Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Udaan by Qanita Khadija Last Episode

Udaan by Qanita Khadija Last Episode

خان کسی سے بھی بات کا روادار نا تھا اسے باقی سب کو تو یقین دلا دیا تھا کہ وہ ٹھیک ہے مگر روشانے کو یقین نہیں تھا اسی لیے اس نے شایان اور ہارون سے مدد مانگی
حالانکہ وہ دونوں بھی اس حالت میں نہیں تھے کے اسے سمجھا پاتے مگر انہیں کرنا تھا یہ سب
فلک کو شہید ہوئے چار ماہ ہوچکے تھے اور اب تو روشانے بھی امید سے تھی
’’کیسے ہوں؟‘‘ اسکے پاس بیٹھتے ملک نے سوال کیا
’’کیسا ہوننا چاہیے؟‘‘ سوال کے بدلے سوال
کچھ دیر دونوں میں خاموشی چھائی رہی
’’تم جانتے ہو وہ اسکے جیسا بننا چاہتی تھی، وہ مریم مختیار بننا چاہتی تھی ، دیکھ لو بن گئی وہ مریم مختیار‘‘
’’اسنے اپنا کہاں پورا کیا‘‘
’’تھوڑا رو لو خان‘‘ ملک نے مشورہ دیا
’’اس سے کیا ہوگا؟‘‘ خان نے حیران ہوتے سوال کیا
’’دل کو سکون ملے گا‘‘
’’نہیں ملک میں روچکا ہوں جتنا رونا تھا اب اور نہیں، میں کیوں روؤں بلکہ میں تو سر فخر سے بلند کرکے چلتا ہوں کہ میں فلک خان کا بھائی ہوں‘‘
’’تو پھر بھابھی کو یقین دلا دو کے تم سہی ہوں‘‘ اسنے مشورہ دیا
’’ہوں‘‘
’’شاہ کہاں ہے؟‘‘ اسنے سوال کیا
’’فلک کے پاس‘‘ ملک کا جواب، مطلب کے وہ آج بھی فلک کی قبر پر تھا
اب وہ دونوں دوست بیٹھے پرسکون سے ڈوبتے سورج کو دیکھ رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہی گھر واپس آیا اسے جائے نماز پر بیٹھے دعا پڑھتے دیکھ کر اسکے پاسس جا بیٹھا
’’کیا مانگ رہی تھی؟‘‘ اسکی دعا پوری ہوتے ہی اسنے سوال کیا
’’آپکی سلامتی کی دعا‘‘
’’تمہاری دعایئں ہمیشہ میرے ساتھ ہی ہوتی ہے، تم جانتی ہوں کہ جس طیارے کی اڑان فلک نے بھری وہ میرا تھا دل ، اس میں مجھے بیٹھنا تھا، مگر شائد تمہاری دعایئں میری جگہ فلک کو لگ گئی‘‘ وہ کھوکھلی ہنسی ہنسا
’’ہاں سہی کہاں آپ کے لیے کی جانے والی دعائیں کسی اور کے لیے بددعا بن گئی‘‘ وہ کھوئے لہجے میں بولی
’’ایسا نا کہوں، بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس مقام کو حاصل کرتے ہیں‘‘ اسنے ٹوکا اور دل کو اپنی آغوش میں لے لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کا کام گزرنا ہوتا ہے سو وہ گزر رہا تھا، فلک کو گئے دس ماہ ہوچکے تھے، ایسے میں دل نے ایک بہت خوبصورت بچے کو جنم دیا تھا
’’اسکا نام کیا ہوگا؟‘‘ ملک نے اپنے بیٹے کو باہوں میں لیے دل سے سوال کیا
’’خلیل۔۔ خلیل شایان ملک‘‘ وہ مسکراہ کر بولی جبکہ شایاان کی غود میں وہ ایک دن کا بچہ بھی مسکراہ دیا جیسے اسے اپنا نام پسند آیا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب اپنی زندگیوں میں آگے بڑھ رہے تھے، سوائے شاہ کے وہ ابھی تک اسی ڈگر پر کھڑا تھا۔
خان اسکی روٹین سے واقف تھا، وہ پہلے سے زیادہ خاموش اور سخت طبیعت کو ہوچکا تھا
’’کیسے ہوں شاہ‘‘ وہ اس وقت اسی جگہ کھڑا تھا جہاں پر فلک نے اپنی آخری اڑان بھری تھی
’’ٹھیک تم سناؤ‘‘
’’میں بھی ٹھیک‘‘
