Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Udaan by Qanita Khadija Episode21

Udaan by Qanita Khadija Episode21

’’یہ۔۔یہ کیا ہوا ہے؟ ہائے اللہ ظالمو کیا کردیا میرے شوہر کے ساتھ تم لوگوں نے؟‘‘ وہ دونوں شایان کو بازوؤں سے پکڑے اندر بیڈ پر لائے لٹایا ہی تھا جب دل نے اچانک کمرے میں آکر اسے دیکھتے ہی بین ڈالنا شروع کردیا، جبکہ پیچھے آتی صبا اور فلک تو صرف آنکھیں گھما سکی اسکی اس اداکاری پر
’’رب نے بنا دی جوڑی‘‘ صبا نے سرگوشی نما آواز میں تبصرہ کیا جس پر فلک صرف سر ہاں میں ہلا سکی۔
’’میں پوچھتی ہوں کیا کیا ہے تم لوگوں نے میرے معصوم شوہر کے ساتھ‘‘ خان اور شاہ کو پیچھے دھکیلتے اب وہ شایان کے سرہانے بیڈ پر ٹک گئی اور اس کے بالوں میں ہاتھ چلانے لگی۔
’’کچھ نہیں کیا تمہارے شوہر کے ساتھ ہم نے یہ اسکے خود کے کرتوت ہیں اور جہاں تک بات رہی معصومیت کی تو وللہ قربان جاؤ میں تمہارے شوہر کی معصومیت پر اسکی اسی معصومیت کا نتیجہ ہے کہ میری بیوی مجھسے طلاق کا مطالبہ کرنے پر آگئی تھی‘‘ وہ جو اتنی دیر سے شیرنی بنی ہوئی تھی خان کی بات پر بھیگی بلی بن کر رہ گئی اور ایک نظر غصے سے اپنے سرتاج کو دیکھا کو مزے کی نیند لے رہا تھا اب
’’ہاں تو کیا ہوا مزاق تھا نا آرام سے سمجھا دیتے ایسے کون کرتا ہے وہ بھی جب وہ تم لوگوں کے بچپن کا دوست ہے۔ ٹھیک ہے مانا اسنے غلطی کی ہے مگر فکر مت کروں میں سمجھا دوں گی اسے‘‘ انہیں کہتے ہی اسنے دو تھپڑ شایان کے منہ پر بھی باتوں ہی باتوں میں جڑدیے اور وہ جو تب سے آنکھیں بند کیے، بیہوشی کا ڈرامہ کرتا انکی آپسی تکرار سے لطف اندوز ہورہا تھا دل آویز کی اس محبت پر کراہ کر رہ گیا، جبکہ باقی چاروں نے بامشکل اپنی ہنسی ضبط کی۔
’’میرے خیال سے شایان کو دل خود ہوش میں لے آئے گی ہمیں اب چلنا چاہیے‘‘ شاہ نے مشورہ دیا جس پر عمل کرتے ان چاروں نے سر اثبات میں ہلائے کمرے سے باہر کا رخ کیا۔
’’تم گدھے، میں کیا کروں تمہارا؟ اففف شایان افف۔۔ تم کب اپنے ڈراموں سے باز آؤ گے‘‘ بیڈ سے تکیہ اٹھائے اب وہ اس پر مارنے لگ گئی اور وہ جو تب سے بےہوش بنا پھر رہا تھا بھوکلا کراٹھا۔
’’اوئے۔۔کیا کر رہی ہو یاردل بس بھی کرو۔۔۔دل میں کہہ رہا ہوں رک جاؤ ورنہ مجھسے برا کوئی نہیں ہوگا دل، دل بس اچھا بس ہوگیا ‘‘ ہاتھوں سے اپنا بچاؤں کرتے ہوئے وہ دل کی طرف بڑھا اور آخر کار تکیہ اسے کھینچتے ہوئے اسے بیڈ کی طرف پھینک کر دل کو اسنے دونوں بازؤں سے جکڑ لیا
’’بس بھی کردوں اتنا غصہ بھلا کسے آتا ہے‘‘ آرام سے اسے اپنے بازوؤں کے حلقے میں لیے اسنے پوچھا
’’مجھے مجھے آتا ہے۔۔ تم بدتمیز انسان کب باز آؤ گے تم‘‘ غصے سے چلاتے آخر میں وہ اسکے سینے پر مکے برسانے لگی
