Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Udaan by Qanita Khadija Episode08

Udaan by Qanita Khadija Episode08

سرگودھا اکیڈمی میں انکی پہلی صبح کا آغاز ہی اتنا خوفناک ہوگا یہ کسی اور نے سوچا ہو یا نا ہو مگر شایان نے کبھی نا سوچا نا تھا ایک تو فجر کے بعد گراؤنڈ میں حاضری وہ بھی شایان جیسے بندے کے لیے جس کی صبح ہی دس گیارا بجے ہوتی تھی ایک مشکل مرحلہ تھا، مگر جتنی تکلیف اسے اپنے بالوں کے کھونے پر ہوئی تھی اتنی شاید کسی چیز پر نہیں ہوئی۔
کلین شیو کیے،فوجی کٹ کروائے ، یونیفارم پہنے اس وقت وہ سب اپنی قطاروں میں کھڑے تھے، انکی آنکھیں ابھی بھی نیند کی وجہ سے آدھی بند تھی جب ایک چنگاڑتی آوازان سب کو ہوش میں لائی۔
’’کیڈیٹس۔۔۔۔ ہوشیار‘‘ایک زوردار آواز پر وہ ہڑبڑا کر سیدھے کھڑے ہوئے۔
’’میں میجر آفاق آج سے آپ سب ک انسٹرکٹر ہوں، تو کیوں نا ہم اپنی پہلی صبح کا آغاز ایک اچھی سی،چھوٹی سی مارنگ واک سے کرے‘‘ چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ کیڈیٹس سے اتنی مٹھاس سے بولے کہ ایک پل کو تو سب کے چہروں پر حیرت در آئی،مگر آہستہ آہستہ سب کے چہروں پر بھی مسکراہٹ آنا شروع ہوگئی مگر ہوئے رے یہ فریشر ان کے ساتھ کیا کیا نا ہونے والا تھا اس بات سے وہ بالکل انجان تھے۔ جہاں باقی سب کے چہروں پر مسکان آئی وہی شایان کی تو بانچھیں کھل گئی۔
’’شکر ہے کسی انسان سے تو پالا پڑا یہاں‘‘ شایان کی آواز محض ایک سرگوشی تھی مگر میجر آفاق کے تیز کانوں نے اسکی سرگوشی کو باخوبی سنا تھا اور چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ آگئی جیسے پہچاننا بہت مشکل تھا۔
’’کیڈیٹس آج چونکہ آپ کا پہلا دن ہے تو آپ صرف پانچ کلو میٹر کی دوڑ لگائے گے‘‘ چہرے پر مسکان سجائے انکی بات سنتے کیڈیٹس کی مسکان سمٹی وہی شایان کا منہ حیرت سےکھل گیا۔
’’کم آن کیڈیٹس کیا پورا دن یہی لگانا ہے‘‘ گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے گویا انہیں جانے کا اشارہ کیا اور سب نے ایک بار زمین پر پیر مارتے میجر کی بات پر دوڑ شروع کردی۔
آخر کار پانچ کلو میٹر کی دوڑ لگا کر وہ اپنی جگہ واپس آچکے تھے۔یہ الگ بات تھی کہ اتنی صبح بنا ناشتہ کیے پانچ کلو میٹر کی دوڑ نے انکو دن میں تارے دکھا دیے تھے۔
’’کیڈیٹس ہوشیار‘‘ ابھی وہ سب اپنی سانسیں بحال ہی کر رہیں تھے کہ پھر سے وہی چنگاڑتی آواز ان کے کانوں میں پڑی اور وہ سب ایک سیکنڈ میں اپنی اصل پوزیشن میں کھڑے ہوگئے۔
’’تو پسند آئی آپ سب کو مارننگ واک؟‘‘ چہرے پر ویسے ہی مسکراہٹ سجائے پوچھا گیا۔
’’نو سر‘‘ ایک تھکا سا جواب جو کہ شایان کے علاوہ کون دے سکتا تھا، جس پر جہاں وہ تینوں آنکھیں میچ کر رہ گئے وہی میجر آفاق کے چہرے پر پھیلتی مسکراہٹ انہیں اس بات کا ثبوت دے رہی تھی کہ اب شایان کی خیر نہیں۔
’’سو کیڈیٹ ملک آپ کو واک پسند نہیں آئی‘‘ شایان کے سر پر کھڑے انہوں نے نہایت شفقت سے پوچھاگیا۔
’’نو سر‘‘ روتا منہ بنا کر وہ بولا کس پر ایک پل میں میجر کے چہرے کے تاثرات بدلے۔
’’اونچی آواز میں کیڈیٹ ملک‘‘ اس کے کان میں وہ اتنے زور سے چلائے کہ ایک پل کوتو اسے اپنے کان کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے،جبکہ میجر کے چہرے کے تاثرات بالکل مختلف تھا اب انکے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی تھی۔
’’یس سر‘‘ انکے تاثرات سے خوف کھاتا وہ جلدی بولا۔
’’میں نے کہا آواز اونچی‘‘ میجر آفاق ایک بار پھر چلائے۔
’’یسسس سر‘‘ اب کی باروہ بھی چلا کربولاتھا۔
’’مجھے دو لوگوں سے سخت نفرت ہے ایک بے وقوف لڑکے‘‘ایک نظر شایان پر ڈالے اب وہ فلک کے سامنے آکھڑے ہوئے’’اور دوسرا بد دماغ لڑکیوں سے جنہیں یہ لگتاہے کہ وہ ہر میدان میں لڑکوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں‘‘ مقصد صاف فلک کو سنانا تھا جس کا چہرا ہمیشہ کی طرح کسی بھی قسم کے جذبے سے عاری تھا۔
مگر میجر آفاق اسکی آنکھوں میں جلتی آگ کو باخوبی پہچان گئے تھے اور انہیں معلوم تھا کہ ایک دن یہ لڑکی انہیں غلط ثابت کر کے رہے گی۔
میجر کی اس بات پر خان کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آگئی جسکا مقصد صرف فلک کو جلانا تھا، فلک کے سرد تاثرات اور خان کی مسکراہٹ انہیں کوئی اور ہی کہانی سنا رہی تھی اور انہیں معلوم تھا کہ اس بیج کے ساتھ انکو بہت مزہ آنے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج انکا پہلا لیکچر تھا،جس میں انہیں نا صرف ایڈمیشن ملنے پر مبارک باد گئی تھی بلکہ انہیں ان عزیم ہیروز کی مثال بھی دی گئی تھی جنہوں نے اس ملک کی خاطر اپنی جان قربان کردی۔
دیوار پر نصب ان تصویروں میں سے ایک تصویر ایسی تھی جس پر اسکی آنکھیں ٹک کر رہ گئی تھی، وہ کوئی اور نہیں بلکہ قوم کی بیٹی مریم مختیار تھی جس کو فلک نے نا صرف ہرانا تھا بلکہ اس سے اونچا مقام پیدا کرنا تھا،مگر وہ بھول گئی تھی کہ اس وقت وہ کس کو مات دینا کا سوچ رہی تھی، قوم کی اس عزیم بیٹی کو تو شاید کوئی بھی مات نا دے سکے۔
لیکچر کے دوران میجرآفاق بھی وہی موجود تھے جنکی نظریں صرف دو لوگوں پر مرکوز تھی۔
وہ فلک اور دلاور کی آنکھوں میں چمک واضع طور پر محسوس کر چکے تھے جو سورڈ آف اونر اور شہادت کے زکر پر انکی آنکھوں میں آئی تھی، اور انہوں نےاپنی چیل جیسی آنکھیں ان پر گاڑ دی تھی، اور فلک اور خان وہ دونوں تو اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ چار سال انہیں بہت مہنگے پڑنے والے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’لڑکیوں کو ہر میدان میں لڑکوں سے مقابلہ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے‘‘ یہ بات اسکے سامنے کھڑے خان نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسکی طرف اچھالی تھی۔