’’تم نے وعدہ کیا تھا شاہ، وعدہ کیا تھا کہ فلک ہمارے مابین کبھی نہیں آئے گی تو پھر اب کیوں؟‘‘ شاہ کو وہاں سے جاتے دیکھ وہ بولا
’’خیر یہاں میں تم سے کوئی اور بات کرنے آیا ہوں، تمہاری مرحوم بیوی کا پیغام دینے آیا ہوں‘‘ ان کی بار شاہ چونکا
’’کیا!!‘‘ کیا کچھ نہیں محسوس کیا تھا خان نے اسکی آواز میں مگر سب سے بڑھ کر تڑپ تھی
’’اسنے وعدہ لیا تھا کہ شاہ سے کہنا فلک چاہتی ہے کے وہ صبا سے شادی کرلے‘‘ خان نے تو حقیقت میں اس پر بم پھوڑا تھا
’’ناممکن میں ایسا نہیں کروں گا‘‘ وہ غصے میں تھا خان جانتا تھا
’’ٹھیک تمہاری مرضی مگر یہ تمہاری بیوی کی خواہش تھی سو اگر اسکی روح کو تکلیف پہنچے تو میں ذمہ دار نہیں ہوں‘‘ خان کی بات پر شاہ لب بھینچ کر رہ گیا
خان اس دن فلک اور صبا کی باتین سن چکا تھا، حالانکہ فلک نے ایسا کوئی وعدہ نا لیا تھا مگر شاہ کو زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے یہ ضروری تھا
’’سوری سسٹر مگر یہ ضروری تھا‘‘ آسمان کی جانب نگاہ کیے وہ بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر شاہ نے صرف فلک کی خواہش پر صبا سے شادی کے لیے رضامندی دے دی صبا تو یہ سب دیکھ کر حیران تھی اسی لیے اسنے خان کو کال کی اور کیفے ملنے کو بلایا
’’میں شاہ سے شادی نہیں کرسکتی خان‘‘
’’کیوں‘‘
’’مجھے لگتا ہے کہ میری بری نظر لگی ہے فلک کو اپنا آپ مجرم محسوس ہوتا ہے مجھے خان‘‘
’’کسی کو کسی کی بری نظر نہیں لگی صبا یہ سب تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں، اور اس وقت شاہ ہامرے لیے زیادہ ضروری ہے تم سنبھال لو گی اسے صبا میں جانتا ہوں‘‘
’’مگر۔۔۔۔‘‘
’’اگر مگر کچھ نہیں صبا میں نے تمہیں فلک کی جگہ مانا ہے اب اگر تم بھی مجھے اپنا بھائی مانتی ہوں تو انکار مت کرنا‘‘ جس پر صبا نے اثبات میں سر ہلا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبا اور شاہ کا نکاح بہت سادگی سے ہوا تھا
’’ویسے تو یہ میری فلک کے لیے تھے مگر اب تم مجھے اسکے جتنی عزیز ہو تو یہ تمہارے لیے‘‘ اماں نے صبا کے ہاتھوں میں وہی کنگن پہنا دیے جو روشانے اور فلک کے لیے ایک جیسے تھے
کنگنوں کو دیکھ کر اسکی آنکھیں بھر آئی
’’شکریہ اماں‘‘ بھرائی آواز میں وہ انسے لپٹتے بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت اپنے کمرے میں تھی جب شاہ اس سے ملنے آیا
’’شاہ آؤ‘‘ وہ اب ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے
’’یہ شائد تمہارے لیے ہی بنی تھی‘‘ اسکا ہاتھ تھامتے اس میں وہی مال والی انگوٹھی پہنائے وہ بولا، ایک پل کو آنکھوں کے سامنے وہ سارا منظر چلنے لگا جب اسنے فلک کو یونہی انگوٹھی پہنائی تھی مگر تب میں اور اب میں کتنا فرق تھا نا
’’میں نے فلک سے بہت محبت کی ہے صبا اور شائد کرتا رہوں مجھے اس رشتے کو سمجھنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے، آئی ہوپ سو تم سمجھ پاؤ گی‘‘ جس پر صبا نے سر ہاں میں ہلا دیا
’’تھیک یو مجھے سمجھنے کے لیے‘‘ اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے بنا کچھ اور کہے وہ باہر چلا گیا
