51K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“گر جانے سے انسان نہیں مرتا مگر ہمت مرجانے سے ضرور مرجاتا ہے”
سوہا کی باتیں اسے سنائی دے رہی تھی اس نے ایک بار پھر سے اپنی ہمت کو مرنے سے بچایا تھا جیسے اس دن اس ہسپتال میں سوہا نے اسے
وہ گھبرا کر انتظار کر رہی تھی ویٹنگ روم میں اسکے پاس کچھ نہیں تھا سوائے اس تاریخ اور کچھ باتوں کے
وہ ایدھی سینٹر بلآخر پہنچ گئی تھی۔۔۔ آج چھ ماہ ہوگئے تھے اسے ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے۔۔۔۔
وہ چند ماہ جو اس نے عدت میں گزار دئیے وہ چند ماہ جس میں اس پر بہت تلخیاں ٹوٹی تھی۔۔۔۔جن میں عاصم کی جدائی بھی تھی۔۔۔۔
اسے محبت سے نفرت تھی اسے پھر بھی محبت ہوگئی مگر اس بار اپنے محرم سے۔۔۔۔
“آپ کو سوائے تاریخ کے اور کچھ بھی معلوم نہیں ہمارے پاس آپ کو معلومات دینے کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔”
عروشمہ وہاں سے مایوس لوٹ آئی تھی اس گھر میں جو وہ عندلیب اور عریشہ کے ساتھ کرائے پر لے چکی تھی
“لڑکی کہاں گئی تھی پریشان ہوگئی تھی میں۔۔۔”
عریشہ نے دروازہ کھولتے ہی سوال پوچھا تھا۔۔۔۔
“میں۔۔۔ میں دراصل جاب کے سلسلے میں گئی تھی تم ابھی تک گئی نہیں پیپر کب سٹارٹ ہوگا۔۔۔؟؟ جلدی جاؤ۔۔۔”
وہ بات کو ٹال کر دوسری بات پوچھ چکی تھی
“عریشہ تو جا چکی ہے اسکے بھائی آئے تھے وہی ڈراپ بھی کرجائیں گے میں ابھی جارہی باہر اوبر منگوائی ہے۔۔۔ ٹیک کئیر۔۔۔۔”
عندلیب جلدی جلدی عبایا پہنے گھر سے چلی گئی تھی۔۔۔
دروازے لاک کئیے وہ ابھی بیٹھی ہی تھی جب بیل پھر سے بجی تھی
“ضرور کچھ بھول گئی ہوگی بھلکڑ۔۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے لاک اوپن کرتی ہے
“سوہا۔۔؟؟ تم تو کل آنے والی تھی۔۔۔”
پر سوہا بازو سے پکڑ کر عروشمہ کو اندر لے گئی تھی
“تم نے ہم سے وعدہ کیا تھا تم ماضی کو بھول کر آگے بڑھو گی۔۔۔تم نے قسم کھائی تھی عروشمہ۔۔۔پھر سے تم اسی دلدل میں دھنسنا چاہتی ہو۔۔؟؟”
“وٹ۔۔۔؟؟ دلدل۔۔؟؟ تمہیں کس نے کہہ دیا ہے۔۔؟؟”
وہ نظریں چرائےپیچھے ہوئی
“اچھا تو ایدھی سینٹر کیا لینے گئی تھی۔۔؟؟ کیا چاہتی ہو تم۔۔؟ تمہیں میری سمجھائی بات سمجھ نہیں آتی۔۔؟؟”
وہ غصے سے چلائی تھی اپنی دوست پر اور اسی لمحے عروشمہ نے بھی اپنا ہاتھ چھڑوا لیا تھا
“مجھے بس پتہ کرنا تھا۔۔۔ میری جاب لگ گئی ہے سوہا۔۔۔میں ایک بار دیکھنا چاہتی تھی وہ تھی ہے۔۔۔”
