہے۔۔۔؟؟”
“پاؤں پر۔۔۔ چلا نہیں جائے گا۔۔۔پر میں رکنا بھی نہیں چاہتی۔۔۔
زندگی سے تھک گئی ہوں۔۔۔ پر میں مرنا بھی نہیں چاہتی۔۔۔”
عروشمہ نے نڈھال آنکھیں بند کرکے سوہا کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا۔۔۔
عروشمہ کے الفاظ میں درد شدت کا تھا۔۔۔ پر سوہا ایک ہمدردی کا لفظ نہیں بولنا چاہتی تھی۔۔
اس گناہ کی حمایت ہوجاتی اگر وہ ہمدردی دیکھا دیتی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ میرے بیٹے پر الزام نہیں لگا سکتےآپ کی جوان بیٹی کو شرم آنی چاہیے جو لڑکوں کے ساتھ باہر جاتیں ہیں۔۔۔ مرد تو مرد ہے۔۔۔
اب الزام لگا رہے ہیں۔۔؟؟ شانی بیٹا ہم کیس کریں گے ان لوگوں پر۔۔۔”
شانی کی والدہ نے جیسے ہی اسکا ہاتھ کھینچ کر اندر لے جانے کی کوشش کی تو شانی وہیں رکا ہوا تھا دوسرے ہاتھ پر ہتکڑی بندھی ہوئی تھی۔۔
“یہ ہماری حراست میں ہے۔۔۔ اسکو ساتھ اس لیے لائیں ہیں کہ جو ویڈیو اس نے باقی لڑکیوں کی بنائی ہے اسے ہم اس گھر سے ڈھونڈ سکیں۔۔۔
جاؤ کام کرو۔۔ایک ایک کونا ڈھونڈنا۔۔۔”
“اندر میری بیٹیاں ہیں۔۔۔”
“اندر جن کی ویڈیو موجود ہیں وہ بھی بیٹیاں تھیں کسی کی۔۔۔”
حماد غصے سے کہہ کر سامنے کھڑا ہوا تھا شانی کے والد کے۔۔۔
“امی ابو مجھے بچا لیں یہ لوگ جھوٹ بول رہیں وہ عروشمہ تو مجھے خود ملنے آتی تھی۔۔
وہ بدکردار تھی۔۔۔میرے پیچھے پڑی ہوئی تھی۔۔۔”
حماد کا قہر شانی پر برسا تھا سب کے سامنے اس نے شانی کو اتنے مکے مار دئیے تھے
“بس حماد۔۔۔”
“میں اپنے بیٹے کو بچا لوں گی۔۔۔ ظہیر آپ ابھی اپنے وکیل دوست سے بات کریں۔۔”
“ظہیر صاحب نےجیب سے فون نکالا تھا اور اپنے دوست کو فورا بلا لیا تھا۔۔۔
وہ لوگوں میں بات ویسے ختم ہو ہی نہیں رہی تھی۔۔۔
شانی کے کمرے سے اور بہت سی ڈیوائسز ملی تھیں جن میں بہت سی ویڈیوز کا ڈیٹا موجود تھا۔۔
پر شانی کی والدہ تو بار بار عروشمہ کے کردار پر کیچڑ اچھالنے میں لگی ہوئی تھیں جس کو بہت خاموشی سے سن رہے تھے ہاشم صاحب۔۔۔
۔
“دیکھیں آفیسر۔۔۔ یہ معاملہ آگے جائے گا تو بدنامی آپ کی بیٹی کی بھی ہوگی شانی کو جیل بھیجنے کے علاوہ کوئی راستہ بتائیں۔۔۔”
اس بات پر حماد کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“میں بتاتا ہوں راستہ۔۔۔ اسکی بہن کے ساتھ بھی وہی کرتا ہوں میں۔۔ پھر جو سزا تم لوگ میرے لیے بتاؤ گے وہی سزا اسے کنجر کو بھی دہ دیں گے۔۔۔”
“یو باسٹرڈ۔۔۔۔”
سب سے زیادہ شانی اچھلا تھا اور ایک تھپڑ اسے پڑا تھا جو اسکے والد نے مارا تھا۔۔۔