جبکہ صبا تو ابھی تک اس کے لمس کے زیر اثر تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کار کو وہ وقت بھی آن پہنچا جس کا خان کو کب سے انتظار تھا
’’مبارک ہوں سر بیٹی ہوئی ہے اور دونوں ماں اور بےبی بھی سیف ہے‘‘ ہاتھ میں چھوٹی سے پری لیے ایک نرس خان کی طرف آئی اور اسے مبارک باد دی جبکہ خان تو بس اسے دیکھے جارہا تھا
نرس کو مٹھائی کے پیسے دیتے وہ اب شکرانے کے نفل ادا کرنے گیا تھا
روشانے کو روم میں شفٹ کردیا گیا تھا جبکہ بےبی کو کاٹ میں ماں کے پاس رکھ دیا گیا تھا
اتنے میں خان دروازہ کھولے اندر آیا اور بےبی کے کان میں آزان دیے اسے باہوں میں بھر لیا
’’خان مجھے بھی پکڑائے‘‘ روشانے نے ہاتھ آگے بڑھائے
وہ دونوں اس وقت اسے دیکھنے میں مصروف تھے جب کوئی دروازہ ناک کرک اندر آیا
’’ارے شاہ آؤ‘‘ خان اسے دیکھ کر خوش ہوتے بولا
’’میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا، وہ دراصل میں اپنی ننھی پری سے ملنے کو بیتاب تھا اسی لیے رہا نہیں گیا‘‘
’’کیا میں اسے لے لو؟‘‘ اسنے سوال کیا اور اجازت ملتے ہی اسے اپنی آغوش میں لے لیا
’’نام کیا سوچا اسکا؟‘‘بےبی سے پیار کرتے اسنے پوچھا
’’فلک خان۔۔۔ فلک دلاور خان‘‘ نام سنتے ہی وہ ایک لمحے کو چونکا مگر پھر مسکراہ دہا
’’پرفیکٹ نیم فار آ پرفیکٹ گرل‘‘ وہ بےبی کو دیکھ کر مسکرا کر بولا
’’چلو بھئی چاچا صاحب میری بیٹی کر گرتی دیجیے تاکہ وہ تھوڑی بہت آپ جیسی ہوجائے ‘‘ خان کے مزاق پر وہ ہنس دیا اور پھر بےبی فلک کو اپنی گرتی دی اسنے
شاہ اب نارمل ہورہا تھا جس کے لیے خان صبا کا شکرگزار تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روشانے کو ایک دب بعد ہی ہسسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا تھا، اب وہ فلک کو سلا کر کاٹ میں لیٹاتی بیڈ پر آگئی
’’سوگئی کیا؟‘‘ خان نے سوال کیا
’’ہاں‘‘
’’تم جانتی ہوں روشی اس دن میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا میرے سامنے اسکا طیارے میں بیٹھنا، ہواؤؤں کی سیر اور ہھر کالا دھواں سب کچھ میرے سامنے ہوا تھا‘‘
’’تکلیف اس بات کی نہیں ہے کہ وہ آج موجود نہیں بلکہ اس بات کی ہے کہ کچھ بھی نہیں ملا روشانے، اسکے جسم کا ایک حصہ تک نا ملا، سب کچھ راکھ کی نظر ہوگیا روشانے سب کچھ، میں نے اپنئ نظروں سے دیکھا تھا سارا ملبہ نیچے گرتے ہوئے‘‘ وہ ٹرانس کی کیفیت میں بول رہا تھا
’’خان آپ ٹھیک ہے؟‘‘
’’پہلے نہیں تھا مگر اب میری فلک جونیئر آگئی ہے نا تو دیکھنا ہوجاؤ گا‘‘ وہ مسکرا کر بولا
اپنا اور فلک کا نام جوڑے وہ مسکرا دیا، فلک اور جونیئر فلک جونیئر مگر یہاں بھی وہ بازی لے گئی اپنا نام پہلے لاکر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھ سال بعد
’’فلک۔۔فلک کہاں ہوں؟‘‘ گھر آتے ہی اگر خان کو وہ نظر نا آتی تو یونہی آوازیں دیتا
’’میں یہاں ہو بابا‘‘اسے لان کے پچھلے طرف سے آواز آئی
وہ اسے وہاں بیٹھے دیکھ کر حیران رہ گیا، جلائی کے اوائل دن، زوروں کی گرمی اور وہ اتنی دھوپ میں سر اٹھائے آسمان کو دیکھے جارہی تھی
