51K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“زندگی غلطیوں کے بوجھ تلے اتنی دب گئی ہے کہ میرا سانس لینا بوجھل ہوگیا ہے
میں ہر روز آنکھیں بند کرنے سے پہلے ایک گناہ سرزرد کرتی ہوں میں زندگی کی تلخیوں سے نجات پانے کے لیے روز رات کو اپنے رب سے اپنی موت کی دعائیں مانگتی ہوں۔۔۔
رات کے اس پہر جب اسکے بندے اس سے خوشیاں مانگتے ہیں اولاد مانگتے ہیں صحت مانگتے ہیں دھن دولت مانگتے ہیں میں اس پہر اپنے مرنے کی دعائیں کرتی ہوں
میں نادانی میں وہ گناہ کرچکی ہوں جن کا تصور کوئی نہیں کرسکتا خاص کر و جو اپنے رب سے ڈرتا ہو۔۔۔اسکے ہر حکم کی اطاعت کرتا ہو۔۔۔
میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کوبرباد کردیا۔۔۔اب مجھے اس بربادی سے نجات چاہیے۔۔۔”
۔
وہ ہاتھ اٹھائے رو رہی تھی اپنے رب کےسامنے کل اسکی زندگی کا سب سے زیادہ کٹھن دن تھا۔۔۔
کل اس بدبخت نے قبرستان جانا تھا اپنے ماں باپ کی قبر پرجسے اس نے وہاں پہنچا دیا تھا۔۔۔
سب کہتے ہیں وہ اپنی آئی پر گئے ہیں۔۔پر وہ جانتی ہے اس نے خود اپنے ہاتھوں سے قتل کیا ہے۔۔۔ اسکے گناہوں نے مار دیا اسکے ماں باپ کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم اندر جاؤ ہم یہیں ویٹ کرتے ہیں۔۔۔”
وہ سب دوست باہر کھڑی ہوگئیں تھی اس قبرستان کے۔۔۔
سر ڈھانپے وہ اندر جاتی جارہی تھی اور ایک درخت کے بلکل پاس وہ دو قبر جن پر نظر پڑتے ہی عروشمہ کے وجود نے جواب دہ دیا تھا۔۔۔
آہستہ آہستہ قدموں سے وہ چل رہی تھی
“آپ تو کہتے تھے آپ ہمیشہ ساتھ رہیں گے ساتھ دیں گے اپنی بیٹیوں کا۔۔۔
ابو۔۔۔ اولاد میرے جیسی ہی ہوتی ہے گناہ گار بدکار۔۔۔۔ آپ ایک بار بڑاپن دیکھا دیتے۔۔۔ایک بارزرا سی شفقت دیکھا دیتےابو میں بہک گئی تھی۔۔ پر میرے ساتھ بھی وہی ہوا جو آپ کے ساتھ ہوا۔۔۔مجھے بھی وہی دھوکا ملا تھا جو آپ کو مجھ سے ملا۔۔۔
میری بات سن لیتے ایک بار۔۔۔ ابواب آپ سن رہے ہیں نہ۔۔؟؟ آپ بات کریں گے تو امی بھی مجھ سے بات کریں گی۔۔۔
“عروشمہ۔۔۔؟؟؟”
ایک ہلکی سی آواز آئی تھی اسے پیچھے سے۔۔۔اور جب مڑ کر دیکھا تو وہی شخص کھڑ ا تھا جس نے اسے برباد کردیا تھا
“شانی۔۔۔؟؟؟”
اس نے سرگوشی کی تھی اور اٹھ گئی تھی
“شانی۔۔؟؟ ہاہاہاہا شہان نہیں کہو گی تمہاری جان شہان۔۔؟؟”
کالی چادر کو منہ سے ہٹا کر وہ آگے بڑھا تھا اور اپنے ہاتھ جیسے ہی باہر نکالا تھا اس میں گن تھی
“تم۔۔۔”
اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے وہ کچھ قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔
“مجھ پر کیس کروا کر اچھا نہیں کیا تھا تم نے پچھلے چار سال میری زندگی کے میرے مستبقل کے تم نے مٹی میں ملا دئیے۔۔۔”
“تم پر لعنت ہو خدا کی گھٹیا شخص تم جیل سے باہر بھی کیسے آگئے۔۔۔میرا بس چلے تو میں تمہیں خود قتل کردوں۔۔۔”
اتنی طیش سے اسے تھپڑ مارا تھا کہ وہ جیسے ہی پیچھے ہوا اسکی گن گر گئی تھی نیچے۔۔۔
“اتنی جرات ہے تم میں مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔؟؟ دھکے دے کر نکالی گئی محلے سے پھر بھی۔۔؟؟ یہ کس کا عذاب لئیے گھوم رہی ہو میری اولاد کو ایدھی پھینک کر۔۔؟”
اس نے گن اٹھا کر عروشمہ پر تان دی تھی۔۔۔
“عذاب۔۔؟؟ جائز اولاد ہے بےغیرت شخص۔۔۔تمہارے جیسے گھٹیا آدمی کی اولاد،،،؟؟ تم کیسے انسان ہو۔۔؟؟”
“ہاہاہا میں جانور ہوں۔۔۔ اسی جانور نے تمہیں تمہاری آخری سزا دینی ہے مس عروشمہ۔۔۔اسکے بچے کے ساتھ تمہارا خاتمہ کردوں گا۔۔۔”
اس نے پہلی گولی جیسے ہی عروشمہ کے پیٹ پر ماری تھی وہ پیچھے جاگری تھی
“کسی نے سچ کہا تھا۔۔۔ لڑکیاں اگر اپنی محبت کا بھیانک چہرہ دیکھ لیں تو کبھی کسی نامحرم کی محبت میں گرفتار نہ ہوں۔۔۔
میں نے اس ناجائز دو دن کی محبت کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔۔۔؟؟
اور ایک گولی لگتے ہی اسکی آنکھیں بند ہوگئی تھی۔۔۔۔
۔
“عروشمہ۔۔۔۔عروشمہ۔۔۔۔”
بہت سی آوازیں اسے سنائی دے رہی تھی۔۔۔
۔
کچھ دیر میں اسے ہسپتال لے جایا گیا۔۔۔
“ایم سوری انکی دیتھ ہوچکی ہے۔۔۔
دیتھ ڈیٹ اینڈ ٹائم نوٹ کرلیں سسٹر”
۔
۔
عروشمہ۔۔۔۔۔
عروشمہ۔۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ گئی تھی اپنی گہری نیند سے۔۔۔
“عروشمہ بیٹا اٹھ جاؤ کالج کے لیے لیٹ ہورہی ہو۔۔۔”
“امی۔۔؟؟”
اس نے نظر دہرائی تو اپنے کمرے میں موجود تھی ہلکی سی وائبریشن پر اس سے میٹرس کو ہلکا سا اٹھایا اور وہ موبائل فون نکالا تھا جو اس نے وہاں چھپا کر رکھا ہوا تھا۔۔۔ یہاں وہاں دیکھتے ہی وہ گھبرا گئی تھی وہی گھر وہی کمرہ باہر سے سب گھر والوں کی ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔
ماتھے سے پسینہ صاف کرکے اس نے موبائل فون پر نام دیکھا تھا
گھبراہٹ سے وہ فون بستر پر گر گیا تھا اور پھر بجنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
اس نے کال پک کرکے جیسے ہی اٹھائی دوسری طرف سے ایک آواز جو اسے صاف سنائی دے رہی تھی اور آنکھیں آنسوؤں سے دھندلا گئیں تھیں
“شہان کالنگ۔۔۔۔”
“ہیلو۔۔۔۔عروشمہ۔۔۔؟؟ آج کا پروگرام پکا ہے نہ۔۔؟؟ میں نے اپنے دوست کا روم لیا ہے۔۔۔ وہیں چلیں گے گپ شپ کریں گے تم تیار رہنا۔۔۔”
۔