51K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

“اندر آئیں۔۔۔سوہا بیٹا تم اپنی فرینڈز کو اپنے کمرے میں لے جاؤ
ہم لوگ تب تک کچھ بات کرلیں۔۔۔”
سوہا کی والدہ نے سنجیدہ لہجے میں کہا تو سوہا اپنی تینوں فرینڈز کو اپنے روم میں لے گئی تھی
سوہا کے ساتھ سب باتیں کررہی تھیں سوائے زارا کے۔۔۔
“زارا پلیز ایسے منہ نہ بناؤ۔۔۔ ہم سب یہاں مسئلے کے حل کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔۔”
“فائننلی تم لوگوں کو سمجھ آیا کہ یہ مسئلہ سب کا مسئلہ تھا۔۔۔میں جانتی ہوں۔۔۔ میری ماں کو کیسے بتایا میں نے۔۔۔ دو تھپڑ پڑے مجھے۔۔۔ وہ مجھ سے قسمیں لے رہی تھیں کہ میرا کوئی چکر تو نہیں کسی کے ساتھ۔۔۔
انہیں لگتا ہے ہم سب دوست شامل ہیں ہم نے ‘یاریاں’ لگوائی ہیں عروشمہ کی
میں نے اپنی امی سے ایک ہی بات کی اگر ہم اس قدر ہی گری ہوئی ہوتی تو
ابھی تک ہماری ‘یاریاں کیوں سامنے نہیں آئی۔۔۔
پر انہیں تو یقین ہو ہی نہیں رہا تھا۔۔۔۔”
زارا پھر آگ بگولہ ہوئی تھی۔۔
“ہم نہیں ذمہ دار ہیں تو کون ہے زارا جی۔۔؟؟ آخر کون تھا وہ جس کے ساتھ وہ جاتی رہی ہے۔۔؟؟ ظاہر ہے ہم لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی تھی وہ۔۔۔”
سوہا اسکے سامنے کھڑی تھی
۔
یہاں پھر سے لڑائی شروع تھی اور نیچے انکی امیوں کی۔۔۔
۔
“نہیں تو میری بیٹی کو اس گناہ کی دلدل میں کس نے جھونکا ہے۔۔؟ جب دیکھو آپ لوگوں کی بیٹیاں آتی تھیں عروشمہ کو بلانے۔۔۔
آپ کی بیٹیوں کے ساتھ وہ کالج جانا شروع ہوئی تھی۔۔ ہمیں بتائیں اتنی بڑی سزا اس غلطی کی۔۔۔؟؟”
عروشمہ کی والدہ چلائی تھی
“تمہاری بیٹی کی کرتوت نہیں ٹھیک تو ہماری بچیوں پر الزام لگا رہی ہو تم ہماری بیٹیوں کے ساتھ تو نہیں ہوا ایسا کچھ۔۔۔”
زارا کی امی نے غصے سے کہا تھا۔۔۔
“تو پھر آپ کو ڈرنا چاہیے۔۔۔ یہ ایک جوا ہے اولاد ایک جوا ہے۔۔ آپ دلشاد بیگم
ڈریں اتنی بڑی بڑی باتیں کرتے ہوئے۔۔ اگر انکی بیٹی کے ساتھ ہوا تو آپ کی بیٹی کے ساتھ بھی ہوسکتا تھا۔۔۔اور اگر تب ہم لوگ ایسی باتیں کرتے تو کیا برداشت کر پاتیں آپ۔۔؟؟”
سوہا کی موم نے عروشمہ کی امی کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بٹھا دیا تھا۔۔۔
“دلشاد جتنی پٹرپٹر تم کررہی ہو۔۔۔ تم تو خود اپنی جوان بیٹی جو منگنی سے شادی سے پہلے اپنے اس لڑکے ساتھ بھیجتی ہو کالج۔۔۔ کتنی بار محلے والوں نے منہ کھولا۔۔۔ پر ہم منہ بند کرواتے آئے ہیں۔۔۔”