’’فلک جونئیر یہاں کیا کر رہی ہے آپ؟‘‘
’’بابا وہ دیکھے آسمان، مجھے اسے چھونا ہے بابا‘‘ وہ آٹھ سال کی تھی مگر لہجے کی مضبوطی سے وہ کہی سے بھی آٹھ سال کی نا لگ رہی تھی
’’اور تو فلک کو اڑان بھرنی ہے؟‘‘
’’فلک کو سورڈ آف اونر بھی لینی ہے ‘‘ اسنے ایک اور بات کا اضافہ کیا
’’کیا باتیں چل رہی ہے باپ بیٹی میں؟‘‘ اکمل خان نے وہاں آکر انسے پوچھا
’’السلام علیم بابا‘‘
’’وعلیکم السلام‘‘
’’دادو میں بابا کو بتا رہی تھی کہ مجھے بھی انکی طرح پلین اڑانا ہے‘‘
’’کیا سچ میں؟‘‘
’’جی اور محترمہ کو سورڈ آف اونر بھی لینی ہے‘‘ خان نے اضافہ کیا
’’کیا واقعی ایسا ہے فلک؟‘‘ اکمل خان نے حیرانگی سے اس سے پوچھا
’’نہیں مجھے سورڈ آف نہیں لینی، سورڈ آف تو میری ہی ہے اور میں اپنا حق چھوڑنے والوں میں سے نہیں ہوں‘‘ اسکا لہجہ بلکل فلک جیسا تھا اگر اسے فلک جونیئر کہاں جاتا تھا تو کچھ غلط نا تھا
چند سال پہلے نتاشہ بیگم دل کے دورے کی وجہ سے وفات پاگئی تھی، اکمل خان تب بلکل اکیلے رہ گئے تھے اور انہوں نے خان سے معافی بھی مانگی تھی جس پر اس نے انہیں معاف کردیا تھا، رخسانہ بیگم نے بھی انہیں معاف کردیا تھا اور ان کی ہمسفری میں اکمل خان پر یہ بات آشکار ہوئی تھی کہ وہ بہترین ہمسفر تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے کی کھلی کھڑکی سے آتی ہوایئں اسکے بالوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی اسکے ہاتھ میں شاہ کی وہی تصویر تھی جس پر اسنے وہ شعر لکھا تھا مگر تب اسکا ایک مصراع اسنے نہیں لکھا تھا
تجھے روز دیکھوں قریب سے
میرےشوق بھی ہیں عجیب سے
مجھے مانگنا ہے تجھ ہی کو بس
اپنے رب اور اسکے حبیب سے
میری آنکھ میں بھی ہے عاجزی
میرے خواب بھی ہے غریب سے
میرے سب دکھوں کی دوا ہو تم
ملے کیا مجھے طبیب سے
قلم اٹھائے وہ اب آخری شعر لکھنے لگی
میں بہت خوش ہوں جوڑ کر
نصیب اپنا تیرے نصیب سے۔۔۔!
شعر مکمل کرتے ہی اسنے اپنی ڈائڑی اٹھائی اور اپنے پرسنل ڈرا کے لاکر میں رکھ دی
ہارون اور صبا کی شادی کو چھ سال گزر چکے تھے اور ان کے دو بیٹے تھے ذیشان اور عاسم، اب کی بار ڈاکڑز نے بیٹی کی خوشخبری سنائی تھی جس پر شاہ ہواؤں میں اڑتا پھر رہا تھا
شاہ میں ان چھ سالوں میں بہت سے بدلاؤ آئے تھے سوائے موبائل کے اس وال پیپر کے جس پر اسکے اور فلک کے گھڑی والی کلائی کی تصویر تھی جس پر صبا کو بھی کوئی گلہ نا تھا
دوسری طرف روشانے کو بھی فلک کی پیدایش کے آٹھ سال بعد بیٹے کی خوشخبری دی گئی تھی، جبکہ ملک کے ہاں خلیل کے بعد دو اور بیٹوں نے جنم لیا تھا اور اب سب نے مل کر دل کو زمین پر ہی جہنم کے نظارے کروادیے تھے
ایک سیر تھا تو دوسرا سوا سیر
اگر کہی کوئی کمی تھی تو وہ تھی فلک کی جسے جونیئر فلک بھی پورا نہیں کرسکتی تھی
ہاں مگر اب ایک نئی فلک اسی جذبے اور اسی جوش و خروش کے ساتھ تیار ہورہی تھی ایک نئی داستان رقم کرنے کے لیے
ایک نئی فلک جسے آسمان تسخیر کرنا تھا
ایک نئی فلک جسے زندگی کی ایک نئی اڑان بھرنی تھی
ختم شد۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *