Udaan by Qanita Khadija NovelR50777 Udaan by Qanita Khadija Episode25
Rate this Novel
Udaan by Qanita Khadija Episode01 Udaan by Qanita Khadija Episode02 Udaan by Qanita Khadija Episode03 Udaan by Qanita Khadija Episode04 Udaan by Qanita Khadija Episode05 Udaan by Qanita Khadija Episode06 Udaan by Qanita Khadija Episode07 Udaan by Qanita Khadija Episode08 Udaan by Qanita Khadija Episode09 Udaan by Qanita Khadija Episode10 Udaan by Qanita Khadija Episode11 Udaan by Qanita Khadija Episode12 Udaan by Qanita Khadija Episode13 Udaan by Qanita Khadija Episode14 Udaan by Qanita Khadija Episode15 Udaan by Qanita Khadija Episode16 Udaan by Qanita Khadija Episode17 Udaan by Qanita Khadija Episode18 Udaan by Qanita Khadija Episode19 Udaan by Qanita Khadija Episode20 Udaan by Qanita Khadija Episode21 Udaan by Qanita Khadija Episode22 Udaan by Qanita Khadija Episode23 Udaan by Qanita Khadija Episode24 Udaan by Qanita Khadija Episode25 (Watching)Udaan by Qanita Khadija Last Episode
Udaan by Qanita Khadija Episode25
Udaan by Qanita Khadija Episode25
اسکی آنکھ کھلی تو کمرے میں اندھیرا تھا شاید شام کا وقت تھا، وہ کمرے سے باہر نکلی تو ہر سو خاموشی کا راج تھا اتنے میں روشانے کیچن سے نکلی
’’سب۔۔۔سب کہاں ہیں روشانے‘‘ اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہورہا تھا
’’ادھر آئے بھابھی سکون سے بات کرتے ہیں‘‘ اسکا ہاتھ پکڑے وہ اسے صوفہ پر لے آئی اور پھر اسے انکے جانے کا بتانے لگی، اسنے دل کو دیکھا جو اسکی ساری بات سن کر ویسے ہی بیٹھی تھی اسنے کوئی تاثر نہیں دیا تھا
’’بھابھی رات کے کھانے کا وقت ہوا ہے کھائے گی؟‘‘ روشانے نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
’’ہوں‘‘ اسنے سر اثبات میں ہلا دیا اور دوبارہ کمرے میں چلی گئی جہاں اسکا سوٹ کیس موجود تھا
’’تو تم چلے گئے شایان میری فریادوں کو رد کیے تم چلے گئے تمہیں میرا زرا سا بھی خیال نا آیا، تو ٹھیک ہے بھول جاؤ کہ تمہیں بھی تمہاری پرانی والی دل کبھی واپس ملے گی‘‘ خود سے عہد لیتے وہ واشروم کی طرف بڑھی جب اسے زور کا چکر اور ساتھ ہی الٹیاں آنے لگی وہ منہ پر ہاتھ رکھے واشروم کی طرف بھاگی، روشانے جو اسے کھانے پر بلانے آئی تھی اسے یوں قہہ کرتے دیکھ کر اسکے ہاتھ پیر پھول گئے اورپھر اسنے جمیل خان کو کال پر ساری باتیں بتائی، جبکہ دل نڈھال سی بیڈ پر آکر آنکھیں موند گئی
تھوڑی ہی دیر میں اماں اور بی ماں لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ آئی، جس پر دل کے چیک اپ کے بعد لیڈی ڈاکٹر نے انہیں خدشوں کو درست ثابت کردیا
’’مبارک ہوں آپکی بچی ون منتھ پریگننٹ ہے‘‘ ڈاکٹر کی بات پر وہ سب کھل اٹھی
’’میری بچی‘‘ اماں نے اسکا ماتھا چوما
’’ہمیشہ خوش رہو‘‘ بی ماں اسکے سر پر پیار کرتے بولی کس پر دل مسکرا دی
’’ارے بھئی کوئی اس نالائق کو بھی فون کردے آخر کو باپ بننے والا ہے‘‘ بی ماں کی بات پر جہاں دل کے مسکاتے لب سکڑے وہی روشانے بھی زبردستی کی مسکراہٹ لیے سر ہاں میں ہلانے لگی
’’ارے سنو رخسانہ میں تو کہتی ہوں تم یہی رک جاؤ بچیوں کے پاس کیونکہ مجھے نہیں لگتا کے ایسے حالات میں یہ دونوں اکیلے سب کچھ سنبھال سکے گی، کسی بڑے کا ساتھ ہونا ضروری ہے‘‘
’’جی بھابھی میں بھی یہی سوچ رہی تھی‘‘ انہوں نے حمدہ بیگم کی بات کی تائید کی۔
………………..
وہ چاروں رات کے کھانے سے فارغ ہوئی تھی کہ فون پر بیل بجنا شروع ہوگئی
’’میں دیکھتی ہوں‘‘ روشانے اپنی کرسی سے اٹھتی بولی
’’دل بھابھی شایان لالا کی کال ہے‘‘ ہاتھ میں موبائل پکڑے وہ اسکی طرف، بجلی کی تیزی سے دل نے اسکے ہاتھ سے موبائل چھینا اور اپنے کمرے میں بند ہوگئی
’’دل‘‘ پانچ منٹ موبائل کان سے لگائے وہ دونوں ایک دوسرے کے بولنے کے منتظر تھے۔ جب شایان نے پہل کی
’’ناراض ہو؟ ہونا بھی چاہیے مگر پکا وعدہ جلد ہی ملنے آؤ گا تمہیں سمجھی، دل !! اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ‘‘ اور وہ جو تب سے ضبط کیے بیٹھے تھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی، کچھ سوچتے ہی اسنے کال بیک کی اور شایان کے فون اٹھاتے ہی بنا کچھ سنے بولنا شروع ہوگئی
’’ایم سوری شایان رئیلی سوری میں ڈر گئی تھی، مگر اب نہیں ڈروں گی، تم جلدی واپس آجانا، آئی لو یو‘‘ کہتے ہی اسنے موبائل آف کردیا جبکہ ایک مسکراہٹ شایان کے لبوں کو چھو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح صادق کا وقت وہ دونوں اس وقت آن ڈیوٹی تھے۔ آج ان دونوں کی فلائنگ تھی۔
’’کیا بات ہے ملک کل سے بڑا مسکرایا جا رہا ہے؟ کیا بیوی سے دور ہونے پر دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے‘‘ خان کے میٹھے میٹھے طنز پربھی وہ مسکراہ کر رہ گیا
’’یار ملک کہی دماغ تو نہیں ہل گیا؟‘‘ خان کو تشویش ہوئی
’’نہیں بلکل بھی نہیں بلکہ میں تو بہت خوش ہو‘‘ وہ مسکراتا بولا
’’خیریت؟‘‘ خان نے اچھنبے سے پوچھا
’’سر۔ آپ کے لیے کال آئی ہے سر‘‘ انکا جونیئر انہیں سلوٹ کرتے خان کی طرف منہ کیے بولا
’’میرے لیے چلو میں آتا ہوں‘‘ شایان کو کہتے وہ چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’آپ نے بلایا سر؟‘‘ اپنے سینئر کے سامنے کھڑی سلوٹ کرتے اسنے پوچھا
’’یس فلائنگ لیفٹیننٹ فلک خان، فرسٹ آف آل کانگریچولیشنز آن یور نکاح اینڈ سیکنڈلی اکوردینگ ٹو نیو شیڈول آج فلائنگ لیفٹیننٹ ملک کی جگہ آپ اڑان بھرے گی، اینی اوبجیکشن؟( کوئی مسئلہ؟)‘‘
’’نو سر‘‘
’’آل رائٹ ناؤ یو کین گو‘‘ اجازت ملتے ہی وہ سلوٹ کیے باہر چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تم۔تم یہاں کیا کر رہی ہوں؟‘‘ وہ واپس آیا تو شایان کی جگہ فلک کو دیکھ کر حیران رہ گیا
’’آج شایان کی جگہ اڑان مجھے بھرنی ہے‘‘ اسنے جواب دیا جس پر خان نے محض سر ہلایا کیونکہ وہ فلک سے ابھی تک ناراض تھا
’’ناراض ہوں؟‘‘ اسنے سوال کیا مگر خان نے جواب دینا ضروری نا سمجھا
’’خان!!‘‘ اس سے پہلے کے وہ مزید بات کر پاتی خان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بولنے سے روک دیا
’’ابھی نہیں فلک بعد میں‘‘
’’اور بعد میں اگر وقت نا ملا‘‘ نجانے کیسے یہ لفظ اسکے منہ سے نکل آئے
’’جونئیر ناراض ہومجھ سے پتا ہے مجھے، مگر اتنا بھی ناراض مت ہو کہ بعد میں پچھتاوا ہوجائے‘‘
’’فلک میں نے کہا نا مجھے بات نہیں۔۔۔۔‘‘ خان کے الفاظ ابھی مکمل طور پر ادا نا ہوئے تھے کے فلک نے اسے گلے لگا لیا
’’فلک!!!‘‘ خان حیران ہوا
’’پتا نہیں جونئیر پھر موقع ملے یا نا ملے ایک آخری بار گلےملنا چاہتی ہوں تم سے‘‘ خان کو ڈر لگا تھا فلک کی اس بات پر
’’سنو میرے بعد تم ہی ہوں اماں کا خیال رکھنا‘‘ مسکراتے چہرے کے ساتھ لفظ ادا کرتے وہ اپنے طیارے کی طرف بڑھ گئی
خان کا دل چاہا وہ فلک کو روک لے نا جانے دے اسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’واٹ دا ہیل اس ہیپنگ ہیر؟‘‘
(کیا ہو رہا ہے یہاں؟) دو فی میل کیڈیٹس کو باؤندری وال طرف جاتے دیکھ کر ہارون اسکے سر پر کھڑا چلا کر بولا
’’ٹرن‘‘
(گھومو) انکی پیٹھ ہارون کی طرف تھی اسی لیے انہیں گھومنے کو بولا
مگر اسے تو جھٹکا لگا جب ان دونوں فیمل کیڈیٹس میں سے ایک صبا کی بہن نکلی، اسکا چہرہ چٹانوں جیسا سخت ہوگیا
’’ان مائی آفیس ناؤ‘‘ گویا حکم صادر کیا گیا
وہ دونوں اس وقت اسکے سامنے سر جھکائے اسکے آفس میں کھڑی تھی، جب اسنے فون کے ذریعے صبا کو اپنے آفس میں بلایا
کچھ دیر بعد ناک ہوا دروازے پر
’’کم ان‘‘
’’فلائینگ لیفٹینینٹ صبا ڈو یو نو دیم!!‘‘ اسنے ان دونوں کی طرف اشارہ کیا، جبکہ صبا تو اپنی بہن اور اسکی دوست کو دیکھ کر حیران رہ گئی
’’یس شی از مائی سسٹر اینڈ ہر فرینڈ‘‘ اسنے جواب دیا
’’سو دے ویل نو اباؤٹ پی۔ایف۔اے رولز سو وائے دے ٹرائے تو بنک؟‘‘
(تو پھر تو انہیں اچھے سے پی۔ایف۔اے کا رولز کا علم ہوگا مگر پھر بھی انہوں نے بنک کرنے کی کوشش کی) اب اسکا لہجہ اتنا سخت تھا کہ صبا کو یقین ہوچلا تھا کہ ان دونوں کی خیر
’’واٹ دے ایگزیکٹلی ٹرائنگ ٹو ڈو؟‘‘
(انہوں نے بنک کرنے کی کوشش کیسے کی؟) صبا نے سپاٹ لہجے میں پوچھا
’’دے ٹرائے تو کراس دا باؤنڈرر وال‘‘
(انہوں نے باؤنڈری وال پار کرنے کی کوشش کی)
’’سو واٹ یو تھنک اباؤٹ دئیر پنیشمنٹ؟‘‘
(تو آپ کو کیا لگتا ہے انہیں کیا سزا ملنی چاہیے؟)
’’اٹس اپ ٹو یو ہارون۔ بٹ آئی وانٹ یو ٹو گیو دیم آ سٹرونگ پنیشمنٹ‘‘
(یہ تمہاری مرضی ہارون، مگر میں چاہتی ہوں کے تم انہیں سخت ترین سزا دوں) صبا کے اتنے سخت لہجے پر ایک پل کو تو اسکی بہن حیران رہ گئی
’’ایز یور وش صبا‘‘
(جیسی تمہاری خواہش) ہارون اور صبا کی مسکراہٹ سے اسکی بہن کو یقین ہوا چلا تھا کہ اب اسکی خیر نہیں۔
اسرا (صبا کی بہن) اور حنا (اسکی دوست) دونوں کو سزا ملی تھی کہ وہ پورے ایک ماہ کے لیے اپنے جونئیرز کے تمام کام کرے گی اور جونئیرز کو سر اور میم کہہ کر بلائے گی اور وہ انہیں آرڈرز دے سکتے تھے مگر یہ دونوں انکار نہیں کرسکتی تھی۔
’’ویسے تو میں نے تم لوگوں کو صرف ایک مہینے کی پنیشمنٹ دی ہے مگر جو تم دونوں نے کیا ہے اگر کوئی اور الٹی حرکت کی تو پی۔ایف۔اے سے باہر نکلوانے مین زیادہ دیر نہیں لگاؤ گا‘‘ اسکا لہجہ اتنا سخت تھا کہ ان دونوں کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہوئی
’’یسس سر‘‘ اپنی کانپتی آواز پر بامشکل قابو پائے وہ بلند آواز بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اس وقت آسمان کی سیر پر تھے، جب موسم ابر آلود ہونا شروع ہوگیا، کنٹرول روم کی طرف سے انہیں فورا لینڈینگ کا حکم جاری کیا گیا
وہ دونوں اس وقت لینڈینگ پوزیشن میں تھے جب فلک کو طیارے میں خرابی محسوس ہوئی اور وہ لینڈینگ پوزیشن سے ہی دوبارہ طیارا آسمان کی طرف لے گئی
خان جو ابھی لینڈ ہوا تھا فلک کو یو کرتا دیکھ کر حیران ہوا اسے کچھ گڑبڑ لگی، جب ایسے میں ائیر پیس میں آواز ابھری
’’فلایئنگ لیفٹینینٹ خان واٹ آر یو ڈوئنگ،یو ہیو فایئو منٹس ٹو لینڈ اٹس این آرڈر‘‘
(فلائنگ لیگٹینینٹ خان آپ کیا کر رہی ہے آپ کے پاس صرف پانچ منٹ ہے لینڈ کرنے کے لیے) کنٹرول روم سے آتے اس حکم نے خان کو حیران کردیا
’’اٹس فلایئنگ لیفٹینینٹ فلک خان سر، سوری آئی کانٹ لینڈ دیئر آر سم پروبلمز ود دی انجن‘‘
(فلائنگ لیفٹینینٹ فلک خان رپورٹنگ سر، سوری سر میں لینڈ نہیں کرسکتی انجن کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے) ائیر پیس سے ابھرتی فلک کی آواز پر خان کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا۔
کالی گھٹایئں ہر سو چھا گئی تھی، اسکا طیارہ آسمان میں ہی اڑ رہا تھا، اس وقت کنٹرول روم میں بھگڈر مچ چکی تھی انہیں کسی بھی طرح اپنے آفیسر اور طیارے کو بچانا تھا، سارا املہ اس وقت سخت دباؤ کا شکار تھا
وہ ابھی کائی تجویز سوچ رہی تھی جب اسے انجن سے چنگاریاں نکلتی محسوس ہوئی، وہ جان چکی تھی اسکا مطلب ایک دلفریب مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر آ ٹھہری
اسنے ڈرنے کی بجائے ارد گرد کا جائزہ لینا شروع کردیا اگر اسکا پلین کریش ہوتا تو اسے آبادی والے ایریا کو بچانا تھا، کچھ سوچتے ہوئے اسنے مزید طیارہ ہوا میں اوپر لیجانا شروع کردیا
اسکی یہ کاروائی دیکھ کر خان طیش میں آگیا
’’فلک واٹ دا ہیل آر یو دوئنگ؟‘‘ وہ غصے پر قابو پاتے بولا
’’فلک تم کیا کرنے کی کوشش کر رہی ہوں؟‘‘
’’لسن جونئیر میری ایک بات غور سے سننا‘‘ اسکی بات کو اگنور کیے وہ بولی
’’اماں کا بہت دھیان رکھنا جونیئر، تم بیٹے ہوں انکے سنبھال لو گے انہیں، اور ہاں ایک اور بات ابا سے کہنا مجھے معاف کردے میں نے بھی انہیں کردیا ہے، انہیں بتانا کہ فلک ان سے کتنی محبت کرتی تھی اور یہ بھی کہ وہ اپنی ہر بدتمیزی پر شرمندہ ہے،تم بھی انہیں معاف کردوں خان، وعدہ کروں مجھ سے کہ تم انہین معاف کردوں گے، تم جانتے ہوں جونیئر میرا خواب آج پورا ہونے جورہا ہے میں دوسری مریم مختیار بننے جارہی ہوں، اب تو ابا کو مجھ پر فخر ہوگا نا جونیئر‘‘
’’بکواس بند کروں فلک تمہیں کچھ نہیں ہوگا، میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا‘‘ وہ حلق کے بل چلایا
’’تم مجھ سے ہمیشہ ہی جیلس رہنا جونیئر کیونکہ ہر وہ چیز جو تمہیں چاہیے وہ مجھے جو مل جاتی ہے، تم نے سورڈ آف اونر لے لی اسکا مطلب یہ نہیں کہ تم ہر میدان میں ہی مجھسے آگے برھ جاؤ گے، شہادت کو تو تم سے پہلے فلک خان ہی گلے لگائے گی، ویسے بھی چھوٹے ہوں مجھ سے تم، میں بڑی ہوں تو پہلا حق بھی میرا ہی ہوگا‘‘ آنکھوں میں آنسوؤں اور ہونٹوں پر مسکراہٹ، مگر اسکے آنسوؤں بھی چمک رہے تھے جیت کی خوشی پر
’’میں نے تم سے کہاں نا فلک کچھ نہیں ہوگا تمہیں‘‘ آنسوؤں کا گولا اسکے گلے میں اٹک سا گیا، خان کو اپنی آواز کانپتی محسوس ہوئی
’’اماں سے کہنا جونیئر کے میں ان سے بہت محبت کرتی ہوں مگر اس وطن سے زیادہ نہیں جونئیر‘‘ کہتے ہی اسنے اپنے تمام رابطے منسوخ کردیے اور طیارہ مزید آسمان میں اوپر لے گئی
آنسوؤ تواتر اسکا چہرہ بھگوتے رہے وہ جانتا تھا سب ختم ہوگیا ہے فلک جا چکی ہے
’’فلائنگ لیفٹینینٹ خان،فلائنگ لیفٹینینٹ خان آر یو لسنگ؟‘‘
(فلائنگ لیفٹینینٹ خان،فلائنگ لیفٹینینٹ خان کیا آپ کو آواز آ رہی ہے؟‘‘) ایر پیس پر ابھرتی آواز نے اس وقت سب کے اعصاب کو شدید جھٹکا دیا تھا۔
کنٹرول آفس میں بیٹھا املہ اس وقت سخت دباؤ کا شکار تھا۔موسم ابر آلود ہونے کی وجہ سے رابطہ نا ہونے کے برابر تھا۔ایر پیس میں ابھرتی آواز بھی سگنلز نا ھونے کی وجہ سے بیچ میں ہی کہی کھو جاتی۔آج صبح ہی تھنڈڑ جے۔ایف سیونٹین نے پرواز بھری تھی گھنٹے بعد ہی طیارے کے انجن میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے چنگاریاں ابھرنے لگی۔جسکی وجہ سے کنٹرول آفس میں ایک ہلچل مچ گئی،اور اب فلائنگ لیفٹینینٹ خان سےرابطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی جو کہ خراب موسم کی وجہ سے نا ممکن ہو گیا تھا۔کالی گھٹاؤں نے پورے آسمان پر اپنی چادر بچھادی تھی،کڑکڑاتی بجلی نے موسم کو خوابناک بنا دیا تھا۔
آسمان میں طیارہ غوطے کھا رہا تھا،ایسا موسم اس ماحول نے سب کا سانس روک رکھا تھا۔
دیکھتے دیکھتے آگ کا ایک شعلہ بھڑکا اور پورے طیارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،بس چند منٹوں کا کھیل اور سب کچھ ختم ہو گیا
اور پھر سب نے دیکھا آسمان سے راکھ کو نیچے گرتے ہوئے۔
یہ۔یہ کیا ہوگیا تھا، ابھی تو سب کچھ ٹھیک تھا، وہ تو ویسے ہی اسے زچ کررہا تھا اسے فلک سے ناراض تھوڑی ہونا تھا، ضرور کوئی خواب ہوگا یہ جیسے ڈرامہ میں ہوتا ابھی اسکی آنکھیں کھل جائے گی اور اسکی بہن اسکے سامنے ہوگی، ویسےبھی خان کو تنگ کیے بنا فلک کو سکون کہا مگر اتنا بےسکون کیسے کرسکتی ہے وہ اسے۔
شایان اس وقت میس میں دوسرے آفیسرز کے ساتھ تھا جب اسے اطلاع ملی کے فلائنگ لیفٹینینٹ خان نے شہادت حاصل کی ہے، وہ تیزی سے فیلڈ کی جانب دوڑا مگر جب خان کو سہی سلامت دیکھا تو شکر کا سانس لیا، ایک منٹ فلک، فلک کہاں ہے
’’خان تم ٹھیک ہوں اور فلک، فلک کہاں ہے خان؟‘‘ اسکے سرد پڑتے وجود کو جھٹکا دیے وہ بولا
’’فلک‘‘ خان نے یہ نام یوں ادا کیا جیسے کوئی اجنبی ہوں
’’فلک تو آسمان ہے نا ملک تو ڈھونڈ لو یہی کہی آسمان کی بلندیوں میں مل جائے گا تمہیں اسکا وجود‘‘ خان کے یوں بولنے پر شایان حیران رہ گیا
’’خان؟‘‘ شایان بےیقین ہوا
’’ہاں ملک وہ چلی گئی‘‘ وہ ہنسا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا اتنا کے آنکھوں میں جمے آنسوؤں پھت سے بہہ نکلے اور شایان نے تو اسے گلے لگا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت گھر کی صفائی کر کے ہٹی ہی تھی جب گھر کے نمبر پر کال آئی، بی ماں، اماں تایا سرکار سب لوگ اس وقت اسکے گھر موجود تھے، باہر بیل کی بجتی آواز پر بی ماں کو دروازہ کھولتے دیکھ کر وہ لینڈ لائن کی طرف بڑھی
’’السلام علیکم‘‘
’’جی نہیں میں مسز اکمل نہیں بلکہ مسز دلاور خان ہوں‘‘
مگر جو بات اسے آگے سننے کو ملی وہ اسکے ہوش صلب کرنے کو کافی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’شایان شایان مت جاؤ، شایان شایان رک جاؤ‘‘رات کا وقت،وہ جنگل مین تھی، ایک ہیولا سا تھا جس کے پیچھے وہ بھاگ رہی تھی اور ووہ یقیننا شایان کا ہی تھا
’’دل‘‘ اچانک اپنے پیچھے سے اسے کسی کی آواز آئی جب اسنے مڑ کر دیکھا تو شایان وہی کھڑا تھا اب منظر بدلا اب جنگل کی پہاڑی تھی اور رات کی جگہ دن، اسنے حیرانگی سے شایان کو دیکھا اور جو اسے دیکھے مسکرا رہا تھا، اور جب پیچھے مڑی تو فلک کو سامنے پاکر چونک گئی، فلک بھی اسے دیکھ کر مسکراتی قدم قدم پیچھے ہورہی تھی اب وہ بلکل پہاڑی کے کونے پر تھی اور نیچے گہری کھائی، دل نے اسے روکنا چاہا مگر کچھ نا ہوسکا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے فلک پہاڑی سے نیچے گر گئی
’’فلک!!‘‘ وہ چیخ مار کر اٹھی، اتنی سردی میں بھی وہ پورے کی پوری پسینے میں شرابور تھی۔
وہ ایک جھتکے سے بیڈ پر سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکلی مگر جو اسنے سنا وہ اسکے ہوش اڑادینے کو کافی تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا بات ہے بھئی لگتا ہے آج کچھ خاص ہےجو یوں محفل جمائی گئی ہے‘‘ سب کو اپنے بیٹے کے گھر دیکھ کر وہ چڑ کر بولی
’’ارے آؤ نتاشہ‘‘
’’ضرور بھابھی ویسے بھی میرے بیٹے کا گھر ہے‘‘ وہ طنز کرنا نا بھولی
’’بھائی صاحب آپ سب لوگ یہاں خیریت؟‘‘ اکمل نے جمیل خان سے پوچھا
’’ہاں بھئی خوشخبری ہے ماشااللہ سے شایان باپ بننے والا ہے‘‘
’’ارے بھئی یہ تو بہت خوشی کی خبر ہے‘‘ اکمل خان واقعی خوش تھے، جبکہ نتاشہ بیگم آنکھیں گھما کر رہ گئ
’’ایک اور خوشخبری بھی ہے چاچا جان‘‘ اب کی بار روشانے بولی
’’اچھا وہ کیا!!‘‘ انہوں نے پوچھا
’’مبارک ہوں چاچا جان مبارک ہو اماں اللہ نے آپ دونوں کو شہید کے والدین کا درجہ دیا ہے، فلک آپی نے آج صبح ہی آن ڈیوٹی شہادت حاصل کی ہے، ابھی کال آئی وہاں سے‘‘ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے مگر لب مسکرا رہے تھے۔
اکمل خان تو سن رہ گئے جبکہ اماں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے خدا کا شکر ادا کیا
’’کہاں جارہی ہوں رخسانہ؟‘‘ حمدہ بیگم نے سوال کیا
’’شکرانے کے نفل ادا کرنے بھابھی‘‘ وہ مسکرا کر بولی، ایک آنسو نا بہا انکی آنکھ سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے آفس میں ہی تھا جب اسکے نمبر پر کال آئی اسنے جیسے ہی کال اٹھائی دوسری طرف سے آنے والی آواز نے اسکے احساسات کو مجنمند کردیا
ابھی وہ فون رکھتا کہ دروازہ کھولتے عجلت میں صبا اندر داخل ہوئی اسکا رنگ لٹھے کی مانند سفید تھا
اسکی آنکھوں سے وہ جان چکی تھی کہ اسے سب پتا چل گیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک کی نماز جنازہ ادا کردی گئی تھی، ہاں مگر فرق صرف اتنا تھا کہ نماز جنازہ غائبی تھی کیونکہ جسم کا حصہ تھا نا مل پایا تھا۔
خان بلکل چپ تھا، اسنے کسی سے کوئی بات نا کی تھی، وہ تو یوں تھا جیسے یہاں سب پرائے ہوں وہ اس وقت اکمل خان کے گھر تھا
’’آپ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ خان آپ کا دایاں بازو ہے‘‘ اکمل خان کے سامنے والے صوفہ پر سر جھکائے بیٹھا وہ بولا
’’لیکن اگر آپ اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیتے کے اگر خان میرا دایاں بازو ہے تو فلک بھی میرا بایاں بازو ہے، تو شاید وہ آج تک آپ سے اس قدر ناراض نا ہوتی‘‘
’’بہت تکلیف دی ہے آپ نے ہم دونوں کو، آپ کی خود غرضی نے ہمیں کہی کا نہیں چھوڑا‘‘
’’مجھے نہیں معلوم کے میں آپ کو معاف کر پاؤ گا یا نہیں، مگر وہ آپ کو معاف کر چکی ہے، فلک ہارون شاہ نے آپ کو معاف کر دیا‘‘
وہ آج ہی اپنی بہن کو رخصت کر کے آیا تھا اور اب بہترین موقع تھا کے وہ سارے حساب کتاب برابر کرلیتا، ویسے بھی رخصتی سے پہلے فلک نے ہی تو اسے وعدہ لیا تھا سب کو معاف کر دینے کا
’’میں شائد آپ کو معاف نا کر پاؤ‘‘ یہ کہتے ہی وہ باہر کو چل دیا
’’بس کردوں خان مت دوں تکلیف خود کو بھی اور ہمیں بھی جا چکی ہے فلک اب اسکی وجہ سے ہمیں مت تکلیف دوں‘‘ نتاشہ بیگم چلا اٹھی
’’آپ سے بات کی میں نے‘‘
’’خان یہ کیا طریقہ ہے اپنی ماں سے بات کرنے کا‘‘
’’ماں،ہنہ ‘‘ وہ ہنسا
’’آپ نے اس عورت سے اس لیے شادی کی تھی نا کہ آپ کو بیٹا چاہیے تھا، تو سنے پاپا غور سے فلک اکلوتی نہیں تھی ٹوینز تھے وہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی، مگر آپ کی بیوی نے آپ کو حاصل کرنے کے لیے پہلے رپورٹس بدلوائی اور پھر فلک کے ساتھ پیدا ہونے والے آپکے وارث کو مروا بھی دیا، یہ عورت جو آپکی بیوی ہے نا حقیقیتا آپ کی اولاد کی قاتل ہے یہ‘‘ کیسا انکشاف تھا یہ، خان حلق کے بل چلا رہا تھا
’’خان میری جان۔۔۔‘‘ وہ تڑپ گئی
’’نہیں نہیں ہو میں آپکی جان‘‘
’’خان یہ سب میں نے تمہارے لیے ہی تو کیا تھا‘‘
’’میرے لیے نہیں اپنی نفرت میں کیا تھا آپ نے‘‘
’’شرم محسوس ہوتی ہے مجھے خود سے کہ آپ جیسے لوگ میرے والدین ہے
’’میں جارہا ہوں اور اب کبھی واپس نہیں آؤ گا، آج آپنے صرف بیٹی ہی نہیں بلکہ بیٹا بھی کھو دیا ہے اپنا‘‘ یہ کہتے ہی وہ رکا نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے اکمل ولا کو چھوڑ کر چلا گیا، جبکہ اکمل خان تو ایک نفرت بھری نگاہ اپنی بیوی پر ڈال کر چلے گئے وہاں سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