“وہ کون عروشمہ۔۔۔؟؟؟”
“وہ ۔۔۔بچی۔۔۔”
“کونسی بچی کس کی بچی۔۔؟؟”
سوہا نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا تھا۔۔
“تم جانتی ہو میں کسی کی بات کررہی ہوں۔۔۔”
“میں نہیں جانتی مجھے بتاؤ۔۔۔”
“میں اس گھٹیا شخص کے خون کی بات کررہی ہوں۔۔۔ سن لیا تم نے۔۔؟؟ اس زنا کی پیدائش کی بات کررہی ہوں۔۔۔۔ جو تم سننا چاہتی ہو میں اس کا نام نہیں جانتی اور اپنے نام کے ساتھ میں اسکا نام بھی نہیں جوڑ سکتی۔۔۔
مگر میں جانتی ہوں اسکا کوئی قصور نہیں تھا قصوروار میں تھی۔۔۔اور اب میں چاہتی ہوں کہ اسے پر نظر رکھ سکوں چاہے دور سے ہی۔۔۔”
شرمندگی اور ناکامی کے آنسو چہرے سے چھلک رہے تھے
“ہاہاہاہا سیریسلی۔۔؟؟ تمہیں آج خیال آرہا ہے اتنے سال کے بعد۔۔؟ عروشمہ پلٹ جاؤ بس اب۔۔۔”
عروشمہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھی وہاں
“نہیں۔۔۔سوہا میں بس تسلی کرنا چاہتی ہوں وہاں وہ کیسی ہوگی کہیں اسکے ساتھ برا سلوک نہ کرتے ہوں وہاں ان کا یقین نہیں کیا جا سکتا۔۔۔”
اور سوہا اسکے سامنے بیٹھی تھی اسکی آنکھوں میں بھی وہی درد تھا
“اپنی بیٹی کے لیے تمہاری یہ فکر آج دیکھ رہی ہوں اچھا بلکل نہیں لگ رہا۔۔۔ اور جن لوگوں پر بے یقینی کا کہہ رہی ہو وہ لوگ یتیم لاوارث بچوں کو اس وقت سہارا دیتے ہیں جب انکے اپنے انہیں باہر جھولوں میں پھینک دیتے ہیں تب وہ لوگ آگے آتے ہیں دست شفقت رکھتے ہیں
عروشمہ تمہاری بیٹی جسے تم بیٹی نہیں کہہ رہی جسے تم نے پیدا ہونے کے بعد اپنے سینے سے نہیں لگایا اس کی فکر ستانے لگی۔۔۔؟
میں کہتی ہوں بس ماضی کو بھول جاؤ اور اس بچی کو بھی۔۔۔
وہ جہاں ہے خوش ہے ٹھیک ہے۔۔۔”
سوہا اسکے سرپر ہاتھ رکھ کر وہاں سے جلدی جلدی جانے لگی تھی جب عروشمہ نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا جو ابھی بھی زمین پر بیٹھی ہوئی خالی جگہ کو دیکھ رہی تھی
“تمہیں کیسے پتہ میں وہاں گئی تھی۔۔۔؟ تم جانتی ہو نہ میری بیٹی کہاں ہے۔۔۔؟ ایک بار اسکا چہرہ دیکھنے دو مجھے سوہا پلیز۔۔۔”
“ایم سوری عروشمہ تم اسے ڈیزرو نہیں کرتی اب اپنی بچی کی زندگی کو خراب مت کرنا وہ جہاں ہے اسے وہاں رہنے دو۔۔۔۔”
وہ وہاں سے چلی تو گئی تھی عروشمہ کی سسکیوں نے باہر دروازے تک پیچھا کیذ تھا سوہا کا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سوہا اتنی جلدی آگئی۔۔۔؟”
خالہ ساس نے سوہا کو دیکھتے ہی پوچھا جو جلدی جلدی میں داخل ہوئی اور سیدھا اپنے بیڈروم میں چلی گئی۔۔۔
“امی میں اپنی فائل بھول گیا تھا۔۔۔”
زید بھی کچھ دیر بعد گھر میں داخل ہوا تھا
“سوہا سے کچھ کہا تم نے۔۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔ آپ کی بھانجی کے سامنے میری کیا مجال امی۔۔۔”
مگر والدہ کی پریشانی کم نہ ہوئی وہ زید کا ہاتھ پکڑ کر روم کے دروازے تک لے گئی تھی بہت آہستہ سے
“سوہا اپنی فرینڈز سے ملنے گئی تھی مگر اتنی جلدی واپس آگئی اور جب سے آئی ہے پارسا کو اپنے گلے سے لگا کر وہیں اسی جگہ بیٹھی ہوئی ہے بار بار یہی کہہ رہی کہ پارسا اسکی بیٹی ہے”
“میں دیکھتا ہوں آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔”
زید جیسے ہی اندر گیا تو پارسا کو بیڈ پر لٹا دیا تھا اور جلدی سے اپنے آنسو صاف کرکے وہ باتھروم کی طرف بڑھی تھی
“سوہا۔۔۔”
“ڈونٹ ٹچ مئ زید۔۔۔”
“سوہا۔۔۔”
“یہاں کیا کررہے ہو۔۔؟؟ تمہیں تو دوسری شادی کرنی ہے نہ جاؤ۔۔۔ اپنی پھپھو کی بیٹی کے پاس جسکے ساتھ کل ڈیٹ پر گئے ہوئے تھے۔۔۔”
“وہ غصے سے بول کر باتھروم کی طرف بڑھی تھی
“اوے سائیکو۔۔۔ پھپھو ک بیٹی نے تو شادی کی بات سن کر ہی کانپنا شروع کردیا تھا۔۔۔
کوئی مجھ مظلوم کی بیوی بننا نہیں چاہتی۔۔۔ سب کہہ رہی ہیں گھر میں ایک چڑیل ہے تو سہی۔۔۔”
اسکے ہاتھ کو پھر سے بہت پیار سے پکڑا تھا زید نے اور اپنے قریب کرکے سر گوشی کی تھی
“اب اس زندگی میں یہ دل اور میں تمہاری ان قاتل نگاہوں کی قید میں عمر قید کاٹنے کو تیار ہیں۔۔۔ اب تم بتاؤ سوہا۔۔۔ پیار سے مان رہی ہو یا پھر میں دنیا کو چیخ چیخ کر کہوں کہ یہ لڑکی مجھے میرے حقوق بند کمرے میں بھی نہیں دیتی۔۔۔”
سوہا نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا
“تمہیں شرم نہیں آتی۔۔۔ پھوپھو نے سن لیا تو کیا سوچیں گی۔۔؟؟”
سوہا کا چہرہ شرم سے لال ہورہا تھا مکمل۔۔۔
“یہی کہ میں کتنا مظلوم ہوں۔۔۔ سوہا جی۔۔۔ رحم کھاؤ۔۔۔”
“توبہ۔۔۔زید۔۔۔”
وہ اب کے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑا چکی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کچھ ماہ بعد۔۔۔۔۔”
۔
۔
“افتخار بھائی اگر عاصم نے نکاح کے لیے ہاں کردی ہے تو میں کون ہوتی ہوں انکار کرنے والی۔۔؟؟ عاصم اپنا اچھا برا سمجھ سکتا ہے۔۔۔ایکسکئیوزمئ۔۔۔”
وہ روم سے باہر چلی گئی تھی اور پھر چچی اور چچا اور انکی فیملی جو وجہ تھے اس گھر کے تباہ و برباد ہونے کی جہاں بیٹھ کر آج شادی کے معاملات طہ پائے جارہے تھے۔۔۔