’’اچھا سوری سوری یار مزاق کیا تھا میں نے وہ بھی خان سے تم کیوں اتنی ہائپر ہورہی ہوں؟‘‘
’’ابھی ابھی روشانے کو سلا کر آرہی ہوں اتنا رو رہی تھی وہ بیچاری کہہ رہی تھی کہ کہی خان بھی اسکے ساتھ وہی نا کردے جو خان کے ابو نے فلک کی امی کے ساتھ کیا تھا اور تم مزاق کہہ رہے ہوں وہ بیچاری اتنی مشکل سے سوئی ہے اوپر سے اس نے صبا سےالگ بدتمیزی کی صرف تمہارے بکواس سے مزاق کی وجہ سے‘‘
’’اچھا نا یار پکا صبح ہوتے ہی سب سے سوری بھی کروں گا اور بھابھی کے لیے تو کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک بھی کروں گا‘‘ اسکی بات دل نے اسے دھکا دیے خود سے دور کیا اور آنکھوں میں خفگی لیے منہ موڑ گئی
’’اب کیا ہوگیا ہے یار؟‘‘ وہ واقعی میں اسکے بدلتے موڈ پر حیران رہ گیا
’’مجھے کیا ہونا ہے جاؤ لگاؤ اپنے دوست کی بیوی کے لیے اٹھک بیٹھک کبھی اپنی بیوی کی ناراضگی کی تو اتنی فکر نہیں کی اور دوست کی بیوی کی کتنی فکر ہے تمہیں‘‘ غصے سے کہتے اب وہ کمرے سے ملحقہ بالکونی میں آکر کھڑی ہوگئی نظریں اسکی نیچے لان کی طرف تھی جب پیچھے سے شایان نے اسے اپنے حصار میں لیا
’’دل ایک بات پوچھو سہی سہی جواب دینا کیا ہوا ہے؟ آجکل میں دیکھ رہا ہوں تم بہت اوور رئیکٹ کرنے لگ گئی ہوں۔ کیا ہوا ہے بتاؤں مجھے، میری دل کیوں اتنی پریشان ہے‘‘ اور دل نے بنا کچھ کہے منہ موڑے اسے گلے لگاتے اسکے سینے میں اپنا منہ چھپا لیا، انہیں کچھ پل یونہی گزر گئے جب دل بولی
’’مجھے ڈر لگتا ہے شایان، پتا نہیں کیوں مگر ایک دھڑکہ لگا رہتا ہے دل کو کہ کچھ ہونے والا ہے، پتا نہیں کیا مگر شائد کچھ بہت برا جو ہم سب کو توڑ کر رکھ دے گا۔ مجھے ڈر لگنے لگ گیا ہے شایان میں تمہیں نہیں کھو سکتی جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتم مجھے، میں نے اتنی محبت کسی سے نہیں کی جتنی تم سے کی ہے، مجھے چھوڑنا مت شایان ورنہ یا تو میں پاگل ہوجاؤ گی یا پھر مر جاؤ گی‘‘
’’ششش دل ایسا کچھ نہیں ہوگا، میں یہی ہوں، ہم سب یہی ہیں کسی کو کچھ نہیں ہوگا تم فکر مت کروں اوکے، اورجہاں تک بات ہے چھوڑنے کی تو اگر میں نے کبھی مزاق میں بھی تمہیں چھوڑنے کی بات کی تو کیا کروں گی تم؟‘‘
’’تو میں تمہیں اسی پستول سے مار دوگی جو تم نے مجھے چلانا سکھائی ہے‘‘ اسکے کرتے کے بٹن سے چھیڑ کھانی کرتے وہ بولی
’’اچھا رات بہت ہوگئی ہے چلو اب جاؤ سونے کا وقت ہوگیا ہے ورنہ میرا ارادہ بدلنے میں دیر نہیں لگنی، ویسے بھی خوبصورت رات، من چاہا ہمسفر اور یہ تنہائی‘‘ شایان کی شوخی پر دل تو سٹپٹا کر رہ گئی
