Yaariyan by Sidra Sheikh readelle50013 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
“گلے مجھے بھی ہیں ان تین مردوں نے مجھے سنبھالا نہیں مجھے سہارا نہیں دیا۔۔۔
ان تینوں نے چھوڑ دیا مجھے میرے حال پر۔۔۔
میں بھی بیٹی بہن بیوی تھی۔۔۔
گلے مجھے بھی ہیں۔۔۔پر اس زندگی میں نہیں روز محشر میں بات کریں گے۔۔۔”
عاصم اتنی تیز بارش میں ٹیرس پر کیا کررہے ہیں چلیں نیچے۔۔۔”
اریج نے چھتری سے خود کو کور کیا ہوا تھا اب عاصم کے سر پر بھی رکھ رہی تھی مگر وہ رئیلنگ پر ہاتھ رکھے نیچے کھڑی گاڑی کو دیکھ رہا تھا جہاں بیگ رکھا جارہا تھا عروشمہ کا
اسے ائیر پورٹ چھوڑنے جارہے تھے گھر والے۔۔۔۔
کل کا دن بہت تیزی سے گزر گیا کسی نے اسکی رائے نہیں لی اسے کہہ دیا گیا کہ طلاق کے کاغذات پاکستان بھجوا دے۔۔۔
اور جب وہ بات کرنا چاہتا تھا اسکے ہاتھ روک لئیے گئے تھے اسکی دوسری شادی پاؤں کی بیڑی بن گئی تھی آج اسکے لیے۔۔۔
“عاصم آپ اپنی کزن کو سی آف کرنے نہیں جائیں گے۔۔۔؟؟”
“اریج پلیز ابھی جاؤ یہاں سے۔۔۔”
“پر عاصم بارش میں کھڑے نہ ہوں بیمار پڑ جائیں گے۔۔۔”
“جاؤ یہاں سے پلیز۔۔۔”
اریج عاصم کا غصہ دیکھ کر وہاں سے جیسے ہی گئی تھی عروشمہ بھی گاڑی میں بیٹھے لگی تھی۔۔۔مگر اس نے اوپر نظر ڈورائی اور عاصم کو دیکھا تھا۔۔۔
اور ہاتھ ہلا کر بائے کہا تھا۔۔۔
اسکی آنکھوں میں جانے سے پہلے ہزاروں شکوے ہزاروں شکایتیں تھیں
عاصم کو لیکر۔۔۔وہ خاموشی سے لے گئی تھی سب کچھ ساتھ اپنے۔۔۔
اسکا ہاتھ ہلانے ان آنکھوں میں پانی لے آیا تھا اسکے قدم نیچے جانا چاہتے تھے وہ نیچے بھاگ کر اسے روکنا چاہتا تھا مگر اس نے اسکے برعکس کیا۔۔۔
اپنا منہ پھیر لیا تھا۔۔۔آنکھیں صاف کرلی تھی۔۔۔
وہ اسکی محبت جسے بیوی بنا کر وہ لایا تھا وہ تین سال کا مقدس رشتہ۔۔۔اس۔۔ اس کا بچہ اسکی بیوی سب چلا گیا تھا۔۔۔
اور اس نے ایک بار بھی نہیں روکا انہیں۔۔۔
“میں تمہیں روک بھی لیتا معاف کر بھی لیتا۔۔۔اپنا بھی لیتا۔۔۔ مگر میں کبھی تمہارا ماضی نہ بھول پاتا عروشمہ۔۔۔ مجھے میری ہی محبت سے نفرت ہونے لگتی۔۔۔ اچھا۔۔۔اچھا ہوا جو تم چلی گئی ہو۔۔۔”
۔
وہ خود کو تسلیاں دے رہا تھا بارش میں آنکھیں صاف کررہا تھا۔۔۔
وہ کتنے گھنٹے وہاں کھڑا رہا۔۔۔ گھٹن اسے اس وقت ہونا شروع ہوئی تھی جب گھر کے لوگ واپس آئے تھے۔۔۔
‘اور وہ گھر والی چلی گئی تھی’
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ مجھے بس بھیج دیں میں نے اپنی دوست سے بات کرلی ہے وہ مجھے پک کرلے گی۔۔۔”
اپنی دہرائی ہوئی باتیں عروشمہ کو یاد آرہی تھی جب وہ پاکستان پہنچ گئی تھی ائیر پورٹ سے باہر اکیلی کھڑی تھی۔۔۔