۔
“عاصم بھائی یہ سب عروشمہ کو ذلیل کرنے کے لیے کررہے ہیں نہ آپ۔۔۔؟
اسے سزا دینے کے لیے۔۔۔؟؟”
“وہ کون ہے۔۔؟؟ میں اسکا نام بھی نہیں سننا چاہتا نوشین۔۔۔”
“عجیب بات ہے آپ نے اپنی زندگی کا ایک حصہ اس لڑکی کی محبت میں گزاردیا زرا سی تیزہوا کیا چلی اپ کی محبت تو زرد پتوں کی طرح اڑھ گئی۔۔۔
اگر محبت اسے کہتے ہیں نہ تو خدا کے لیے دوبارہ ایسی محبت مت کیجئے گا۔۔۔۔
آپ کے لیے رمشہ ہی اچھی لڑکی ہے افتخار مامو کی پاک صاف بیٹی۔۔۔۔
۔
“محبت۔۔۔؟؟ وہ میری محبت کے قابل بھی تھی۔۔؟؟ اس نے تو یہاں آنے کے بعد بھی اپنے اس عا۔۔۔ کو ملنے کے لیے بلایا ہوا تھا کسی ویرانے میں۔۔۔”
عاصم کے منہ سے عاشق لفظ بھی ٹھیک سے نہیں نکل پارہا تھا۔۔۔
“آپ کا مسئلہ پتہ کیا ہے عاصم بھائی۔۔؟؟ آپ نے ایک حصہ لگا دیا بھابھی سے محبت میں انکے انتظار میں۔۔۔ پر جب وہ ملی تو ایک بار آپ نے پاس بٹھا کر نہیں پوچھا آپ ہر بات لوگوں کی سنتے آئے اور فیصلے بھابھی کو سناتے رہے یہ بچہ بھی زندہ رہتا اگر بھابھی آپ کے پاس رہتی۔۔۔ اور اس بچے کا افسوس کرنا بنتا نہیں ہے آپ ہی نہیں چاہتے تھے اس بچے کو۔۔
آپ نے ہی انہیں نکال باہر کیا تھا اب بچے کے چلے جانے پر اتنا غصہ کیوں کہ انہیں سزا دینے کے لیے یہ شادی کررہے ہیں۔۔اسی لڑکی سے جو اس سب فساد کی جڑ ہے۔۔”
وہ چلائی تھی غصے سے پر اسکے آنسو اسکی بےبسی کی داستان سنا رہے تھے۔۔۔
۔
“مجھے اب کسی سے کوئی لینا دینا نہیں رمشہ کے نام پر میں اب کچھ نہیں سنوں گا کل نکاح ہے ہمارا اور تم اس سے عزت سے بات کرو گی نوشین۔۔۔”
“میری جوتی کرے گی عزت بھائی۔۔۔ لوگوں کے طعنوں کی فکر نہ ہوتی تو کبھی نہ آتی پاکستان۔۔۔”
۔
“نوشین۔۔۔”
نوشین روم سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عبید کے مامو۔۔؟؟ کچھ دن تک تو کوئی بھی نہیں تھا اس بچے کا۔۔۔؟؟”
“بیٹاکچھ دیر پہلے ہی وہ اپنے وکیل کے ساتھ آئیں ہیں۔۔ آپ اس بچے کی کئیر کررہی تھی اس لیے آپ کا بھی اس میٹنگ میں ہونا ضروری ہے۔۔۔”
” مس عروشمہ ۔۔۔۔مجھے کہیں نہیں جانا۔۔۔”
وہ چھوٹا سا بچہ اپنا ہاتھ چھڑا کر عروشمہ کی ٹانگوں کے ساتھ آکر لپٹ گیا تھا روتے ہوئے۔۔۔
“عبید بیٹا آپ کہیں نہیں جارہے ۔۔۔ڈونٹ ورری۔۔۔”
“سوری ٹو سئے مس عروشمہ میرا بھانجا میرے ساتھ جا رہا ہے یہ کیس عدالت میں چل رہا تھا
ہم جیت گئے ہیں۔۔”
“آپ کو اتنے سال بعد عبید کا خیال آگیا۔۔؟؟ پہلے کہاں تھے۔۔؟؟”
