Yaariyan by Sidra Sheikh readelle50013 Episode 06
Rate this Novel
Episode 06
“کاش تم سمجھ جاتی میری بچی کہ ماں باپ کیوں حد تہہ کردیتے ہیں۔۔۔
تم پر ہم نے پابندیاں نہیں لگائی تو دیکھو معاشرے کو موقع دہ دیا تم نے۔۔۔
کاش میں بھی شیر کی نگاہ رکھتا عروشمہ آج تم اس اذیت میں نہ ہوتی۔۔۔
بیٹیاں بہک جائیں تو نسلیں برباد ہوجاتیں ہیں۔۔ ابھی یہ شروعات ہے۔۔۔
بہت تلخ ہے حقیقتیں۔۔۔۔ معاشرے جب بےحس ہوجائے تو ناسور بنا دیتا ہے ایسے گناہوں کو۔۔۔ اور عبرت بنا دیتا ہے ایسا کرنے والوں کو۔۔۔
اور تم نے موقع دہ دیا اس معاشرے کو رشتے داروں کو۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاشم بھائی۔۔۔۔”
“نگہت بہت اکیلا ہوگیا ہوں اور کچھ نہ کہنا میں مرجاؤں گا۔
ایک دھاگہ ہلکا سا میری سانسوں کو باندھے ہوئے ہے زندگی کی ڈورسے “
ہسپتال کے بستر پر وہ بےیارو مددگار نڈھال پڑے ہوئے تھے جب بہن نے بات شروع کی تھی
“ہاشم بھائی میں آگئی ہوں میں آپ کے ساتھ ہوں۔۔”
“تم اگر ساتھ ہوتی تو ایسے منہ پھیر کر نہ جاتی۔ نہ میں ندیم سے دل کا حال بیان کرسکتا ہوں
اسکی بیوی نے پورے محلے میں پنچائیت لگا دی۔۔
تم جانتی ہو کوئی بھی ماں باپ ایسی بدنامی برداشت نہیں کرسکتے جانتی ہو نہ۔۔”
نگہت بیگم پاس آکر بیٹھ گئی تھی بھائی کے جو رو بھی رہے تھے تو خاموشی کے ساتھ
“نگہت مجھے کچھ دیکھائی نہیں دے رہا اس زندگی میں دل کررہا ہے کچھ کھا کے مر جاؤں
پر میں ہمت نہیں کر پارہا میری بیٹیاں ہیں پیچھے۔۔ عروشمہ نے جو کالک ملنی تھی وہ مل دی اب باقی کو تو زہر نہیں سکتا میں۔۔۔
میں نے فیصلہ کرلیا ہے کسی ادارے میں چھوڑ آؤں گا۔۔”
“یا اللہ۔۔۔نہ کریں ایسی بات۔۔عروشمہ۔۔ کہیں نہیں جائے گی۔۔۔ میں اسے ساتھ لے جاؤں گی پوری عزت کے ساتھ بھائی۔۔ کسی ادارے میں ہماری جوان بیٹی نہیں جائے گی۔”
نگہت بیگم کی روح تک کانپ گئی تھی بھائی کے فیصلے کو سن کر۔۔
“میری تربیت گندی نہیں تھی نگہت ابو کے جانے کے بعد تم بہنوں کو بھی تو پالا تھا
نہ تم دونوں کی تربیت بھی کی تھی بڑا تھا ایسے ہی کرتا تھا جیسے اب کرتا آیا ہوں
پھر کیوں میری بیٹی نے میرے ساتھ دغا کی۔۔؟؟”
“ہاشم بھائی سنبھالیں اپنے آپ کو ۔۔۔ آپ ابھی ٹھیک نہیں ہوئے خدا کے لیے رونا بند کریں”
پر وہ کیا کرتے انکا کلیجہ پھٹ رہا تھا دل میں اتنا بوجھ تھا انکے۔۔
“کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔ نہ اپنی بیوی سے درد کی شدت بیان کرسکتا ہوں نہ اپنے بیٹے سے
وہ دونوں تو خود اس عذاب سے گزر رہے ہیں۔۔۔”
“ہاشم بھائی بس یہ چند ماہ پورے ہو جائیں میں خود لے جاؤں گی عروشمہ کو
عاصم کے ساتھ ہی نکاح ہوگا۔۔۔ میں سب کچھ بھول جاؤں گی آپ کے لیے
بھائی آپ بڑے بھائی ہی نہیں باپ بھی ہیں۔۔ آپ نے ابو کی طرح ہم بہن بھائیوں کو پالا
ہمیں اس قابل بنایا۔۔آج آپ کو گرنے نہیں دوں گی۔۔۔
میں۔۔عروشمہ کو آنکھوں کا تارا بنا کر رکھوں گی۔۔۔”
۔
انکے وعدے پر ہاشم صاحب کی تھوڑی نہیں ساری ہی پریشانی ختم ہوگئی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تیاریاں دھوم دھام سے کرنی ہیں شادی کی۔۔۔اور اسی گھر سے رخصت ہوگی میری بہو۔۔۔”
نگہت بیگم کی بات سن کر جہاں ہاشم صاحب کی فیملی خوش تھی وہاں چھوٹے بھائی کی فیملی خفا بھی تھی سب کے ہی منہ بنے ہوئے تھے سب کی ہی خواہش تھی عاصم سے انکی بیٹی کی شادی ہو۔۔
“ویسے نگہت ہمت ہے تمہاری انکی ایسی بیٹی بیاہ رہی ہو کہ جو۔۔”
“بھابھی ثبوت کہاں ہے۔۔؟ کیوں الزام لگا رہی ہیں۔۔؟ بیٹیاں نہیں ہیں آپ کے۔۔؟
عزتیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں سمجھ جائیں وقت رہتے۔۔
ورنہ میں تو رشتہ نہیں رکھوں گی اگر آپ نے شادی کے بعد میری بہو پر کوئی الزام لگایا تو”
۔
“نگہت میری بیٹی جھوٹ نہیں بول رہی۔۔”
“تو آپ کی بیٹی بھی ملوث ہے۔۔؟ تو اگر جرم ثابت ہوگیا ہے تو سزا آپ کی بیٹی کو بھی ملنی چاہیے۔۔؟ اور ندیم بھائی آپ اب سے اپنی بیٹیوں پر نظر رکھا کریں۔۔ آپ کی بیوی نے بہت فری ہینڈ دیا ہوا ہے بچیوں کو۔۔ اس لیے ایسے گھنونے الزام لگا رہی ہیں سب پر۔۔”
عروشمہ کی چچی منہ بنا کر واپس اپنے پورشن میں چلی گئی تھی اپنی دونوں بیٹیوں کو لیکر۔۔
“نگہت سمجھ نہیں آرہی کیسے شکریہ ادا کروں۔۔۔”
“بس بھائی چپ کر جائیں باقی باتیں کل صبح کریں گےابھی نہیں۔۔”
۔
اس رات عروشمہ کے کمرے میں نگہت بیگم اور عروشمہ کی امی موجود تھی جب انہوں نے عروشمہ کے سامنے ایک لمبی لسٹ رکھ دی تھی
‘کیا کرنا ہے ، کیا نہیں کرنا ہے’
‘کیا کہنا ہے کیا نہیں کہنا ہے’
۔
“پھپھو اتنے بڑے جھوٹ پر میں اس رشتے کی شروعات کیسے کرسکتی ہوں۔۔؟”
“تم اتنا نہیں کرسکتی بدزات لڑکی اپنے ماں باپ کی لیے۔۔؟ تم ایسا کرو زہر دہ دو ہمیں۔۔۔
جب تمہاری پھپھو کہہ رہی ہے کہ تم نے عاصم کو کبھی کچھ نہیں بتانا تو تمہیں سمجھ نہیں آرہا۔۔؟؟”
والدہ نے بازو زور سے پکڑا تھا جس پر نشان پڑ گئے تھے
“بھابھی پلیز اسے چھوڑ دیں میں بات کررہی ہوں۔۔۔”
“گنتی کے کچھ مہینے ہیں عروشمہ ۔۔ عاصم کو کبھی کچھ پتہ نہیں چلنا چاہیے۔۔۔
اگر یہ شادی ناکام ہوئی تو مرجانا پر ہماری دہلیز پر نہ آنا سن لو لڑکی۔۔۔”
بیڈ پر اسے دھکا دے کر وہ باہر چلی گئی تھی
“ان سے زیادہ میں تنگ آگئی ہوں خود سے۔۔پھپھو عاصم بھائی یہ سب ڈیزرو نہیں کرتے
مجھ جیسی بےحیا بدزات کو وہ ڈیزرو نہیں کرتے پلیز منع کردیں۔۔”
اس نے روتے ہوئے درخواست کی تھی
“تم پھر سے اپنا سوچ رہی ہو۔۔؟؟ تمہاری بہنیں ہیں بھائی ہے ماں باپ نے آگے جینا بھی ہے یا نہیں۔۔؟ تمہیں سمجھ نہیں آرہی لوگ موقع کی تلاش میں ہیں۔۔
یہ واحد حل ہے جو معاشرے میں کھویا ہوا وقار واپس دلائے گا ہاشم بھائی کو۔۔۔
عروشمہ کم سے کم اب تو باہر نکل آؤ اور اپنے ماں باپ کا سوچو۔۔۔”
۔
“یا اللہ پاک اس عذاب کو میرے اندر ہی ختم کردے اللہ اس ناجائز اولاد سے چھٹکارا دلا دے مجھے۔۔۔”
پھوپھو کے باہر جانے کے بعد وہ گھنٹو مصلے پر کھڑی اپنے رب سے بس ایک ہی دعا مانگ رہی تھی اس بچے کی موت۔۔۔
۔
اور دوسرے کمرے میں اسکے گھر والے اسکے لیے بھی ایسی ہی دعا مانگ رہے تھے
“ہاشم صاحب یہ تو بھلا ہو آپ کی بہن کا۔۔ورنہ میں نے تو امید ہی کھو دی تھی۔۔۔
اللہ ایسی بدبخت اولاد کو اٹھا لے۔۔اسکے پردے ڈھک لے ہماری جان چھوٹ جائے ایسی گندی اولاد سے جس نے ماں باپ کو خون کے آنسو رولا دیا۔۔۔
اللہ ہمیں اور بدنامی سے بچا لے۔۔۔”
۔
۔
وہ کچھ مہینے یوں بھی کٹ گئے تھے
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سوہا پرنسپل مان گئے ہیں عروشمہ کے پیپرز لینے کو۔۔۔ باقی جو سمسٹر رہ جائے گا وہ آن لائن جاری رکھ سکتی ہے یا سکیپ کرسکتی ہے۔۔۔”
سائم صاحب نے وہ ایگریمنٹ لیٹر سوہا کے سامنے رکھا تھا
“موم ڈیڈ۔۔۔میں نے بھی ایک فیصلہ لیا ہے۔۔۔”
“کیسا فیصلہ۔۔؟؟ تمہیں نہیں لگتا تم اب اس پوزیشن میں نہیں ہو سوہا۔۔”
سوہا کی موم نے سختی سے پوچھا تھا
“میں واپس جانا چاہتی ہوں۔۔۔آپ لوگ یہاں رہ سکتے ہیں میں نے خالہ سے بات کرلی ہے۔۔”
“وٹ اباؤٹ یور سٹڈیز ۔۔؟؟”
“ڈیڈ میں ڈگری وہاں جاکر مکمل کرلوں گی۔۔۔مجھے اب یہاں نہیں رہنا۔۔”
“یہ تو اچھی بات ہے ہم دونوں اسی انتظار میں تھے کہ تم کب واپس جانے کی بات کرو۔۔
پر پہلے کیوں یاد نہیں آیا اتنے ماہ کے بعد کیوں۔۔؟”
“کیونکہ میں عروشمہ کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔۔کوشش تھی کہ اسکا درد کم کرسکوں۔۔
پر ناکام رہی ۔۔ان مہینوں میں میں نے اس لڑکی کو اس طرح ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے جو کبھی بہت خو اعتماد تھی
اپنوں کی پیاری تھی لاڈلی تھی۔۔۔اسے میں نے اسی کمرے کے ایک کونے میں گھٹتے ہوئے سسکتے ہوئے دیکھا ہے۔۔۔۔”
“تو قصور کس کا ہے ان سب میں۔۔؟ تمہیں آج اپنی دوست مظلوم نظر آرہی ہے اور جو والدین پر گزرتی ہے وہ دیکھ نہیں پارہی تم۔۔۔؟؟”
“ڈیڈ۔۔۔ مجھے بس واپس جانا ہے پلیز۔۔۔”
سوہا اپنے روم میں واپس چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سوہا۔۔۔بیٹی ہوئی ہے۔۔۔ہم اسے چھوڑنے جارہے ہیں ۔۔”
“عروشمہ۔۔۔عروشمہ۔۔۔”
کال بند کردی تھی۔۔۔
“میں نے کبھی نماز کی پابندی نہیں کی تھی کبھی دل و جان سے دعا نہیں مانگی تھی کسی کے لیے
پر عروشمہ۔۔۔ میں سجدے میں دعائیں مانگتی تھی اللہ تمہیں بیٹی نہیں بیٹا دے۔۔۔