اسے زبردستی نگہت بیگم نے کچھ پیسے دہ دئیے تھے اس نے ٹیکسی کروائی اور ایک ہی لفظ کہا تھا
دارلامان کا جس کا نام وہ سنتی آئی تھی
کیسی عجیب بات تھے ایک ادارے میں اس نے اپنی بچی کو پھینک دیا تھا ایک ادارے میں اسے قسمت نے۔۔۔۔
۔
ٹیکسی کا کرایہ دے کر وہ اندر اپنا ایک بیگ پکڑے چلی گئی تھی اور ایک زندگی اسکی شروع ہوگئی تھی۔۔۔۔
اب اسکے سامنے ایک بہت کھٹن کام تھا
وہ اپنے نام کے ساتھ کس کا نام لگائے۔۔۔؟؟
باپ نے اپنے نام کو ہٹانے کے لیے جلدی جلدی بیاہ دیا۔۔۔
شوہر نے اپنے نام کو ہٹانے کے لیے طلاق بطور سزا دہ دی۔۔۔۔
وہ اس خیراتی ادارے کے گیٹ پر کھڑی تھی۔۔۔۔
وہ جس کرب سے گزر تھی بس وہ جانتی تھی یا اسکا رب۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سائم آپ اتنی جلدی ایونٹ سے واپس آگئے۔۔۔؟؟”
انکے ہاتھ سے آفس بیگ پکڑتے ہوئے سونم نے کہا تھا
“ابھی سوہا کو فون کرو اور اسے کہوں کے آشیانہ اورفینج میں میں نے آج عروشمہ کو دیکھا ہے۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟ مگر وہ تو دبئی جاچکی تھی شادی کے بعد اپنے والد کی وفات پر بھی نہیں آئی تھی۔۔۔”
“وہ میں نہیں جانتا انفارمیشن لینے پر معلوم ہوا ہے وہ پچھلے ایک ماہ سے وہی ہے۔۔۔”
“تو آپ بات کیجئے سوہا سے۔۔۔۔”
موبائل فون انہوں نے اپنے ہسبنڈ کے سامنے کیا تھا
“میں نہیں کروں گا اس سے بات تم جانتی ہو۔۔۔کتنا ہرٹ کیا ہے اس نے مجھے۔۔۔”
سائم صاحب صوفہ پر بیٹھ گئے تھے
“اتنے سال ہوگئے ہیں اسے معاف کردیں۔۔۔اس نے مجبوری میں اتنی جلدی شادی کی تھی پلیز۔۔۔”
“مجبوری کچھ بھی ہو سونم اس نے مجھے مایوس کیا ہے۔۔۔کیا اسی دن کے لیے ماں باپ بچوں کی بہترین مستقبل کے لیے محنت کرتے ہیں خواب دیکھتے ہیں۔۔۔
کہ بچہ اپنی مرضی کرے۔۔؟؟ ایک اکلوتی بیٹی بھی ہماری نہ ہوسکی۔۔۔ میں بات نہیں کروں گا اس سے۔۔۔”
وہ وہاں سے کمرے میں چلے گئے تھے۔۔۔
۔
اور سونم بیگم نے فون ملا دیا تھا سوہا کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیا مطلب زارا۔۔۔؟؟”
“مطلب میں اپنی دوست سے ملنے جانا چاہتی ہوں۔۔۔ اسی دوست سے جس کی وجہ سے آپ نے مجھے قسم کھانے کے لیے کہا تھا ہماری شادی کی رات کو وہی دوست۔۔۔”
“اور تم اس بدکردار۔۔۔”
“وہ بدکردار لڑکی نہیں ہے۔۔۔ اس سے جانے انجانے میں جو گناہ ہوا ہے نہ ایاز اس پر آپ اسکا کردار جج نہیں کرسکتے۔۔۔”
“تم مجھ سے امید رکھ رہی ہو میں تمہیں اجازت دہ دوں گا۔۔؟؟”
“ہاں۔۔۔ آج میں اس راستے پر واپس جانا چاہتی ہوں جس راستے پر میں نے اپنی دوست کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔
چھوڑ دی تھی وہ یاریاں۔۔۔۔
ایاز ایک بار اسے اکیلا چھوڑا تھا اور وہ شکار ہوگئی تھی ایک دھوکے کا۔۔۔
اب اسکے پاس کوئی نہیں سوائے ہماری یاریوں کے۔۔۔
ہم سب دوست جانے والی ہیں اپنی اس راہ بھٹکی دوست کو واپس زندگی میں لانے کے لیے۔۔۔”
ایاز نے خاموشی اختیار کرلی تھی شادی کے ان سالوں میں پہلی بار زارا نے کوئی ضد کی تھی
“زارا میری بات۔۔۔”
“میں چھپ کر بھی جا سکتی تھی ایاز۔۔۔ مگر میں نے بہت تسلی سے آپ کو بتایا ہے یہ سب تو اپنے گھر والوں کے سامنے بھی نہیں کہہ سکتی تھی۔۔۔
آپ جانتے ہیں کیوں نڈر ہوکر آپ سے اجازت مانگی آپ کو بتایا ہے۔۔؟؟”
ایاز کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئیے زارا بھی پہلو میں بیٹھ گئی تھی
“یہ اعتماد کنفیڈنس آپ نے مجھے دیا ہے ایاز۔۔۔ آپ کا مجھ پر اندھا یقین مجھے اتنی آزادی نے مجھے اتنی ہمت دی کہ میں آپ سے بات کروں آکر
آپ نے مجھے وہ یقین دیا جو میرے گھر والے بھی نہ دے سکے مجھے۔۔۔
آج میں نے عروشمہ کے پاس جانے کی ضد اس لیے کی ہے ایاز کیونکہ وہ غلط نہیں ہے اسکے ساتھ غلط ہوا ہے۔۔۔ میں اور باقی کی تین دوستوں نے اسے اس وقت تنہا کردیا تھا۔۔۔
مگر سکون تھا کیونکہ اسکی شادی ہوگئی تھی۔۔۔ ایاز وہ بھی اس سے جو اسکا اپنا تھا۔۔۔
اب وہ ایک یتیم خانے میں لاوارث پڑی ہے اور۔۔۔پریگننٹ ہے۔۔۔
مجھے جانا ہے اسکے پاس ایاز۔۔۔ مجھے اپنی دوستوں کے پاس جانا ہے۔۔۔
ورنہ خود کو معاف نہیں کرپاؤں گی۔۔۔”
اپنے شوہر کے کندھے پر سر رکھ کر وہ بےتحاشہ رو دی تھی
۔
“اب بس کر جاؤ۔۔۔ ہادی نے دیکھ لیا تو سوچے گا میں نے رولا دیا ہے۔۔۔اور تھوڑا میک اپ کرکے جانا بھوتنی لگ رہی ہو۔۔۔میری چڑیل۔۔۔”
“ایاز۔۔۔۔۔”
“ایاز۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ روتے روتے ہنس دی تھی۔۔۔ اپنے مجازی خدا کو دیکھ کر۔۔۔
“اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔؟؟”
“دیکھ رہی ہوں محرم رشتے میں سکون اور راحت سے بھری زندگی ۔۔۔ اللہ کے فیصلے بیشک بہترین ہوتے ہیں۔۔۔ ہمارے اس رشتے نے میری ساری غلط فہمیاں مٹا دی ہیں۔۔”
“اب بس جذباتی لڑکی۔۔۔بچے کو رولاؤ گی کیا۔۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا بچے اور آپ۔۔۔؟ “
“ہاہاہا زرا سا خوش نہ ہونے دینا بیچارے شوہر کو۔۔۔”
ایاز نے زارا کے ماتھے پر بوسہ دے کر خود اسے بھیجا تھا گاڑی کا دروازہ کھول کر بند کیا تھا
“ماما جلدی آجانا۔۔۔۔”
چھوٹے بچے کی آواز پر زارا نے مسکرا کر جواب دیا تھا اسکا ماتھا چوم کر وہ گاڑی سٹارٹ کرچکی تھی
۔