عروشمہ جیسے ہی تلخی سے بولی تھی وہ شخص بھی اپنی بلیک گلاسز اتار کر کھڑا ہوگیا تھا
“عروشمہ بیٹا پلیز۔۔۔”
“نہیں میم مجھے بولنے دیجئے۔۔۔ ان لوگوں نے پہلے اس سینٹر میں اپنے بچے کو پھینک دیا اب اچانک سے اسکی فکر ستانے لگی۔۔؟؟”
اپنی کہی ہوئی باتیں اسے بھی تکلیف دے رہی تھی۔۔۔اس نے بھی تو یہی کیا تھی ایک معصوم کے ساتھ۔۔۔
“ہو دا ہیل آر یو مس۔۔؟؟ ہمارے معاملات میں انٹر فئیر مت کیجئے ۔۔۔یہ ادارہ جن لوگوں کی ڈونیشن پر پل رہا ہے میرے ایک فون پر وہ سب پیچھے ہوجائیں گے۔۔”
“تو۔۔؟؟ کیا ہوگا۔۔۔؟؟ کچھ نہیں ہوسکتا اس ادارے اور ادارے کو لوگ نہیں اللہ کی پاک ذات پال رہی ہے مسٹر۔۔۔ عبید کہیں نہیں جائے گا۔۔۔”
وہ عبید کا ہاتھ پکڑ کر روم سے باہر لے آئی تھی۔۔۔
“یہ کون تھی۔۔؟؟ اس لڑکی کو ابھی نکالیں یہاں سے میں اس سے پہلے کوئی اور سٹیپ لوں۔۔۔”
“دیکھیں سر آپ کے کیس کی تفصیل ہمیں پتہ ہے اس لیے ہم آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں مگر مس عروشمہ کو علم نہیں ہے وہ بیسٹ ٹیچر ہیں اور عبید بھی بہت کلوز ہوچکا ہے اس لیے مس عروشمہ کنسرن ہیں آپ کے بھانجے کی سیفٹی کے لیے مسٹرعماد۔۔۔”
عماد کا غصہ کچھ کم ہوا تھا مگر مکمل ختم نہیں ہوا تھا۔۔۔
“میں مس عروشمہ کو سمجھا کر عبید کو لے آتی ہوں پھر آپ اسے لے جاسکتے ہیں۔۔”
اس اورفینیج کی سینئر ہیڈ روم سے باہر چلی گئی تھیں مگر عماد صاحب بھی انکو فالوکرتے ہوئے باہر چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نکاح کے لیے مولوی صاحب باہر کھڑے ہیں اور یہ لوگ یہاں ہمیں تنگ کررہے ہیں افتخار آپ نکالیں انہیں باہر۔۔۔”
“میرے بیٹے کو مروا دیا۔۔۔ تمہاری بیٹی اور بیٹے کی شادی کر رہے ہو تم لوگ اتنے بھی گھٹیا لوگ نہیں ہونے چاہیے۔۔۔”
وہ خاتوں جیسے ہیں باہر سے اندر آئی تھی عروشمہ کی چچی اور چچا پہچان نہیں پائے تھے مگر حامد اور رشمہ نے پہچان لیا تھا۔۔۔
“یہ کیا بات کررہی ہیں آپ۔۔؟؟ اس طرح اونچی آواز میں نہ بات کریں باہر ہمارے مہمان بیٹھے ہیں۔۔۔”
عاصم کے والد صاحب نے التجا کی تھی آہستہ آواز میں۔۔۔
“اگر یہ عورت چپ نہ ہوئی تو میں پولیس کو بلا لوں گی۔۔۔”چچی نے دھمکی لگا دی تھی اور بار بار باہر دیکھ رہی تھی اس ڈر سے کہ کوئی عڑوس پڑوس نہ سن لے۔۔۔
“پولیس تو راستے میں ہے تمہاری بیٹی کو تمہارے بیٹے کو گرفتار کرنے آرہے ہیں۔۔۔
جو کچھ تم لوگوں نے کیا ہے جان بوجھ کر میرے بیٹے سے یہ گناہ کروایا۔۔۔
اپنی ہی کزن کو پھنسا دیا اس گھنونے جال میں اب پولیس آرہی ہے۔۔۔”
“کیا کہنا چاہتی ہیں آپ۔۔؟؟”
عاصم کے پوچھنے سے پہلے ہی نگہت بیگم نے سوال اٹھایا تھا
“عروشمہ بےقصور تھی اس لڑکی نے میرے بیٹے کو مجبور کیا تھا۔۔۔اس لڑکے نے بتایا تھا عروشمہ اپنے ماں باپ کی قبر پر ہے ان لوگوں نے شانی کو ورغلایا تھا اسے وہاں بھیجا تھا۔۔۔
یہ رہے وہ میسج اور وائس ریکارڈنگ۔۔۔”
شانی کی والدہ روتے روتے بتا رہی تھی
“میرا بیٹا تو مرگیا۔۔۔مگر ان لوگوں کا مکرو چہرہ بھی دنیا کو دیکھاؤں گی میں۔۔۔
یہ سارے میسج۔۔۔ یہ لڑکی بےشرم بے غیرت ہے۔۔۔اور اسکا یہ بھائی اس سے بڑا بےغیرت میرے بیٹے کا دوست تھا اوراسے ہی راغب کرتا رہا اپنی کزن کی طرف اسکی تصاویر دیتا رہا شانی کو ان لوگوں نے میرے بیٹے کی جان لے لی۔۔۔”
“یہ سب۔۔۔؟؟؟ یہ سب کیا بکواس ہے حامد۔۔؟؟”
“ابو۔۔۔یہ سب جھوٹ۔۔۔”
“تو یہ سب ماجرہ تھا۔۔؟؟ اس گھر کو ہتیانے کے لیے یہ سب کیا افتخار بھائی آپ نے۔۔؟؟”
باہر تک سب لوگ کھڑے ہوگئے تھے چیم گوئیاں جیسے ہی شروع ہوئی تھی پولیس بھی آگئی تھی۔۔۔
“دیکھیں انسپکٹر۔۔۔ میرا بیٹا میری بیٹی بے قصور ہے۔۔۔”
“ہمارے پاس اسٹیٹمنٹ موجود ہے۔۔۔ آپ کی بیٹی کا جو رابطہ ہوا تھا اس میں صاف الفاظ میں لوکیشن بتائی گئی تھی مجرم کو وہ جرم کرنے کے لیے اکسایا گیا تھا۔۔۔”
آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہورہا تھا بہت سے انکشافات سے سب کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھی۔۔۔
“یہ لوگ تو خود گندے نکلے اور بھائی کی بیٹیوں پر الزام لگاتے رہے۔۔؟؟ “
“مجھے تو آج تک یقین آیا ہی نہیں تھا عروشمہ بیٹی تو تھی ہی اتنی پردہ پابند۔۔”
“یہ سب جائیداد کا چکر لگتا ہے افتخار صاحب آپ سے تو یہ امید نہیں تھی ہاشم نے باپ کی تھی پالا تھا تم لوگوں کو۔۔۔”
محلے والے رشتے دار بہت سی باتیں سنا کر وہاں سے جانے لگے تھے
“افتخار مامو آپ نے اور آُ کے بچوں نے اچھا بدلہ لیا ہے ہاشم مامو نے آپ کی بیوی نے الزام لگا لگا کر ان دونوں کو مار دیا اب دیکھیں وہ تو نہیں رہے مگر دنیا دیکھ رہی ہے۔۔۔
اچھا ہوا جو آپ کے بچے جیل میں جارہے ہیں۔۔۔
امی مجھے نہیں لگتا کہ اب ان لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق رکھنے کی ضرورت ہے۔۔”
نوشین نگہت بیگم کا ہاتھ پکڑ کر لے جانے لگی تھی جب نگہت بیگم نے رشمہ کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا تھا