’’اففف شایان بھاڑ میں جاؤ تم کس قدر گھٹیا ہوں تم‘‘ اسے پرے دھکیلتے وہ تیزی سے کمرے سے باہر بھاگی جبکہ شایان کے قہقہے نے دور تک اسکا پیچھا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح فجر کا وقت تھا جب وہ سب سے چھپتا چھپاتا اسکے کمرے کے باہر آن کھڑا ہوا اور دروازہ ہلکے سے ناک کرنے لگ گیا، وہ جانتا تھا کہ اس وقت وہ نماز سے فارغ ہوگئی ہوں گی
’’آرہی ہوں بھئی صبر کرلو۔۔ افف کون ہے جسے صبح ہی صبح موت پڑگئی ہے‘‘ صبا جو ابھی جائےنماز طے کرکے اسکی جگہ پر رکھ رہی تھی اتنی بار دستک پر جھنجھلا کر رہ گئی
’’ہارون تم اس وقت یہاں؟‘‘ وہ تو ہارون کو دیکھ کر حیران رہ گئی
’’اندر تو آنے دوں لڑکی کیوں جوتے پڑوانے ہیں مجھے‘‘ صبا کو دھکیلتے وہ اندر داخل ہوا
’’تم یہاں کر کیا رہے ہوں؟‘‘اسے بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر وہ اسنے سوال کیا
’’مجھے شاپنگ پر جانا ہے‘‘ اسکے بیڈ پر بیٹھے اسنے بتایا
’’ہارون تم اتنی صبح مجھے یہ بتانے آئے ہوں کہ تمہیں شاپنگ پر جانا ہے‘‘ ایک آبرو اچکائے، جھنجھلاتے ہوئے اسنے پوچھا
’’نہیں میں تمہیں کچھ بتانے نہیں آیا بلکہ یہ کہنے آیا ہوں کہ تیار رہوں تم میرے ساتھ جارہی ہوں‘‘ مزے سے حکم صادر کرتے وہ بولا
’’تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے؟‘‘ وہ چلائی
’’آرام سے یار اگر کسی نے سن لیا تو چھاپا پڑ جانا ہے پھر ہم دونوں کو سنگسار کردیا جائے گا‘‘ وہ مزے لیتا بولا
’’بھئی کیا ہے ہارون مجھے نہیں جانا‘‘ اسنے سیدھا انکار کردیا
’’صبا پلیز چلو نا، چلو نا ‘‘ وہ اب منت پر اتر آیا
’’کیا بہت ضروری ہے؟‘‘
’’بہت زیادہ‘‘ معصوم بچوں جیسا چہرہ بنائے وہ بولا
’’ٹھیک ہے چلو‘‘
’’تھینک یو تھینک یو سو مچ‘‘
’’اسکی ضرورت نہیں بس برات سے پہلے میں واپس آجاؤ سمجھے‘‘ انگلی اٹھاتے اسنے وارن کیا
’’جو حکم مادام‘‘ سینے پر ہاتھ رکھے سر جھکائے وہ بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری حویلی میں اس وقت بھگڈر مچی ہوئی تھی، ہر طرف ہلچل تھی ہوتی بھی کیوں ناآخر کو وہ دن آہی گیا تھا جس کا سب کو بےصبری سے انتظار تھا، ہر کوئی اپنے مسئلوں میں مصروف تھا ایسے میں کسی کو کسی کا ہوش نا تھا جبکہ دلہن صاحبہ تو منہ بنائے الگ تھلگ بیٹھی تھی جب دل تیزی سے اسکے پاس سے گزری اور آگے جاتے جاتے اچانک رکی اور اس کے پاس واپس آئی۔
’’کیا ہوا روشی یوں کیوں بیٹھی ہوں؟‘‘
’’میں۔۔۔۔ وہ اندر کمرے میں برف باری ہورہی تھی تو سوچا باہر آکر دھوپ لگوا لوں‘‘ شیریں لہجے میں بھرپور طنز کیے وہ بولی
’’ہاں کیا ہوا ہے روشی ایسے کیوں بات کر رہی ہوں؟‘‘ دل حیران ہوئی
’’کیا ہوا ہے؟ سچ میں کیا ہوا ہے؟ میں دلہن ہوں آج میری برات ہے کسی کو فکر ہے میری سب اپنے ہی کام میں مگن ہے، مجھے پارلر جانا ہے، مگر نہیں سب کو اپنی ہی فکر ستائے جارہی ہے میں دلہن ہوں میرے بارے میں کسی نے سوچا‘‘ وہ تو پھٹ پڑی جبکہ دل ہونقوں کی طرح منہ کھولے اسے دیکھے جارہی تھی، واقعی میں یہ تو اسنے سوچا ہی نہیں تھا سب اپنے کاموں میں مگن تھے اسے تو کسی نے دیکھا ہی نہیں، دل کو واقعی میں اس پر ترس آرہا تھا۔
’’اچھا تم فکر مت کروں میں کہتی ہوں کسی کو کہ تمہیں پارلر لیجائے تم ایسا کروں اپنا سامان لے آؤ کمرے سے‘‘ اسکی بات سن کر وہ سر ہلاتے کمرے میں چلی گئی جبکہ دل کو تو فکر لگ گئی کہ وہ اب کس سے کہے جب اسے سامنے سے خان آتا نظر آیا
’’لالا آپ کہی جارہے ہے؟‘‘ خان سے سامنے آتے اسنے پوچھا
’’ہاں اسلام آباد جارہا ہوں اپنی شیروانی لینی تھی کیوں کوئی کام‘‘ اسنے سوال کیا
’’وہ دراصل روشانے کو پارلر چھوڑنے جانا ہے اور کوئی بھی نہیں ہے تو آپ اسے لیجائے گے؟‘‘ اسنے التجا کی جبکہ خان کے تو مانو دل کی مراد بر آئی۔
’’ہاں شیور وائے ناٹ تم اسے بلا لو میں باہر گاڑی کے پاس کھڑا ویٹ کر رہا ہوں‘‘ کہتے ہی وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا جبکہ دل روشانے کو لینے چلی گئی
اسے ابھی چند منٹ ہی ہوئے تھے جب دل کے ساتھ وہ چلتی نظر آئی، کڑھائی والی شال لیے جھنجھلائے چہرے کے ساتھ وہ خان کو مسکرانے پر مجبور کر گئی جبکہ اسکے تو چلتے پیر خان کو دیکھ کر رک گئے
’’چلو بھئی روشی لالا تمہیں پارلر چھوڑ دے گے جلدی جاؤ‘‘
’’تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ یہ مجھے لیکر جا رہے ہیں؟‘‘ سرگوشی نما انداز میں اسنے دل سے پوچھا جسے خان نے واضع ن لیا تھا
’’ہاں تو کیا ہوا شوہر ہے تمہارا اور آگے بھی تو انہی کے ساتھ جایا کروں گی نا چلو شاباش جلدی کروں پھر یہ نا ہوں کہ سب یہ کہے کہ جن کی شادی ہے وہی لیٹ ہے‘‘ اور اسے بنا کوئی موقع دیا فرنٹ سیٹ پر بٹھا دیا، وقت کی مناسبت سےوہ بھی چپ کرکے بیٹھ گئی۔
’’ہوسکے تو تمام غلط فہمیاں دور کرکے آئیے گا‘‘ خان کے پاس سرگوشی کرتے دل اندر کی طرف بڑھ گئی جبکہ خان مسکراہ دیا
’’آویز‘‘ اسکے پکارنے پر وہ مڑی
’’ہاں‘‘ اسنے پوچھا جبکہ خان نے اسے تھمبزاپ کا اشارہ کرکے شکریہ ادا کیا، جو اسنے سسر خم کرکے وصول کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اففف یہ پانچویں شاپ ہے جیولری کی اورتمہیں کچھ پسند نہیں آرہا شاہ‘‘ صبا جھنجھلا کر بولی جبکہ ہارون کی تو آنکھیں حیرت سے کھل گئی
’’میں۔۔میں دیر لگا رہا ہوں؟ وہ تم ہوں جو ابھی تک کوئی سو انگوٹھیاں ریجیکٹ کرچکی ہوں‘‘اپنی طرف انگلی کیے پھر اسنے وہی انگلی صبا کی طرف کیے بولا اسے
