Yaariyan by Sidra Sheikh readelle50013 Episode 09
Rate this Novel
Episode 09
“عاصم۔۔۔ یہ عروشمہ ہے۔۔۔؟؟ ہماری عروشمہ اس حالت میں۔۔۔ یا اللہ جلدی میرے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔”
عاصم کو ان مہینوں میں پہلی بار نگہت بیگم نے بلایا تھا اسکا نام لیکر۔۔۔
“امی میں اپنے بیڈروم میں لیکر کیوں نہیں جاسکتا۔۔؟؟”
“وہاں تمہاری بیوی موجود ہے بھول گئے ہو تم۔۔۔؟؟
پچھلے ماہ تم نے شادی کرلی تھی جو تمہاری نظر میں پاک صاف تھی۔۔۔
اب تمہارے نکاح میں رہنے کا فیصلہ میں نہیں عروشمہ کرے گی اسے کمرے میں لے جاؤ میرے۔۔۔”
انہوں نے سختی سے کہا تھا عروشمہ کی حالت دیکھ کر انہیں اور زیادہ غصہ آیا تھا
اپنے بیٹے پر مگر وہ خاموش ہوگئی اور اپنے کمرے کا راستہ دیکھایا اپنے بیٹے کو۔۔۔
“امی میری بات۔۔۔”
“جاؤ عاصم اپنے کمرے میں تمہاری بیوی انتظار کررہی ہوگی نوشین کو بھیج دینا اور اسے کہنا اپنا کوئی ڈریس بھی لے آئے۔۔۔ ڈاکٹر کو میں فون کرچکی ہوں۔۔”
عروشمہ کو عاصم نے جیسے ہی لٹایا تھا
نگہت بیگم نے اسے پیچھے کردیا تھا اور خود عروشمہ کے پاس بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔
“کیا حالت ہوگئی ہے تمہاری میری بچی۔۔۔ اگر آج میرا بھائی زندہ ہوتا تو تمہیں اس حال میں دیکھ کر پھر سے مر جاتا۔۔
عروشمہ۔۔۔ ایک وقت تھا جب مجھے بھی تم پرغصہ آتا تھا۔۔۔اب سوائے ترس اور ہمدردی کے کچھ نہیں آتا۔۔۔ تمہیں بہت بڑی سزا ملی ہے اس زندگی میں۔۔۔”
عاصم باہر چلا گیا تھا اور کچھ برداشت کرنے کی ہمت نہیں رہی تھی اس میں۔۔۔
“امی عروشمہ بھابھی کی یہ حالت کیسے ہوئی۔۔؟؟کہاں تھی۔۔؟؟ اس حال میں تھی۔۔؟؟
اتنے زخموں کے نشانات۔۔۔؟؟”
“نوشین ابھی کوئی بات نہیں میں عروشمہ کو کپڑے پہنا دوں ڈاکٹر صاحبہ جیسے ہی اندر آئیں تو انہیں سیدھا میرے کمرے میں لے آنا۔۔۔”
“جی ٹھیک ہے میں باہر انتظار کرتی ہوں۔۔۔”
نوشین فکر مند ہوکر باہر چلی گئی تھی
“نوشین اب عروشمہ کیسی ہے اسے ہوش آیا۔۔؟”
عاصم نے بہن کو روم سے باہر آتے دیکھ ہی سوال شروع کردئیے تھے
“عاصم۔۔۔؟؟ آپ اتنی جلدی آفس سے آگئے۔۔۔؟؟ اور کیا باتیں کررہے ہیں۔۔۔؟؟
ملازمہ بتا رہی تھی آپ کسی کو لائے ہیں۔۔۔”
عاصم کی وائف کے سوال کا جواب نوشین دینے لگی تھی جب عاصم نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا
“وہ۔۔وہ میری کزن ہے۔۔۔”
“ڈسگسٹنگ عاصم بھائی۔۔۔”
نوشین آہستہ آواز میں کہہ کر چلی گئی تھی
“کہاں ہے میں بھی ملوں۔۔۔”
“نہیں اسکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اریج تم روم میں جاؤ میں ابھی آتا ہوں۔۔۔”
وہ نظریں چرا گیا تھا اسکے اس طرح کے رویہ پر اریج بھی پریشان سی ہوئی تھی مگر درگزر کرکے روم میں چلی گئی تھی۔۔۔
“جلد بازی میں میں نے کیا کردیا۔۔۔پہلے ماموں کو فون اور پھر شادی۔۔۔”
۔
روم کے ساتھ دیوار پر وہ سر رکھ کر کھڑا تھا۔۔۔
جو فیصلے اسے سہی لگ رہی تھے اب اسکے دل نے پچھتانا شروع کیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دیکھو نگہت میں کچھ بُرا نہیں کہنا چاہتی مگر مجھے سچ بتاؤ کیا عاصم ہاتھ اٹھاتا ہے عروشمہ پر۔۔۔؟؟”
“یا اللہ۔۔۔نہیں۔۔۔ سنبل میرے بیٹے نے کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔۔۔”
“امی ایک منٹ۔۔۔”
عاصم بھی کمرے میں آگیا تھا پہلی نظر اسکی اپنی بیوی پر پڑی تھی جو ابھی بھی نڈھال تھی اور سو رہی تھی
“آنٹی یہ وہ کیس رپورٹ ہے۔۔۔ عروشہ کے غائب ہونے سے لیکر اسکے واپس مل جانے کی۔۔۔عروشمہ کی اس حالت کی ذمہ دار کچھ خواتین ہیں اور یہ دو مرد۔۔۔ جنہوں نے بھلا پھسلا کر جھوٹ بول کر اسے آگے بیچ دیا تھا۔۔۔”
وہ سب کہہ کر اپنی والدہ کے ساتھ بیٹھا گیا تھا نظریں ابھی بھی عروشمہ پر تھیں
“اووہ۔۔۔ایم سو سوری مجھے نہیں معلوم تھا۔۔۔ ویل نگہت عروشمہ کے جسم پر بہت زخموں کے نشان ہیں۔۔۔ اور اسے نشہ آور چیزیں پیلائی جاتی رہی ہیں۔۔۔
میں حیران ہوں یہ ایک معجزہ ہے کہ بچے کو عروشمہ کو کوئی زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔۔۔
ہوسکتا ہے عروشمہ جب جاگے تو ٹراما میں رہے ایسے پئشنٹ کا یہی ری ایکشن ہوتا ہے۔۔۔
مگر آپ لوگ مکمل کئیر اور محبت سے اسے واپس ٹھیک کرسکتے ہیں۔۔۔
اور یہ میڈیسن۔۔۔چوبیس گھنٹے کسی نہ کسی کا عروشمہ کے پاس ہونا لازمی ہے۔۔۔”
انہوں نے اور بھی احتیاطی تدابیر بتلائی تھی اور چلی گئی تھی وہاں سے۔۔۔۔
“امی میں یہ دوائی۔۔۔”
“کوئی ضرورت نہیں ہے احسان کرنے کی۔۔۔ کیا کہا اپنی بیوی کو یہ کزن ہے تمہاری۔۔؟؟
اب یہ کزن ہی بن کر رہے گی۔۔۔جاؤ اپنے کمرے میں تمہارے ابو آجائیں تو وہ لادیں گے،،،
اور بہت ملازم ہیں تمہاری ضرورت نہیں۔۔۔۔”
وہ اٹھی اور کمرے کے دروازے کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی تھی
“امی میری بات تو سن لیں۔۔۔”
“کونسی بات سنوں اور کیوں۔۔۔؟؟ جب تم نکاح کرنے جارہے تھے تب میں بھی تمہیں کچھ کہنا چاہتی تھی تب تم نے سنا تھا۔۔۔؟؟
تب تم نے اپنی مرضیاں کی اپنے فیصلے کئیے اب ان پر قائم رہو میری بیٹی میری بھتیجی کی ذمہ داری اب سے میری ہے۔۔۔
تم نے دوسری شادی کرنی تھی تم نے کرلی ایک پاک صاف پاکیزہ بیوی چاہیے تھی تمہیں تم لے آئے۔۔۔ اب جاؤ یہاں سے عروشمہ کے پاس میں ہوں۔۔۔”
وہ دونوں اپنی باتوں میں اتنا مگن تھے کے انہیں نظر ہی نہیں آیا عروشمہ نے کب آنکھیں کھولی۔۔۔ اسکی نظریں دیکھ رہی تھی اسکے کان سن رہے تھے
مگر جسم میں جان نہیں تھے۔۔۔
آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ گرا اور اس نے آنکھیں پھر سے بند کرلی۔۔۔۔
۔
“امی یہ معاملہ میرا اور میری بیوی کا ہے آپ درمیان میں مت آئیں۔۔۔”
عاصم کی اواز پہلی بار اونچی ہوئی تھی والدہ کے سامنے۔۔۔
“کونسی والی بیوی۔۔۔؟؟ اور کونسا معاملہ۔۔۔؟؟ کونسی بیوی۔۔؟؟ تم نے جو کرنا تھا کردیا۔۔
ہاشم بھائی کی جان تو تمہاری باتوں نے لے لی اب اس رشتے کا فیصلہ عروشمہ کرے گی۔۔۔
کہ وہ تمہارے نکاح میں رہنا چاہتی بھی ہے یا نہیں۔۔۔
ویسے بھی اپنی بیوی کے سامنے تم اسے اپنی کزن تسلیم کررہے ہو تو وہی رہنے دو۔۔۔”
“امی۔۔۔خدا کے لیے معاملے کو اور پیچیدہ مت کریں۔۔۔”
عاصم نے عروشمہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تھی جب نگہت بیگم اسکا بازو پکڑ کر دروازے تک لے گئی تھی اسے۔۔۔
“نگہت بیگم۔۔۔”
“اسے کہیں جائے یہاں سے۔۔۔ ابھی کہیں۔۔۔”
نگہت بیگم کی آواز بھاری ہوگئی تھی جب انہوں نے اپنے شوہر کو دروازے پر دیکھا تھا
“ابو امی سے کہیں مجھے ایک بار بات کرنے دیں عروشمہ سے۔۔۔”
“کیا۔۔؟؟ عروشمہ آگئی ہے۔۔؟؟ کہاں ہے۔۔؟؟”
“آپ اسے کہیں جائے یہاں سے۔۔۔”
وہ جیسے چلائی تھی عاصم مایوس سر جھکائے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک ہفتے بعد۔۔۔۔”
۔
اس گیسٹ روم میں تنہائی میں رات کے پہر وہ سجدے
۔
“مجھے اس درندے نے ایک بار دھوکا دیا مگر یہ معاشرہ یہ لوگ میرے اپنے مجھے ہر پل ایک نئی موت دے رہے ہیں۔۔۔
اللہ میں ابھی تک خود کشی کے حق میں نہیں تھی۔۔۔ پر اب میں تھک گئی ہوں اللہ
میں تیری مجرم ہوں دنیا کی نہیں بس دنیا کے آگے اپنوں کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر معافیاں مانگتے مانگتے تھک گئی ہوں۔۔۔ اللہ میں بندوں کے آگے سر جھکاتے جھکاتے تھک گئی ہوں بس ہوگئی ہے میری۔۔۔
مجھے اپنی پناہ میں لے لے میرے رب بس اب میں لوگوں کی ستائی ہوئی ہوں۔۔۔
کاش مجھے اس وقت اتنی سمجھ ہوتی کوئی سمجھانے والا ہوتا۔۔۔مجھے کوئی زبردستی روک لیتا دہلیز کے باہر قدم رکھنے سے۔۔۔
اللہ پاک سب چلا گیا میرے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا میری کُل کائنات چلی گئی۔۔۔
ایک لمحے کو میرے قدم رک جاتے اس دن تو آج میں ایک خوشحال زندگی گزار رہی ہوتی۔۔۔
میرے ابو کی دعائیں انکا سایہ سر پر سلامت ہوتا۔۔۔ میری شادی شدہ زندگی۔۔۔عاصم۔۔ ہمارا بچہ۔۔۔”
آنسوؤں کی قطارے جاہ نماز کو بھگو چکی تھی گہرا سانس بھرا تھا گلہ اس قدر خشک ہوگیا تھا اسکا ۔۔۔
کھڑکی سے چاند کی آتی رشنی اسے سکون دینے کےبجائے اور بےچین کررہی تھی
فجر کی آزان تک وہ ایسے ہی سجدے میں گری رہی تھی اپنے رب کے آگے۔۔۔
وہ رب جو اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ رب جو اپنے بندوں کو بدترین گناہوں کو بھی جانتا ہے مگر پردے میں رکھتا ہے وہ رب جو انسان کو محبت کرتا ہے اسکے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔۔۔
وہ اپنے گناہوں کی معافی اپنے رب سے مانگ رہی تھی۔۔۔۔
اور آج اس نے خود سے عہد کیا تھا کہ اب وہ ہر ایک مشکل کا سامنا کرے گی اب وہ انسانوں سے معافی نہیں مانگے گی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“السلام علیکم ۔۔۔ پھوپھو۔۔۔ مجھے آپ سے بات کرنی تھی کچھ۔۔۔”
سر کو کور کئیے وہ نظریں جھکائے لیونگ روم میں آئی تھی جہاں سب موجود تھے عاصم اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا
پر عروشمہ نے اپنے ساس سسر کو مخاطب کیا تھا
“عروشمہ بیٹا آو میری بچی بیٹھو۔۔۔”
“شکر ہے آپ بھی اپنے کمرے سے باہر نکلی عروشمہ۔۔۔”
اریج نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
“عروشمہ بھ۔۔۔کیسی طبیعت ہے آپ کی۔۔۔؟؟”
نوشین بات کہتے کہتے رکی تھی اور ایک نظر اپنے بھائی کی جانب دیکھا تھا
“وہ دراصل میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ مجھے واپس پاکستان جانا ہے۔۔۔ بہت دن ہوگئے اب تو۔۔۔”
“کیا۔۔۔؟؟”
سب ہی اٹھ گئے تھے سوائے اریج کے۔۔۔عاصم دو قدم بڑھا کر اسکی طرف آیا تھا جو جلدی سے پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
“عروشمہ۔۔۔”
مگر عاصم کو مکمل اگنور کرکے عروشمہ پھوپھو کی جانب ہوئی جو ابھی بھی خاموش تھی
“عروشمہ۔۔۔؟؟”
“پھوپھو۔۔۔ آپ نے کہا تھا میرے ہر فیصلے کو آپ تسلیم کریں گی۔۔۔ میں نے فیصلہ لے لیا ہے۔۔۔ آپ پیپرز بنوا لیجئے میں۔۔۔ ڈیلیوری کے بعد سائن کردوں گی۔۔۔میری ٹکٹ کروا دیں آج رات یا کل صبح کی پلیز۔۔۔”
وہ ہلکی اواز میں کہہ کر شاکڈ چھوڑ گئی تھی ان تینوں کو۔۔۔
“کونسے پیپرز آنٹی۔۔؟؟ عروشمہ تو یہاں سٹڈی کے لیے آئی تھی عاصم بتا رہے تھے اب واپس کیوں جارہی۔۔۔؟؟”
“مجھے بات کرنی ہے اس سے۔۔۔”
عاصم غصے سے کہہ کر عروشمہ کے کمرے میں چلا گیا تھا
“یہ کیا بکواس کرکے آئی ہو۔۔۔؟؟ کہیں نہیں جا رہی تم۔۔۔”
عاصم نے وہ سوٹ کیس اٹھا کر بیڈ سے نیچے پھینک دیا تھا تو عروشمہ سائیڈ ٹیبل سے اپنی چیزیں کلیکٹ کرنا شروع ہوگئی تھی
“عروشمہ۔۔ میں کچھ کہہ رہا ہوں تمہیں۔۔۔ تم کہیں نہیں جارہی۔۔۔ اس حالت میں تو کہیں نہیں۔۔۔”
اب کی بار عاصم نے اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف کیا تھا
“میں نے پھوپھو کو بتا دیا ہے میں پاکستان واپس جارہی ہوں۔۔۔ آپ مجھے روکنے کا کوئی حق نہیں رکھے ۔۔۔”
اس نے ایک بار بھی عاصم کو نگاہیں اٹھا کر نہیں دیکھا تھا
“بیوی ہو تم میری۔۔۔ میری طرف دیکھو عروشمہ۔۔۔”
پر وہ خود کو عاصم کی گرفت سے چھڑا چکی تھی
“آپ کی بیوی باہر ہے اس کمرے میں آپ کی کزن ہے۔۔۔
عاصم۔۔۔ اس دن آپ نے طلاق کا کہا تھا۔۔۔ پاؤں تلے زمین کانپ گئی تھی میری لرزتی روح اور مرتے وجود کے ساتھ۔۔۔
میں آپ کے قدموں پر تھی کیونکہ وہ الفاظ ایک شوہر کے تھے۔۔۔
آج میں کہہ رہی ہوں۔۔۔ آپ کو خوشی ہونی چاہئے اس ان وانٹڈ بچے اور بدکردار بیوی سے آپ کی جان چھوٹ رہی ہے۔۔۔ عاصم میں نے اپنے سب ڈر سب خوف مار دئیے ہیں۔۔۔
میں باغی نہیں نڈر ہوگئی ہوں۔۔۔”
عروشمہ آہستہ سے جھکی تھی اور اپنا سوٹ کیس پھر سے اٹھایا تھا عاصم شاکڈ تھا ساکن ہوگیا تھا اسکا وجود۔۔۔
وہ جتنا مرد اس دن بنا ہوا تھا زمینی خدا آج اسے لب کھولتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا تھا آج اس نے اپنی بیوی کی آنکھوں میں سچ میں کوئی خوف کوئی ڈر نہیں دیکھا تھا صرف خالی پن تھا ان آنکھوں میں
“عروشمہ۔۔۔”
“سب امیدیں تھی آپ سے عاصم اچھا ہوتا کہ آپ مرد نہیں میرے شوہر بنتے اور میرے والد کو فون نہ کرتے۔۔۔ مجھے اور ذلیل کرلیتے سب کرلیتے۔۔۔ جب بیوی میں برائی نظر آئے تو اسے بیوی کو رو لیتے اسکے میکے کو رونے سے پہلے۔۔۔”
اپنی آنکھیں صاف کرکے وہ عاصم کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔اور عاصم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پیٹ پر رکھا تھا
“میں اس بچے کو کسی یتیم خانے میں نہیں پھینکو گی نہ ہی کسی کو گود دوں گی نہ ہی آبورشن کرواؤں گی۔۔۔ میں اسے وہ زندگی دوں گی جو اسکا حق ہے۔۔۔ میں اسکو آپ کا نہیں بتاؤں گی۔۔۔
کیونکہ آپ اسے اپنانے سے پہلے ہی اسے مارنے کا حکم دے چکے تھے۔۔۔”
اب اس نے عاصم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا شروع کی تھی چہرہ بھر گیا تھا آنسوؤں سے۔۔۔
“عاصم۔۔۔ اُن تین سالو ں میں۔۔۔ آپ نے مجھے دنیا جہاں کی محبت دی۔۔۔ مجھے پتہ ہوتا شادی کے بعد کی محبت ایسی ہوتی ہے تو شادی سے پہلے کسی نامحرم کا تصور بھی نہ لاتی۔۔۔
آپ نے شادی کے ان تین سالوں میں جو عزت مجھے دی شاید ہی مجھے کوئی اور دے پاتا۔۔۔
سب چھن جانے کے بعد اللہ نے آپ کا ساتھ دیا۔۔۔ عاصم کاش اللہ آپ کے سینے میں دل بھی نرم ہوتا۔۔۔ جو مرد کی طرح نہیں ایک شوہر کی طرح بیوی کو معاف کر دیتا۔۔۔
میں نے اپنی زندگی کے تین مظبوط مردوں کو رولا دیا
باپ
بھائی
شوہر۔۔۔۔ میں گناہ گار ہوں۔۔۔
مگر گلے مجھے بھی ہیں ان تین مردوں نے مجھے سنبھالا نہیں مجھے سہارا نہیں دیا۔۔۔
ان تینوں نے چھوڑ دیا مجھے میرے حال پر۔۔۔
میں بھی بیٹی بہن بیوی تھی۔۔۔
گلے مجھے بھی ہیں۔۔۔پر اس زندگی میں نہیں روز محشر میں بات کریں گے۔۔۔”
عاصم کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر اپنے ماتھے پر لگائے تھے عروشمہ نے۔۔۔
“اللہ آپ کو آپ کی شادی شدہ زندگی میں ہمیشہ خوش رکھے عاصم
بس ایک بات کہوں گی انسانوں کے ماضی کو دیکھ کر اسے ٹھکرائے مت۔۔۔ وہ انسان ہے غلطیوں گناہوں کا پتلا اسکی غلطیاں دیکھیں تو اسے بے سہارا نہ چھوڑ دیں۔۔۔
ٹھوکر جب لگتی ہے تو بہت کم لوگ اٹھتے ہیں ۔۔۔۔”
۔
وہ روتے ہوئے باتھروم میں بھاگ گئی تھی خود کو بند کرلیا تھا اس نے باتھروم میں۔۔۔
۔