“جب گھر کے لوگ سانپ بن جائیں اور ڈسنا شروع کردیں تو پھر باہر کے دنیا والوں کا خوف نہیں رہتا۔۔۔ ایک مدت ہوگئی تم لوگ یہ کھیل کھیلتے رہے ہاشم بھائی چلے گئے بھابی چلی گئی۔۔۔
اور تم لوگوں کی اتنی جرات تھی کہ عاصم کے لیے شادی کا پرپوزل لے آئے۔۔۔؟؟”
“بس بیگم۔۔۔”
مگر نگہت بیگم خاموش نہیں ہوئی تھی
“افتخار بھائی ہاشم بھائی نے کبھی ابو کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی
آپ نے تو انکے بچوں کو ہی یتیم کردیا۔۔۔ یہ آپ کی تربیت آپ کی بیوی نے دشمنی کا حسد کا لالچ کا جو بیج اولاد میں بویا تھا اس نے سب اجاڑ دیا۔۔۔ میرا کوئی تعلیق نہیں آپ سے میں آج سب ختم کرتی ہوں۔۔۔
میرا بیٹا عاصم اگر انتظار کرنا چاہے تو کرسکتا ہے جب رشمہ جیل سے باہر آئے گی تو یہ شادی کرلے گا
کیونکہ آپ لوگوں نے اسے جتنا عروشمہ کے خلاف کردیا تھا یہ اسے طلاق دے کر پہلے ہی طرف داری کرچکا ہے آپ لوگوں کی۔۔۔ اس لیے آپ خوش ہوجائیں۔۔۔
مگ یاد رکھیں محشر میں وہ سب حساب ہوں گے جو یہاں ادھورے رہ جاتے ہیں۔۔۔
ہاشم بھائی آپ کا گریبان وہاں پکڑیں گے۔۔۔”
آنسو صاف کئیے وہ نوشین اور اپنے ہسبنڈ کے ساتھ سر جھکائے اس گھر سے چلی گئی تھی۔۔۔
وہ دونوں کو بھی پولیس لے گئی تھی ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں نہیں جاؤں گا۔۔۔”
“آپ یہاں رہنا چاہتے ہو۔۔؟ یہاں کون ہے آپ کا۔۔۔؟؟ وہاں سب ہیں مامو ہیں نانو ہیں نانا ہیں۔۔ آپ کو سب پیار کرنے والے۔۔۔”
“یہاں آپ ہیں۔۔۔مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے مس۔۔۔”
وہ روتے روتے عروشمہ کے گلے لگا تھا
“عبید یہ جگہ اچھی ہے مگر اتنی بھی اچھی نہیں یہاں میں نے یا آنٹی نصرت نے ہمیشہ نہیں رہنا ہم چلے جائیں گے تو آپ کیسے رہو گے۔۔؟؟ اس سے اچھا نہیں آپ اپنے مامو کے ساتھ رہیں تاکہ وہ آپ کی سہی سے خیال رکھ سکیں۔۔۔”
۔
وہ سمجھا رہی تھی اس بچے کو اور اپنے ضبط پر بھی قابو کرکے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ اسے اندازہ تھا کچھ ماہ میں وہ چھوٹا سا بچہ اسکے دل کے بہت قریب ہوگیا تھا۔۔۔اپنا اپنا سا لگنے لگا تھا مگر اب یہ بھی پاس نہیں رہنے والا تھا۔۔۔جیسے سب چھن گیا اس سے۔۔۔
۔
“یہ لڑکی کی سب معلومات چاہیے مجھے۔۔۔”
عماد نے پیچھے کھڑے اپنے وکیل سے کہا تھا اور دروازہ واپس بند کردیا تھا اس روم کا۔۔۔
۔