’’فلک بی بی میری مانے تو ابھی بھی وقت ہے چھوڑو یہ سب کچھ گھر جاؤ، ہانڈی روٹی سیکھو اور کسی عقلمند انسان سے شادی کر کے اپنا گھر بساؤ‘‘
’’تم جانتے ہوجونیرہماری حویلی کے سامنے شفقت چاچاکی اماں جنہیں ہم دادی کہتے تھے وہ نوے سال کیسے جی گئی؟‘‘ ایک آبرو اچکاتے ہوئے اسنے خان سےسوال کیا، اسکے یوں بات پلٹنے پر خان حیران ہوا۔
’’کیسے؟‘‘ خان اپنی حیرت چھپاتے ہوا بولا جس کی وجہ سے شاہ اور ملک کے چہرے ہنسی میں ڈھل گئے۔
’’کیونکہ وہ کسی کے معاملے میں ٹانگ نہیں اڑاتی تھی، تم لاکھ برے سہی جونیر لیکن یہ جو تم اپنی ماں کی طرح اوروں کے معاملوں میں ٹانگ اڑاتے ہوناں سخت زہر لگتے ہوں۔۔۔۔ یقین مانو یہ حرکتیں صرف ان عورتوں پر اچھی لگتی ہے جنہیں نا بچے سنبھالنے کی فکر ہوتی ہے اور نا ہی گھر۔۔۔ بالکل تمہاری ماں کی طرح‘‘ طنز کے تیر اس پر چلائے وہ دلاور کو آگ بگولا کر گئی تھی
’’تمممم۔۔۔۔تم خود کیا ہوں ہاں تمہاری ماں تو اپنا گھر سنبھال نا پائی اور اب اسکا بدلہ تم میری ماں کو بے عزت کرکے لینا چاہتی ہوں‘‘ اب کی بار چھبن تو ہوئی مگر فلک کو اس سے پہلے کے معاملہ مزید سنگین ہوتا شایان خان کو وہاں سے لے جا چکا تھا۔
’’تم نے بہت غلط کیا فلک‘‘
’’پلیز شاہ اس وقت مجھے تمھارے لیکچر نہیں چاہیے‘‘ شاہ کی بات پر وہ اسے ہاتھ اٹھا کر روکتے بولی۔
’’تمہیں سننا ہوگا فلک آج تم میری سن کر جاؤ گی‘‘ اسے وہاں سے جاتا دیکھ کر شاہ اسکا ہاتھ پکڑتے اسے روک کر بولا۔
’’خود کو ہمیشہ سہی اور دوسروں کو غلط سمجھنا بند کردوں فلک خان، تم کن کن موقعوں پر غلط تھی فلک خان اگر میں تمہیں بتادوں تو شاید تم ڈوب مروں‘‘ شاہ کی آواز اونچی تو نہیں مگر سخت ضرور تھی وہ کم بیش ہی سختی کرتا تھا، تب جب معاملات حد سے زیادہ بگڑ جاتے۔
’’اچھا میں بھی تو سنوں زرا اپنی بدتمیزی کی داستانیں‘‘ اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑواتی وہ دونوں بازو سینے پر باندھے اب وہ اس سے سوال دہ تھی۔
’’تو سنو فلک خان تم تب غلط تھی جب تمھارا باپ تمھارے لیے ہسسپتال دوڑا آیا اور تمنے انکے ہاتھ جھٹک دیے، تم تب غلط تھی جب تم سب کے سامنے فلک اکمل خان کے حق سے دستبردار ہوکر صرف فلک خان بن گئی، تم تب غلط تھی فلک جب تم خود کوحق باجانب سمجھ کرغلط اور سہی کا فرق بھول گئی تم اور تم آج غلط ہو فلک خان جب تمنے اپنی ماں کی دی گئی تہذیب تک بھلا دی فلک خان تف ہے تم پر،خان لاکھ برا سہی مگر اسنے کبھی تمہاری ماں کو برا بھلا نہیں کہا اور جو آج تھا وہ تمہارے ایکشن کا ری ایکشن تھا، اور ہاں فلک خان ایک بار تم پر سے یہ ہار جیت کا بھوت اترے گا نا تب حقیقت تم پر آشکار ہوگی فلک خان کے تم کتنی غلط ہو، کیسے تم نے اپنی ماں کی تربیت کی توہین کی تھی فلک خان۔۔۔۔۔۔ سوچنا ضرور‘‘ یہ کہہ کر وہ وہاں سے چل دیا جبکہ فلک تو کتنی دیر تک اپنی جگہ سے ہل نا سکی ہارون اسے ایسے آیئنہ دکھائے گا اسنے سوچا تک نا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت ہاسٹل میں داخل ہورہی تھی جب اچانک سینئرز کا ایک ٹولہ اسکے سامنے آیا جنہیں اسنے سلام کیا، اب وہ سب اسکے آس پاس منڈلانے لگی اسے معلوم تھا کہ اب اسکی خیریت نہیں پورا دن تو وہ سینئرز کی ریگنگ سے بچ گئی تھی مگر اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔
’’سکارف آف‘‘ ایک سینئر اس پر چلا کر بولی۔
جس کی فورا تعمیل کرتے ہوئے اسنے اپنا سکارف اتار دیا۔
’’بال کھولو‘‘ دوسرا حکم ساتھ ہی سنایا گیاجس کی تعمیل اسنے بھی فورا کی اور بال کھول دیے
وہ سب اب اسکے بالوں کا جائزہ لینے میں مصروف تھی۔
’’بال تو بہت خوبصورت ہے اسکے مگر بے چاری کو مشکل ہوتی ہوگی نا انکو سنبھالنے میں تو کیوں نا اسکی مشکل آشان کردی جائے‘‘ یہ کہتے ہی ان سب نے اسکے بالوں پر قینچی چلانا شروع کردی اور وہ تو بو بسی سے بس یہ سب ہوتا دیکھ رہی، اسکے بال جگہ جگہ سے آڑھے تیرچھے کاٹے گئے تھے۔
’’یو میں گو ناؤ‘‘ یہ سنتے ہی انہیں سیلوٹ کرتے اسنے وہاں سے نکلنے کی کیونکہ اب وہ جی بھر کر رہنا چاہتی تھی۔
’’سنو‘‘ انکی آواز پر وہ اپنی جگہ رک گئی۔
’’یس میم‘‘بہت مشکل سے اسنے اپنی کانپتی آواز پر قابو پایا۔
’’کل تم بنا سکارف کے گھومو گی اور بار کھلے چھوڑنا‘‘ اسے اورڈر دیتے وہاں سے جانے کو کہا اور وہ یس میم کہتی وہاں سے نکل گئی
کمرے میں آتے ہی وہ فورا واشروم کی طرف بڑھی، شاور کھولتے ہوئے وہ اسکے نیچے کھڑی جی بھر ک رؤئی، پہلے ہارون اور اب یہ سب۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ رونا کس بات پر آرہا تھا بال کاٹے جانے پر یا ہارون کی بات پر۔۔ اب دماغ پر سکون کرکے سوچا تو اسے سمجھ آئی کے ہربار اکمل خان ہی غلط نا تھے۔ اگر انہوں نے کبھی اسے اسکا حق نا دیا تو اسنے کونسا لینے کی کوشش کی وہ کوئی جاہل تھوڑی نا تھی جو اپنے حق کے لیے لڑنا سکتی مگر اسنے لڑنے کا بہت غلط پہلو چنا۔
’’نہیں اب میں سب ٹھیک کردوں گی بابا سے بھی معافی مانگ لوگی اور خان ہا اس سی بھی، اسکی تو کوئی غلطی بھی نا تھی‘‘ خود سے باتیں کرتے،اپنے آنسو صاف کرتے اسنے عزم کیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *