Yaariyan by Sidra Sheikh readelle50013 Episode 02
Rate this Novel
Episode 02
“آپ کو عروشمہ ہی ملی ہے بھائی کے لیے۔۔۔؟ ہر وقت تو کتابی کیڑا بنی رہتی تھی اور تو اور بھائی کو بھی عاصم بھائی کہتی ہے بھلا اتنی ڈمب لڑکی ہماری کلاس میں ایدجسٹ کر پائی گی۔۔؟؟”
طویل خاموشی کے بعد اس چلتی گاڑی میں پیچھے بیٹھی ان کی بیٹی نے پوچھا تھا
“شادی تم نے کرنی ہے یا تمہارے بھائی نے ۔۔؟؟”
فرنٹ سیٹ پر بیٹھے والد صاحب نے سخت لہجے میں پوچھا تھا
“پر ڈیڈ۔۔۔۔اففف عاصم بھائی آپ ہی کچھ کہیں۔۔۔”
عاصم نے ریڈ لائٹ دیکھ کر اشارے پر گاڑی کھڑی کی تھی
“عروشمہ میں کیا بُرائی ہے۔۔۔؟؟ امی کو پسند ہے تو مجھے بھی پسند ہے شئ از ا نائس گرل۔۔
اور تم جانتی ہو مجھے لائف پارٹنر میں کلاس نہیں سیرت چاہیے۔۔۔
ہمارے خاندان کی ہے وہ تو مجھے پورا بھروسہ ہے امی کی پسند پر۔۔۔”
“میرا بیٹا ہے۔۔۔ کچھ سیکھو اپنے بڑے بھائی سے نوشین۔۔۔”
“یا ۔۔وٹ ایور۔۔۔”
دوابرہ گاڑی سٹارٹ کردی تو عاصم کے موبائل پر ایک کال آنا شروع ہوگئی تھی
اس نے وہ کال تو کاٹ دی پر واال پیپر پر لگی عروشمہ کی تصویر سے
نظر نہیں ہٹا پارہا تھا وہ۔۔۔ مامو کے گھر تک کا راستہ بچپن کی یادوں کو یاد کرتے ہی کٹ گیا تھا۔۔۔
۔
کتنے سال کے بعد انکی واپسی پاکستان ہوئی تھی۔۔۔ نگہت بیگم کی خواہش تھی وہ اپنے بھائی کی بیٹی کو اپنی بہو بنائے۔۔۔ اور عاصم کی پسندیدگی عروشمہ کے لیے جان کر وہ اور زیادہ خوش ہوئیں تھیں اور آج انہوں نے تھان لیا تھا کہ بھائی کو منا کر رشتہ پکا کرکے ہی جائیں گی
۔
“نگہت بیگم اس بار اگر ہاشم نے پچھلی بار کی طرح انکار کردیا تو ہم افتخار کی بیٹی سے رشتے کی بات کریں گے۔۔۔”
“پر موبین۔۔۔ “
“افتخار بھی تو بھائی ہے نہ آپ کا۔۔؟ اسکی بیٹی میں کیا خرابی ہے۔۔۔؟؟”
“کیونکہ ہمارے عاصم کو عروشمہ پسند ہے ۔۔۔ اور آپ نے پاکستان آنے سے پہلے وعدہ کیا تھا آپ اس بار کوئی تلخ بات نہیں کریں گے ان کے سٹیٹس پر۔۔۔”
“جی ابو۔۔۔ امی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔ میری رضامندی عروشمہ میں ہے۔۔۔
مامو جان کے سٹیٹس سے مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔اور انکے انکار کی وجہ بھی تو دیکھیں
عروشمہ کی تعلیم مکمل ہوجائے تو یہ بھی اچھی بات ہے۔۔۔”
۔
عاصم کے چہرے پر جتنی مسکان تھی باتوں میں اتنی ہی نرمی بھی تھی اور اسی بات پر والد اور بہن نے ہاں میں سر ہلا دیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھ میں ہمت نہیں ہے ۔۔۔ دن گزرتے جارہے ہیں اور مجھ میں سے ہمت جاتی جارہی ہے۔۔