ایک غیر جگہ پر تم اس بچی کو چھوڑنے جارہی ہو۔۔۔اسکی آگے کی زندگی کیسی ہوگی۔۔؟؟
کیا ہوگی کیا ہوگا اسکے ساتھ جب وہ بڑی ہوگی۔۔؟؟
کاش تم اپنی محبت کا بھیانک روپ دیکھ لیتی۔۔۔ “
۔
اس رات سوہا سو نہیں پائی تھی۔۔۔ وہاں یہی حالت عروشمہ کی تھی جو ان دنوں اپنے گھر میں نہیں تھی وہ اس گھر میں تھے جو سائم صاحب نے ارینج کیا تھا ان لوگوں کے لیے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“ماما۔۔۔ماما۔۔۔”
گھنے اندھیرے میں وہ روشنی اسے اپنی اوڑھ کھینچے جارہی تھی جہاں چھوٹی سی بچی آگے آگے بھاگ رہی تھی وہ وہ پیچھے پیچھے۔۔۔
“بیٹا گر جاؤ گی۔۔۔واپس آجاؤ۔۔۔”
“ماما۔۔۔”
عروشمہ عروشمہ۔۔۔”
عروشمہ کو کندھے سے پکڑ کر کسی نے نیند سے اٹھایا تھا۔۔۔
چلتے پنکھے کے نیچے بھی وہ پسینے سے شرابور تھی
“ابو۔۔۔ابو کہہ رہے ہیں وہ لے جارہے ہیں اسے۔۔۔ تم نے دیکھنا ہے ملنا ہے۔۔؟؟”
بڑی بہن نے ہچکچاتے ہوئے کہا تھا جب عروشمہ کے چہرے پر نفرت ابھر آئی تھی
“میں نے اسے ہی تو دیکھا ہے اتنے مہینوں کبھی بدنامی کی صورت میں تو کبھی لاچارگی کی شکل میں مجھ سے دور لے جاؤ اسے وہ میرے گناہوں کا وہ ثبوت ہے جس کا نام و نشان بھی میں اپنی زندگی سے مٹانا چاہتی ہوں۔۔”
کروٹ لئیے وہ لیٹ گئی تھی۔۔۔
روتی ہوئی بچی کی آوازیں جیسے ہی سنائی دی تھی اسے اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا تھا
بارش بھی بہت تیز تھی اور ٹھنڈ بھی ہورہی تھی۔۔۔
وہ بچی اسکی فیملی میں سے کسی نے نہیں پکڑی تھی سوہا کے والد نے اسے پکڑا ہوا تھا
اس ناجائز اولاد سے اسکے گھر والے بھی اتنی نفرت کررہے تھے جتنی وہ۔۔۔
دل کے کسی ایک کونے میں ایک چبھن ہوئی تھی جب وہ بلکتی ہوئی بچی زارو قطار رو رہی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ لوگ یہاں سے آگے جا سکتے ہیں ہاشم صاحب آگے میں نہیں جاؤں گا۔۔۔ بی اونیسٹ میں ایک عزت دار بزنس مین ہوں کہیں کوئی تصویر یا ‘سی سی ٹی وی’ میں میرا چہرا آگیا تو سو مسئلے ہو سکتے ہیں۔۔۔”
“ہمم میں سمجھ سکتا ہوں۔۔ آپ یہاں تک آئے ہمارا ساتھ دیا ہمارے لیے کافی ہے۔۔”
ہاشم صاحب چہرے پر ماسک لگائے وہاں گئے تھے اس جھولے کے پاس جہاں ایک اور بچہ پہلے سے موجود تھا۔۔۔ انہوں نے گود میں پکڑی بچی کو وہاں لٹا دیا تھا۔۔۔اور واپس بڑھے تھے
بچی کے رونے کی آواز نے انکے قدم روک دئیے تھے۔۔۔
“اللہ ایسی اولاد کسی کو نہ دینا جو مجھ جیسے باپ کو اس مقام پر لا کھڑا کرے۔۔۔”
وہ اتنی بات کہہ کر واپس چلے گئے تھے۔۔۔
سائم صاحب کی گاڑی وہاں سے چلی گئی اور دوسری گاڑی وہاں آکر رکی تھی
“وہ لڑکی جیسے ہی گاڑی سے نکل کر اس جھولے کی طرف بڑھنے لگی تھی وہاں سے وہ دونوں بچے اٹھا کر اندر لے گیا تھا کوئی۔۔۔۔”
“شٹ۔۔۔۔”
۔
اس گاڑی میں اس نے صبح ہونے کا انتظار کیا تھا اور پھر اس ادارے میں وہ داخل ہوئی تھی جہاں اسے ناکامی کا ہی سامنا کرنا پڑا تھا۔۔
“آپ بات کو سمجھ نہیں رہے ہیں یہ بچی اسے میں اس ادارے میں نہیں رہنے دے سکتی خدا کے لیے میری مدد کریں۔۔”
“آپ اس بچی کے لیے اتنی فکر مند ہیں تو آڈوپٹ کرلیں۔۔”
“تو دہ دیجئے مجھے میں آڈوپٹ کرنا چاہتی ہوں۔۔”
“آپ نے رولز ٹھیک سے نہیں پڑھیں شادی شدہ جوڑے اگر ان قواہد پر پورا اتریں تو ہی وہ بچہ گود لے سکتے ہیں۔۔۔”
۔
“آپ لوگ ان ماں باپ سے لاکھ گنا اچھے ہیں۔۔ وہ بنا سوچے سمجھے بچے پیدا کرکے پھینک جاتے ہیں پر آپ لوگ ہر طرح کی انفارمیشن لیتے ہیں تسلی کرتے ہیں پھر کہیں جا کر یقین کرتے ہیں۔۔۔
میں اس بچی کو یہاں اپنی امانت چھوڑ کر جارہی ہوں۔۔۔ اسے میں ہی آڈوپٹ کروں گی۔۔
تب تک اسکا خیال رکھئیے گا۔۔۔یہ کچھ پیسے بھی۔۔پلیز۔۔۔”
اس بچی کی کچھ فوٹوز لے لی تھی۔۔۔
اور جب اسے اپنے سینے سے لگایا تو وہ روتی ہوئی بچی چپ کرگئی تھی۔۔۔۔
“میں بہت جلدی تمہیں لینے آؤں گی۔۔ ‘پارسا'”
اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر اس نے کئیر ٹیکر کی طرف دیکھا تھا۔۔
“آپ اس بچی کا نام پارسا لکھئیے گا۔۔۔”
۔
۔
وہ وہاں سے واپس چلی گئی جلدی واپس آنے کے لیے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“۔۔۔۔ایک سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“قبول ہے۔۔۔”
۔
وہ ایک لفظ جو وہ سوچتی تھی بس اپنے محبوب کو بولے گی جب اسکی دلہن بنے گی وہ محبوب جس نے اسے رسوائیوں کی نئی زندگی سے آشنا کروا دیا تھا
ساتھ پہلو میں آکر بیٹھنے والے شوہر کو تو اس نے کبھی کسی خاطر خواہ لانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی
جو اسکا کزن تھا جو آنکھوں کے سامنے رہا تھا ہمیشہ۔۔۔۔
“عروشمہ۔۔۔ نکاح مبارک ہو۔۔۔ اب سے تم میری ہوئی۔۔”
عاصم نے بہت گھبراتے ہوئے عروشمہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
“آپ کو بھی۔۔۔”
“میرا نام لو نہ۔۔۔ اس بار بنا ‘بھائی’ کہے۔۔۔۔”
عاصم کہتے ہوئے ہنس دیا تھا
“عاصم۔۔۔”
“ہائے۔۔۔تم ہمیشہ سے خوبصورت تھی عروشمہ۔۔۔ تمہاری شرم و حیا نے مجھے تمہاری طرف مائل کیا۔۔۔ آج تمہاری سادگی تمہاری معصومیت اور اس پر میرے نام کی مہندی تم غضب ڈھائی رہی ہو۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اب تو میں اسے لے جا سکتی ہوں نہ۔۔؟؟”
“ابھی پیپرز فائنالئز ہونے میں کچھ دن لگے پر۔۔۔ آپ لے جا سکتی ہیں پارسا کو اپنے ساتھ۔۔۔پچھلے کچھ ماہ سے ہم نے جتنی تسلی کرنی تھی وہ ہم نے کرلی ہے۔۔۔”
“تھینک یو سووو مچ۔۔۔۔”
وہ کرسی سے اٹھ گئی تھی۔۔۔اور پارسا کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا
“میرا شکریہ ادا کون کرے گا میڈم۔۔۔ میں شادی کے لیے ہاں نہ کرتا اتنے کم وقت میں تو کہاں جاتی۔۔؟؟”
“خالہ سے کہتی کہ کوئی اور ڈھونڈیں۔۔۔زندگی رک نہیں جانی تھی مسٹر۔۔۔”
“امی اپنی بھانجی کو دیکھ لیں۔۔۔”
“خالہ اپنے بیٹے کو بھی دیکھ لیں۔۔۔”
“افف تم دونوں یہیں لڑنا شروع ہوجاؤ۔۔۔ فلائٹ کا ٹائم ہورہا ہے۔۔۔
سوہا تمہارے موم ڈیڈ سے بھی ملنا ہے۔۔۔”
سوہا کے چہرے کے رنگ اڑھ گئے تھے اچانک سے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“زارا۔۔۔۔۔”
زارا کے لب لڑکھڑا گئے تھے جب فہد کے ہاتھ میں اس نے منہ دیکھائی کی جگہ کچھ اور دیکھا تھا
“یہ کیا ہے۔۔؟ بول دیجیے کہ جو میں سوچ رہی ہوں یہ وہ مقدس کتاب نہیں میرا وہم ہے۔۔۔”
اپنا گھونگھٹ اس نے خود اٹھا لیا تھا چہرے سے
“زارا۔۔۔یہ قرآن شریف ہے۔۔۔ آج زندگی کا یہ سفر شروع کرنے سے پہلے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔۔۔
اور تم اس پاک کتاب پر ہاتھ رکھ کر مجھے گواہی دو گی کہ تم۔۔۔”
زارا کی آنکھوں بے دیکھ کر آنسوؤں سے بھرے چہرے کو دیکھ کر فہد
کو خود پر بہت شرمندگی ہوئی تھی
“آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنی پاک دامنی کی قسم کھاؤں ہاتھ رکھ کر۔۔؟
میں بتاؤں کہ میرا کردار میری دوست عروشمہ جیسا نہیں۔۔؟
یہ بتاؤں کہ میں نے زنا نہیں کیا جسمانی تعلقات نہیں رکھے
تو میں قسم اٹھانے کو تیار ہوں فہد ہاتھ رکھنے کو بھی تیار ہوں۔۔۔
پر میں۔۔۔”
وہ بات کرتے ہوئے اٹھ گئی تھی پھولوں کی اس سیج سے
“زارا بس ایک بار۔۔۔ میرے گھر والے تو نکاح سے پہلے یہ سب کرنے کا کہہ رہے تھے۔۔۔ سب کے سامنے۔۔۔میں مجبور ہوں۔۔۔”
فہد نے سرگوشی کی تھی
“میں ہاتھ رکھ لوں پر میرا دل ڈرتا ہے۔۔۔ سنتی آئی ہوں قرآن مجید کی قسم نہیں کھانی چاہیے جھوٹے اور سچے دونوں کو۔۔۔
یہ بہت مقدس کتاب ہے
میں ہمت نہیں کر پا رہی ہوں۔۔۔ اگر عروشمہ کی حرکت سے پہلے کوئی میری پاک دامنی کی گواہی مانگتا تو میں وہ رشتہ توڑ دیتی پر خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے قسم نہ کھاتی۔۔۔
مگر۔۔۔ اب میں جانتی ہوں ہر موڑ پر ایسا ہوگا۔۔۔۔
میں قسم کھا لوں گی کیونکہ میرے دل میں چور نہیں ہے فہد
کیا آپ اس رات کے بعد اپنی بیوی پر یقین کریں گے۔۔؟
یا ہر بار قرآن مجید سامنے لایا کریں گے۔۔۔؟؟؟”
بات کرتے کرتے زارا نے سر جھکا لیا تھا اور جب ہاتھ رکھنے لگی تھی تو فہد نے پیچھے کرلیا تھا اپنا ہاتھ
“مجھے میری بیوی پر یقین آگیا ہے زارا۔۔۔
پھر کبھی تمہیں اس دہرائے پر کھڑا نہیں کروں گا۔۔۔”
پر زارا اس رات سعی معنوں میں سمجھی تھی سیانے کیوں کہتے تھے لڑکی خراب نکل آئے تو سات نسلیں خراب ہو جاتی ہیں۔۔۔