“شاہان۔۔۔مجھے پتہ ہوتا کہ تو اس طرح نام روشن کرے گا میں تجھے بہت پہلے نکال باہر کرتا۔۔۔
آض کسی مرد نے تیری بہن کو منسوب کرکے ایک بہت بڑی بات کی ہے تیری جگہ کوئی اور ہوتا تو غیرت سے مر جاتا۔۔۔ پتہ نہیں اپنی بہنوں کے سر ڈھانپ کر تونے باہر کتنی بچیوں کے سر ننگے کردئیے۔۔۔
پر تیری وجہ سے میری کسی بچی پر ان ناموں پر آنچ نہیں آنی چاہیے۔۔۔
اپنی ماں کو پکڑ اور نکل جائے۔۔۔ کل کو کسی لڑکی کے ساتھ کوئی غلط حرکت کرے تو خبردار میری بچی کا نام آیا۔۔۔ اپنے آپ کو اور اپنی ماں کو پیس کرنا کیونکہ آج تک اس نے تجھے بگاڑا۔۔۔ دیکھ بات گریبان تک آپہنچی۔۔۔”
وہ اٹھ گئے تھے اپنی کرسی سے
“ظہیر آپ۔۔۔”
“ایک لفظ نہیں بیگم۔۔۔ تم نے اپنی تربیت سے اپنے بیٹے کی زندگی برباد کی اسے محبت دے دے کر ایک جانور بنا دیا اور اس جانور نے کسی معصوم لڑکیوں کی۔۔۔”
وہ ہاشم صاحب کی طرف بڑھے تھے۔۔۔
“آپ اس بچی کے باپ ہیں آپ کے جھکے سر اور آپ کی خاموشی نے بتا دیا ہے۔۔۔
میری بھی بیٹیاں ہیں۔۔۔ یقین جانیں اگر آج ایسا کچھ ہوا ہوتا تو میں بھی ایسے ہی پیش آتا۔۔۔
میں مداوا نہیں کرسکتا۔۔۔مگر آپ اگر کہیں گے تو ہم اس بےغیرت کا رشتہ لیکر آپ کے گھر آجائیں گے۔۔۔ ان دونوں کی شادی۔۔۔”
“میری بیٹی مرتی مرجائے گی پر ایسے معاشرے کے گھنونے جانور کے ساتھ نکاح میں نہیں آئے گی۔۔۔
ہاں میں چپ تھا۔۔۔ پر میں ایک بات سمجھ گیا ہوں۔۔۔ تعلیم ہونے کے باوجود بھی بچیوں کو پاس بٹھا کر بتاتے رہنا چاہیے کہ معاشرے کے مرد باپ بھائی جیسے غیرت مند نہیں ہوتے۔۔۔۔
وہاں سے یہاں تک کیسے آئی وہ اللہ جانتا ہے۔۔۔پر اس گھٹیا شخص کو سزا مل کر رہے گی۔۔۔
کتنی زندگیاں برباد کردی اس نے۔۔۔ انسپکٹر صاحب۔۔۔ یہ سب ثبوت کافی ہوں گے۔۔؟؟”
“جی۔۔۔ یہ بہت لمبے عرصے کے لیے اندر جائے گا۔۔۔ اور اسکے ساتھ وہ دوست بھی اسکے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عرشمہ چہرہ صاف کروا لو۔۔۔ ابھی بھی یہاں خون لگا ہوا ہے۔۔۔”
سوہا فرسٹ ایڈ باکس لیکر بیٹھی ہوئی تھی
“میرے اندر بھی بہت زخم لگے ہیں بہت درد ہوتا ہے وہاں بھی مرہم لگا دو مجھے۔۔۔”
کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے بےدھیانی میں کہا تھا اس نے۔۔۔
“اندر کے زخم نہیں بھرتے عروشمہ۔۔۔ مرہم صرف ان زخموں کے لیے ہوتا ہے سو نمایاں ہوتے ہیں۔۔۔ پوشیدہ زخموں کو بس وقت بھر سکتا ہے۔۔۔
کبھی کبھی وقت بھی خلش کو پورا نہیں کرپاتا ۔۔۔۔”
وہ کہتے کہتے خاموش ہوئی تھی کاٹن پر دوائی لگائے اس نے جیسے ہی عروشمہ کے ہونٹ کے نیچے لگے خون کو صاف کرنا شروع کیا تھا اسے دیکھ کر تکلیف ہورہی تھی پر عروشمہ ویسے ہیں بیٹھی رہی تھی۔۔۔
“کیوں۔۔۔؟؟ کس کے ساتھ جاتی تھی اسے ملنے۔؟؟ کون کرواتا تھا تمہاری ملاقاتیں۔۔؟؟ اس لڑکے نے جس سے تم محبت کی قسمیں کھاتی رہی ہو ملنے جاتی رہی ہو
اس نے انکشاف کیا کہ بہت ملاقاتیں ہوتی تھی تم دونوں کی۔۔؟؟”
“وہ تو دبئی نہیں بھاگ گیا تھا۔۔۔؟؟”
عروشمہ کا سر ابھی بھی نیچے تھا
“ایسے لفنڈروں کو دبئی کے ویزے نہیں ملتے بلکہ حوالات کے دھکے ملتے ہیں۔۔
تمہیں جان کر غم ہوگا کہ تمہارے علاوہ بھی اس نے عشق کی داستانیں رقم کی ہوئی تھیں۔۔۔ بہت سی لڑکیوں کے ساتھ۔۔ مجھے بس اتنا بتا دو تمہیں شانی جیسے بےغیرت سے ملوایا کس نے تھا۔۔۔؟؟”
سوہا نے غصے پر قابو کرتے ہوئے پوچھا تھا
“میری۔۔۔ کزن نے۔۔۔ چاچو کی بیٹی۔۔۔وہ جس لڑکے سے ملنے جاتی تھی۔۔ تو مجھے ساتھ لے جاتی تھی۔۔۔اور شاہان دوست تھا اس لڑکے کا۔۔۔”
“اوووہ۔۔۔کیا تمہاری کزن بھی پریگننٹ ہے۔۔؟؟ یا ہوئی ہے۔۔۔؟؟”
سوہا کا لہجہ تلخ تھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔”
“کیوں نہیں۔۔؟؟ مطلب تمہیں کسی جگہ لے جا کر کسی سے ملاقات کروا کے تمہارے تو راستے کھولتی رہی وہ خود اس دلدل میں کیوں نہیں دھنسی جس میں تمہیں پھینکتی رہی وہ۔۔؟؟”
سوہا غصے سے کھڑی ہوئی تو وہ فرسٹ ایڈ باکس بھی نیچے گر گیا تھا
“کیوں کہ شاید اسے احساس تھا باپ کی عزت کا۔۔۔ اسے دلاور بھائی کی عزت کا خیال تھا۔۔
اس لیے وہ خود ہر کام کرتی رہی پر حد پار نہیں کی۔۔۔
اور میں کوئی کام نہیں کرتی تھی۔۔۔ پھر بھی حد پار کردی میں نے۔۔۔
تم سب سہی کہتے ہو۔۔۔ مجھے خیال نہیں تھا۔۔۔اور سوہا مجھے سچ میں خیال نہیں تھا۔۔۔
میں اپنی مرضی سے ملنے جاتی تھی۔۔
میں نے جس دنیا میں قدم رکھا تھا مجھے بس ایک ہی شخص نظر آتا تھا۔۔۔ میں کبھی اس انسان میں چھپے اس شیطان کو دیکھ نہیں پائی۔۔۔
میں قصوروار ہوں۔۔۔ اللہ کی طرف سے بہت اشارے ہتے رہے مجھے۔۔۔
جس دن یہ گناہ سرزرد ہوا اس وقت ظہر کی آزان کے وقت گھر سے نکلنے لگی تھی۔۔۔
کبھی ہاتھ پر چوٹ لگی تو کبھی موبائل گرگیا پانی میں۔۔۔
میں پھر بھی گئی۔۔۔ راستے میں ابو کے دوست کی نظر پڑی میں ڈر کر گھر آنے کے بجائے پھر بھی گئی آگے۔۔۔
میں اتنا آگے نکل گئی کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔۔۔”
۔