51K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

“تم رات کو بہت بےچین لگ رہی تھی۔۔۔اس بند کمرے میں بار بار گھٹن ہورہی تھی تمہیں عروشمہ۔۔۔ سانس نہیں لیا جارہا تھا۔۔۔ کھڑکی کھولی فہرا سانس لیا تو تم پُر سکون ہوئی کل رات کو۔۔۔”
بڑی بہن نے ناشتے کی پلیٹ عروشمہ کے سامنے جیسے ہی رکھی تھی اپنی بات شروع کی تھی انہوں نے
“سانس گھٹ رہا تھا کل رات کو عجیب سی کیفیت ہورہی تھی میری۔۔۔”
“تمہیں اس چار دیواری میں گھٹن ہونا شروع ہوگئی ہے کیونکہ تمہارا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔۔تم اپنے ہی گھر میں آزاد نہیں گھوم سکتی۔۔۔ اس کمرے کے باہر کوئی بھی تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔”
کڑوی سچائی بہت ہی آسان لفظوں میں چھوٹی بہن کے منہ پر دے ماری تھی بڑی بہن نے اور چہرہ پاس لے جا کر سرگوشی کی تھی
“تو سوچو۔۔۔ہم پر کیا گزر رہی ہوگی۔۔؟؟ میرے پینڈنگ کورسز بند ہوئے ہیں۔۔
ابو دوکان پر نہیں جا رہے باقی دو چھوٹی بہنیں کالج نہیں گئی ہے۔۔۔ ہماری زندگی بھی قید ہوکر رہ گئی ہے تمہاری طرح۔۔۔
فرق صرف اتنا ہے تمہیں تو سانس لینے کے لیے یہ کھڑکی مل گئی ہماری گھٹن ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔۔۔
تمہاری شادی ہوجاتی تو ہم بھی آزاد ہوجاتے اس بدنامی سے۔۔۔
پر اب وہ بھی ممکن نہیں پھپھو واپس جا چکی ہیں اپنی فیملی کے ساتھ۔۔۔”
۔
“باجی آپ ہر روز مجھے ایسے ہی طعنے دے کر مار رہی ہیں ایک بار ہی ختم کردیں میرا قصہ۔۔”
کھانے کی پلیٹ پیچھے کردی تھی اس نے
“مرنے مارنے سے قصہ ختم نہیں ہوتا۔۔۔ نئی کہانیاں شروع ہوجائے ہیں جن کے لکھاری ہم نہیں ہمارے ارد گرد کے لوگ ہوتے ہیں۔۔۔
تم مر جاؤ گ تو کوئی قصہ ختم نہیں ہوگا۔۔۔ لوگوں نے سو من گھرٹ کہانیاں گھڑ دینی ہیں۔۔۔
وہ کہتے ہیں نہ مرنے والےتو مر جاتے ہیں عذاب زندہ بچ جانے والے ماں باپ کے لیے پیدا ہوتا ہے۔۔۔”
وہ اٹھ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔ اس کمرے میں اب عروشمہ کی بہنوں نے بھی آنے سے منع کردیا تھا کوئی بھی عروشمہ کی شکل دیکھنا نہیں چاہتا تھا
۔
“اور ایک بات ابو کہہ رہے تھے یونیورسٹی جانے کی تیاری کرو پیسے بھرے ہوئے ہیں۔۔۔جب۔۔۔ جب ظاہر ہونے لگے گا ہم کوئی بھی بہانہ لگا کر چھٹیاں لے لیں گے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سوہا کل یونیورسٹی عروشمہ بھی آئے گی۔۔۔”
“یہ تو بہت اچھی بات ہے عندلیب۔۔۔”
سوہا نے فون دوسرے کان پہ لگا لیا تھا۔۔ بات کرتے کرتے۔۔
“اسکی پھوپھو نے رشتے سے انکار کردیا۔۔۔وہ لوگ واپس چلے گئے ہیں۔۔۔
سچ جاننے کے بعد۔۔۔”
“اووہ۔۔۔۔”
“عروشمہ کی کوئی زندگی نہیں رہی ہے۔۔۔دیکھا جائے تو۔۔۔
اور اب ہم لوگ بھی ایندھن بنے ہوئے ہیں۔۔۔ میری امی نے اکیڈمی چھڑوا دی ہے میری۔۔۔یونی کے دو سمسٹر بھی مشکل لگ رہے ہیں۔۔۔گھر والے ایسی نظروں سے دیکھنے لگے ہیں مجھے۔۔۔”
“تم مجھے کچھ بھی نیا نہیں بتا رہی ہو عندلیب۔۔۔۔ میں بھی اسی فیز سے گزر رہی ہوں۔۔۔
مجھے لگتا تھا کہ میرے موم ڈیڈ بروڈ مائنڈڈ ہیں ٹرسٹ کریں گے۔۔۔
پر۔۔۔ایسے واقعات کے بعد ماں باپ یقین نہیں کرپاتے۔۔۔”
وہ بات کررہی تھی کہ اسکے موبائل پر میسج آنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
“میں بعد میں بات کرتی ہوں ٹیک کئیر۔۔۔۔”
۔
“ہائے بیوٹیفل۔۔۔”
فرسٹ میسج اوپن کرتے ہی وہ حیران ہوئی تھی انجان نمبر کا میسج دیکھ کر
“سوہا۔۔۔۔مجھ سے دوستی کرو گی۔۔۔؟؟؟”
۔
“سوہا مجھے پتہ ہے تم میرے میسج ریڈ کرچکی ہو۔۔۔”
“کل ملاقات کریں۔۔؟ یونی کینٹین میں۔۔۔؟ یا باہر کہیں ملیں۔۔۔؟؟
کیا تم اسی ڈریس میں آؤ گی جو تم نے یونیورسٹی کے فرسٹ ڈے پر پہنا تھا۔۔۔؟؟”
۔
لاسٹ میسج لمٹ تھا اس بدتمیزی کی۔۔۔ اور پھر ایک فوٹو اٹیچ تھی جب اسی نمبر سے میسج اسے وٹس ایپ آیا۔۔۔
اپنی ہی تصویر دیکھ کر حیران رہ گئی تھی وہ جو اسکے فرسٹ ڈے کی تھی۔۔۔
“اسکی تو میں۔۔۔۔”
وہ میسج لکھ چکی تھی۔۔۔پر میسج سینڈ کرنے کے بجائے ڈیلیٹ کردیا تھا اس نے
“اگر میں نے اسکے میسج کا ریپلائے کردیا تو اسے یقین ہوجائے گا کہ میں میسج پڑھ چکی ہوں۔۔۔
اسے اور شئے مل جائے گی۔۔۔پھر وہ شروع ہوجائے گا۔۔۔”
سوہا نے موبائل آف کردیا تھا وہ نمبر بلیک لسٹ پر لگا کر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“حماد بائیک سٹارٹ کرو۔۔۔”
“ابو اگر آپ مجھے انکو ساتھ لے جانے کا کہنے والے ہیں تو معذرت کے ساتھ میں نہیں جاؤں گا۔۔۔”
اپنی بہنوں کو حقارت اور غصے سے دیکھا تھا حماد نے
“نہیں بیٹا میں نے اکرم صاحب سے بات کی تھی انکے رکشے میں آئیں جائیں گی۔۔
بس تم نے بائیک آگے یا پیچھے رکھنی ہے۔۔۔
مجھے اب کسی پر بھی یقین نہیں رہا۔۔۔ ان کا کیا پتہ کہ راستے میں اتر جائیں اور۔۔۔”
وہ کہتے کہتے چپ ہوگئے تھے جب چھوٹی بیٹی رونا شروع ہوئی تھی
“آپ انکے کئیے کی سزا ہمیں نہیں دے سکتے ابو یہ نا انصافی ہے۔۔۔ آپ جانتے ہیں آپ ہماری جان ہیں۔۔ ہم بیٹیاں مرتی مر جائیں گی پر آپ کی عزت پر حرف نہیں آنے دیں گی۔۔۔ ابو ۔۔بھائی ہمیں ان نظروں سے نہ دیکھیں۔۔ ہماری تعلیم چھڑوا دیں۔۔۔
افف تک نہیں کہیں گے۔۔۔پلیز نظروں سے نہ گرائیں ہمیں۔۔”
عروشمہ وہیں کھڑی رہ گئی تھی کمرے کے باہر۔۔۔ حقیقتیں قیامت بن کر ایک بار پھر گری تھیں اس پر۔۔۔
۔
“چلو۔۔۔ میں چلتی ہوں ساتھ۔۔۔”
جب عروشمہ اپنی جگہ سے ہلی نہیں تھی تو والدہ سے اسکو بازو سے پکڑ لیا تھا اور گھر سے باہر لے گئی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دبئی۔۔۔”
۔
“امی ہم اتنی جلدی واپس کیوں آگئے وہاں سے۔۔۔؟؟”
“عاصم واپس گھر نہیں آنا تھا کیا۔۔؟؟ بیٹا آفس کے لیے دیر نہیں ہورہی کیا۔۔؟”
“امی میں بوس ہوں لیٹ ہو سکتا ہوں۔۔۔اب بتائیں کیا ہوا ہے۔۔؟ مامو نے انکار کردیا تھا۔۔؟”
نگہت بیگم بتانا چاہتی تھی عاصم کو سب سچ۔۔۔پر وہ اپنے بھائی کی عزت کی خاطر خاموش تھی۔۔۔انہوں نے سب بھائیوں میں سب سے زیاد ہاشم بھائی سے پیار کیا عزت کی انکی
اور عروشمہ۔۔۔؟؟ وہ تو انکی بیٹی جیسی تھی پھر کیوں کیا یہ سب اس نے۔۔؟؟
“امی کہاں کھو گئی آپ بتا دیں۔۔۔”
“عاصم ابھی وہ پڑھ رہی ہے ابھی شادی کی بات یہیں چھوڑ دیتے ہیں۔۔”
“پر امی نکا ح تو ہوسکتا ہے نہ۔۔؟؟ مجھے ڈر ہے کہیں یونیورسٹی میں کوئی پسند نہ آجائے اسے۔۔ ہاہاہا ماشاللہ آپ کی بھانجی خوبصورت ہوگئی ہے پہلے سے۔۔۔”
عاصم نے ہنستے ہوئے آنکھ ماری تھی پر الفاظ اور تکلیف پہنچا گئے تھے
“عاصم دنیا میری بھانجی پر ختم نہیں ہوتی۔۔۔ اور بھی لڑکیاں ہیں باہر۔۔۔”
عاصم کی گال پر ہاتھ رکھے کہا تھا اور کچن سے چلی گئی تھی۔۔۔
“امی کو کیا ہوا۔۔؟ کل تک مجھ سے زیادہ تو عروشمہ ضد تھی امی کی۔۔
کیا پاکستان کوئی بات ہوئی ہے۔۔۔؟؟کیا میں خود مامو سے بات کروں۔۔؟ یا ڈیڈ سے کہوں۔۔۔؟؟”
عاصم نے موبائل کے واال پر وہی ہنستی مسکراتی تصویر دیکھی تھی جو بہت پرانی تھی۔۔
اسے یقین تھا۔۔۔ عروشمہ اسکے نصیب میں لکھی جا چکی ہے۔۔۔
پر اسے یہ نہیں پتہ تھا عروشمہ نے کسے اپنے ساتھ جوڑ لیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
وہ چار دوست پھر سے آج اکٹھی ہوئیں تھی۔۔۔فرق صرف اتنا تھا اب وہ ایک دوسرے کی طرف بھاگی نہیں تھی گلے نہیں لگی تھی
سوہا کو دیکھ کو زارا کے علاوہ سب نے ہی سلا م کیا تھا۔۔۔
اور عروشمہ۔۔۔؟؟ وہ خاموشی کے ساتھ کلاس میں جا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
فرسٹ لیکچر شروع ہوئے پانچ منٹ نہیں ہوئے تھے کہ سوہا کا موبائل بج اٹھا تھا
“مس سوہا اگر آپ کو رولز نہیں پتہ تو میری کلاس سے باہر چلی جائیں۔۔”
“ایم سوو سوری سر۔۔۔”
سوہا نے موبائل وائبریٹ پر لگا دیا تھا۔۔۔ اس لمحے بہت سی تصاویر اسے وٹس ایپ پر موصول ہوئی تھی۔۔۔
فرق صرف اتنا تھا کہ ان تصاویر میں وہ کسی لڑکے کے ساتھ ۔۔۔
سوہا جیسی بروڈ مائنڈ گرل نڈر لڑکی کے ہاتھ کانپ گئے تھے جب اس نے خود کو ان فوٹوز میں کسی انجان لڑکے کے ساتھ دیکھا تھا وہ فوٹوز اتنی رئیل تھی کہ سوہا خود بھی حیران تھی۔۔۔
اس نے نظریں گھما کر کلاس میں موجود سٹوڈنٹس کو دیکھا تھا۔۔۔
اور ایک میسج رونما ہوا تھا
“ہاہاہاہا سوہا جی ایسے نہ دیکھیں شک ہوجائے گا،،، ہم دونوں کا لیٹل ڈرٹی سیکرٹ سب کے سامنے آجائے گا۔۔۔”
سوہا نے غصے سے میسج ٹائپ کیا تھا
“کون ہو تم۔۔؟؟”
“اپنے عاشق کو بھول گئی۔۔؟؟ تمہارا ایڈمائرر۔۔۔”
“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔؟؟ تمہاری اتنی جرات میری فوٹو کو ایڈیٹ کیا تم نے۔۔۔”
“ہاہاہا جرات بہت ہے۔۔۔ چاہوں تو ابھی پوری یونی کو یہ سب سینڈ کرکے تمہاری عزت کا جنازہ نکلوا سکتا ہوں۔۔۔ مگر میں بس دوستی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
ملنا چاہتا ہوں اکیلے میں۔۔۔”
“باسٹرڈ۔۔۔”
“ایک بار اور گال دی سوہا تو تمہارے ماں باپ کو بھی سینڈ کردوں گا۔۔۔ اور تم جانتی نہیں ہو مجھے۔۔۔”
سوہا نے موبائل بند کردیا تھا۔۔
اسے اتنا پتہ چل گیا تھا کہ وہ جو بھی ہے آس پاس ہی ہے۔۔۔ اس لیے سوہا نے پریشان ہونے کا ڈرامہ کیا اور منہ پر ونوں ہاتھ رکھ کر ٹیبل پر سر رکھ لیا تھا
“مس سوہا۔۔۔آپ ٹھیک ہیں۔۔؟”
باقی سب کی نظریں بھی سوہا پر تھی خاص کر اسکی دوستوں کی۔۔
“جی۔۔۔ نو سر۔۔۔ میرے سر میں بہت درد ہورہا ہے کیا میںبریک لے سکتی ہوں پلیز۔۔۔؟؟”
اجازت ملنے پر وہ جلدی سے باہر آئی تھی اور سیدھا کیفے میں گئی تھی
“وہ جو کوئی بھی ہے اسی یونی کا ہے۔۔۔
ایک غلط فیصلہ ایک غلط قدم کچھ بھی کرسکتا ہے۔۔۔
سوہا نے بار بار ان فوٹوز کو دیکھا تھا اور گہرا سانس لیا تھا۔۔۔
“کین آئی سیٹ ہیر۔۔؟؟”
سامنے سٹوڈنٹ نے جیسے ہی پوچھا تھا سوہا نے اپنا بیگ ٹیبل سے اٹھا کر ساتھ والی کرسی پر رکھ لیا تھا
“ہائے ایم نور۔۔۔یو۔۔؟؟”
“سوہا۔۔۔”
سوہا نے ہینڈ شیک کیا تو پھر ایک میسج شو ہوا تھا
“تمہارے چہرے پر یہ ڈر دیکھ کر بہت سکون مل رہا ہے مجھے سوہا۔۔
اچھی بات ہے کسی کو بتانے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔۔
اور کسی کو بتایا تو تم سوچ نہیں سکتی میں کیا کرسکتا ہوں۔۔۔”
“اففف۔۔۔”
“ہیے آر یو اوکے سوہا۔۔۔؟؟”
“یس۔۔۔ کیا ایک کام کرسکتی ہو۔۔؟ مجھ سے بات کرتے ہوئے مسکراتی رہو۔۔۔
اور اپنے موبائل سے ایک نمبر ڈائل کرو اٹس ایمرجنسی۔۔۔ کوئی مجھے فالو کررہا ہے میں اپنا سیل یوز نہیں کرسکتی۔۔۔”
“اوو مائی گوڈمیں جا۔۔۔”
“ڈونٹ گو لڑکی۔۔۔چپ چاپ بیٹھی رہو جو کہا وہ کرو پلیز۔۔۔”
سوہا نے اسکو غصے سے اور پھر پیار سے کہا تھا
“اوکے۔۔۔نمبر بتائیں۔۔۔”
سوہا نے ایک نمبر بتایا تھا۔۔۔۔
“اب موبائل ٹیبل پر الٹا کرکے رکھ دو اور خاموشی کے ساتھ مسکراؤ اور لپسنگ کرو ایسے لگے ہم بات کررہے۔۔۔ اور اس نمبر پر کال ملا دو۔۔”
دوسری رنگ پر فون اٹھا لیا گیا تھا
“ہیلو۔۔۔ انکل زبیر۔۔۔ میں سوہا بات کررہی ہوں۔۔۔”
“سوہا بیٹا۔۔۔؟؟ خیریت ہے اس۔۔۔”
“انکل میرے نمبر پر آرہے ایک رونگ نمبر کو ٹریس کروائیں۔۔۔ اور اس کو پکڑے۔۔۔
وہ مجھے کل سے دھمکا رہا ہے۔۔۔ میر ی کچھ تصاویر بھی اس نے فوٹو شاپ کی ہوئی ہیں۔۔۔”
۔
“ڈونٹ ورری بیٹا۔۔۔میں ابھی کچھ کرتا ہوں۔۔۔”
۔
“تم خود کو سمارٹ سمجھتی ہو۔۔؟؟ یو بچ۔۔۔”
ایک لاسٹ میسج آیا تھا۔۔۔ اور کچھ دیر بعد زارا کلاس سے غصے سے باہر آئی تھی اور آتے ہی سوہا کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا تھا
“ایک مسئلہ جان نہیں چھوڑ رہا اور تم نے یہ گل کھلائے ہیں۔۔۔؟؟”
“کیا بکواس کررہی ہو۔۔؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔۔”
“یہ دیکھو۔۔۔؟؟ یونی کے بلاگ پر یہ فوٹو تمہاری کپل گولز۔۔؟؟ مائی فٹ سوہا۔۔۔”
سوہا کو پیچھے دھکا دہ دیا تھا۔۔۔
اور بہت سے سٹوڈنٹ سوہا کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے اس نے کسی کا خون کردیا ہو۔۔۔
چیم گوئیاں جیسے ہی زیادہ ہوئی تھی پرنسپل آفس سے پیغام آگیا تھا اور سوہا کو وہاں بلایا گیا تھا
“یہ سب کرنے آتے ہیں آپ لوگ۔۔؟؟ اینڈ یو سوہا۔۔۔تمہارے فادر اگر میرے اچھے دوست نہ ہوتے تو ابھی تمہیں بھی نکال دیتا اس لڑکے کے ساتھ۔۔۔
“وہ تصاویر والا لڑکا سامنے کھڑا تھا جس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔۔”
“میری ریپیوٹیشن خراب کی گئی ہے اور مجھے سنا رہے ہیں۔۔؟؟ میری تصاویر اس گھٹیا شخص نے ایڈیٹ کرکے وائرل کی یونیورسٹی میں اور آپ اسے سزا دینے کے بجائے مجھے بلیم کررہے ہیں۔۔۔؟؟”
وہ عام لڑکیوں کی طرح ایسے حالات میں گھبرائی نہیں تھی۔۔۔ نہ ہی سہمی تھی
“سوہا۔۔۔ ہنی اب تو سب کو پتہ چل گیا ہے۔۔۔ سر ہم دونوں شرمندہ ہیں۔۔”
“یو باسٹرڈ۔۔۔”
وہ جیسے ہی اسے مارنے کے لیے اسکی طرف بڑھی تھی سوہا کے والدین اندر داخل ہوئے تھے ساتھ اس لڑکے کے بھی۔۔۔
“سوہا۔۔۔ سیریسلی۔۔۔؟؟ مجھے تم سے یہ امید۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔۔ آ پ کی بیٹی ہوں اگر ایسی گری ہوئی حرکت کرتی تو صاف منہ پر بتاتی
یہ جھوٹ ہے۔۔۔”
“انکل۔۔۔ سوہا کی غلطی نہیں ہے ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔”
“گھٹیا آدمی۔۔۔”
سوہا نے پرنسپل کے ڈیسک پر پڑے گلدان کو اٹھا کر اس لڑکے کی طرف پھینکا تھا
“سوہا۔۔۔۔”
“سائم ریلیکس۔۔۔”
“میرے بچے کا سر پھاڑ دیا۔۔۔ کس طرف جاہل بیٹی ہے آپ لوگوں کی۔۔۔”
سوہا کو اسکی والدہ نے زبردستی پیچھے کیا تھا۔۔۔
“میں نے اس لڑکے کو نکال دیا ہے یونیورسٹی سے۔۔اور سوہا تم اس سمسٹر کے اینڈ تک یونی سے۔۔۔”
“کس لیے۔۔۔؟؟ وجہ کیا ہے۔۔۔۔؟؟ آپ جانتے ہیں میں کیا کرسکتی ہوں۔۔۔؟؟
میرے باپ کو مت دیکھیں مجھ سے بات کریں۔۔۔ آپ نے کچھ فوٹوز کو دیکھ کر میرا کردار جانچ لیا۔۔۔؟؟
یہ بےغیرت انسان جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے آپ نے سچ مان لیا۔۔؟؟”
” تو یہ سب کیا ہے۔۔؟؟ سوہا یہ فوٹوز میں نے وائرل کی پتہ نہیں کس نے کی ہے ورنہ تمہاری عزت میری عزت ہے۔۔۔”
وہ معصومیت سے کہہ رہا تھا سب کو یقین بھی ہوچکا تھا اس پر۔۔۔
“تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے۔۔؟؟”
سوہا کرسی پر بیٹھ گئی تھی ڈیسک پر رکھی تصویر دیکھ کر اس نے اس لڑکے سے پوچھا تھا۔۔
اور اس وقت اپنے موبائل پر ریکارڈنگ سٹارٹ کردی تھی
“تمہیں میرا نام نہیں پتہ۔۔؟ سوہا اتنی ڈیٹ پر جاچکے ہیں ہم دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔”
“تمہارا نام۔۔۔؟”
سوہا کی آواز اس قدر غصے سے بھری ہوئی تھی
“کامران احمد۔۔۔”
“ہمم کامران تم اپنا ہوم ورک بہت اچھے سے کرکے آئے۔۔۔؟ لک ایٹ یو۔۔۔
اپنی حیثیت دیکھو۔۔۔ اوپر سے نیچے تک۔۔۔تمہاری اوقات ہے کہ میں سوہا سائم
سائم چوہدری کی اکلوتی بیٹی جو ٹاپ ٹین بزنس مین میں ہے انکی بیٹی تم جیسے فٹیچر کے ساتھ ڈیٹ پر جاؤں گی۔۔۔؟؟
ہم خاندانی لوگ ہیں۔۔۔ ہمارے خاندان میں لڑکیاں شادی بھی کرتی ہیں تو فیملی میں یا فیملی فرینڈز میں۔۔۔۔
ہمارے یہاں ڈیٹ شیٹ نہیں ہوتی۔۔۔ اگر میں بغاوت کرنا بھی چاہوں تو وہ کوئی لاکھوں کڑورں میں ایک ہوگا۔۔۔
اور تم خود کو دیکھو۔۔۔۔”
سوہا نے ٹانگ پر ٹانگ رکھ لی تھی۔۔۔ شاید اپنی بیٹی کو اس روپ میں پہلی بار دیکھ رہے تھے سائم صاحب۔۔۔
“سوہا بیٹا۔۔۔”
“موم یہ فوٹوز وائرل ہوئی ہر نارمل لڑکی کی طرح میں بھی گھبرا گئی ڈر گئی سہم گئی تھی۔۔۔
پر میرا ڈر میرا سہم جانا جھک جانا ایک سٹیپم لگا دے گا میرے کردار پر۔۔۔
میں کیوں کردار پر انگلی اٹھنے دوں۔۔۔؟؟
بس انکل زبیر آجائیں۔۔۔۔”
کامران کے چہرے پر ایک گھبراہٹ نمایاں ہوئی تھی سوہا کے کنفیڈنٹ سے۔۔۔
“یہ فوٹوز دیکھ کر آپ نے مجھے میرے ہی سمسٹر سے باہر نکالنے کی بات کی مسٹر پرنسپل۔۔؟؟”
اس نے وہ فوٹو واپس انکی طرف پھینکی تھی۔۔۔
“یہ فوٹو۔۔۔ جس پر اس نے بہت چالاکی دیکھائی اور ڈیٹ دیکھیں زرا۔۔۔۔۔۔
پر مجھے تو پاکستان آئے ہوئے اتنا وقت ہوا ہی نہیں ۔۔۔ یہ میری ٹکٹ کی ڈیٹ۔۔۔”
سوہا نے موبائل سے اپنے ڈاکومنٹ دیکھائیں تھے۔۔۔
اور پھر آفس کا دروازہ کھل گیا تھا۔۔۔