“تے ہور کی ہن تو کسی ہور نوں اینج دیاں گلاں نئی کرسکدی۔۔۔ “
سب نے ہی زارا کی امی کو باتیں سنا کر چپ کرکے بٹھا دیا تھا۔۔۔
“آپ سب جانتی ہیں غلطی تو ہوئی ہے۔۔۔ بلکہ گناہ ہوا ہے۔۔۔
عروشمہ نہ ہوتی تو کوئی اور ہوتا۔۔۔ اور اگر عروشمہ کی والدہ نے ہماری بیٹیوں پر الزام لگایا ہے تو کچھ غلط نہیں کہا۔۔۔ہماری بچیوں تو ہر وقت ساتھ ہوتی تھی نہ۔۔۔؟؟
پھر کیا ہوا۔۔۔؟؟ اگر ہماری اپنی بیٹیاں ان سب میں شامل ہوئیں تو۔۔۔؟؟؟
اگر کل کسی اور کی بیٹی کا یہ واقعہ سامنے آیا تو۔۔۔”
“یا اللہ خیر۔۔۔”
عندلیب کی امی کی باتیں سن کر سوہا کی موم نے سر پکڑ لیا تھا۔۔۔
جس بات کا ڈر تھا وہی ہورہا تھا۔۔۔ اب وہ والدین اپنی بیٹیوں پر انکی کردار پر شک کرنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
وہ سمجھ نہیں پارہی تھیں کہ کیا کہتی جس سے عروشمہ کی والدہ بھی ہرٹ نہ ہوتی اور باقی خواتین کو بھی سمجھا لیتی
“کیا مطلب۔۔؟؟ ہماری بیٹیوں نے بھی یہ گناہ کیا ہوگا میں تو زارا کو مار دوں گی۔۔
اسکی ابو تو مر جائیں گے ۔۔۔یا اللہ۔۔۔ کس گناہ کی سزا مل رہی ہے ایسی اولاد کی شکل میں۔۔۔”
وہ الگ الگ کوسنا شروع ہوگئیں تھی اپنی اپنی بیٹیوں کو اس وقت سوہا کی موم نے ٹیبل پر غصے سے ہاتھ مارا تھا ان سب کو خاموش کروانے کے لیے۔۔۔
“اننف ازاننف۔۔۔۔آپ لوگ کس طرح سے لڑ رہے ہیں۔۔۔؟؟
پہلے نہ ہم بچیوں سے پوچھ لیتے ہیں کون کتنا سچا ہے پھر بات کو جاری رکھیں گے اور اب ان بچیوں کو بھی سامنے بٹھا کر بات کی جائے گی۔۔۔
وہ غصے سے باہر چلی گئیں تھی سوہا کے کمرے کی جانب اور انکے پیچھے وہ سب بھی۔۔۔
اور کمرے کا دروازہ جیسے ہی کھولا تھا منظر ہی کچھ اور تھا۔۔۔
پورا کمرہ تھس نحس ہوا پڑا تھا اور درمیان میں وہ چاروں دوست گھتم گھتہ تھی۔۔۔
زارا کے بال سوہا کے ہاتھوں میں تھے اور سوہا کے زارا کے ہاتھ۔۔۔
چہرے پر ناخنوں کے نشانات صاف واضح تھے۔۔۔
باقی کی دوستیں بھی ایسی ہی حالت میں تھیں۔۔۔
“سوہا وٹ دا ہیل۔۔؟”
سوہا کی موم نے فرسٹ ٹائم اس طرح سے دیکھا تھا اپنی بیٹی کو۔۔۔
“موم اس نے سٹارٹ کیا تھا۔۔ یہ بڑی نفاست پسند بن رہی ہے “
“اور جو تم حاجن بنی پھر رہی ہو۔۔۔ مجھ پر رؤب ڈالنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔۔
پاپا پرنسز۔۔۔”
“زارا تمہیں تو جلن ہی رہی ہے سوہا کے سٹیٹس سے۔۔۔”
“کمینی تم تو موقع چاہتی ہو عروشمہ کی غیر موجودگی میں سوہا کی چمچی بننے کا۔۔۔”
اور وہ پھر ہاتھا پائی ہوئیں تھیں۔۔۔
وہ دوستیں جو ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتی آئیں تھیں۔۔۔ جنہوں نے اتنے سال گزار دئیے تھے۔۔۔ ان سب میں نئی صرف سوہا تھی۔۔اور وہ ڈھل گئی تھی انکے رنگ میں۔۔۔پر اس گروپ کی ایک نادان دوست کی وجہ سے سب خراب ہوگیا۔۔۔
اور خراب ہوگئی “یاریاں”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے نہیں سمجھ آرہی میں کسے قصوروار کہوں۔۔؟؟ ہم میاں بیوی تو مر بھی نہیں سکتے ہمارے سر پر باقی بیٹیوں کی بھی ذمہ داری ہے۔۔۔
تم چاروں تو دوست تھی نہ اسکی۔۔؟؟ اگر ہم نے اپنی بیٹی کے نقل و حرکت پر نظر نہیں رکھی تو تم میں سے کوئی ایک تو بتا سکتا تھا نہ۔۔؟
وہ رورہی ہے گڑگڑا رہی ہے معافیاں مانگ رہی ہے۔۔۔ پر اسے کوئی ایک نظر نہیں دیکھتا۔۔ اس وقت میرے دل پر جو قیامت گرتی ہے میں جانتی ہوں۔۔۔
وہ گناہ گار سہی۔۔۔ پر میری بیٹی ہے۔۔۔ میں راتوں کو در کے اٹھ جاتی ہوں کہیں اس نے خود کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا ہوگا۔۔۔
کوئی بھی ماں باپ نہین چاہے گا جوان اولاد کوئی غلط قدم اٹھائے۔۔۔”
اپنے چہرے کو ہاتھوں میں چھپا لیا تھا عروشمہ کی والدہ نے۔۔۔
وہاں کمرے میں موجود سب لوگ انکا غصہ ڈھل گیا تھا اس مجبور ماں کی حالت دیکھ کر۔۔
“عروشمہ کی آنکھ میں کبھی بغاوت نہیں دیکھی تھی۔۔ وہ شرم و حیا کا پیکر تھی۔۔۔
میں کوئی جھوٹی تعریف نہیں کررہی۔۔۔ وہ پرہیز گار تھی۔۔۔
ہمیں تو انکھیں بند کئیے یقین تھا اس پر اپنی بچیوں پر۔۔۔
لیکن یہ سچ سامنے آنے کے بعد ہمارا یقین ڈگمگا گیا ہے۔۔ آپ ایک بار بتا دو وہ کون ہے۔۔؟”
“آنٹی۔۔۔ عروشمہ کبھی اس حد تک نہیں جاسکتی تھی۔۔۔ ہمیں بھی یقین ہے۔۔۔ اور تھا۔۔۔ اس بیچاری کے ساتھ بہت غلط ہوا ہے۔۔۔ وہ جس کے ساتھ بھی یقین کرکے گئی اس شخص نے عروشمہ کی معصومیت کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔۔۔
اسے جوس میں نشہ اور چیز پیلا کر۔۔۔”
“یا خدایا۔۔۔”
سوہا کے سچ بتانے پر وہ سب حیران رہ گئیں تھی۔۔۔
۔
“غلطی تو پھر بھی میری بیٹی کی ہے باہر کے مرد ایسے ہی ہوتے ہیں۔۔۔ گھر کی عورت کیوں یقین کر لیتی ہے۔۔۔؟؟”
۔
کچھ اور باتیں کرنے کے بعد ایک ہی حل ملا تھا انہیں۔۔۔ چونکہ سوہا کی والدہ اور والد نے ساری ذمہ داری اٹھانے کا ذمہ لے لیا تھا۔۔
۔
“یہ بات۔۔۔ آج یہاں اس کمرے کی چار دیواری میں دفن کرکے آپ سب باہر جائیں گے۔۔۔
اگر آپ میں سے کسی بچی یا کسی بچی کی ماں نے باہر کسی کو بتایا یا کسی طرح کا طنز طعنہ عروشمہ یا عروشمہ کی فیملی کو دیا تو مجبورا ہم لوگ اس کیس کو پولیس میں فائل کردیں گے۔۔”
سب لوگ شاکڈ ہوگئے تھے سوہا کی موم کی دھمکی پر
“کیونکہ آپ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔۔۔ عروشمہ کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے۔۔۔
ہمارے یہاں بچیاں اس عمر میں ایسی غلطی کرتی ہیں بنا سوچے سمجھیں چلی جاتی ہیں منہ اٹھا کر۔۔۔
پر کسی کا ناجائز فائدہ اٹھانا یہ بھی ایک جُرم ہے۔۔۔”
۔
“ابھی بچیاں یونیورسٹی کو جاری رکھیں۔۔۔
اور جب۔۔۔ عروشمہ۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رک گئیں تھیں ان بچیوں کو دیکھ کر ۔۔۔ انہیں آج خود بہت شرمندگی ہورہی تھی یہ سب باتیں کہتے ہوئے ۔۔۔
“جب تک زیادہ محسوس نہیں ہوتی۔۔۔ وہ تب تک اپنے ماں باپ کے گھر رہے۔۔
پھر اسکے بعد ہم ۔۔ہمارے گھر رہے وہ۔۔۔ یہاں ملازم کی چھٹی کردیں گے اس دورانیہ میں۔۔
اور اسکے بعد۔۔۔ ہم یہاں وہ بچہ آڈوپشن کے لیے دہ دیں گے۔۔۔او۔۔۔”
وہ ابھی بات کررہی تھیں کہ سوہا جلدی سے ایکسکئیوز کرکے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“اگر آپ لوگوں کے پاس کوئی اچھا حل ہے تو آپ بتا دیجئے۔۔۔”
“نہیں۔۔۔ یہ بہترین ہے۔۔۔ باقی ہم آپ کے ساتھ ہیں۔۔۔ عروشمہ ہماری بیٹی ہے۔۔
اپ ہم میں سے کسی کی غصے میں کہی بات کا بُرا مت منائیں گا۔۔۔”
عندلیب کی والدہ آگے بڑھ کر تسلی دیتی ہیں عروشمہ کی مدر کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چلو میں گھر چھوڑ دیتا ہوں زارا۔۔۔”
زارا کے پاس اسکے کزن کی بائیک رکی تھی
“نہیں شکریہ۔۔۔میں چلی جاؤں گی۔۔۔”
“کم آن زارا۔۔۔ بہت وقت ہوا ہم ملے نہیں۔۔۔ کہیں باہر چل کر کھانا کھاتے ہیں۔۔۔”
“میں نے کہا نہ میں چلی جاؤں گی۔۔۔”
زارا نے پہلی بار اپنے ہونے والے منگیتر سے لفٹ لینا ضروری نہیں سمجھا تھا
“ڈونٹ ورری۔۔۔ اگر ہم نے شادی سے پہلے تعلقات بنائے بھی تو تم پریگننٹ نہیں ہوگی۔۔۔ اپنی دوست کی طرح۔۔۔”
“کیا بکواس کررہے ہو۔۔شرم نہیں آتی آپ کو۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا کم آن معصوم نہ بنو ہمارے بیچ کو پتہ ہے۔۔۔ شانی نے سب کو بتایا تمہاری پردے میں رہنے والی لڑکی کی بند کمرے میں کارستانی تم۔۔۔”
زارا کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔
“مجھے شرم آرہی ہے گھن محسوس ہورہی ہے کہ تم میرے کزن ہو اور تمہارے ساتھ میری شادی ہونے والی تھی۔۔۔اور شانی تمہارا دوست۔۔۔؟؟ شاہان۔۔؟؟ خدا کی قسم
جس دن وہ پکڑ میں آیاتم سب دوستوں کے گروپ کو بھی نہیں چھوریں گے ہم دیکھ لینا۔۔۔”
“تم نے تھپڑ مار کر اچھا نہیں کیا زارا شادی ہونے دو ہر روز ایک تھپڑ تحفے میں دیا کروں گا،،”
“کونسی شادی۔۔؟؟ ساحل تم سے شادی کرنے سے پہلے مرنا پسند کروں گی جس کی اتنی گھٹیا سوچ ہو۔۔۔میں آج ہی تمہاری اس حرکت کا ابو کو بتاؤں گی۔۔۔”
“ہاہاہا اور وہ یقین کرلیں گے۔۔؟ آزما لو۔۔۔ تم پر تو وہ کبھی یقین نہیں کریں گے۔۔
تمہاری تو تعلیم بھی چھڑوا دیں گے وہ۔۔۔”
۔
وہ تیز قدموں سے گھر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بھائی صاحب میرے بیٹے کا قصور کیا تھا۔۔۔؟؟ شائستہ یہ تو تمہارا لاڈلا بھانجا تھا نہ۔۔؟
تمہاری بیٹی بھرے بازار ہاتھ اٹھاتی ہے اس پر۔۔۔”
وہ اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر جب سے آئی تھیں تب سے یہی تماشہ لگا ہوا تھا۔۔۔
“زارا۔۔۔ زارا۔۔۔۔”
والدہ کی زور دار آواز پر زارا کانپ گئی تھی۔۔۔اور جلدی سے کمرے سے باہر آئی تھی۔۔۔
“تمہاری خالہ کیا کہہ رہی ہیں زارا۔۔؟؟ شکر کرو عروشمہ کے واقعہ کے بعد بھی یہ لوگ تمہارے اور ساحل کے رشتے کے لیے رضا مند ہیں اور تم بدتمیز لڑکی۔۔۔
وہ ہونے والا شوہر ہے تمہارا۔۔۔ معافی مانگو ابھی ساحل سے۔۔”
ساحل کندھا چوڑا کئیے کھڑا تھا سامنے۔۔۔
“کس بات کی معافی امی۔۔؟؟ اس بات کی میں نے کسی نامحرم کے ساتھ بائیک پر بیٹھنے سے منع کردیا۔۔۔؟؟”
زارا کے ابو بھی اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے تھے جب دلشاد بیگم نے اپنی جوان بیٹی پر ہاتھ اٹھایا تھا
“نامحرم۔۔؟ کزن ہے تمہارا شادی ہونے والی ہے۔۔۔”
“ہمم کزن ہے تو ساتھ بیٹھ جاؤں۔۔؟؟ شادی ہونے سے پہلے شادی کھا پی لوں۔۔؟؟
کیونکہ یہ آپ کا بھانجا شادی سے پہلے یہی چاہتا ہے۔۔۔
میں پہلے حیران نہیں ہوتی تھی اب میری عقل پر پڑے پردے ہٹنے لگے ہیں۔۔۔”
اپنی گال پر ہاتھ رکھے وہ اپنے ابو کی طرف بڑھی تھی
“ابو آج تو امی کہہ رہی ہیں کہ کزن ہے شادی ہونے والی ہے لفٹ لے لیتی۔۔۔
پر کل کو اگر ہم دونوں کچھ ایسا گناہ کردیں اور یہ شخص شادی سے مکر جائے تو کیا امی اپنا قصور مانیں گی ۔۔۔؟؟ کیا بات میری عقل ااور سمجھ داری پر نہیں رکے گی۔۔۔؟؟
یہ شخص۔۔۔ جو جانتا ہے عروشمہ کے ساتھ وہ حرکت کس نے کی۔۔۔ یہ گھٹیا شخص چاہتا تھا ہم بھی ویسے باہر ملیں اور تعلقات استوار کریں۔۔۔
ابو اس جیسے شخص کے ساتھ شادی نہیں کروں گی میں۔۔۔ عروشمہ کے ساتھ جو ہوا وہ اسکی غلطی بھی تھی اور اسکے ساتھ بھی غلط ہوا۔۔۔ وہ واقعہ نہیں نصیحت ہے میرے لیے۔۔۔
اس لیے۔۔۔ مجھے زہر دے کر مار دیں پر اس جیسے گری ہوئی سوچ رکھنے والے کزن کو میں اپنا شوہر تسلیم نہیں کروں گی۔۔۔”
زارا آنسو صاف کرکے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“دیکھا بھائی صاحب اسکی زبان۔۔۔ ان لڑکیوں نے اسے کیسا بنا دیا ہے۔۔۔دلشاد باجی۔۔”
“تم فکر نہ کرو ہم اسی مہینے اسکا نکاح ساحل سے پڑھوا دیں گے۔۔۔”
زاراکی والدہ نے اپنی بہن اور بھانجے کو یقین دلایا تھا
“یہ نکاح نہیں ہوگا۔۔۔ میری بیٹی نے جو فیصلہ سنا دیا ہے وہ فائنل ہے۔۔۔”
“ہاہاہا تو بھائی صاحب آپ بھی دوسری عروشمہ ۔۔۔”
“بس بہن جی۔۔۔ پنے بیٹے کی غلطی مانیں۔۔۔ایک بچی کے ساتھ غلط ہوا تو ہر ایک کو بےبس نہ سمجھا جائے۔۔۔
ایک سانحہ ہوا ہے میرا یقین میری بیٹی پر قائم ہے۔۔۔ اور رہے گا۔۔۔
اور تم۔۔۔ تم کس سے پوچھ کر جاتے رہے ہو اسے لینے کو۔۔؟؟ آئندہ کے بعد میری بیٹی کے آس پاس نظر آئے تو وہ حال کروں گا کہ یاد رکھو گے۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“شانی۔۔۔؟؟؟ شانی تک کیسے رسائی ہوئی۔۔؟؟ وہ درمیان میں کون ہوسکتا ہے۔۔؟؟”
وہ سب سوہا کے گھر ایک بار پھر سے اکٹھے ہوئے تھے
زارا عندلیب ،عنایہ،تحریم ۔۔۔وہ سب ایک پلان کے ساتھ یہاں آئے تھے۔۔۔
“اس خبیث کو پہلے ہم سزا دیں گے پھر پولیس کو انفارم کریں گے۔۔۔”
سوہا کی گاڑی میں وہ سب بیٹھ گئے تھے اور دوسری گاڑی میں گارڈ تھے۔۔۔
“ساحل نے جس طرح سے بتایا مطلب وہ بےغیرت ابھی باہر نہیں گیا یہیں ہے۔۔
پہلے اسکے گھر جائیں۔۔؟؟”
“تماشہ لگ جائے گا۔۔۔ ہمیں اسکی ہڈیاں توڑنی ہے پہلے پھر بات چیت کریں گے پولیس والے۔۔۔”
۔
بنا آگے کا سوچے وہ ساحل کے موبائل نمبر کو ٹریس کروا کر ایک چونک پر رکے تھے جہاں ایک کمرے میں کچھ لڑکے موجود تھے۔۔۔
گاڑی بہت دور کھڑی کردی تھی
“باہر بائیک سے اندازہ ہورہا ہے کہ اندر کافی لوگ ہوں گے۔۔۔شانی کو کیسے پہچانے گے۔۔۔؟؟”
ویٹ کرتے ہیں انکی گیدرنگ کم کرنے کا”
۔
اور کچھ دیر بعد بہت سے لڑکے وہاں سے چلے گئے تھے جن میں ایک کزن بھی تھا زارا کا۔۔۔
“کم آن۔۔۔”
سوہا اور گرلز ماسک پہنے گاڑی سے نکلی تھی ہاتھ میں بیٹ تھا اور ایک سٹک۔۔۔”
دروازے پر ناک کیا تھا خاموش ہوگئیں تھیں سب۔۔۔
“ارے کمبختوں آرہا ہوں چین سے سونے دو اب۔۔۔”
اس لڑکے نے جیسے ہی دروازہ کھولا تھا ایک ایک دم سے شاکڈ رہ گیا تھا
“جی کون۔۔؟؟”
“شاہان۔۔۔؟؟”
“شانی۔۔۔؟؟”
سب نے ایک ساتھ پوچھا تھا
“جی میں ہی ہوں۔۔۔”
“تم دبئی نہیں گئے تھے۔۔؟؟”
” آپ ہیں کون۔۔؟؟”
پر اسے بولنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا وہ لڑکیوں نے اسے جوتیوں سے تھپڑوں سے مارنا شروع کردیا تھا۔۔۔
“تجھے بہت شوق ہے نشہ آور چیز پلا کراپنی مردانگی دیکھانے کا نامرد انسان۔۔۔”
زارا نے ایک اور تھپڑ مارا تھا۔۔۔اسکا منہ لال ہوگیا تھا
“اننف۔۔۔”
اس لڑکے نے گن نکال کر ان لڑکیوں کے سامنے کردی تھی
“اپنی مردانگی دیکھانے کے لیے مجھے کسی نشے کی ضرورت نہیں وہ تو اس لڑکی کی غیرت جاگ گئی تھی اس کمرے میں جانے کے بعد اپنے باپ کی عزت کا خیال آگیا تھا
جو پہلے مجھ سے ملاقاتیں کرتے ہوئے نہیں آیا تھا۔۔۔”
وہ ابھی بات کرہی رہا تھا کہ سوہا کے گارڈ نے اس پر پیچھے سے وار کردیا تھا
۔
“اگر بڑے صاحب کو پتہ چل گیا نہ تو ہماری نوکری بھی چلی جائے گی۔۔۔”
“اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالو۔۔۔اور اس کمرے سے ضروری چیزیں دیکھ کر اٹھاؤ۔۔۔
مجھے شک ہے اسکے پاس کچھ ثبوت ضرور ہوں گے۔۔۔ اس جیسے شیطان۔۔ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔۔۔
اور وہاں اس وقت ان سب نے ایک ایک چیز کمرے کی ادھر سے ادھر کردی تھی
دو لیپ ٹاپ اور تین موبائل جو وہاں الگ الگ جگہ پر چھپے ہوئے تھے وہ سب اٹھا لئیے تھے انہوں نے۔۔۔
“میں ڈیڈ سے بات کرلوں گی۔۔۔ تم سب خاموش رہنا جب تک پولیس انسویسٹی گیشن مکمل نہیں ہوجاتی۔۔۔”
۔
“سوہا ان سب کے بعد بھی عروشمہ پر لگے داغ نہیں دھل سکتے۔۔۔”
“میں نے یہ سب اس لیے کیا ہے کہ اس درندے سے باقی لڑکیاں بچ سکیں۔۔
اب اسکے گھر جانے کی دیر ہے اسکے ماں باپ سے سوال کریں گے کہ بیٹے کی صورت میں معاشرے کو جو درندہ نوازا ہے انہوں نے کل کو وہ بھی تیار رکھیں خود کو کیونکہ یہ مکافات عمل ہے۔۔۔
ان سب میں تربیت کا بہت عمل دخل ہوتا ہے اس گھٹیا آدمی کے گھر والوں کو ایک جگہ کھڑا کرکے پوچھوں گی کہ بیٹے کی صورت میں کس شیطان کو کھلا چھوڑا ہوا تھا۔۔”
۔