51K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

“میں تمہیں ڈیزرو نہیں کرتا۔۔۔ میں ایسی لڑکی کو ڈیزرو نہیں کرتا جو کسی اور مرد کو اپنا آپ سونپ چکی ہو۔۔۔ مجھے گھن آرہی ہے عروشمہ۔۔۔ مجھے نفرت ہورہی ہے تم سے اس رشتے سے۔۔
جو کچھ دیر پہلے تک میرے لیے بہت مقدس تھا۔۔”
۔
“عروشمہ تمہارے ماضی نے سب برباد کردیا ۔۔۔اس بچے کو آبورٹ کروا دو۔۔۔
مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔
اور تمہیں تو کوئی پریشانی بھی نہیں ہوگی۔۔۔ ایک بچہ پہلے ہی تم پیدا کرکے پھینک چکی ہو۔۔۔”
۔
“نووو مجھے طلاق مت دینا عاصم اب کوئی ٹھکانہ کوئی سہارا نہیں رہا میرے پاس نہ ماں باپ نہ بہن بھائی سب کو کھو چکی ہوں۔۔۔”
وہ بنچ پر بیٹھ گئی تھی اس پارک کے
سر پر دوپٹہ تھا پر پاؤں میں جوتی نہیں تھی وہ گھر سے ایسے ہی نکل آئی تھی عاصم نے بنا ہاتھ اٹھائے اپنی باتوں سے اتنا زخمی کردیا تھا کہ اسکا روم روم زخمی ہوگیا تھا۔۔۔
وہ زخموں کی تاب نہیں لا سکی تھی اور نکل آئی تھی جو گھر جنت تھا اب اسے گھٹن ہورہی تھی
“یا اللہ میں تیری گناہ گار ہوں خطاکار ہوں۔۔۔ اللہ میں نے کہاں کس مقام پر معافی نہیں مانگی۔۔؟؟
اللہ اگر میری غلطی کی سزا موت ہی تھی بدنامی کی رسوائی کی موت تو کیوں مجھے اتنے صبر سے نوازا۔۔۔؟؟
کیوں مجھے موت نہیں دہ دی۔۔؟؟ اللہ میں اور رسوائی برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔
یااللہ تیرے بندے ایک راز نہیں چھپا سکےکردی میری زندگی برباد۔۔۔”
ہاتھوں میں منہ چھپائے وہ زارو قطار رو وہی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عاصم۔۔۔۔”
“نہیں ابو مجھے امی سے بات کرنے دیجئے۔۔۔”
“کوئی مجھے بتائے گا کہ ہوا کیا ہے نوشین بیٹا تم بتاؤ کیا بات ہوئی ہے۔۔۔؟؟”
“ابو مجھے خود بھی نہیں پتہ یہ دونوں نہیں بتا رہے عاصم بھائی اس وقت سے گئے اب آئے ہیں۔۔۔”
نگہت بیگم بھی خاموش تھی اور عاصم بھی وہ دونوں ہی کترا رہے تھے سچائی بتانے سے۔۔۔
“حماد آپ اور نوشین کچھ دیر کے لیے مجھے اور عاصم کو اکیلا چھوڑ سکتے ہیں۔۔؟؟ میں کچھ بات کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
حماد صاحب انکار کرنا چاہتے تھے وہ اس گھر کے سربراہ تھے سرپرست تھے اور انہیں ہی کچھ علم نہیں تھا وہ بھی جاننا چاہتے تھے پر بیوی کی التجا کرتی نظروں سے انہیں اس کمرے سے باہر جانے پر مجبور کردیا تھا
“اپنا ارادہ بدل دو عاصم میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔”
“امی کسی بدکردار۔۔۔”
‘بدکردار کہا تم نے ۔۔؟؟ اس تین سالوں میں کہیں اسکی نظر تمہیں کسی نا محرم کی طرف اٹھی نظر آئی۔۔؟؟ کبھی دیکھا اسے کسی کو دیکھتے ہوئے۔۔؟؟
کبھی خاندان میں سنا تھا ہاشم بھائی کی بیٹیوں کی بدکاری کا۔۔؟؟
عاصم۔۔۔ وہ گمراہ ہوئی تھی اسے بدکردار کہہ کر اور تکلیف نہ دو میرے بچے ایک بار بیٹھ کر سن لو ۔۔”
“آپ جانتی ہیں میں نے کبھی کسی لڑکی سے دوستی نہیں کی نہ سکول کالج نہ ہی یونیورسٹی میں۔۔
یہاں کا ماحول جانتی ہیں نہ آپ۔۔؟؟ میں مرد ہوکر کبھی بہکا نہیں امی۔۔۔ آفس میں بھی گرلز ایمپلائز ہیں کبھی اونچی نظر سے نہیں دیکھا۔۔۔
میں نے مامو کی بیٹی کو دل میں جگہ دی تو اللہ سے مانگا کبھی عروشمہ پر کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔ آپ کو بھی تو اس دن بتائی تھی اپنی پسند میں مرد ہوکر ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتا تھا امی مجھے ان سب کے بعد بھی کیا ملا۔۔؟؟ بیوی ملی بھی تو۔۔۔”
اپنا بھیگا ہوا چہرہ کھڑکی کی طرف کرلیا تھا
“عاصم عروشمہ کے ساتھ ۔۔۔”
“میری کیا غلطی ہے آپ بتا دیں۔۔؟؟ ہم مرد باہر سینہ چوڑا کرکے چلتے ہیں پتہ ہپے کیوں۔۔؟؟
کیونکہ ہمیں اپنی عیش عشرت دولت پر اتنا فخر نہیں ہوتا جتنی گھر کی عورتوں پر ہوتا ہے۔۔۔
وہ باکردار ہوتی ہیں تو مرد معاشرے میں سر اٹھا کر چلتا ہے۔۔۔
جب بیٹی بہن بیوی ایسی بدکرداری کر جائے نہ وہ کمزور عورت گھر کے خاندان کے مظبوط پتھر جیسے مردوں کو منہ کے بل گرا دیتی ہے۔۔۔۔
میرا قصور کیا تھا امی۔۔۔؟؟ میں کہاں غلط تھا۔۔؟؟ میں برداشت نہیں کرپارہا۔۔۔”
“قصور اس بیچاری کا بھی نہیں تھا۔۔۔ ہاں اس نے غلطی کی گناہ کیا گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھ کر۔۔۔
عاصم نا سمجھی میں بچیاں بچے یہ غلطی کرجاتے ہیں میں مانتی ہوں وہ غلط تھی۔۔۔
پر میرے بچے وہ کسی نامرد کی محبت میں اندھی ہوئی تھی جو اتنا گھٹیا نکلا۔۔۔ اس نے ناجائز فائدہ اٹھایا۔۔۔”
عاصم جو ناں میں سر ہلا رہا تھا جو ایک لفظ سننا نہیں چاہتا تھا والدی کی باتیں سن کر اس نے سر ہلانا بند کردیا تھا جیسے وہ آگے بھی سننا چاہتا تھا
“اسے نشہ آور چیز پیلا دی گئی تھی۔۔۔ وہ بےغیرت جیل میں ہے۔۔۔ اسے تو سزا مل رہی ہے پر ہماری عروشمہ کی سزا ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔۔۔ اسے ہر لمحے ہر پل میں نے گھٹتے سسکتے دیکھا ہے عاصم۔۔۔۔
تم مرد ہو شوہر ہو۔۔۔ تمہارا ہر غصہ جائز ہے۔۔۔ ایک بار اس سب کو اسکا ماضی سمجھ کر دیکھو۔۔۔
وہ لڑکی بےحیا نہیں تھی اس ایک غلطی کے علاوہ کہیں خاندان سے اسکے کردار کا پتہ کرلو۔۔۔
ابھی معاف نہ کرو عاصم پر اسے معاف کرنے کا ارادہ تو رکھو۔۔۔” بیٹے کو اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھا لیا تھا
“عاصم۔۔۔ اللہ پاک نے زنا کو معاف نہیں کیا۔۔ سب جانتے ہیں۔۔۔ وہ اللہ کی گناہ گار ہے وہ اس کے بندے اور رب کا معاملہ ہے۔۔۔
وہ اپنے ماضی کی معافی تم سے مانگ رہی ہے۔۔۔ جبکہ وہ تو سب کچھ بھگت کرتمہارے پاس آئی تھی نہ۔۔؟؟ تمہارا ماضی ہوتا تو تمہاری بیوی نے تمہیں افف تک نہیں کرنی تھی۔۔۔
کیونکہ وہ ماضی تھا۔۔۔ ایک بار تم بھی بڑا دل کرکے دیکھو۔۔۔ اللہ کے لیے اپنی بیوی کو معاف کردو۔۔۔ اسے ایک موقع تو دو۔۔۔ ان تین سالوں کا سوچ کر ہی۔۔۔”
۔
“میں اسے۔۔۔ میں اسے معاف نہیں کرسکتا امی یہ اتنا آسان نہیں ایم سوری۔۔۔ آپ اسے پاکستان بھیج دیں طلاق کے کاغذات۔۔۔”
“امی۔۔۔ ۔۔مامو۔۔۔پاکستان سے فون آیا تھا”
نوشین کا پورا چہرہ آنسوؤں سے بھرا ہوا تھا جب اس نے دروازہ کھولا تھا
“کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟ ہاشم۔۔۔بھائی ٹھیک ہیں۔۔؟؟”
نگہت بیگم کی زبان لڑکھڑا گئی تھی جیسے بولا نہیں جارہا تھا۔۔۔
نوشین نے بھی نفی میں سر ہلا دیا تھا۔۔۔
“امی۔۔۔ہاشم مامو۔۔۔ہم میں نہیں رہے ہیں۔۔۔افتخار مامو کا فون آیا تھا۔۔
امی جلدی جانا ہوگا۔۔۔ جنازہ صبح دس بجے لے جائیں گے وہ۔۔۔”
نوشین بھی روتے ہوئے بتا رہی تھی ماں وہیں بیٹھ گئی تھی
“امی عاصم نے جیسے ہی انکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ان کا ہاتھ اٹھ گیا تھا
“مار دیا میرے بھائی لوگوں کی باتوں نے انکے طعنوں نے۔۔۔پر تم تو خون تھے نہ۔۔؟ وہ مامو تھے تمہارے جن کو فون کرکے کیا کچھ نہی کہا تم نے عاصم شرم نہیں آئی۔۔۔ کسی باپ کو انکی بیٹی کے بارے میں ذلیل کرنا اگر تمہاری مردانگی ظاہر کرتا ہے تو تم مرد نہیں ہو میری نظر میں۔۔۔”
عاصم تھپڑ سے اتنا شاکڈ نہیں تھا جتنا اپنی والدہ کے الزامات سے تھا جو سب سچ تھے۔۔
“امی عاصم بھائی ۔۔۔”
“نوشین۔۔۔اسکے فون کی وجہ سے وہ مر گئے چلے گئے میں اپنے بھائی کو دیکھ نہیں سکوں گی بات نہیں کرسکوں گی مل نہیں سکوں گی ان سے تم نے میرے بھائی کو مار دیا۔۔۔
میرے اپنے بیٹے نے۔۔۔”
“امی۔۔۔”
“نوشین اسے لے جاؤ میرے کمرے سے اسے لے جاؤ،،،، عروشمہ کو ۔۔۔اسے تیار کرو اسے بتانا نہیں کچھ بھی اسے۔۔۔”
“امی بھابھی اپنے کمرے میں نہیں ہیں۔۔۔۔ ملازمہ نے بتایا وہ صبح ہی باہر چلی گئی تھی وہ۔۔۔”
یا اللہ۔۔۔
بیڈ پر گر گئیں تھیں وہ جب حماد صاحب آئے تھے
“بیگم۔۔۔سنبھالو اپنے آپ کو۔۔۔”
“حماد۔۔۔ ہاشم بھائی نہیں رہے۔۔۔ آپ جانتے ہیں نہ انہوں نے کیسے پالا تھا ہمیں۔۔۔
ہم بہن بھائیوں کو ابو کے جانے کے بعد۔۔۔ حماد اس نے بھائی کی جان لے لی جو لوگ کرنا چاہتے تھے وہ میرے بیٹے نے کردیا ایک بدنامی کی ذلت کی رسوائی کی موت دے دی اس نے اسے دور کردیں میری نظروں سے،،،،”
عاصم کو دھکے دے کر کمرے سے باہر نکال دیا تھا۔۔۔
انکے رونے کی آوازیں باہر کمرے تک جارہی تھی۔۔۔
“عاصم بھائی۔۔۔ بھابھی کو ڈھونڈیں کسی طرح سے،،، اب تو بہت گھنٹے ہوگئے ہیں۔۔۔
وہ بدکردار نہیں ہیں مجھے اکیلے ملنے جانے سے انہوں نے روکا تھا۔۔۔ پچھلے تین سال امی ابو سے زیادہ تو شیر کی نظر مجھ پر بھابھی نے رکھی ہوئی تھی۔۔۔
مجھے نہیں پتہ ماضی کیا تھا کیا وجہ بنی۔۔ پر وہ آپ کی ‘قدر’ میں اللہ کی رضا کے بعد شامل ہوئی تھی۔۔۔ اللہ کی نعمت کو نہ ٹھکرائے۔۔۔”
نوشین اپنی امی کے کمرے میں چلی گئی تھی اور عاصم واپس اپنے بیڈروم میں آگیا تھا۔۔
پورے کمرے میں اسے کوئی لیٹر کوئی نوٹ نہیں ملا تھا اور آخری امید وہ فون تھا جب اس نے عروشمہ کے نمبر پر کال کی تو وہ نمبر بھی اسی کمرے میں بج رہا تھا۔۔۔
“عروشمہ۔۔۔۔”
عاصم گھر سے باہر بھاگا تھا جلدی جلدی میں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ پاگل ہوگئے ہیں افتخار۔۔۔ ہم بھلا وہاں کیوں نہیں جاسکتے آپ۔۔۔”
“میرے بھائی کو مار کر اب جھوٹا رونا رونے جارہی ہو مکار عورت۔۔۔”
“ابو آپ۔۔۔”
“بکواس بند کرو۔۔۔ واپس جاؤ اندر۔۔۔ کوئی رشتہ نہیں تم لوگوں کا۔۔۔ تم لوگ اتنے منافق ہوگئے ہو کہ میرے بھائی کے جنازے پر بیٹھ کر بھی وہاں لوگوں کے سامنے میرے بھائی کی عزت کا جنازہ نکالو گی جیسے عاصم کے سامنے کیا۔۔۔”
آنکھیں صاف کرکے وہ اپنے بیوی بچوں پر چلائے تھے
“افتخار۔۔۔”
“تمہاری اس فطرت کو میں ہمیشہ معاف کرتا آیا بیگم۔۔۔ تم تو وبالِ جان بن گئی میرے بھائی نے مجھے فون کرکے التجا کی تھی بھائی نہیں بیٹا سمجھ کر مجھے سمجھایا تھا کہ عاصم اب انکا بھانجا نہیں داماد بھی ہے مگر تم لوگ۔۔۔ لعنت ہے۔۔۔۔
ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے۔۔۔
پر تم ۔۔۔تم نگل گئی میرے بھائی کو۔۔۔ چلا گیا وہ۔۔۔ اس نے دیکھا ہی کیا تھا۔۔۔
ساری زندگی بہن بھائیوں کو پالتا رہا وہ ہماری پرورش کی ہمیں پڑھایا لکھایا پھر شادیاں کی اور پھر اولاد کی زمہ داریاں پوری کرتا رہا۔۔۔ یا اللہ۔۔۔ سب اولاد کا سکھ دیکھنا تھا تب اس ظالم لوگوں نے مار دیا ۔۔۔”
گھر کے صحن میں افتخار صاحب کے رونے کی آوازیں گونج رہیں تھیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاشم بھائی۔۔۔۔میں آپ کو دیا وعدہ پورا نہ کرسکی۔۔۔ میرا بیٹا ہی قاتل نکلا آپ کا۔۔۔”
وہ مرگ والے گھر میں داخل ہوئے تھے نگہت بیگم یہی سرگوشی کررہی تھیں عاصم سر جھکائے ماں کو سہارا دئیے اندر لے گیا تھا۔۔۔ جہاں آہ پکار تھی۔۔۔
جانے والے کے لیے سب ہی رو رہے تھے
“ابو ایک بار۔۔۔۔اٹھ جائیں۔۔۔پلیز۔۔۔”
“ہاشم نگہت آئی ہے اٹھ کر ملیں گے نہیں بہن کو۔۔۔ “
نگہت بیگم بھائی کی چارپائی کو پکڑے رو رہی تھی جب وہ نام کی سرگوشیاں چیم گوئیاں ہونا شروع ہوگئیں تھیں
“عروشمہ نہیں آئی۔۔۔ “
“ہاشم صاحب کی بیٹی کے سسرال والے آگئے بیٹی کیوں نہیں آئی۔۔۔”
“اس کا مطلب لوگ سہی کہہ رہے تھے ضرور منہ کالا کروا کر گئی تھی۔۔”
۔
“سوہا۔۔۔”
سوہا جیسے ہی داخل ہوئی تھی اپنے والدین کے ساتھ وہ چاروں دوست ایک دوسرے کو کتنے سال بعد دیکھ کر بہت خوش بھی ہوئیں تھیں اور حیران بھی۔۔۔
“عندلیب۔۔۔۔”
“زارا۔۔۔۔ عروشمہ کہاں ہے۔۔؟؟”
سوہا زارا کے گلے لگتے ہیں سوال کرتی ہے اسکی نظریں ڈھونڈ رہی تھیں۔۔۔
“سوہا یہ بچی۔۔؟؟”
زارا نے سوال کیا تھا
“میری بیٹی ہے۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟سیریسلی۔۔۔؟؟ کیا ایج ہے۔۔؟؟””
بہت سے سوال پوچھے گئے تھے پر سوہا نے جواب ٹال دیا تھا۔۔
“میں ابھی آئی۔۔۔عروشمہ کی فیملی سے مل کر ایک منٹ۔۔۔”
سوہا نے پاس جا کر اس بچی کوگود سے نیچے اتار دیا تھا جو کھیلتے ہوئے سیدھا ان بیٹھے ہوئے لوگوں کے درمیان چلی گئی تھی۔۔۔وہاں اس چارپائی کے پاس
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عاصم یہاں کوئی خبر نہیں ملی بھابھی کی پولیس بھی ڈھونڈ رہی ہے میں کوشش کررہا ہوں۔۔۔تم پاکستان سے آؤ پھر دیکھتے ہیں نیوز میں دیں گے۔۔۔
کچھ پرائیویٹ کمپنیز کو بھی کہہ دیا ہے۔۔۔ انشاللہ جلدی پتہ چل جائے گا۔۔۔۔”
عاصم نے فون بند کردیا تھا۔۔۔
“مامو۔۔۔”
مامو کے جنازے کو کچھ سیکنڈ بھی دیکھ نہیں پارہا تھا اس قدر تکلیف میں تھا وہ۔۔۔
اوپر سے اسکی بیوی۔۔۔۔ جو اسکی ذمہ داری تھی اسکی خیر خبر بھی نہیں مل رہی تھی۔۔۔
اور کچھ دیر میں جنازہ بھی لے جانے والے تھے
“میں خود کو کبھی معاف نہیں کرپاؤں گا۔۔۔یاللہ۔۔۔ وہ میری عزت تھی میری ذمہ داری میں کیسے اپنے غصے میں اتنا اندھا ہوگیا کہ اسے بولنے کا ایک موقع نہ دیا۔۔۔
مامو۔۔۔مامو کی موت کا ذمہ دار میں ہوں۔۔۔
عروشمہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔۔۔ اللہ میرے غصے نے مجھ سے کیا کروا دیا ۔۔۔۔”
اسکی آنکھیں بھی سوجھ چکی تھیں وہبری طرح بےچین ہوگیا تھا ان سب چہروں میں اپنی بیوی کا چہرہ نہ دیکھ کر۔۔۔
اسکی سلامتی کی دعائیں مانگ رہا تھا وہ بار بارمگر کوئی دعا اسکی سکون نہیں بخش رہی تھی۔۔۔۔
۔
“جنازے کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔چلو عاصم بیٹا۔۔۔ “
“یہ بچہ کس کا ہے۔۔۔یہیں ہے کب سے۔۔۔”
جنازہ اٹھاتے وقت افراتفری مچ گئی تھی انکی بیٹیوں کی آوازیں اور زیادہ ہوگئی تھی کوئی بھی تیار نہیں تھا اس شخص کا وجود چھوڑنے کو جو سب کو چھوڑ کرجاچکا تھا۔۔۔
“عاصم اس بچے لو پکڑ۔۔۔افتخار صاحب آجائیں بلا لیں سب کو۔۔۔”
عاصم نے س بچے کو اپنی طرف کھینچنے کی بہت کوشش کی تھی جو چھوڑ نہیں رہا تھا ہاشم صاحب کی چارپائی کو۔۔۔
عاصم نے اس بچی کو اپنی گود میں لے لیا تھا جو رونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“یہ میری بیٹی ہے میں اسے ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔”
سوہا نے پارسا کو جلدی سے پکڑ لیا تھا اور واپس اسی کارنر پر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں۔۔۔میں یہاں کیسے آئی۔۔۔؟؟”
بیٹا تمہارا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔۔”
“میرا۔۔۔ میرا بچہ۔۔۔”
عروشمہ کا ہاتھ اسکے پیٹ کی طرف گیا تھا۔۔۔
“بچہ ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب ابھی چیک اپ کرکے گئے ہیں۔۔۔ بس ہلکی چوٹ آئی ہے۔۔۔”
“اووہ۔۔۔۔”
“بیٹا تمہارے گھر کا نمبر ایڈریس دو میں فون کرکے اطلاع دہ دوں۔۔۔”
عروشمہ نے اب نظر اٹھا کر پاس بیٹھی ضعیف عورت کودیکھا تھا جس نے شفقت بھرا ہاتھ اسکے سر پر رکھا تھا۔۔۔
“میرا کوئی گھر نہیں ہے۔۔۔نہ میں کوئی ہے نہ میں کسی کی ہوں۔۔۔بس یہ میرا ہے۔۔۔”
اپنی آنکھیں بند کر لی تھی یہ کہہ کر اس نے۔۔۔
“بہت دیر لگی سمجھنے میں۔۔۔ بہت مشکل سے سمجھ آئی مجھے۔۔۔
میں بلکل اکیلی ہوں اس دنیا میں۔۔۔ میرے گناہوں نے مجھے تنہا کردیا۔۔۔”
وہ خود سے باتیں کررہی تھی بڑبڑا رہی تھی
“تم چاہو تو یہاں ایک اورفینج ہے وہاں رہ سکتی ہو جب تک کوئی رہنے کی جگہ کا انتظام نہیں ہوجاتا۔۔۔
میں بھی وہاں کی کئیر ٹیکر ہوں تم میرے ساتھ چل سکتی ہو بیٹا۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ماہ بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“عاصم میں ابھی ایک ایڈریس سینڈ کررہا ہوں جلدی جاؤ وہاں میں بھی اپنی ٹیم کے ساتھ پہنچ رہا ہوں اس کلب میں۔۔۔”
“میں ایک ضروری میٹنگ میں ہوں عابد۔۔۔اور کونسا کلب۔۔؟؟ میں کیوں وہاں جاؤں گا۔۔۔؟؟”
“عاصم وہاں۔۔۔وہاں ہر سال بہت بڑی نیلامی ہوتی ہے۔۔۔انسانوں کی۔۔۔”
“تووو۔۔۔؟؟ مجھے کیوں بتا رہے ہو پولیس والے ہو تم روکو۔۔۔”
“عاصم۔۔۔۔ عروشمہ بھابھی بھی وہیں ہے یہ خبر ملی ہے۔۔۔۔ پچھلے کچھ ماہ سے اسی کلب میں وہ۔۔۔ ڈانس ۔۔۔”
“عابد ۔۔۔”
عاصم نے غصے سے کہا تھا۔۔۔
“ابھی۔۔۔ابھی ایڈریس بھیج رہا ہوں تم جاؤ وہاں عاصم میں بھی پہنچ رہا ہوں۔۔۔”
۔
عاصم پہلے ہی آفس سے باہر تھا اور اپنی گاڑی سٹارٹ کرچکا تھا۔۔۔۔
۔
“یا اللہ۔۔۔۔میں اسے کہاں کہاں دھونڈتا رہا۔۔۔وہ۔۔۔وہ ٹھیک ہو۔۔۔بس۔۔۔”
اسکی گرفت سٹیرنگ پر مظبوط ہوگئی تھی۔۔۔
۔
“دس ون آور پول ڈانسر ہوو ونا وانٹ ہر۔۔؟؟”
وہ جیسے ہی داخل ہوا تھا سٹیج پر کھڑی نشے میں دھت اس لڑکی پر اسکی نظر پڑی تھی جو ٹھیک سے کھڑی بھی نہیں ہوپارہی تھی جسے کپڑے بھی ایسے پہنائے ہوئے تھےجو ڈیسنٹ نہیں تھے۔۔۔
عاصم ان دس آدمیوں کو پیچھے دھکا دے کر وہاں پہنچا تھا
“عروشمہ۔۔۔”
“ہئ مین ہو آر یو۔۔۔”
عروشمہ کو وہ آدمی پھر سے پکڑنے لگا تھا جب عاصم نے اسے زور دار مکا مارا تھا۔۔۔
اسکے گارڈز عاصم کو عروشمہ سے کھینچ کر پیچھے لے جانے کی کوشش کررہے تھے جب وہاں پولیس آگئی تھی۔۔۔
۔
“عابد۔۔۔”
“شئ از پریگننٹ۔۔۔؟؟”
عابد نے جیسے ہی کہا تو عاصم کی نظر عروشمہ کی حالت پر گئی تھی۔۔۔
“ہمیں ہسپتال لے جانا ہوگا۔۔۔ یہ لوگ نشہ دے رہے تھے۔۔۔”
عابد ہی سب باتیں کررہا تھا عاصم عروشمہ کو اٹھائے وہاں سے باہر لے گیا تھا۔۔۔
“جب گھر کے مرد عورتوں کی نہ قدری کرنے انہوں ذلیل و رسوا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو دنیا یہی حال کرتی ہے گھر کی عزتوں کا۔۔۔۔”
عابد نے گاڑی کا دروازہ بند کردیا تھا اپنی بات مکمل کرکے۔۔۔
بیک سیٹ پر وہ عروشمہ کو اپنے گلے سے لگائے ایک الگ دنیا میں کھو گیا تھا۔۔۔
سینے سے لگائی ہوئی لڑکی اسکی بیوی لگ ہی نہیں رہی تھی وہ اتنی کمزور ہوگئی تھی پورا چہرہ میک اپ سے بھرا ہوا تھا وہ لمبے گھنے بال اب کٹے ہوئے تھے جو کندھے تک بھی نہیں پہنچ رہے تھے۔۔۔
“عاصم۔۔۔۔”
“ایک بار۔۔۔ عروشمہ کو ہوش آجائے میں پھر اپنی بیوی کو ایک لمحے کے لیے بھی خود سے دور نہیں کروں گا۔۔۔ اپنے بچے کو بھی نہیں۔۔۔
میں نے ماضی کی ایک غلطی کے پیچھے ہم دونوں کے مستقبل کو داغدار کردیا۔۔۔ میں تو سب سے بڑا گناہ گار ثابت ہوا۔۔۔۔عروشمہ۔۔۔۔”
۔