“یہ نمبر تمہارا ہی ہے نہ۔۔؟؟”
انہوں نے وہ کاغذ کو کامران کے سامنے کیا تھا۔۔۔
“وہ۔۔۔ابو یہ نمبر تو میرا چوری ہوگیا تھا۔۔۔”
زبیر صاحب نے موبائل کھینچ لیا تھا۔۔۔
“سائم یہ لڑکا جتنے نمبرز سے تنگ کرچکا ہے سب کا ‘ای ایم آئی’ یہی ہے یہ موبائل۔۔۔
کب سے دھمکی دے رہا ہے دوستی کرنی ہے۔۔۔؟؟ میں کرواتا ہوں۔۔۔”
وہ اسے کالر سے پکڑ کر باہر لے جانے لگے تھے جب سوہا نے روک تھا
“انکل ابھی یہ اور اس یونیورسٹی کے پرنسپل صاحب باہر سب سٹوڈنٹ کو یہ سارا ڈرامہ بتا دیں۔۔۔ اور سب کے سامنے مجھ سے معافی مانگے اپنا اقبال جرم کرکے پھر آپ سے جیل میں ڈال دیں۔۔۔”
دیکھو سوہا بیٹا۔۔”
“آپ دیکھیں سر۔۔۔ایسے ہزار کیس آپ کے سامنے آتے ہوں۔۔۔ آپ یہاں کسی کو جج نہیں کرسکتے بنا ٹھوس ثبوت کے بنا۔۔۔
یہ فوٹوز بنانا ایڈیٹ کرنا آج کے زمانے میں بچوں کا کھیل ہوچکا ہے۔۔۔
اس لیے ایسے حالات میں کسی فی میل سٹوڈنٹ کو یونی سے نکالنے کا پریشر ڈال کر اسے دبانے سے پہلے حقائق جاننا آپ پر فرض ہے۔۔۔
اب بات اس آفس سے باہر جائے گی جہاں آپ اپنے اس سٹوڈنٹ کی کرتوت سب کو بتائیں گے۔۔۔”
سوہا باہر چلی گئی تھی
“سوہا بیٹا۔۔۔”
“نو موم ڈیڈ۔۔۔۔ آپ دونوں کو کم سے کم کسی غیر کے سامنے تو ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔
اسکا موٹیو تھا مجھے بدنام کرنا اور پھر آپ کو کہنا کہ میری شادی کروا دیں۔۔۔
اور آپ دونوں عروشمہ کے واقعے کے بعد سے ہاتھ میں آنے والے پہلے ہی موقعے کو دیکھ کر مجھ پر شک کر بیٹھے۔۔۔؟
میں بیٹی ہوں بار بار صفائیاں نہیں دوں گی۔۔۔
آپ ماں باپ ہیں میری آنکھوں میں اگر سچ نظر نہیں آرہا تو اس میں میرا قصور نہیں ہے
آپ دونوں کی مرضی ہے۔۔۔ پر ایسے لوگ۔۔۔ ہر جگہ ملیں گے تو کیا ہر جگہ اپنی بیٹی کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔۔۔؟؟
مجھے بیٹی رہنے دیں باغی نہ بنائیے خدارا۔۔۔”
۔
“سوہا۔۔۔۔ سوہا۔۔۔۔ عروشمہ کی طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔۔اسے بہت الٹیاں آرہی تھی اسے ایمرجنسی میں لے گئے ہیں۔۔۔”
عندلیب بھاگتے ہوئے آئی تھی
“وٹ۔۔۔؟؟؟”
“ہاں سوہا۔۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے یہاں کچھ لوگوں کو شک ہوگیا ہے۔۔۔ سوہا۔۔۔
ہم نے بہت بڑی غلطی کردی اسے یونیورسٹی میں لا کر۔۔۔ سب کو پتہ چل جائے گا۔۔۔”
عندلیب کا چہرہ آنسوؤں سے بھر گیا تھا
۔
“کچھ نہیں ہوگا بیٹا۔۔۔ ہم ساتھ ہیں آپ بچوں کے ڈونٹ ورری “
سوہا کی موم نے عندلیب کو تسلی دی تھی۔۔۔پر سوہا جانتی تھی اس انسیڈنٹ کے بعد سب کچھ چینج ہوجائے گا۔۔۔
اور وہی ہوا تھا۔۔۔
۔
یونیورسٹی میں جو ہوا تھا وہ محلے تک پہنچ گیا تھا۔۔۔۔
۔
“یہ لوگ اب اس محلے میں نہیں رہ سکتے ہاشم کو نکالنا ہی ہوگا ایسے زانی لوگ دھبہ ہیں۔۔۔”
دو تین عورتوں نے ہاشم صاحب کے گھر آکر بہت باتیں کرنا شروع کردی تھی۔۔۔
“دیکھیں آپ جو کہہ رہی ہیں وہ غلط ہے جھوٹ ہے ہماری عروشمہ کی طبیعت خراب ہوئی تھی آپ کو یقین نہیں تو ڈاکڑ سے خود پوچھ لیں۔۔۔
ہم لوگوں بہت عزت دار شریف لوگ ہیں۔۔۔ ہمیں بدنام نہ کریں۔۔”
“زارا کی چچی نے خود تصدیق کی ہے اور تمہاری دیورانی۔۔۔ اس نے بھی کل رخسانہ سے کہا کہ وہ لوگ تمہاری بیٹیوں کی وجہ سے اپنا حصہ بیچ رہے ہیں۔۔۔”
“کیا سچ میں تمہاری بیٹی پیٹ سے ہے۔۔؟؟ شرم نہیں آئی اسے۔۔؟
شکل سے تو تمہاری ساری بیٹیاں ایسی حاجن نمازن لگتی تھی۔۔۔
اور کردار ایسے ہیں۔۔؟”
“ہاشم بھائی تو بڑے نیک بنے پھرتے تھے۔۔۔اور تم۔۔۔یہ تربیت رہی اچھا ہوا میری بچیوں کا آنا چانا نہیں ہے یہاں۔۔۔
قسم سے شرمندہ کردیا تم لوگوں نے۔۔۔”
ہاشم صاحب کی برداشت سے باہر تھا اتنی اونچی آوازیں۔۔۔
وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھے وہیں گر گئے تھے درد سے آنکھیں بند ہورہی تھی پر باہرسے آتی زہر اگلتی آوازیں نہیں۔۔۔
۔
“امی ابو۔۔۔”
عروشمہ ہی بھاگتے ہوئے اپنی امی کے پاس آئی تھی
حماد گھر پر نہیں تھا۔۔
وہ محلے والی تو وہاں سے بھاگ گئیں تھیں
باپ کو بےہوش دیکھ ان بچیوں نے شور ڈال دیا تھا
اٹھا کر زمین سے جیسے ہی بستر پر لٹایا تو ہوا باختہ ہورہے تھے۔۔۔
“بھابھی کیا ہوا ہاشم بھائی کو۔۔”
“تایا ابو ٹھیک تو ہیں۔۔۔”
پر عروشمہ نے ان دونوں ماں بیٹی کو پیچھے دھکا دیا تھا۔۔۔
“خبردار پاس نہ آنا۔۔۔ چچی میرے باپ کی بدنامی کروا کر آپ کو سکون مل گیا۔۔”
“تم میں ابھی بھی ہمت ہے میرے سامنے بکواس کرنے کی۔۔؟؟ جو گل تم نے کھلا دیا ہے۔۔۔”
“مجھ پر الزام لگانے سے پہلے اپنی بیٹی کو اپنے سامنے کھڑا کریں اور پوچھیں۔۔۔ کہ وہ کتنے گل کھلا کر صائع کروا چکی ہے۔۔۔ میں آج اس مقام پر آپ کی بیٹی کی وجہ سے ہوں۔۔۔
میرے باپ کو کچھ بھی ہوا تو میں بھی چپ نہیں رہوں گی پورے محلے پوری دنیا کو چیخ چیخ کر بتاؤں گی آپ کی بیٹی کی کرتوت۔۔۔”
چچی عروشمہ کو مارنےکے لیے آگے بڑھی تھی جب حماد نے انکا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“خد ا کا واسطہ ہے ہمارا پیچھا چھوڑ دیں۔۔۔ جتنا تماشہ محلے میں لگانا تھا آپ نے لگا دیا چچی۔۔۔
ہم چلے جائیں گے یہاں سے ۔۔۔جائیں۔۔۔ آپ بھی راستہ چھوڑیں۔۔۔”
حماد بہن کو نظر انداز کرکے اندر کمرے میں گیا تھا والد کا بےجان وجود دیکھ کر اسکی روح بھی کانپ گئی تھی ۔۔پر ہمت کرکے اس نے انہیں اٹھایا تھا۔۔۔اور باہر لے گیا تھا۔۔۔۔ ایمبولنس پہلے سے موجود تھی۔۔۔وہ لوگ چلے گئے تھے پیچھے انکی بچیوں رہ گئی تھی وہ دل چیڑ دینی والی باتیں سننے کے لیے۔۔۔
“خدا ایسی اولاد کسی کو نہ دے۔۔۔”
اولاد کیا۔۔۔ ایسی بیٹیاں۔۔۔ باپ شرف تھا اس لیے برداشت نہیں کرپایا۔۔۔
جانے کب سے دھوکا دے رہی تھی باپ کو۔۔۔”
“بہن مجھے تو ماں بھی ملوث لگتی ہے۔۔۔ایسی تربیت کی بچیوں کی توبہ توبہ۔۔۔”
۔
عروشمہ کی والدہ خاموشی کے ساتھ اندر چلی گئی تھی اپنی بچیوں کو لیکر۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ اب سٹیبل ہیں انہیں زیادہ سٹریس مت لینے دیں آنے والے دن بہت نازک ہیں۔۔۔”
حماد ڈاکٹر کے پیچھے پیچھے چلا گیا تھا۔۔۔
“تم کہاں جارہی ہو۔۔؟؟ تمہیں سکون نہیں ملا۔۔؟؟ ڈاکٹر نے کہا ہے سٹریس نہیں دینا۔۔
تمہارا تو پورا وجود ہی باعث ہے انکی پریشانی کا۔۔۔”
عروشمہ کو پیچھے کردیا تھا ہاشم صاحب کے روم سے۔۔۔
“امی بس ایک بار پلیز۔۔۔ ایک بار میں پھر انکے سامنے نہیں جاؤں گی۔۔۔”
ہاتھ جوڑتےہوئے وہ پاؤں میں گر گئی تھی جب نرس اندر سے باہر آئیں تھیں
“آپ بیٹا اندر جا کر مل سکتی ہیں۔۔ اس میں پاؤں پکڑنے والی کوئی بات نہیں جائیں اندر۔۔۔”
عروشمہ کی والدہ کو ایک نظر دیکھ کر وہ عروشمہ کو اندر لے گئی تھی۔۔۔۔
“ابو۔۔۔”
“میں کتنا بدنصیب ہوں۔۔۔ کتنا بدنصیب ہوں جو یہاں پہنچنے کے باوجود بھی زندہ بچ گیا۔۔”
اپنا آکسیجن ماسک اتار دیا تھا آج لہجے میں غصہ نہیں تھا بہت نرمی تھی
“ابو۔۔۔خدا کے لیے ایسے نہ کہیں۔۔۔میرے گناہ کی سزا باقی سب کو نہ دیں۔۔۔
آپ ہی تو سہارا ہیں ہمارا۔۔۔ آپ چلے گئے تو سب چلا جائے گا۔۔۔”
“میں یہاں پر کب ہوں۔۔؟؟ تمہارے دھوکے نے مجھے اندر تک مار دیا ہے
میرا وجود زندہ ہے۔۔۔ تم وہ بھی مار دو۔۔۔ اب مجھ میں ہمت نہیں واپس اس محلے میں جانے کی جہاں میری اتنی بدنامی ہوچکی ہے۔۔۔
میں اس گھر میں کبھی نہیں جاؤں گا۔۔۔تم۔۔۔ اب سے ہمارے ساتھ نہیں رہو گی
میں تمہیں کسی دارالایمان کسی ادرے میں بھیج دوں گا۔۔ پر اب تمہیں ساتھ نہیں رکھوں گا۔۔۔”
“جیسے آپ چاہیے۔۔۔ میرے جانے سے پہلے ایک بار مجھے اتنی اجازت دیں کہ آپ کا ہاتھ پکڑ سکوں۔۔۔؟؟”
ہاشم صاحب نے منہ موڑ لیا تھا اور وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے انکے بیڈ کے پاس بیٹھ گئی تھی
والد کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ماتھے کے ساتھ لگا لیا تھا اور جی بھر کر رو دی تھی وہ۔۔۔
“ابو۔۔۔ میری غلطی تھی کہ میں گھر کی دہلیز سے باہر نکلی کسی اجنبی پر یقین کیا۔۔۔
پر وہ ملاقات پہلی اور آخری ملاقات تھی۔۔۔ میں تعلقات استوار کرنے نہیں گئی تھی۔۔۔
میں اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔۔۔ میں نے گناہ کیا میں مانتی ہوں۔۔۔
میں غلط ہوں۔۔۔ میں نے یہ قدم اٹھانے سے پہلے ایک بار نہیں سوچا آپ سب کا اپنی بہنوں کا نہیں سوچا۔۔۔
پر میری جگہ رکھ کر سوچیں۔۔۔ سوچین میں بہک گئی تھی ابو۔۔۔ میں بھول گئی تھی یہ معاشرے فرشتوں کا نہیں ہے۔۔۔ یہاں معصوم لباس اوڑھے بہت شیطان گھومتے ہیں جو نوچ لیتے ہیں معصومیت۔۔۔ میں بھول گئی تھی ابو کہ یہاں بیٹیوں کے لیے جو حدود رکھی جاتی ہے وہ انکے بھلے کے لیے ہوتی ہے
جب باپ بھائی پابندیاں لگاتے ہیں تو وہ کچھ سوچ سمجھ کر ہی پہرے بچھاتے ہیں میں بھول گئی تھی
آپ مجھے کہیں بھی پھینک دیں میں رہ لوں گی۔۔۔ پر ابو میں خودکشی نہیں کروں گی۔۔۔میں مرنا نہیں چاہتی۔۔۔
میں ایک گناہ کرچکی ہوں۔۔۔ خودکشی کرکے ایک اور گناہ نہیں کروں گی۔۔۔”
والد کے ہاتھ پر بوسہ دے کر وہ وہاں سے بھاگ گئی تھی باہر ۔۔۔۔
۔
“کاش تم سمجھ جاتی میری بچی کہ ماں باپ کیوں حد تہہ کردیتے ہیں۔۔۔
تم پر ہم نے پابندیاں نہیں لگائی تو دیکھو معاشرے کو موقع دہ دیا تم نے۔۔۔
کاش میں بھی شیر کی نگاہ رکھتا عروشمہ آج تم اس اذیت میں نہ ہوتی۔۔۔
بیٹیاں بہک جائیں تو نسلیں برباد ہوجاتیں ہیں۔۔ ابھی یہ شروعات ہے۔۔۔
بہت تلخ ہے حقیقتیں۔۔۔۔ معاشرے جب بےحس ہوجائے تو ناسور بنا دیتا ہے ایسے گناہوں کو۔۔۔ اور عبرت بنا دیتا ہے ایسا کرنے والوں کو۔۔۔
اور تم نے موقع دہ دیا اس معاشرے کو رشتے داروں کو۔۔۔۔”
۔