’’ہاں تو تم بھی کیسے بکواس ڈیزائن پسند کیے جا رہے ہوں‘‘ وہ منہ بنا کر بولی
’’اچھا چلو اب آئے ہیں تو اس شاپ کو بھی دیکھ لیتے ہیں‘‘ جبکہ وہ صرف سر ہلا کر رہ گئی
’’ویسے تم نے غور کیا آج شاید پہلی بار تم نے مجھے ہارون کی جگہ شاہ بلایا ہے‘‘ اسنے مسکراہ کر کہا
’’کیوں تمہیں برا لگا؟‘‘
’’نہیں بلکل بھی نہیں بلکہ اچھا لگا، پہلی بار اپنی لگی ہوتم‘‘
اب وہ دونوں شاپ کے اندر داخل ہوئے جب صبا کی نظر ایک انگوٹھی پر رک گئی
’’بیوٹیفل‘‘ صبا کے کہنے پر شاہ نے نظروں کی تعاقب میں دیکھا تو حیران رہ گیا
’’مجھے یقین نہیں ہوتا یہ ابھی تک یہی ہے‘‘ وہ خوش ہوتا بولا
’’مطلب؟‘‘ صبا حیران ہوئی
’’ارے یہ انگوٹھی آج سے چار سال پہلے جب میں اور فلک اسی مال اسی شاپ میں آئے تھے نا تب فلک کو بھی یہ بہت پسند آئی تھی مگر ابھی تک کسی نے خریدی کیوں نہیں؟‘‘ وہ حیران ہوا
’’شاید یہ فلک کے لیے ہی بنی تھی اسی لیے، اب جلدی کروں اور خرید لوں اسے‘‘ صبا کی تجویز پر سر ہاں میں ہلاتے اسنے وہ انگوٹھی خرید لی
’’ایک منٹ رکنا‘‘ ورکر کو اسے پیک کرتے دیکھ کر اسنے اچانک روکا
’’اب کیا ہوا‘‘ صبا جھنجھلا گئی وہ واقعی میں تھک گئی تھی
’’ہاتھ آگے کروں اپنا‘‘ اسنے صبا کا ہاتھ مانگا
’’کیوں؟‘‘
’’ارے کروں بھی نا‘‘ صبا کے ہاتھ آگے کرتے ہی اسنے وہ انگوٹھی صبا کی انگلی میں پہنا دی
’’پرفیکٹ‘‘ اب وہ غور سے اس انگوٹھی دیکھ رہا تھا
’’ہارون یہ کیا۔۔۔‘‘
’’یار سائز چیک کر رہا تھا بلکل ٹھیک ہے۔ یہ آپ پیک کردے‘‘ صبا کی انگلی سے انگوٹھی نکالے اسنے اب سیلزمین کو دے دی، اور صبا جس کا دل تھوڑی دیر پہلے سو کی سپیڈ پر دھڑک رہا تھا ایک پل کو اسے دھڑکن رکتی محسوس ہوئی، آخر کیوں نہیں وہ اس حقیقت کو تسلیم کرلیتی کہ شاہ اسکا نہیں ہے، کیوں وہ اتنی بےبس ہے، نہیں وہ خود کو کمزور نہیں کرسکتی اسے سیکھنا ہوگا محبوب کی خوشی میں خوش ہونا، وہ اسکا نہیں تو کیا ہوا اسے تو اہنی محبت مل رہی تھی نا۔
’’اللہ جو بھی کرتا ہے بہتر کرتا ہے‘‘ یہ سوچتے ہی وہ پرسکون ہوگئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تمہیں یہاں کتنا وقت لگے گا؟‘‘ پارلر کے باہر گاڑی روکتے اسنے پوچھا
’’شاید دو گھنٹے‘‘ روشانے نے جواب دیا۔ پورے راستے انکے مابین کوئی بات نہیں ہوئی تھی، خان چاہتا تو اسے ابھی سب کچھ کلیئر کر دیتا مگر شایان نے جو رائتہ پھیلایا تھا اسے سمیٹنا اتنا آسان نا تھا
’’ٹھیک ہے پھر مجھے کال کردینا میں پک کرلوں گا‘‘ اسکی بات پر وہ سر ہلا کر گاڑی سے اترنے لگی کہ اچانک رک گئی اور اسکی طرف مڑی
’’خان وہ۔ میرے پاس آپکا نمبر نہیں ہے‘‘ انگلیاں مڑورتے اسنے کہا
’’اچھا موبائل دو اپنا‘‘ اور اسکا موبائل پکڑتے ہی اپنا نمبر سیو کردیا
’’یہ لو۔۔ اور سنو اتنی بھی خوبصورت مت لگنا کہ تمہارے خان کے لیے اپنا آپ سنبھالنا مشکل ہوجائے‘‘ اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے وہ بولا جبکہ اسکی پلکیں شرم کے مارے جھک گئی
’’خان‘‘
’’جی‘‘
’’وہ کیا سچ میں آپ مجھے لینے آئے گے؟‘‘ اسنے ہچکچاتے سوال کیا
’’ہاں کیوں؟ کوئی مسئلہ؟‘‘
’’نہیں وہ دراصل اماں کہتی ہے کہ اچھا نہیں لگتا نا کہ شادی سے پہلے لڑکا، لڑکی ایک دوسرے کو دیکھے، دلہن پر روپ نہیں آتا‘‘ نظریں جھکائے اسنے بات پوری کی۔
’’روشانے جاؤ تمہیں دیر ہورہی ہے اور روپ کی فکر مت کروں وہ تو جب تم خان کے رنگ میں رنگ جاؤ گی تو اپنے آپ آجائے گا‘‘
’’میں۔۔میں چلتی ہوں‘‘ کہتے ہی وہ تیزی سے گاڑی سے باہر نکلی
’’کال کرنا مت بھولنا‘‘ اسکے پیچھے ہانک لگائے، آنکھوں پر چشمہ لگائے اسے گاڑی زن سے آگے بڑھادی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب بڑے اس وقت چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے، جیسے انہیں کوئی اور کام نا تھا جب اچانک شاہ کی ماما نے ان سب کو مخاطب کیا
’’بھائی صاحب آج میں آپ سے کچھ مانگنا چاہتی ، مجھے امید ہے آپ مجھے ٹھکڑائے گے نہیں‘‘ انہوں نے تمہید باندھی
’’ضرور ثروت ضرور اگر ہمارے بس میں ہوا تو آپکی خواہش ضرور پوری کرے گے‘‘ جمیل صاحب شفقت بھرے لہجے میں بولے
’’بھائی صاحب شاہ میرا بچپن سے آپ سب کی نظروں کے سامنے پلا بڑھا ہے، خان کے ساتھ اسنے اپنا سارا بچپن گزارا ہے، خدا گواہ ہے کہ میرے بچے میں کوئی برائی نہیں ہے‘‘
’’ارے ثروت یہ بھی کوئی بتانے والی بات ہے بھئی شاہ اور ملک تو دونوں ہمارے لیے ہمارے خان جیسے ہیں‘‘ اب کی بار جواب بی ماں نے دیا
’’بھائی صاحب ہم لوگ آپ جتنے امیر تو نہیں مگر ہاں عزت دار ضرور ہے‘‘
’’بھئی ثروت جو کہنا ہے کھل کر کہو‘‘
’’بھائی صاحب آج میں بڑے مان سے اپنے شاہ کے لیے آپکی فلک کا ہاتھ مانگنے آئی ہوں‘‘ انکی بات پر جہاں جمیل خان اور اماں خوش ہوئے، وہی بی ماں پرسکون ہوگئی کہ اللہ نے کتنا اچھا جوڑ رکھا ہے فلک کے نصیب میں، جبکہ نتاشہ بیگم کا تو حیرت کے مارے منہ کھل گیا وہ فلک کو کسی طور خوش نہیں دیکھ سکتی تھی۔
’’ہمیں یہ رشتہ منظور نہیں‘‘ نتاشہ بیگم قطعی لہجے میں بولی
’’میں وجہ جان سکتی ہوں؟‘‘ ثروت نے سوال کیا
’’بھئی شاہ جتنا مرضی عزیز ہوں مگر وہ ہمارے خاندان کا نہیں ہے اور خاندان سے باہر ہرگز اسکی شادی نہیں ہوگی‘‘
’’کیا آپکا بھی یہی جواب ہے بھائی صاحب ہے؟‘‘ ثروت نے اب جمیل خان سے پوچھا
’’ انکا جواب جو مرضی ہوں مگر فلک کا باپ میں ہوں اور میں اس رشتے سے انکار کرتا ہوں، اپنی بیٹی میں خاندان سے باہر کبھی نہیں دوں گا۔‘‘ اکمل خان مغرور لہجے میں بولے
’’مگر مجھے اس رشتے پر کوئی اعتراز نہیں، میری طرف سے ہاں ہے‘‘ یہ آواز رخسانہ بیگم کی تھی۔
’’فلک میری بیٹی ہے اسکی زندگی کا فیصلہ میں کروں گی اور مجھے کوئی مسئلہ نہیں اس رشتے سے‘‘ وہ مضبوط لہجے میں بولی
’’تم۔۔ جاہل عورت دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا اسکی خاندان سے باہر شادی نہیں ہوگی‘‘ وہ غصے سے چیخے
’’کیوں، کیوں نہیں ہوسکتی جب اسکا باپ خاندان سے باہر شادی کرسکتا ہے تو وہ کیوں نہیں، ویسے بھی مجھے اس رشتے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی، ہارون ایک شریف لڑکا ہے، ماشااللہ سے اچھا کماتا ہے، معاشرے میں عزت رکھتا ہے وہ اور میرا جواب ہاں ہے‘‘ انکے مضبوط لہجے نے اکمل خان کو حیران کردیا آخر انہیں کہا عادت تھی ایسے لہجے کی۔
’’تو میرے خیال سے یہ رشتہ پکا سمجھا جائے‘‘ جمیل خان گلا کھنکھار کر بولے
’’ بلکل بھائی صاحب‘‘
’’بھئی تو مٹھائی منگواؤ‘‘ سب خوش گپیوں میں مصروف تھے جبکہ اکمل خان اور نتاشہ کی زبان کو تو تالا لگ چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک اور شاہ کے رشتے کا سن کر ارمان نے بہت بڑا طوفان کھڑا کیا تھا اور پھر جب جمیل خان نے اسے اصلیت سے دوچار کیا تو وہ تھما اور ساتھ ہی ساتھ شرمندہ بھی ہوا، اسکے باپ کو حقیقت معلوم ہوگی یہ تو اسنے سوچا ہی نا تھا، مگر اصل جھٹکا تو تب لگا جب اسے پتا کہ حقیقت بتانے والی کوئی اور نہیں بلکہ اسکی اپنی بیوی انجلینا تھی جس نے اسکے بعد اپنی عزت کے داغدار ہونے پر خودکشی کرلی تھی۔
’’عزت سب کی سانجھی ہوتی ہے ارمان، عورت مشرق کی ہوں یا مغرب کی اسکی عزت کرنا ایک عزت دار مرد پر فرض ہوتا ہے، مگر تم نے ہمیں بہت شرمندہ کیا، قیامت والے دن اس لڑکی کے ساتھ ہوئی زیادتی کے جواب دہ ہوگے تم ارمان‘‘ یہ الفاظ بولتے ہی جمیل خان نے محفل کو برخاست کردیا ، جبکہ دل تو یہ ڈرامہ دیکھ کر حیران رہ گئی کیونکہ اس وقت گھر پر صرف وہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ویسے یہ انگوٹھی کس لیے؟ اسے پرپوز کرنے لگے ہوں؟‘‘ صبا نے سوال کیا
’’نہیں نکاح کا تحفہ‘‘ وہ سرشار سا بولا
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ حیران ہوئی
’’مطلب یہ کے آج ماما میرے اور فلک کے نکاح کی بات کرے گی جو کہ کل خان کے ولیمے کے ساتھ ہی طہ پایا جائے گا‘‘
’’اوکےےے۔۔ چلو بھئی اللہ تمہیں خوش رکھے‘‘
’’آمین‘‘ اسنے صبا کی بات پر دل سے آمین کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برات کے لیے حال میں خان اور روشانے اکٹھے داخل ہوئی جب سب نے تالیاں اور سیٹیاں بجا کر انہیں ویلکم کیا، روشانے کا تو سر شرم کے مارے اٹھ ہی نہیں رہا تھا۔