مجھے یاد ہے میں آخری بار اتنا پریشان اس وقت ہوا تھا جب مجھے یونیورسٹی داخلے کے لیے کم ہوتی رقم اکٹھی کرنی تھی
پریشان تب ہوا تھا جب اپنے باپ دادا کو سمجھا رہا تھا کہ بیٹیوں کو تعلیم دلوانا کتنا اہم ہے۔۔
میں خاندان میں اپنی بیٹیوں کو وہ مقام دلانے کی کوشش میں تھا
اور بیٹی نے معاشرے میں میرا مان چھین لیا۔۔۔”
ہاشم صاحب صحن میں چارپائی پر بیٹھے اپنی بیگم کو بہت آہستہ آہستہ بتا رہے تھے اپنے دل کا درد آپ بیتی۔۔۔
“سمجھ نہیں آرہی کیا ڈھونڈوں۔۔؟؟ اس لڑکے کو یا کسی لیڈی ڈاکٹر کو۔۔؟؟
یہ بات تو طہ ہے میں اسے نقصان نہیں پہنچاؤں گا نہ ہاتھ اٹھاؤں گا۔۔
پر میں اس اب اپنی بیٹی تسلیم بھی نہیں نہیں کروں گا۔۔۔
میرا شریکہ بیٹھا ہوا ہے۔۔۔میں کس سے مدد مانگو۔۔؟ کسے بتاؤں گا۔۔؟؟
خاندان والے تو بےدخل کریں گے ہی اگر محلے والو ں کو یہ بات پتہ لگ گئی تو۔۔۔
انکے طنز طعنے نہ یہ بد بخت برداشت کرپائے گی اور نہ ہی ہم سب۔۔۔”
۔
آنکھیں صاف تھیں پر لفظ روو رہے تھے جو زبان سے ادا ہوئے۔۔۔
انکی آنکھیں خشک ہوچکی تھی پر چہرہ بتا رہا تھا وہ اس آخری کڑی کو پکڑے زندہ ہیں۔۔۔
“ہاشم۔۔۔ سوہا کی والدہ نے ہمیں بُلایا ہے۔۔ہمیں ہی نہیں بلکہ سب بچیوں کے والدین کو بُلایا ہے “
“تم لی جانا مجھ میں ہمت نہیں۔۔۔پر ان چار بچیوں سے ایک بات ضرور پوچھنا۔۔۔ ہم نے ان لڑکیوں کو اپنی بیٹیاں سمجھ کر یقین کیا تھا اپنی بیٹی کو بھیجتے تھے ان کے ساتھ اس دن کے لیے۔۔؟؟
پوچھنا ان سے۔۔۔اگر وہ بےقصور ہوئیں تو ان کے ماں باپ کو کہنا
“سونے کا نوالہ کھلائیں پر شیر کی نگاہ رکھیں اپنی بیٹیوں پر۔۔۔”
۔
بیگم کی آنکھیں بھیگ چُکی تھیں ایک گہری خاموشی انہیں احساس دلا رہی تھی ایک آنے والے طوفان کا۔۔۔
۔
“یہ کیا چپ چپ کرکے آہستہ آواز میں باتیں کی جارہی ہیں۔۔؟؟”
نگہت بیگم کی چہکتی ہوئی آواز نے ان سب کو حیران کردیا تھا۔۔۔
“یا اللہ آپ لوگ تو کچھ ری ایکٹ ہی نہیں کر رہے میرے سرپرائز پر۔۔۔”
وہ بھاگتے ہوئے بھائی کے گلے لگی تھیں۔۔۔
“نگہت۔۔۔ اچانک ۔۔؟؟ پاکستان کب آئی۔۔؟؟ موبین بتایا بھی نہیں فون کردیتے۔۔۔”
ہاشم صاحب چہرے پر ایک مسکراہٹ لے آئے تھے اور موبین صاحب کو ملتے ہوئے اور پھر بچوں کو۔۔۔عاصم کو دیکھ کر وہ حیران ہوئے تھے۔۔۔ کچھ سالوں میں بہت فرق آگیا تھا۔۔۔
“ماشاللہ۔۔۔بیگم ہمارے بچے تو پہچانے ہی نہیں جارہے عاصم نوشین کتنے بڑۓے ہوگئے ہیں
اور بےحد خوبصورت بھی۔۔۔
اپنی آنکھیں صاف کئیے وہ جلدی سے اٹھ کر نگہت کو ملیں تھی اور پھر باقی بچوں کو۔۔۔
ابھی وہ سب باتیں کررہے تھے کہ اندر سے رونے کی آواز آئی تھی
“یہ کس کی آواز تھی کیا ہوا ہے بھابھی۔۔؟؟”
“ارے عرشمہ ہوگی کوئی لال بیگ دیکھ لیا ہوگا۔۔۔آپ لوگ آئیں لیونگ روم میں بیٹھیں میں ابھی آئی۔۔۔”
وہ وہاں سے جلدی سے بچیوں کے کمرے میں چلی گئیں تھیں اور دروازہ بند کر کے عروشمہ کو دیکھا تھا۔۔۔
“اتنا سب کرکے بھی چین نہیں ملا تمہیں۔۔؟ جو عزت کا جنازہ نکال دیا ہے اس سے جی نہیں بھرا جو ہمیں مارنے پر تلی ہوئی ہو۔۔؟؟”
عروشمہ کو بازو سے پکڑ کراٹھایا تھا انہوں نے
“امی میری بات سن لیں مجھے معاف کردیں۔۔”
“عروشمہ تجھے یہ کام کرتے ہوئے شرم نہیں آئی اب معافیاں مانگ کر کچھ حاصل نہیں ہوگا عزت جاچکی ہے۔۔۔
بلکہ عزت کو تم خود اتار پھینک آئی ہو۔۔۔ سچ سچ بتاؤ کس دوست کے گھر میں یہ گھنوناکام کیا تھا۔۔؟ کتنی بار دھوکا دیتی رہی۔۔؟؟ کون کون شامل تھا۔۔؟
یا تم سب دوستوں کا یہ معمول کا کام تھا۔۔؟؟”
“امی بس۔۔۔ پلیز۔۔۔”
بڑی بہن نے عروشمہ کو بچانے کی کوشش کی تھی جب ماں نے بالوں سے پکڑا تھا
“سائرہ اسے اپنی زبان سے سمجھا دو نیچے تمہاری پھپھو اپنی فیملی کے ساتھ آئیں ہیں یہ اپنا حلیہ ٹھیک کرکے آئے جب بھی۔۔۔ ورنہ باہر مت نکلے اس کمرے سے۔۔۔
تمہارے چچاچچی اور باقی سب لوگ بھی نیچے موجود ہوں گے تو تم سب بھی چہرے ٹھیک کرو
بخش دو ہمیں۔۔۔ غلطی ہوگئی ہم سے جو تم بچیوں کو اتنی کھلی چھٹی دی ہم نے۔۔۔”
دونوں ہاتھ جوڑ کر وہ وہاں سے چلی گئیں تھیں۔۔۔
۔
“عروشمہ باجی۔۔۔آپ نے زنا کیا ہے اتنا بڑا گناہ۔۔۔ اس سے اچھا تھا آپ نکاح کرکے بھاگ جاتی۔۔۔ پر واپس نہ آتی یہاں۔۔ آپ کا سایہ بھی نہ پڑتا ہم پر۔۔
آپ کی ایک بھول نے ہمیں کہاں سے کہاں لاکر کھڑا کردیا۔۔۔”
سب سے چھوٹی بہن نے پھر سے دروازہ بند کردیا تھا روم کا۔۔۔
آج عروشمہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔ ریت کی طرح سب پھسل رہا تھا۔۔
“عروشمہ باجی۔۔۔ آپ جس محبت کے پیچھے اس حد تک چلی گئی اس سے تو ایک بار رابطہ کریں اسے کہیں وہ آپ سے نکاح کرے اور لے جائے۔۔
ہم جلدی میں ہورہی شادی کی وجہ تو بتا دیں گے لوگوں کو۔۔۔پر یہ بن بیاہی ماں۔۔
یہ داغ ہمارے جنازے کے ساتھ ہی دفن ہوگا۔۔۔”
عروشمہ اس بات پر بیڈ پر گر گئی تھی
“وہاں مجھےمحبت کی سچائی تب پتہ چلی تھی جب وہ کاغذ ملا تھا جس میں لکھا تھا
میں اس سے پھر کبھی رابطہ نہ کروں۔۔کیونکہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ دبئی شفٹ ہورہا تھا
اب تک تو وہ زندگی کو بھرپور اینجوائے کررہا ہوگا۔۔ مجھ پر قیامت گرا کر۔۔۔”
“تم خود چل کر گئی تھی وہاں۔۔؟؟ “
“ہاں۔۔۔”
اس نے سر چھپا لیا تھا اپنے ہاتھوں میں۔۔
“پھر تو جواز رہا ہی نہیں عروشمہ۔۔۔ میں حیران ہوں کن وقتوں میں کن لمحات میں ہم نے نظر ہٹا لی تم سے۔۔۔تمہاری ہاں نے سب بات ختم کردی۔۔۔”
“ایک منٹ سائرہ آپی۔۔ بات ختم کرنے سے پہلے مجھے بس ایک بات پوچھنی ہے عروشمہ باجی سے۔۔
کیا آپ کو زرا سی شرم زرا سی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی کسی مرد کے ساتھ تنہائی میں ملاقات کرتے ہوئے۔۔؟
کیا ایک بات بھی آپ نے اپنی چھوٹی بہنوں کے مستقبل کے بارے میں سوچا۔؟؟
آپ کو زرا خدا کا خوف نہیں آیا۔۔؟؟ گناہ کیا ہے آپ نے۔۔۔
جب آپکو شرم نہیں آئی تو ابو بھی اب شرم نہیں کریں گے۔۔۔ ہمیں بھی ہٹا لیں گے پڑھائی سے۔۔۔”
الغرض یہ کہ لعنت ملامت پر وہ وقت بھی گزر گیا تھا
عروشمہ کے دل میں ایک ڈر سا ابھر آیا تھا پھپھو کے نام پر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایسے لگتا ہے جیسے کل ہی بات ہو بھابھی سب ہی آگئے عروشمہ نہیں آئی۔۔؟
کسی نے اسے میرے آنے کا بتایا نہیں۔۔؟؟ پہلے تو بہت بھاگتے ہوئے آتی تھی “
پھپھو نے چائے کا کپ رکھ کر شکایت کی تھی۔۔۔
“پتہ نہیں اسے مسئلہ کیا ہے پھپھو پچھلے ایک ہفتے سے یہی عجیب عجیب حرکتیں کررہی۔۔۔”
چچا کی بیٹی نے اپنے کزن عاصم سے نظریں ہٹا کر کہا تھا
اور اسی وقت عروشمہ وہاں آگئی تھی
سرخ آنکھیں سر پر چادر سر جھکا ہوا۔۔ سب سے زیادہ وہاں عاصم شاکڈ ہوا تھا
وہ کزن جس نے بات کرتے ہوئے کبھی سر نہیں جھکایا تھا آج بات سے پہلے ہی سر جھکا لیا تھا
“السلام علیکم پھپھو۔۔۔”
“عروشمہ بچے یہ کیا حالت بنا لی ہے۔۔؟؟ کیا ہوا ہے۔۔؟؟”
“کچھ نہیں نگہت بس ہلکا سا بخار ہے یونیورسٹی اینٹری ٹیسٹ کی تیاری میں یہ حالت بنائی ہوئی۔۔
تمہیں پتہ ہی ہے کتنی پڑھاکو ہے ہماری عروشمہ۔۔۔”
عروشمہ کی والدہ نے بات کو کور کردیا تھا پر بیٹی کو باتوں باتوں میں بہت زیادہ طنز کرنے کے بعد۔۔۔
“میری بچی اپنی صحت کا بھی خیال رکھو۔۔۔”
نگہت بیگم نے بہت دیر تک اپنے گلے سے لگا کر رکھا تھا عروشمہ کو۔۔۔اس سے پہلے وہ پھر سے ٹوٹ جاتی پھر سے رونا شروع ہو جاتی وہ جلدی جلدی میں باقی سب کو مل کر وہاں سے چلی گئی تھی
“بھابھی عروشمہ ٹھیک تو ہے۔۔؟؟”
“جی بلکل نگہت ٹھیک ہے۔۔۔”
“وہ ٹھیک ہے۔۔۔ٹھیک کیوں نہ ہوگی۔۔؟ اپنی اوقات سے زیادہ دے رہا ہوں۔۔
انکی حیثیت سے زیادہ مل رہا ہے انہیں۔۔۔ عزت کی روٹی یہ عیش و عشرت والی زندگی دی ہے میں نے اپنا پیٹ کاٹ کر۔۔۔ خون پسینے کی کمائی سے اس گھر کو سینچ رہا ہوں۔۔۔
تو وہ ٹھیک کیوں نہیں ہوگی۔۔۔؟؟”
ایک خالی جگہ پر دیکھتے ہوئے انہوں نے وہ سوال پوچھے تھے لگ رہا تھا جیسے خود سے کررہے ہوں وہ بات۔۔۔
دونوں بھائی نے اب اپنے بڑے بھائی کے چہرے پر ایک پریشانی سی دیکھی تھی
“سائرہ بیٹا جاؤ کھانا بناؤ۔۔۔اور تم دونوں ہیلپ کرو بہن کی جاکر۔۔۔”
اپنی تینوں بیٹیوں کو وہاں سے بھیج دیا تھا۔۔۔
وہ دونوں میاں بیوی جو اونچی آواز میں بیٹیوں سے بات نہیں کرتے تھے آج انکے لہجے میں زرا برابر بھی نرمی نہیں تھی
“ہاشم بھائی۔۔۔ میں کچھ کہنا چاہتی تھی آپ سے۔۔۔”
وہاں گپ شپ کرتے ہوئے سب لوگ متوجہ ہوئے تھے اور اسی وقت حمدا بھی وہاں آگیا تھا۔۔۔ حیرت کی بات یہ تھی حماد نے اپنے ماں باپ کو سلا کرکے اور کوئی بات نہیں کی اور ان دونوں نے بھی اپنے بیٹے سے کوئی سوال جواب نہیں کیا تھا اس وقت۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وٹ ربیش سوہا۔۔۔”
“شئ از پریگننٹ موم۔۔۔۔اور جس لڑکے کی انفارمیشن میں نے غفور انکل سے نکلوائی جو پاکستان سے بھاگ گیا ہے۔۔۔ اس لڑکے نے کچھ نشہ آور چیز پلا کر اسے بےہوش کردیا اور۔۔۔”
“کیا بکواس کئیے جارہی ہو۔۔۔”
سوہا کے ڈیڈ اپنی چئیر سے اٹھ گئے تھے
“ڈیڈ۔۔۔۔”
“سائم آپ ڈرا رہے ہیں اسکی بات سن لیں۔۔”
“بات سن لوں۔۔؟؟ تم جانتی بھی ہو کیا کردیا ہے ان لڑکیوں نے۔۔۔؟
اینڈ یو سوہا۔۔آج کے بعد تم ان لڑکیوں کے ساتھ نظر نہیں آؤ گی میں آج ہی گارڈز کو منع کردوں گا اس گھر میں کوئی بھی میری اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوگا۔۔۔”
وہ غصے سے کہہ کر جانے لگے تھے جب سوہا انکے سامنے کھڑی ہوگئی تھی
“میں جانتی ہوں اس نے غلطی۔۔گناہ کیا ہے۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔ پر وہ بدکردار نہیں تھی۔۔۔
میں نے بہت کم وقت میں اسے پہچان لیا تھا۔۔۔ اس نے محبت پانے کے لیے عزت بھی گنوا دی۔۔۔ کیونکہ وہ نادان نا سمجھ جھانسے میں آگئی۔۔۔وہ غلط ہے میں مانتی ہوں۔۔۔
پر میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔عزت تو ویسے بھی خراب ہوجائے گی جب یہ سچ سب کے سامنے آئے گا۔۔۔ ہم سب دوستوں کی زندگیاں اسی لپیٹ میں آجائیں گی۔۔۔”
سوہا کی آنکھوں سے نکلتے آنسوؤں نے والد کا دل پگھلا دیا تھا
“سوہا تم۔۔۔”
“ڈیڈ آپ تو پاور فل ہیں کچھ کیجئے اس مجرم کو یہاں واپس بُلائیے۔۔۔ عروشمہ کی غلطی بھی ہے
پر اس میں جو بیٹی تھی جو اس کام کو ہوتے ہوئے روک سکتی تھی اسے تو نشہ آور چیز پلا کر سلا دیا گیا۔۔۔
اگر وہ ہوش میں ہوتی تو نہ کرتی یہ۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ تم اسے یا کسی لڑکی کے گناہ کو جسٹیفائی نہیں کرسکتی کہ اسے نشہ آور چیز پلا دی گئی۔۔۔
میں پوچھتا ہوں کیوں گئی وہ۔۔۔؟؟ کیوں کسی نامحرم کے ساتھ وہ باہر گئی۔۔؟؟
ہاشم صاحب کی تعلیمات نے کیا زرا انکی بیٹی پر اثر نہیں کیا تھا۔۔؟؟”
وہ چلائے تھے اور اسی وقت سوہا کی موم نے سوہا کو پیچھے کردیا تھا
“سائم۔۔۔”
“ایک منٹ تم بھول گئی ہمارے رشتے دار ضومیر چچا کی بیٹی۔۔؟؟
سوہا وہ بیٹی جو رات کے اندھیرے میں بھاگی تھی گھر سے۔۔۔ کسی سے نکاح کیا نہیں کیا اللہ بہتر جانتا ہے۔۔۔
ایک سال بعد ایک بچے کے ساتھ وہ واپس گھر آئی تو جسم کا ایک حصہ ایسا نہیں تھا جو مار پیٹ سے بھرا ہوا نہ ہو۔۔۔
اور تم جانتی ہو معاشرے نے اس آدمی کو کچھ نہیں کہا
سب کہتے تھے یہ عورت کرپٹ تھی اسکا قصور تھا
ورنہ کسی کی کیا جرات۔۔۔اور سوہا۔۔۔۔ چچا کو پورے خاندان میں سے کسی ایک فرد کی ہمدردی نہیں ملی تھی۔۔۔ کیونکہ انکی بیٹی نے گھر کی دہلیز پار کی تھی۔۔۔
وہ لڑکے کو تو میں پکڑ لوں گا اسے سزا بھی دلوا دوں گا۔۔۔ دل کو سکون ملے گا تو بس کچھ فیصد۔۔؟؟؟ کیونکہ یہ سوال بار بار ذہن نشین رہے گا کہ عروشمہ گئی تو گئی کیوں۔۔۔”
۔
سوہا کا چہرہ اسکے آنسوؤں سے بھر گیا تھا
“سوہا۔۔۔”
“موم شئ از اننوسینٹ۔۔۔ اسکی معصومیت کا فائدہ اٹھایا گیا ہے
وہ۔۔۔”
“اسکی معصومیت کا فائدہ اٹھایا گیا رائٹ۔۔؟؟تو پھر اس نے جو ماں باپ کے دئیے گئے یقین اور بھروسے کا فائدہ اٹھایا۔۔۔؟؟اس بات پر اگر میں یہ کہوں کہ جو بیٹیاں ماں باپ کو دھوکا دیتی ہیں وہ ڈیزرو کرتی ہیں آگے سے انکے ساتھ یہ ہو’ تو یہ غلط تو نہیں ہوگا سوہا۔۔؟؟
تم جانتی ہوں ہمارے گھر کا ماحول ہمارا سٹیٹس۔۔۔ لیکن اگر کل کو تم یہ گناہ کرتی تو میں تمہیں وہ سزا دیتی کہ دنیا دیکھتی۔۔۔ میں ان ماؤں میں سے ہوں جو سونے کا نوالہ تو کھلاتی ہیں پر شیر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔۔
نہیں یقین تو اپنے موبائل میں لگے ٹریکر سے اور اس میں ٹریکنگ چیپ سے کنفرم کرلو۔۔۔
مجھے نفرت ہے ان بچیوں سے جو ماں باپ کی دی ہوئی آزادی کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔۔۔
محبت کرنا ایک الگ فعل ہے۔۔۔ اس محبت کے پیچھے عزتیں لُٹا دینا محبت نہیں۔۔۔”
۔
سوہا نے آج اپنے والدین کا ایک الگ ہی روپ دیکھا تھا۔۔۔ وہ ماں باپ جو ہمیشہ ہنسی مذاق کرتے رہے نرمی کرتے رہے آج ان کا وہ روپ دیکھا تھا اس نے جو شاید کبھی دیکھایا نہیں تھا انہو ں نے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں آج پھر عروشمہ کا ہاتھ مانگنے آئی ہو ں آپ کے در پہ ہاشم بھائی۔۔۔”
ہاشم صاحب کا ہاتھ وہیں رک گیا تھا حلق میں سے وہ نوالہ نیچے نہیں اتر رہا تھا جو وہ کھا رہے تھے سب کے ساتھ بیٹھ کر۔۔۔
ہاشم صاحب کی آنکھیں بھر آئیں تھیں
“ہاشم بھائی۔۔ ایم سو سوری۔۔۔ آپ مجھے انکار کردینے پر مایوس نہ ہوں میں پھر۔۔۔”
“نگہت میں مایوس اس بات پر ہوں کہ کیوں نہیں نے پہلے ہی ہاں کردی ۔۔کیوں میں انتظار میں تھا۔۔۔ بیٹی کی تعلیم تو شادی کے بعد بھی مکمل ہوجاتی نہ۔۔۔؟؟
پھر کیوں میں انکار کرتا رہا۔۔۔؟؟”
ہاشم صاحب کو کچھ پل لگے تھے اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کے لیے
“کیونکہ آپ نے عروشمہ کی ضد پر پھپھو کو انکار کیا تھا تایا جان۔۔۔ عروشمہ نے آخر تک عاصم بھائی عاصم بھائی کی رٹ لگائے رکھتی تھی۔۔۔اسے تعلیم مکمل کرنی تھی آزاد خیال کی پڑھی لکھی ماڈرن گرل بننا تھا اور کسی منسٹر کی بیوی۔۔۔”
بہت سے لوگوں نے غصے سے دیکھا تھا اس کزن کو باقی بہت ہنسے بھی تھے
عروشمہ کے خیالات کسی سے بھی چھپے ہوئے نہیں تھے۔۔
اور عروشمہ کی فیملی۔۔۔ جو آج تک اپنی بچی کے خیالات پر فخر محسوس کرتی تھی وہ آج نفرت محسوس کررہی تھیں۔۔۔
۔
کتنا فرق آگیا تھا۔۔ صرف ایک غلط قدم نے جان دینے والے ماں باپ کے نظریات بدل دئیے تھے اولاد کو لیکر۔۔۔
۔
“پھپھو ہم تیار ہیں۔۔۔ آپ آج نکاح پڑھا لیں۔۔۔ ہم تیار ہیں۔۔۔
مگر رخصتی ہم دو سال بعد کریں گے۔۔۔دو سمسٹر مکمل ہوجائیں دو یہ شادی کے بعد کرلے گی۔۔۔
اور اگر عاصم کو اعتراض ہو تو اسکی تعلیم بھی چھڑا دے کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔ویسے بھی پڑھ لکھ کر کونسا تیر مار لینے ہیں۔۔۔”
حماد آگ اگلتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
“کچھ تو گڑبڑھ ہے بیٹا۔۔۔”
چچی نے اپنی بیٹی سے کہا تھا
“امی فکر نہ کریں عروشمہ کی دوست کی بہن سے میری سلام دعا ہے پتہ کرتی ہوں۔۔ جگری دوستیں ہیں کچھ تو پتہ ہوگا۔۔۔”
۔
“حماد کو کیا ہوا ہاشم بھائی میری کوئی بات بُری لگ گئی۔۔؟؟”
“نہیں نگہت کوئی بات بُری نہیں لگی۔۔۔ حماد ہی کامیاب بزنس مین بن گیا ہے اور عروشمہ۔۔
اس نے بھی بہت پڑھائی کرلی ہے میرے خیال سے یہی وقت ہے نکاح کرنے کا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ خدا کا خوف کھائیں امی۔۔۔ نکاح شادی۔۔؟؟ میں اب کسی کے قابل نہیں رہی۔۔۔ میں کیسے دھوکا دے سکتی ہوں کسی کو بھی۔۔؟؟”
“ماں باپ کو دھوکا دینا یاد تھا تمہیں۔۔ تب تمہارا دل نہیں کانپا۔۔؟؟”
والدہ کی جھڑک نے اسے پیچھے ہونے پر مجبور کردیا تھا
“میں سب کچھ بتا دوں گی پھپو کو۔۔۔ وہ لوگ اوپر چچا کے پورشن میں ہیں۔۔؟؟ میں ابھی انہیں۔۔۔”
عروشمہ کے منہ پر ایک تھپڑپڑا تھا والدہ سے جو ایک اور تھپڑ مارنے کو تیار تھیں جب ہاشم صاحب نے ہاتھ پکڑ لیا تھا ان کا۔۔۔۔
“اس گناہ سے چھٹکارا نہیں مل سکتا ہمیں۔۔۔اور یہ غیر قانونی ہے۔۔۔ میں صرف تمہیں کچھ ماہ برداشت کر سکتا ہوں۔۔۔ اس بچے کی پیدائش کے بعد تمہارا نکاح ہوگا۔۔۔
اور میں تمہارا بدبخت باپ۔۔ان چند مہینوں میں اتنی ہمت لانے کی کوشش کروں گا کہ کسی کو نہ سہی پر نگہت کو بتا دوں یہ سب۔۔۔ اگر سچ جاننے کے بعد وہ مان گئی تو ٹھیک ہے۔۔۔
اگر نہیں تو تم بھی تیاری پکڑ لینا۔۔۔ کسی ہوسٹل یا کسی یتیم خانے پھینک آؤں گا تمہیں۔۔۔
اور ہم لوگ اس محلے سے چلے جائیں گے۔۔۔
ان بدنصیب بچیوں کو میں کہیں اور لے جاؤں گا تاکہ ان پر تمہارا بدنما سایہ نہ پڑے عروشمہ۔۔۔
تم جیسی اولاد۔۔۔۔
میرا کیا قصور تھا۔۔۔؟؟؟”
ہاشم صاحب نے آخر کار وہ سوال پوچھ لیا تھا جو اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا انہیں
میرا قصور کیا تھا عروشمہ۔۔۔؟؟ اس خاندان میں بس میں ہوں جس کی چار بیٹیا ں ہیں۔۔
پورے خاندان میں سب کے ہی بیٹے ہیں۔۔۔ مجھے وہ حیثیت وہ عزت نہیں ملی جس دن سے میں نے اپنی بچیوں کو اعلی تعلیم دلوانے کا فیصلہ کیا۔۔۔
اس گھر کا دروازہ ہر گھنٹے بعد کھلتا اور بند ہوتا تھا۔۔۔۔
کبھی میں دوکان بند کرکے تمہیں کالج چھوڑنے جاتا تھا تو کبھی حماد۔۔۔
پورا دن یہی کام ہوتا تھا ہمیں۔۔۔
اور اس میں فکر ہوتی تھی کہ کہیں دیر سے پہنچنے پر کوئی مسئلہ نہ ہوجائے۔۔۔
میں لوگوں سے تمہیں بچاتا رہا۔۔۔ اور تم لوگوں کے ساتھ مل کر عزت کو نیلام کرتی رہی۔۔۔۔
میرا رب جانتا ہے یہ کب سے شروع تھا۔۔۔ میرا رب جانتا ہے تم کب سے اپنے ماں باپ کو دھوکا دیتی رہی۔۔۔
اور میرا رب ہی تم سے حساب کرے گا عروشمہ کیونکہ میں نے اللہ پر ڈوری پھینک دی ہے۔۔۔
میں اس عمر میں ایک بے بس مجبور ایک لاچار باپ۔۔۔ عزتوں کا مارا آدمی۔۔۔
برادری کے طعنوں سے ڈر گیا ہوں۔۔۔ ایک آہٹ پر دل سہم جاتا ہے کہ کہیں کسی کو کوئی خبر تو نہیں ہوگئی۔۔۔”
داڑھی کے بال گیلے ہوگئے تھے انکی جب انہوں نے بات مکمل کی تھی۔۔۔
سسکیوں کی لڑی بندھ گئی تھی اس کمرے میں موجود ہر کوئی اشکبار تھا۔۔۔
۔
اور وہ ناسمجھ جو ماں باپ کا یقین توڑتی آئی جس نے اپنے کزن کا رشتہ اس لیے بھی ٹھکرا دیا تھا کہ اسے بہتر نہیں بہترین چاہیے تھا۔۔۔
آج وہ اسی بہتر کی مہربانی پر تھی وہ اسکی فیملی کی عزت۔۔۔۔”
۔