’’اتنا بھی مت شرماؤں مسز خان ابھی تو بہت کچھ باقی ہے سمجھی‘‘ اسکے کان کے پاس سرگوشی کرت وہ بولا جس پر اسکا سر مزید جھک گیا اور اسنے ایک ٹہوکہ خان کو مارا
’’اف ظالم بیوی‘‘ اسکی اس بات پر وہ مسکراہ کر رہ گئی، وہ دونوں سٹیج پر بیٹھ گئے تھے اور اب باری باری مہمانوں کی مبارک باد وصول کر رہیں تھے، جب فوٹو سیشن کا دور چلا، یونہی ایک خوبصورت دن اپنے اختتام کو پہنچا اور رخصتی کو وقت آگیا۔
’’اس سے پہلے کے رخصتی ہوں میں آپ سب سے کچھ کہنا چاہتا ہوں‘‘ جمیل خان اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے
’’ کل خان کے ولیمے کے ساتھ ہی ہم نے اپنی بیٹی فلک خان کا نکاح ہمارے دوست کے بیٹے ہارون شاہ سے طے کر دیا ہے‘‘ سب کو اپنی طرف متوجہ دیکھے وہ بولے، جبکہ فلک نے اپنے سامنے کھڑے ہارون کو حیرانگی سے دیکھا، جس پر اسنے اسے آنکھ ماری جبکہ وہ شرم سے سر جھکا گئی، ایک ایک کرکے سب نے اسے مبارک باد دی۔
’’بہت بہت مبارک ہوں میری جان‘‘ صبا اسکے گلے لگی بولی اور اسکی آنکھوں میں خوشی کے مارے آنسوؤں آگئے
’’اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے‘‘ اسکے سر پر ہاتھ رکھے خان بولا جبکہ وہ تو خوشی میں اس سے لپٹ گئی اور خان بھی محبت سے اسے گلے لگائے تھپکنے لگا۔
’’سو میں دیکھ رہا ہوں کہ بہن بھائی میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے‘‘ اسکے پاس رکتے شاہ شرارت سے بولا
’’ہاں سہی کہاں تم نے‘‘
’’ویسے تمہیں یاد ہے جب ایک بار میں نے تمہیں کہا تھا کہ سورڈ آف اونر فلک کو ملے گا تو تمہیں کتنا غصہ آیا تھا۔
اور خان اس دن کو یاد کر کے مسکراہ دیا
’’تم بھول رہے ہوں خان جب تک فلک ہے سورڈ آف اونر تمہیں ملنا مشکل ہے‘‘ شاہ تو کہہ چکا تھا، مگر یہ نام کتنی نفرت تھی خان کو اس سے اور اب اسنے ایک نظر فلک کو دیکھا جو اب سب سے ہنس ہنس کر باتیں کرنے میں مگن تھی۔
’’میری بہن کا دھیان رکھنا شاہ ورنہ میں ہماری دوستی بھول جاؤ گا‘‘ وہ اسے وارن کرنے لگا۔
تھوڑی ہی دیر میں خان اور روشانے کی رخصتی بھی ہوگئی جس پر ناچاہتے ہوئے بھی روشانے رو دی اور بہت مشکل سے اسے چپ کروایا گیا۔
شایان نے بھی شادی پر روشانے کو سب کچھ کلئیر کردیا تھا اور اپنے مزاق کی معافی بھی مانگی تھی جس پر اسنے تھوڑے سے ڈرامے کے بعد معاف کردیا تھا، معافی تو اسنے بھی صبا سے مانگی تھی جسے صبا نے یہ کہہ کر بات ختم کی کہ اسے خوشی ہے کہ وہ خان سے کتنی محبت کرتی ہے، سب کچھ اب ٹھیک تھا سب کچھ مگر ایسا شاید انہیں ہی لگتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *